المعجم الكبير للطبراني
باب الميم— حرف میم سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
إسماعيل بن أبي خالد، عن قيس بن أبي حازم باب: اسماعیل بن ابی خالد کی قیس بن ابی حازم سے روایات
حدیث نمبر: 18089
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمُعَلَّى الدِّمَشْقِيُّ، وَعَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ قَالَا: ثنا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ثنا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسٍ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تُحَرِّمُ الْعَنَقَةُ» ، قُلْنَا: وَمَا الْعَنَقَةُ؟ قَالَ: «الْمَرْأَةُ تَلِدُ فَتَحْصُرُ اللَّبَنَ فِي ثَدْيِهَا، فَتُرْضِعُ جَارَتَهَا الْمَرَّةَ وَالْمَرَّتَيْنِ»ترجمہ
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”عَنَقَہ (رضاعت کی تھوڑی سی مقدار) رضاعت کی حرمت ثابت نہیں کرتی۔“ ہم نے پوچھا: عَنَقَہ کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”عورت بچہ جنتی ہے تو اس کے پستان میں دودھ رک (کر جمع ہو) جاتا ہے، تو وہ اپنی پڑوسن (کے بچے) کو ایک یا دو بار دودھ پلا دیتی ہے۔“