کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: یونس بن عبید کی، حسن (بصری) کے واسطے سے، سیدنا معقل رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَالْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ، قَالَا: ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ: بَيْنَمَا مَعْقِلُ بْنُ يَسَارٍ يَتَغَدَّى إِذْ سَقَطَتْ مِنْهُ لُقْمَةٌ، فَأَخَذَهَا فَأَمَاطَ مَا كَانَ فِيهَا مِنَ الْأَذَى وَأَكَلَهَا، فَقِيلَ لَهُ: أَصْلِحَ اللهُ الْأَمِيرَ، إِنَّ هَؤُلَاءِ الْأَعْلَاجَ يَتَغَامَزُونَ مِنْ أَكْلِكَ اللُّقْمَةَ، وَبَيْنَ يَدَيْكَ هَذَا الطَّعَامُ، قَالَ: «إِنِّي لَمْ أَكُنْ لِأَدَعَ مَا سَمِعْتُ لِهَؤُلَاءِ الْأَعْلَاجِ، إِنَّا كُنَّا نُؤْمَرُ إِنْ أَحَدُنَا سَقَطَتْ لُقْمَتُهُ أَنْ يَأْخُذَهَا فَيُمِيطَ مَا كَانَ بِهَا مِنَ الْأَذَى وَيَأْكُلَهَا وَلَا يَدَعَهَا لِلشَّيْطَانِ»
ترجمہ
…انہوں نے اسے اٹھایا، اس پر جو گندگی لگی تھی اسے صاف کیا اور کھا لیا۔ تو ان سے کہا گیا: اللہ امیر کی اصلاح فرمائے، یہ غیر مسلم لوگ آپ کے سامنے یہ کھانا رکھا ہونے کے باوجود آپ کے گرے ہوئے لقمہ کھانے پر آنکھوں ہی آنکھوں میں ایک دوسرے کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا: ”میں اس بات کو نہیں چھوڑ سکتا جو میں نے سنی ہے، ان غیر مسلموں کی خاطر۔ ہمیں یہ حکم دیا جاتا تھا کہ اگر ہم میں سے کسی کا لقمہ گر جائے تو وہ اسے اٹھائے، اس پر جو گندگی ہو اسے صاف کرے اور کھا لے، اور اسے شیطان کے لیے نہ چھوڑے۔“
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَائِلَةَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، ثنا عَامِرُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ، قَالَ: كُنَّا نُؤْمَرُ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ
ترجمہ
سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ سے بھی اسی جیسی حدیث مروی ہے، جس میں وہ کہتے ہیں: ہمیں یہی حکم دیا جاتا تھا۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ هَاشِمٍ الْبَغَوِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا عَتَّابُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا الْمُضَاءُ الْخَزَّازُ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «إِذَا سَقَطَتْ لُقْمَةُ أَحَدِكُمْ فَلْيُمِطْ مَا كَانَ بِهَا مِنَ الْأَذَى، وَلْيَأْكُلْهَا وَلَا يَدَعْهَا لِلشَّيْطَانِ»
ترجمہ
سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”جب تم میں سے کسی کا لقمہ گر جائے تو وہ اس پر لگی گندگی صاف کرے، پھر اسے کھا لے، اور اسے شیطان کے لیے نہ چھوڑے۔“
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفِرْيَابِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْهَيْجَمِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُمَحِيُّ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِذَا سَقَطَتْ لُقْمَةُ أَحَدِكُمْ فَلْيُمِطْ مَا كَانَ عَلَيْهَا مِنَ الْأَذَى وَلْيَأْكُلْهَا»
ترجمہ
سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”جب تم میں سے کسی کا لقمہ گر جائے تو وہ اس پر لگی گندگی صاف کرے، پھر اسے کھا لے۔“
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ هَاشِمٍ الْبَغَوِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا عَتَّابُ بْنُ حَرْبٍ، عَنِ الْمُضَاءِ الْخَزَّازِ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ: قَالَ مَعْقِلُ بْنُ يَسَارٍ: كُنْتُ يَوْمَ بَيْعَةِ الرِّضْوَانِ رَافِعًا غُصْنًا مِنْ أَغْصَانِ الشَّجَرَةِ، عَنْ رَأْسِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُبَايِعُ النَّاسَ، «لَمْ يُبَايِعْهُمْ عَلَى الْمَوْتِ، بَايَعَهُمْ عَلَى أَنْ لَا يَفِرُّوا، وَكَانَ يُصَافِحُ النِّسَاءَ مِنْ تَحْتِ الثَّوْبِ»
ترجمہ
سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: بیعتِ رضوان کے دن میں رسول اللہ ﷺ کے سر مبارک کے اوپر درخت کی ایک شاخ اٹھائے ہوئے تھا جبکہ آپ ﷺ لوگوں سے بیعت لے رہے تھے۔ ”آپ ﷺ نے ان سے موت پر بیعت نہیں لی تھی، بلکہ اس پر بیعت لی تھی کہ وہ بھاگیں گے نہیں، اور آپ ﷺ عورتوں سے کپڑے کے نیچے سے مصافحہ فرماتے تھے۔“
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، ثنا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ، ثنا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّ مَعْقِلَ بْنَ يَسَارٍ، مَرِضَ فَأَتَاهُ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ زِيَادٍ يَعُودُهُ، فَقَالَ لَهُ مَعْقِلٌ: لَأُحَدِّثَنَّكَ بِحَدِيثٍ لَمْ أُحَدِّثْكَ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَا مِنْ عَبْدٍ اسْتَرْعَاهُ اللهُ رَعِيَّةً، فَمَاتَ وَهُوَ غَاشٌّ لَهَا إِلَّا حَرَّمَ اللهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ»
ترجمہ
سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ بیمار ہوئے تو عبیداللہ بن زیاد ان کی عیادت کے لیے آیا۔ معقل رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا: میں تمہیں ایک ایسی حدیث سناؤں گا جو پہلے نہیں سنائی، میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا ہے: ”جس بندے کو بھی اللہ کسی رعیت کا نگہبان بنائے اور وہ اس کے ساتھ خیانت کرتے ہوئے مر جائے تو اللہ تعالیٰ اس پر جنت حرام کر دیتا ہے۔“
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْحِنَّائِيُّ، ثنا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ قَالَ: دَخَلَ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ زِيَادٍ عَلَى مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ يَعُودُهُ وَنَحْنُ عِنْدَهُ، فَقَالَ مَعْقِلٌ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «أَيُّمَا رَجُلٍ اسْتَرْعَاهُ اللهُ رَعِيَّةً، فَمَاتَ وَهُوَ غَاشٌّ لَهَا حَرَّمَ اللهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ»
ترجمہ
حسن بیان کرتے ہیں: عبیداللہ بن زیاد سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لیے آیا جبکہ ہم ان کے پاس موجود تھے، تو معقل رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”جس کسی آدمی کو بھی اللہ کسی رعیت کا نگہبان بنائے اور وہ اس کے ساتھ خیانت کرتے ہوئے مر جائے تو اللہ تعالیٰ اس پر جنت حرام کر دیتا ہے۔“
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَائِلَةَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَمْرٍو الْبَجَلِيُّ، ثنا أَبُو إِسْرَائِيلَ الْمُلَائِيُّ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَنْ يَسْتَرْعِيَ اللهُ عَبْدًا رَعِيَّةً يَمُوتُ وَهُوَ غَاشٌّ لَهَا إِلَا حَرَّمَ اللهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ»
ترجمہ
سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کسی بندے کو کسی رعیت کا نگہبان نہیں بناتا کہ وہ اس کے ساتھ خیانت کرتے ہوئے مر جائے مگر اللہ تعالیٰ اس پر جنت حرام کر دیتا ہے۔“
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْمَعْمَرِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ،
ترجمہ
سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ سے بھی اسی جیسی حدیث مروی ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجُذُوعِيُّ، ثنا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عِيسَى، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ
ترجمہ
سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ سے بھی اسی جیسی حدیث مروی ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عِيسَى، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى عُبَيْدِ اللهِ بْنِ زِيَادٍ يَعُودُهُ فَقَالَ لَهُ مَعْقِلٌ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ عُقُوبَةَ هَذِهِ الْأُمَّةِ السَّيْفُ، ومَوْعِدَهُمُ السَّاعَةُ، وَالسَّاعَةُ أَدْهَى، وَأَمَرُّ»
ترجمہ
سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ عبیداللہ بن زیاد کی عیادت کے لیے اس کے پاس گئے تو معقل رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”اس امت کی سزا تلوار ہے، اور ان کا وعدہ قیامت ہے، اور قیامت زیادہ سخت اور زیادہ کڑوی ہے۔“
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الرَّقِّيُّ، ثنا عَارِمٌ أَبُو النُّعْمَانِ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطَى الْجَدَّةَ السُّدُسَ»
ترجمہ
سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ”کہ نبی کریم ﷺ نے دادی کو چھٹا حصہ عطا فرمایا۔“
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عَبْدُ الْأَعْلَى، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّ عُمَرَ قَالَ: مَنْ يَعْلَمُ قَضِيَّةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْجَدِّ؟ فَقَالَ مَعْقِلُ بْنُ يَسَارٍ: «قَضَى لَهُ بِالسُّدُسِ»
ترجمہ
حسن بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: کون جانتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے دادا کے بارے میں کیا فیصلہ فرمایا تھا؟ تو سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ نے کہا: ”آپ ﷺ نے اسے چھٹا حصہ دلوایا تھا۔“
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، ثنا عَامِرُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّ عُمَرَ، قَالَ: مَنْ يَعْلَمُ مَا رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى فِي الْجَدِّ؟ فَقَالَ لَهُ مَعْقِلُ بْنُ يَسَارٍ: أَنَا، قَالَ لَهُ: كَمْ لَهُ؟ قَالَ: «السُّدُسُ» ، قَالَ: مَنْ مَعَهُ؟ قَالَ: لَا أَدْرِي، قَالَ: لَا دَرَيْتَ
ترجمہ
حسن بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: کون جانتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے دادا کے بارے میں کیا فیصلہ کیا تھا؟ تو سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ نے کہا: میں (جانتا ہوں)۔ عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: اس کا کتنا حصہ ہے؟ انہوں نے کہا: ”چھٹا حصہ۔“ عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: اس کے ساتھ اور کون شریک ہے؟ انہوں نے کہا: مجھے معلوم نہیں۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تمہیں تو کچھ خبر ہی نہیں!
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ الرَّازِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مَنْدَهٍ الْأَصْبَهَانِيُّ قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُخْتَارِ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ، «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطَى الْجَدَّ السُّدُسَ»
ترجمہ
سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ”کہ رسول اللہ ﷺ نے دادا کو چھٹا حصہ عطا فرمایا۔“
حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ خَالِدٍ الْمِصِّيصِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى الطَّبَّاعُ، ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ الرَّزِايُّ، ثنا الْهَيْثَمُ بْنُ يَمَانٍ قَالَا: ثنا هُشَيْمٌ، أَنَا يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ قَالَ: «قَضَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَدٍّ كَانَ بَيْنَنَا بِالسُّدُسِ»
ترجمہ
سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ”رسول اللہ ﷺ نے ہمارے درمیان ایک دادا کے بارے میں چھٹے حصے کا فیصلہ فرمایا۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، قَالَا: ثنا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُمَحِيُّ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي لِآخُذُ الْعَنْزَ لِأَذْبَحَهَا فَأَرْحَمَهَا، قَالَ: «وَإِنْ رَحِمْتَهَا رَحِمَكَ اللهُ»
ترجمہ
سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں بکری کو ذبح کرنے کے لیے پکڑتا ہوں تو اس پر مجھے رحم آ جاتا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تم نے اس پر رحم کیا تو اللہ تعالیٰ بھی تم پر رحم فرمائے گا۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَكِيمٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ طَهْمَانَ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ، فِي قَوْلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ: {فَلَا تَعْضُلُوهُنَّ أَنْ يَنْكِحْنَ أَزْوَاجَهُنَّ إِذَا تَرَاضَوْا بَيْنَهُمْ بِالْمَعْرُوفِ} [البقرة: ٢٣٢] قَالَ: حَدَّثَنِي مَعْقِلُ بْنُ يَسَارٍ أَنَّهَا فِيهِ نَزَلَتْ، قَالَ: زَوَّجْتُ أُخْتًا لِي مِنْ رَجُلٍ فَطَلَّقَهَا، ثُمَّ تَرَكَهَا حَتَّى إِذَا انْقَضَتْ عِدَّتُهَا خَطَبَهَا فَقُلْتُ: زَوَّجْتُكَ وَفَرَشْتُكَ وَأَكْرَمْتُكَ فَطَلَّقْتَهَا، ثُمَّ جِئْتَ تَخْطُبُهَا؟ لَا وَاللهِ لَا تَعُودُ إِلَيْكَ أَبَدًا، وَكَانَ رَجُلًا لَا بَأْسَ بِهِ، وَكَانَتْ تُرِيدُ أَنْ تَرْجِعَ إِلَيْهِ فَأَنْزَلَ اللهُ هَذِهِ الْآيَةَ فَقُلْتُ: «الْآنَ أَفْعَلُ يَا رَسُولَ اللهِ، فَزَوَّجْتُهَا إِيَّاهُ»
ترجمہ
…پھر تم اس سے نکاح کا پیغام لے کر آئے ہو؟ نہیں، اللہ کی قسم! وہ کبھی تمہاری طرف نہیں لوٹے گی۔ حالانکہ وہ آدمی برا نہ تھا، اور وہ عورت بھی اس کی طرف لوٹنا چاہتی تھی، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ تو میں نے کہا: اب میں ایسا کروں گا، یا رسول اللہ! چنانچہ میں نے اس کا نکاح اس کے ساتھ کر دیا۔