❮
❯
حدیث نمبر: 18088
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا وَكِيعٌ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ قَيْسٍ، عَنِ الْمُغِيرَةِ، أَنَّهُ كَانَ عَلَى رَأْسِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالسَّيْفِ وَهُوَ مُتَلَثِّمٌ، فَجَعَلَ عُرْوَةُ يُنَاوِلُ لِحْيَةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَتَكَلَّمُ، فَقَالَ لَهُ الْمُغِيرَةُ: لَتَكُفَّنَّ يَدَكَ أَوْ لَا تَرْجِعُ إِلَيْكَ - وَالْمُغِيرَةُ مُتَقَلِّدٌ سَيْفًا - فَقَالَ عُرْوَةُ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَنْ هَذَا؟ فَقَالَ: «هَذَا ابْنُ أَخِيكَ الْمُغِيرَةُ» ، فَقَالَ: يَا غُدَرْ، مَا غَسَلْتُ رَأْسِي مِنْ غَدْرَتِكَ
ترجمہ

سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ تلوار لیے نبی کریم ﷺ کے سر (مبارک) کے پاس کھڑے تھے اور چہرے پر ڈھاٹا باندھے ہوئے تھے، تو عروہ بات کرتے ہوئے رسول اللہ ﷺ کی داڑھی مبارک کی طرف ہاتھ بڑھانے لگا، تو مغیرہ رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا: اپنا ہاتھ روک لے، ورنہ یہ تیرے پاس واپس نہیں لوٹے گا - اور مغیرہ رضی اللہ عنہ تلوار لٹکائے ہوئے تھے - تو عروہ نے کہا: یا رسول اللہ! یہ کون ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ تیرا بھتیجا مغیرہ ہے۔“ تو عروہ نے کہا: اے دھوکے باز! میں نے ابھی تک تیرے دھوکے سے اپنا سر نہیں دھویا۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الميم / حدیث: 18088
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 404، حدیث 964