حَدَّثَنَا إِدْرِيسُ بْنُ جَعْفَرٍ الْعَطَّارُ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ: مَا سَأَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الدَّجَّالِ أَحَدٌ أَكْثَرَ مِمَّا سَأَلْتُهُ، فَقَالَ نَبِيُّ اللهِ: «مَا سُؤَالُكَ عَنْهُ؟ إِنَّهُ لَا يَضُرُّكَ»
ترجمہ
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نبی کریم ﷺ سے دجال کے بارے میں کسی نے مجھ سے زیادہ سوال نہیں کیا، تو نبی اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم اس کے بارے میں اتنا کیوں پوچھتے ہو؟ وہ تمہیں نقصان نہیں پہنچائے گا۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ قَيْسٍ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ: مَا سَأَلَ أَحَدٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكْثَرَ مِمَّا سَأَلْتُهُ أَنَا عَنْهُ - يَعْنِي الدَّجَّالَ - فَقَالَ: «إِنَّهُ لَا يَضُرُّكَ» ، قُلْتُ: إِنَّهُمْ يَقُولُونَ: إِنَّ مَعَهُ نَهْرًا وَكَذَا، قَالَ: «هُوَ أَهْوَنُ عَلَى اللهِ مِنْ ذَلِكَ»
ترجمہ
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: کسی نے نبی کریم ﷺ سے دجال کے بارے میں مجھ سے زیادہ سوال نہیں کیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ تمہیں نقصان نہیں پہنچائے گا۔“ میں نے عرض کیا: لوگ کہتے ہیں کہ اس کے ساتھ ایک نہر ہو گی اور ایسا ایسا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ اللہ کے نزدیک اس سے کہیں معمولی ہے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا شِهَابُ بْنُ عَبَّادٍ الْعَبْدِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حُمَيْدٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ: مَا سَأَلَ أَحَدٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الدَّجَّالِ أَكْثَرَ مِمَّا سَأَلْتُهُ فَذَكَرَ نَحْوَهُ
ترجمہ
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے بھی اسی طرح کی حدیث مروی ہے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْقَطِرَانِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ الرَّمَادِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ: مَا سَأَلَ أَحَدٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الدَّجَّالِ أَكْثَرَ مِمَّا سَأَلْتُهُ أَنَا، فَقَالَ: «مَا سُؤَالُكَ عَنْهُ؟ إِنَّكَ لَا تُدْرِكُهُ، أَمَا إِنَّهُ لَا يَخْرُجُ حَتَّى لَا يُقْسَمَ مِيرَاثٌ، وَلَا يَفْزَعَ لِغَنِيمَةٍ»
ترجمہ
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: کسی نے نبی کریم ﷺ سے دجال کے بارے میں مجھ سے زیادہ سوال نہیں کیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم اس کے بارے میں اتنا کیوں پوچھتے ہو؟ تم اسے پاؤ گے ہی نہیں، اور وہ اس وقت تک نہیں نکلے گا جب تک میراث تقسیم ہونی بند نہ ہو جائے اور غنیمت کی کوئی فکر نہ رہے۔“
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَحْيَى، ثنا إِسْمَاعِيلُ، حَدَّثَنِي قَيْسٌ، حَدَّثَنِي الْمُغِيرَةُ، قَالَ: مَا سَأَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الدَّجَّالِ أَكْثَرَ مِمَّا سَأَلْتُهُ، وَإِنَّهُ قَالَ لِي: «مَا يَضُرُّكَ مِنْهُ؟» قُلْتُ: إِنَّهُمْ يَقُولُونَ مَعَهُ جَبَلُ خُبْزٍ، وَنَهَرُ مَاءٍ، قَالَ: «هُوَ أَهْوَنُ عَلَى اللهِ مِنْ ذَلِكَ»
ترجمہ
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: کسی نے رسول اللہ ﷺ سے دجال کے بارے میں مجھ سے زیادہ سوال نہیں کیا، اور آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ”اس سے تمہیں کیا نقصان؟“ میں نے عرض کیا: لوگ کہتے ہیں اس کے ساتھ روٹی کا پہاڑ اور پانی کی نہر ہو گی، آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ اللہ کے نزدیک اس سے کہیں معمولی ہے۔“
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا جَرِيرٌ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ قَيْسٍ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، بَلَغَنِي أَنَّ مَعَ الدَّجَّالِ أَنْهَارَ الْمَاءِ، وَجِبَالَ الْخُبْزِ، قَالَ: «هُوَ أَهْوَنُ عَلَى اللهِ مِنْ ذَلِكَ» ، فَكُنْتُ مِنْ أَكْثَرِ النَّاسِ سُؤَالًا عَنْهُ فَقَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَيْسَ بِالَّذِي يَضُرُّكَ»
ترجمہ
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے خبر ملی ہے کہ دجال کے ساتھ پانی کی نہریں اور روٹی کے پہاڑ ہوں گے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ اللہ کے نزدیک اس سے کہیں معمولی ہے۔“ میں لوگوں میں سب سے زیادہ اس کے بارے میں سوال کرتا تھا، تو رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ”وہ ایسی چیز نہیں جو تمہیں نقصان پہنچائے۔“
حَدَّثَنَا الْمِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ثنا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، كِلَاهُمَا، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ: مَا سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الدَّجَّالِ أَكْثَرَ مِمَّا سَأَلْتُهُ، فَقَالَ: «يَا بُنَيَّ، وَمَا سَيُصِيبُكَ مِنْهُ؟» قُلْتُ: إِنَّ النَّاسَ يَقُولُونَ: إِنَّ مَعَهُ الطَّعَامَ وَالشَّرَابَ، فَقَالَ: «هُوَ أَهْوَنُ عَلَى اللهِ مِنْ ذَلِكَ»
ترجمہ
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نبی کریم ﷺ سے دجال کے بارے میں کسی نے مجھ سے زیادہ سوال نہیں کیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے بیٹے! اس سے تمہیں کیا پہنچے گا؟“ میں نے عرض کیا: لوگ کہتے ہیں کہ اس کے ساتھ کھانا اور پینا ہو گا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ اللہ کے نزدیک اس سے کہیں معمولی ہے۔“
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا وَكِيعٌ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسٍ، عَنِ الْمُغِيرَةِ، قَالَ: مَا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَدٌ عَنِ الدَّجَّالِ أَكْثَرَ مِمَّا سَأَلْتُهُ، فَقَالَ: «وَمَا تَسْأَلُنِي عَنْهُ؟» قَالَ: قُلْتُ: إِنَّ النَّاسَ يَقُولُونَ: إِنَّ مَعَهُ جُنَّةً وَنَارًا وَالطَّعَامَ وَالشَّرَابَ، فَقَالَ: «هُوَ أَهْوَنُ عَلَى اللهِ مِنْ ذَلِكَ»
ترجمہ
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: کسی نے نبی کریم ﷺ سے دجال کے بارے میں مجھ سے زیادہ سوال نہیں کیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کے بارے میں کیا پوچھتے ہو؟“ میں نے عرض کیا: لوگ کہتے ہیں کہ اس کے ساتھ جنت اور جہنم اور کھانا پینا ہو گا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ اللہ کے نزدیک اس سے کہیں معمولی ہے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْأَنْمَاطِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، ثنا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنِ الْمُغِيرَةِ، قَالَ: مَا سَأَلَ أَحَدٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الدَّجَّالِ أَكْثَرَ مِمَّا سَأَلْتُهُ، فَقَالَ: «مَا يُنْصِبُكَ مِنْهُ تَسْأَلُ عَنْهُ؟ إِنَّهُ لَا يَضُرُّكَ» ، فَقُلْتُ: إِنَّهُمْ يَزْعُمُونَ أَنَّ مَعَهُ الْأَنْهَارَ وَالطَّعَامَ، فَقَالَ: «هُوَ أَهْوَنُ عَلَى اللهِ مِنْ ذَلِكَ»
ترجمہ
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: کسی نے نبی کریم ﷺ سے دجال کے بارے میں مجھ سے زیادہ سوال نہیں کیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہیں کیا تکلیف دیتی ہے کہ اس کے بارے میں سوال کرتے ہو؟ وہ تمہیں نقصان نہیں پہنچائے گا۔“ میں نے عرض کیا: لوگ کہتے ہیں کہ اس کے ساتھ نہریں اور کھانا ہو گا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ اللہ کے نزدیک اس سے کہیں معمولی ہے۔“
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَحْيَى، ثنا إِسْمَاعِيلُ، ثنا قَيْسٌ قَالَ: سَمِعْتُ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَنْ يَزَالَ نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي ظَاهِرِينَ عَلَى النَّاسِ، حَتَّى يَأْتِيَهُمُ اللهُ وَهُمْ ظَاهِرُونَ»
ترجمہ
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میری امت میں سے کچھ لوگ ہمیشہ لوگوں پر غالب رہیں گے، یہاں تک کہ اللہ کا حکم ان کے پاس آئے گا اور وہ اسی حالت میں غالب ہوں گے۔“
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَا: ثنا وَكِيعٌ، وَأَبُو أُسَامَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، كُلُّهُمْ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ قَيْسٍ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَزَالُ مِنْ أُمَّتِي قَوْمٌ ظَاهِرِينَ حَتَّى يَأْتِيَهُمْ أَمْرُ اللهِ وَهُمْ ظَاهِرُونَ»
ترجمہ
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میری امت میں سے کچھ لوگ ہمیشہ غالب رہیں گے، یہاں تک کہ ان کے پاس اللہ کا حکم آئے گا اور وہ اسی حالت میں غالب ہوں گے۔“
حَدَّثَنَا أَبُو حُصَيْنٍ الْقَاضِي، ثنا الْحِمَّانِيُّ، ثنا هُشَيْمٌ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسٍ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي عَلَى الْحَقِّ ظَاهِرِينَ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ»
ترجمہ
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ حق پر غالب رہے گا یہاں تک کہ قیامت قائم ہو جائے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْأَنْمَاطِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، ثنا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ قَيْسٍ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَزَالُ نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي ظَاهِرِينَ حَتَّى يَأْتِيَهُمْ أَمْرُ اللهِ وَهُمْ ظَاهِرُونَ»
ترجمہ
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میری امت میں سے کچھ لوگ ہمیشہ غالب رہیں گے، یہاں تک کہ ان کے پاس اللہ کا حکم آئے گا اور وہ اسی حالت میں غالب ہوں گے۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، أَخْبَرَنِي الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَعَرَضَ عَلَيَّ فَرَسٌ، فَقَالَ رَجُلٌ: احْمِلْنِي عَلَى هَذَا، فَقَالَ: لَأَنْ أَحْمِلَ غُلَامًا قَدْ رَكِبَ الْخَيْلَ عَلَى عُزْلَتِهِ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَحْمِلَكَ عَلَيْهِ، فَغَضِبَ الرَّجُلُ فَقَالَ: أَنَا وَاللهِ خَيْرٌ مِنْكَ وَمِنْ أَبِيكَ فَارِسًا، فَغَضِبَتُ حِينَ قَالَ ذَلِكَ لِخَلِيفَةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُمْتُ إِلَيْهِ فَأَخَذْتُ بِرَأْسِهِ وَسَحَبْتُهُ عَلَى أَنْفِهِ، فَكَأَنَّمَا كَانَ أَنْفُهُ عَزْلَاءَ مَزَادَةٍ، فَأَرَادَ الْأَنْصَارُ أَنْ يَسْتَقِيدُوا مِنِّي، فَبَلَغَ ذَلِكَ أَبَا بَكْرٍ فَقَالَ: «بَلَغَنِي أَنَّ نَاسًا يَزْعُمُونَ أَنِّي مُقِيدُهُمْ مِنَ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، وَلَأَنْ أُخْرِجَهُمْ مِنْ دِيَارِهِمْ أَقْرَبُ مِنْ أَنْ أُقِيدَهُمْ مِنْ وَزَعَةِ اللهِ الَّذِينَ يَزَعُونَ عِبَادَهُ»
ترجمہ
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں اس کی طرف بڑھا اور اس کا سر پکڑ کر اسے ناک تک گھسیٹا، تو اس کی ناک مشکیزے کے کنارے جیسی ہو گئی۔ انصار نے چاہا کہ مجھ سے اس کا قصاص لیں، یہ بات سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو پہنچی تو انہوں نے فرمایا: ”مجھے معلوم ہوا ہے کہ کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ میں انہیں مغیرہ بن شعبہ سے قصاص دلواؤں گا، حالانکہ میرے لیے انہیں ان کے گھروں سے نکال دینا اس سے کہیں آسان ہے کہ میں اللہ کے ان نگہبانوں سے قصاص لوں جو اس کے بندوں کی حفاظت کرتے ہیں۔“
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا وَكِيعٌ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ قَيْسٍ، عَنِ الْمُغِيرَةِ، أَنَّهُ كَانَ عَلَى رَأْسِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالسَّيْفِ وَهُوَ مُتَلَثِّمٌ، فَجَعَلَ عُرْوَةُ يُنَاوِلُ لِحْيَةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَتَكَلَّمُ، فَقَالَ لَهُ الْمُغِيرَةُ: لَتَكُفَّنَّ يَدَكَ أَوْ لَا تَرْجِعُ إِلَيْكَ - وَالْمُغِيرَةُ مُتَقَلِّدٌ سَيْفًا - فَقَالَ عُرْوَةُ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَنْ هَذَا؟ فَقَالَ: «هَذَا ابْنُ أَخِيكَ الْمُغِيرَةُ» ، فَقَالَ: يَا غُدَرْ، مَا غَسَلْتُ رَأْسِي مِنْ غَدْرَتِكَ
ترجمہ
(مغیرہ رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا:) اپنا ہاتھ روک لے، ورنہ تو (زندہ) واپس نہیں جائے گا - اور مغیرہ رضی اللہ عنہ تلوار لٹکائے ہوئے تھے - تو عروہ نے کہا: یا رسول اللہ! یہ کون ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ تیرا بھتیجا مغیرہ ہے۔“ تو عروہ نے کہا: اے دھوکے باز! میں نے ابھی تک تیرے دھوکے سے اپنا سر نہیں دھویا۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمُعَلَّى الدِّمَشْقِيُّ، وَعَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ قَالَا: ثنا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ثنا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسٍ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تُحَرِّمُ الْعَنَقَةُ» ، قُلْنَا: وَمَا الْعَنَقَةُ؟ قَالَ: «الْمَرْأَةُ تَلِدُ فَتَحْصُرُ اللَّبَنَ فِي ثَدْيِهَا، فَتُرْضِعُ جَارَتَهَا الْمَرَّةَ وَالْمَرَّتَيْنِ»
ترجمہ
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”عَنَقَہ (رضاعت کی تھوڑی سی مقدار) رضاعت کی حرمت ثابت نہیں کرتی۔“ ہم نے پوچھا: عَنَقَہ کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”عورت بچہ جنتی ہے تو اس کے پستان میں دودھ کم ہوتا ہے، تو وہ اپنی پڑوسن کے بچے کو ایک یا دو بار دودھ پلا دیتی ہے۔“