المعجم الكبير للطبراني
باب الميم— حرف میم سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
إسماعيل بن أبي خالد، عن قيس بن أبي حازم باب: اسماعیل بن ابی خالد کی قیس بن ابی حازم سے روایات
حدیث نمبر: 18082
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْأَنْمَاطِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، ثنا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنِ الْمُغِيرَةِ، قَالَ: مَا سَأَلَ أَحَدٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الدَّجَّالِ أَكْثَرَ مِمَّا سَأَلْتُهُ، فَقَالَ: «مَا يُنْصِبُكَ مِنْهُ تَسْأَلُ عَنْهُ؟ إِنَّهُ لَا يَضُرُّكَ» ، فَقُلْتُ: إِنَّهُمْ يَزْعُمُونَ أَنَّ مَعَهُ الْأَنْهَارَ وَالطَّعَامَ، فَقَالَ: «هُوَ أَهْوَنُ عَلَى اللهِ مِنْ ذَلِكَ»ترجمہ
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: کسی نے نبی کریم ﷺ سے دجال کے بارے میں مجھ سے زیادہ سوال نہیں کیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہیں کیا تکلیف دیتی ہے کہ اس کے بارے میں سوال کرتے ہو؟ وہ تمہیں نقصان نہیں پہنچائے گا۔“ میں نے عرض کیا: لوگ کہتے ہیں کہ اس کے ساتھ نہریں اور کھانا ہو گا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ اللہ کے نزدیک اس سے کہیں معمولی ہے۔“