حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا جُمْهُورُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُجَالِدٍ، عَنْ بَيَانٍ، عَنْ قَيْسٍ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ: مَا سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الدَّجَّالِ أَكْثَرَ مِمَّا سَأَلْتُهُ، فَقَالَ: «مَا تَصْنَعُ؟ لَيْسَ بِضَارِّكَ» ، قُلْتُ: أَلَا أَقْتُلُ ابْنَ صَيَّادٍ؟ قَالَ: «مَا تَصْنَعُ بِقَتْلِهِ؟ إِنْ كَانَ هُوَ الدَّجَّالُ فَلَنْ تَخْلُصَ إِلَى قَتْلِهِ، وَإِنْ لَمْ يَكُنِ الدَّجَّالَ فَمَا تَصْنَعُ بِهِ؟»
ترجمہ
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نبی کریم ﷺ سے دجال کے بارے میں مجھ سے زیادہ کسی نے سوال نہیں کیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم کیا کرو گے؟ وہ تمہیں نقصان نہیں پہنچائے گا۔“ میں نے عرض کیا: کیا میں ابن صیاد کو قتل نہ کر دوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہیں اسے قتل کرنے سے کیا حاصل ہو گا؟ اگر وہ دجال ہوا تو تم اسے قتل نہیں کر سکو گے، اور اگر وہ دجال نہ ہوا تو اس کے قتل کرنے سے تمہیں کیا فائدہ؟“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا إِسْحَاقُ الْأَزْرَقُ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ بَيَانٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ: كُنَّا نُصَلِّي مَعَ نَبِيِّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الظُّهْرِ بِالْهَاجِرَةِ، فَقَالَ لَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَبْرِدُوا بِالصَّلَاةِ، فَإِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ»
ترجمہ
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم نبی اللہ ﷺ کے ساتھ سخت گرمی میں ظہر کی نماز پڑھا کرتے تھے، تو رسول اللہ ﷺ نے ہم سے فرمایا: ”نماز میں ٹھنڈک کا انتظار کرو (تاخیر کرو)، کیونکہ سخت گرمی جہنم کی بھاپ میں سے ہے۔“