حَدَّثَنَا أَبُو مَعْنٍ ثَابِتُ بْنُ نُعَيْمٍ الْهَوْجِيُّ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو خَلِيفَةَ الْفَضْلُ بْنُ حُبَابٍ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ التَّمَّارُ الْبَصْرِيُّ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْقَزَّازُ الْبَصْرِيُّ، ثنا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الْحَوْضِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ السَّدُوسِيُّ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، قَالُوا: ثنا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، ثنا نَصْرُ بْنُ عَاصِمٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ: «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ» إِذَا كَبَّرَ رَفَعَ يَدَيْهِ إِذَا دَخَلَ فِي الصَّلَاةِ حَتَّى يُحَاذِي بِهِمَا أُذُنَيْهِ، وَإِذَا رَكَعَ وَرَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ، «وَاللَّفْظُ وَاحِدٌ»
ترجمہ
سیدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ جب تکبیر کہتے تو نماز میں داخل ہوتے وقت اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے یہاں تک کہ وہ آپ ﷺ کے دونوں کانوں کے برابر ہو جاتے، اور جب رکوع کرتے اور رکوع سے سر اٹھاتے تب بھی ایسا ہی کرتے۔ (تمام راویوں کے) الفاظ ایک ہی ہیں۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ نَصْرِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ: «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ» إِذَا دَخَلَ فِي الصَّلَاةِ رَفَعَ يَدَيْهِ إِلَى فُرُوعِ أُذُنَيْهِ وَإِذَا رَكَعَ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ "
ترجمہ
سیدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب نماز میں داخل ہوتے تو اپنے دونوں ہاتھ اپنے کانوں کے اوپری کناروں تک اٹھاتے، اور جب رکوع کرتے اور رکوع سے سر اٹھاتے تب بھی ایسا کرتے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ نَصْرِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ: «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ» إِذَا كَبَّرَ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِي بِهِمَا أُذُنَيْهِ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ "
ترجمہ
سیدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب تکبیر کہتے تو اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے یہاں تک کہ وہ آپ ﷺ کے دونوں کانوں کے برابر ہو جاتے، اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو بھی ایسا ہی کرتے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ بِشْرِ بْنِ حَبِيبٍ الْبَيْرُوتِيُّ، ثنا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَكَّارٍ، ثنا سَعِيدُ بْنُ بَشِيرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ نَصْرِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ، قَالَ: «رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» يَرْفَعُ يَدَيْهِ إِذَا كَبَّرَ حَتَّى يُحَاذِي بِهِمَا أُذُنَيْهِ، وَإِذَا رَكَعَ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ
ترجمہ
سیدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ ﷺ جب تکبیر کہتے تو اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے یہاں تک کہ وہ آپ ﷺ کے دونوں کانوں کے برابر ہو جاتے، اور جب رکوع کرتے اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تب بھی ایسا کرتے۔
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ رَاهَوَيْهِ، ثنا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ح وَحَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، ثنا هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللهِ، ثنا قَتَادَةُ، عَنْ نَصْرِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ: «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ» إِذَا كَبَّرَ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى يَجْعَلَهُمَا قَرِيبًا مِنْ أُذُنَيْهِ، وَإِذَا رَكَعَ صَنَعَ مِثْلَ ذَلِكَ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ صَنَعَ مِثْلَ ذَلِكَ
ترجمہ
سیدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب تکبیر کہتے تو اپنے دونوں ہاتھ اپنے کانوں کے قریب تک اٹھاتے، اور جب رکوع کرتے تو بھی ایسا ہی کرتے، اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو بھی ایسا ہی کرتے۔
حَدَّثَنَا يُوسُفُ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، ح وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ، قَالَا: ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ نَصْرِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ، قَالَ: «رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» يَرْفَعُ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِي بِهِمَا فُرُوعَ أُذُنَيْهِ ". زَادَ يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ: «وَإِذَا رَكَعَ كَذَلِكَ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ كَذَلِكَ»
ترجمہ
سیدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم ﷺ کو دیکھا کہ آپ ﷺ اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے یہاں تک کہ وہ آپ ﷺ کے کانوں کے اوپری کناروں کے برابر ہو جاتے۔ یزید بن زریع نے مزید کہا: ”اور جب رکوع کرتے تو بھی ایسا ہی، اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو بھی ایسا ہی۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ الرَّاسِبِيُّ، ثنا مُهَلَّبُ بْنُ الْعَلَاءِ، ثنا شُعَيْبُ بْنُ بَيَانٍ، ثنا عِمْرَانُ الْقَطَّانُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ نَصْرِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ أَنَّهُ صَلَّى مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ إِذَا كَبَّرَ وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ نَحْوَ أُذُنَيْهِ
ترجمہ
سیدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ ﷺ جب تکبیر کہتے اور جب رکوع کا ارادہ کرتے اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو اپنے دونوں ہاتھ اپنے کانوں کی طرف اٹھاتے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ التَّمَّارُ، ثنا سَهْلُ بْنُ زِيَادٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْأَبَّارُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ سَوَّارٍ الْعَنْبَرِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، قَالُوا: ثنا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ الْعَطَّارُ، ثنا يَزِيدُ بْنُ مَيْسَرَةَ، ثنا أَبُو عَطِيَّةَ، مَوْلًى مِنَّا، قَالَ: كَانَ مَالِكُ بْنُ الْحُوَيْرِثِ يَأْتِينَا إِلَى مُصَلَّانَا، فَأُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَقُلْنَا لَهُ: تَقَدَّمْ فَصَلِّ، فَقَالَ لَنَا: قَدِمُوا رَجُلًا مِنْكُمْ لِيُصَلِّيَ بِكُمْ، وَسَأُحَدِّثُكُمْ لِمَ لَا أُصَلِّي بِكُمْ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ زَارَ قَوْمًا فَلَا يَؤُمُّهُمْ وَلْيَؤُمُّهُمْ رَجُلٌ مِنْهُمْ»
ترجمہ
ابوعطیہ رحمہ اللہ، جو ہمارے (قبیلے کے) ایک آزاد کردہ غلام تھے، کہتے ہیں: سیدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ ہمارے پاس ہماری نماز کی جگہ آیا کرتے تھے، ایک دن نماز کھڑی ہو گئی تو ہم نے ان سے کہا: آگے بڑھیے اور نماز پڑھائیے۔ انہوں نے ہم سے کہا: تم میں سے کسی ایک کو آگے کرو کہ وہ تمہیں نماز پڑھائے، اور میں تمہیں بتاتا ہوں کہ میں تمہیں نماز کیوں نہیں پڑھاتا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا ہے: ”جو کسی قوم کی زیارت کے لیے آئے وہ ان کی امامت نہ کرے، بلکہ انہی میں سے کوئی آدمی ان کی امامت کرے۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَارِمٌ أَبُو النُّعْمَانِ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيِّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَا: ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، ثنا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، أَنَّ مَالِكَ بْنَ الْحُوَيْرِثِ، قَالَ لِأَصْحَابِهِ: «أَلَا أُرِيَكُمْ كَيْفَ كَانَتْ صَلَاةُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟» ، وَذَلِكَ فِي غَيْرِ حِينِ صَلَاةٍ، فَقَامَ، ثُمَّ رَكَعَ فَكَبَّرَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَامَ هُنَيْهَةً، ثُمَّ سَجَدَ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ، ثُمَّ انْتَظَرَ، ثُمَّ سَجَدَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ، ثُمَّ انْتَظَرَ هُنَيْهَةً، ثُمَّ سَجَدَ، «وَاللَّفْظُ لِعَارِمٍ»
ترجمہ
سیدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں سے کہا: ”کیا میں تمہیں نہ دکھاؤں کہ رسول اللہ ﷺ کی نماز کیسی تھی؟“ اور یہ نماز کے وقت کے علاوہ تھا، چنانچہ وہ کھڑے ہوئے، پھر رکوع کیا اور تکبیر کہی، پھر اپنا سر اٹھایا اور تھوڑی دیر کھڑے رہے، پھر سجدہ کیا، پھر اپنا سر اٹھایا، پھر انتظار کیا، پھر سجدہ کیا، پھر اپنا سر اٹھایا، پھر تھوڑی دیر انتظار کیا، پھر سجدہ کیا۔ یہ الفاظ عارم کی روایت کے ہیں۔
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ حَمْدَوَيْهِ الصَّفَّارُ، ثنا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، قَالَ: جَاءَنَا مَالِكُ بْنُ الْحُوَيْرِثِ فِي مَسْجِدِنَا فَصَلَّى بِنَا، فَقَالَ: " إِنِّي لِأُصَلِّي بِكُمْ وَلَا أُرِيدُ الصَّلَاةَ، وَلَكِنْ أُرِيدُ أَنْ أُرِيَكُمْ كَيْفَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي، قَالَ أَيُّوبُ: فَقُلْتُ لِأَبِي قِلَابَةَ: كَيْفَ كَانَتْ صَلَاتُهُ؟، قَالَ: كَصَلَاةِ شَيْخِنَا عَمْرِو بْنِ سَلَمَةَ، وَكَانَ الشَّيْخُ يُتِمُّ التَّكْبِيرَ، وَكَانَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرَّكْعَةِ الْأُولَى اعْتَمَدَ عَلَى الْأَرْضِ ثُمَّ قَامَ
ترجمہ
ابوقلابہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: ہمارے پاس سیدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ ہماری مسجد میں آئے اور ہمیں نماز پڑھائی، پھر کہا: ”میں تمہیں نماز پڑھا تو رہا ہوں لیکن میرا مقصد نماز پڑھانا نہیں، بلکہ میں تمہیں دکھانا چاہتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو کس طرح نماز پڑھتے دیکھا ہے۔“ ایوب کہتے ہیں: میں نے ابوقلابہ سے پوچھا: ان کی نماز کیسی تھی؟ انہوں نے کہا: ہمارے شیخ عمرو بن سلمہ کی نماز جیسی، اور یہ شیخ تکبیر مکمل کہا کرتے تھے، اور جب پہلی رکعت سے سر اٹھاتے تو زمین پر ٹیک لگاتے پھر کھڑے ہوتے۔
حَدَّثَنَا الْمِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَارِمٌ، ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، قَالُوا: ثنا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ، قَالَ: أَتَيْنَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَنَحْنُ شَبَبَةٌ فَأَقَمْنَا مَعَهُ نَحْوًا مِنْ عِشْرِينَ لَيْلَةً أَوْ يَوْمًا، فَقَالَ لَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنْ رَجَعْتُمْ إِلَى أَهْلِيكُمْ - أَوْ قَالَ بِلَادِكُمْ - عَلِّمُوهُمْ» ، قَالَ: وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَحِيمًا، «مُرُوهُمْ فَلْيُصَلُّوا صَلَاةَ كَذَا فِي حِينِ كَذَا وَصَلَاةَ كَذَا فِي حِينِ كَذَا، فَإِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ فَلْيُؤَذِّنْ أَحَدُكُمْ ثُمَّ لِيَؤُمَّكُمْ أَكْبَرُكُمْ» وَاللَّفْظُ لِحَدِيثِ عَارِمٍ "
ترجمہ
سیدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے، ہم نوجوان تھے، ہم آپ ﷺ کے ساتھ تقریباً بیس راتیں یا دن ٹھہرے، تو رسول اللہ ﷺ نے ہم سے فرمایا: ”جب تم اپنے گھر والوں — یا فرمایا: اپنے شہروں — کو لوٹو تو انہیں (دین) سکھاؤ۔“ راوی کہتے ہیں: اور رسول اللہ ﷺ بہت مہربان تھے، ”انہیں حکم دو کہ فلاں نماز فلاں وقت میں پڑھیں اور فلاں نماز فلاں وقت میں پڑھیں، اور جب نماز کا وقت آئے تو تم میں سے کوئی ایک اذان دے، پھر تم میں سے سب سے بڑی عمر والا امامت کرائے۔“ یہ الفاظ عارم کی روایت کے ہیں۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ: أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «يَؤُمُّ الْقَوْمَ أَكْبَرُهُمْ سِنًّا» ، «وَكَانَ مَالِكُ بْنُ الْحُوَيْرِثِ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ السَّجْدَةِ الثَّانِيَةِ قَعَدَ ثُمَّ نَهَضَ»
ترجمہ
سیدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”قوم کی امامت ان میں سب سے بڑی عمر والا کرے۔“ اور سیدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ جب دوسرے سجدے سے سر اٹھاتے تو بیٹھ جاتے پھر کھڑے ہوتے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ رَاهَوَيْهِ، ثنا أَبِي، أَبَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ، قَالَ: أَتَيْنَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَاسٍ، وَنَحْنُ شَبَبَةٌ مُتَقَارِبُونَ، فَأَقَمْنَا عِنْدَهُ عِشْرِينَ لَيْلَةً، وَكَانَ رَسُولُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَحِيمًا رَقِيقًا حَلِيمًا، فَظَنَّ أَنَّا قَدِ اشْتَقْنَا أَهْلَنَا وَاشْتَهَيْنَاهُمْ، فَسَأَلَنَا عَمَّنْ تَرَكْنَا بَعْدَنَا فَأَخْبَرْنَاهُ، فَقَالَ: «ارْجِعُوا إِلَى أَهْلِيكُمْ وَأَقِيمُوا عِنْدَهُمْ وَعَلِّمُوهُمْ وَمُرُوهُمْ» ، وَقَالَ: «إِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ فَلْيُؤَذِّنْ أَحَدُكُمْ وَلْيَؤُمَّكُمْ أَكْبَرُكُمْ»
ترجمہ
سیدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم کچھ لوگوں کی صورت میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، اور ہم ہم عمر نوجوان تھے، تو ہم آپ ﷺ کے پاس بیس راتیں ٹھہرے، اور رسول اللہ ﷺ بہت مہربان، نرم دل اور بردبار تھے، آپ ﷺ نے سمجھا کہ ہم اپنے گھر والوں سے مشتاق اور ان کے لیے تڑپ رہے ہیں، تو آپ ﷺ نے ہم سے پوچھا کہ ہم پیچھے کن کن کو چھوڑ آئے ہیں، ہم نے آپ ﷺ کو بتا دیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنے گھر والوں کی طرف لوٹ جاؤ اور ان کے پاس رہو اور انہیں (دین) سکھاؤ اور انہیں حکم دو۔“ اور فرمایا: ”جب نماز کا وقت آئے تو تم میں سے کوئی ایک اذان دے اور تم میں سب سے بڑی عمر والا تمہاری امامت کرے۔“
حَدَّثَنَا الْمِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، قَالَا: ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِذَا كُنْتَ مَعَ صَاحِبِكَ فَأَذِّنْ وَأَقِمْ وَلْيَؤُمَّكُمَا أَكْبَرُكُمَا»
ترجمہ
سیدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم اپنے ساتھی کے ساتھ ہو تو اذان دو اور اقامت کہو، اور تم دونوں میں سے بڑی عمر والا امامت کرے۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، أَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ، قَالَ: أَتَى رَجُلَانِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يُرِيدَانِ سَفَرًا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا أَنْتُمَا خَرَجْتُمَا فَأَذِّنَا ثُمَّ أَقِيمَا وَلْيَؤُمَّكُمَا أَكْبَرُكُمَا»
ترجمہ
سیدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: دو آدمی نبی کریم ﷺ کے پاس آئے، وہ سفر پر جانا چاہتے تھے، تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جب تم دونوں (سفر پر) نکلو تو اذان دو، پھر اقامت کہو، اور تم دونوں میں سے بڑی عمر والا امامت کرے۔“
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ وَلِصَاحِبٍ لَهُ: «إِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ فَأَذِّنَا ثُمَّ أَقِيمَا وَلْيَؤُمَّكُمَا أَكْبَرُكُمَا»
ترجمہ
سیدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ان سے اور ان کے ایک ساتھی سے فرمایا: ”جب نماز کا وقت آئے تو تم دونوں اذان دو، پھر اقامت کہو، اور تم دونوں میں سے بڑی عمر والا امامت کرے۔“
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ وَلِصَاحِبٍ لَهُ: «إِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ فَأَذِّنَا ثُمَّ أَقِيمَا وَلْيَؤُمَّكُمَا أَكْبَرُكُمَا» ، فَقُلْتُ لِأَبِي قِلَابَةَ: فَأَيْنَ الْقِرَاءَةُ؟، فَقَالَ: إِنَّهُمَا كَانَا مُتَقَارِبَيْنِ
ترجمہ
سیدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ان سے اور ان کے ایک ساتھی سے فرمایا: ”جب نماز کا وقت آئے تو تم دونوں اذان دو، پھر اقامت کہو، اور تم دونوں میں سے بڑی عمر والا امامت کرے۔“ راوی کہتے ہیں: میں نے ابوقلابہ سے پوچھا: تو قرأت (کی بنیاد پر امامت) کا کیا ہوا؟ انہوں نے کہا: وہ دونوں (قرأت میں) ایک دوسرے کے برابر تھے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ رَاهَوَيْهِ، ثنا أَبِي، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ، ح وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ قَالَ: كَانَ مَالِكُ بْنُ الْحُوَيْرِثِ يَأْتِينَا فَيَقُولُ: «أَلَا أُحَدِّثُكُمْ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟، فَيُصَلِّي فِي غَيْرِ وَقْتِ صَلَاةٍ، فَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ السَّجْدَةِ الثَّانِيَةِ فِي أَوَّلِ رَكْعَةٍ اسْتَوَى قَاعِدًا ثُمَّ قَامَ وَاعْتَمَدَ عَلَى الْأَرْضِ»
ترجمہ
ابوقلابہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: سیدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ ہمارے پاس آتے اور کہتے: ”کیا میں تمہیں رسول اللہ ﷺ کی نماز کے بارے میں نہ بتاؤں؟“ پھر وہ نماز کے وقت کے علاوہ نماز پڑھتے، جب پہلی رکعت میں دوسرے سجدے سے سر اٹھاتے تو سیدھے بیٹھ جاتے، پھر زمین پر ٹیک لگا کر کھڑے ہوتے۔
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا سُوَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ عَقِيلٍ الْمُقْرِئُ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقَافِلَّائِيُّ، عَنْ عَاصِمٍ الْجَحْدَرِيِّ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْرَأْنَاهُ: فَيَوْمَئِذٍ لَا يُعَذِّبُ، وَلَا يُوثِقُ "
ترجمہ
سیدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ہمیں (اس طرح) پڑھایا: ”فَیَوْمَئِذٍ لَا یُعَذِّبُ وَلَا یُوثِقُ“ (پس اس دن کوئی (اس کے عذاب جیسا) عذاب نہیں دے گا اور نہ کوئی (اس کے باندھنے جیسا) باندھے گا)۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّازِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي الْأَسْوَدِ، ح وَحَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَائِلَةَ الْأَصْبَهَانِيُّ، وَأَحْمَدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ نَصْرٍ الْحَذَّاءُ، قَالَا: ثنا شَبَابٌ الْعُصْفُرِيُّ، قَالَا: ثنا أُنَيْسُ بْنُ سَوَّارٍ الْجَرْمِيُّ، ثنا أَبِي، ثنا مَالِكُ بْنُ الْحُوَيْرِثِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا أَرَادَ اللهُ أَنْ يَخْلُقَ النَّسَمَةَ، فَجَامَعَ الرَّجُلُ الْمَرْأَةَ طَارَ مَاؤُهُ فِي كُلِّ عِرْقٍ وَعَصَبٍ مِنْهَا، فَإِذَا كَانَ يَوْمُ السَّابِعِ أَخْضَرَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ كُلَّ عِرْقٍ بَيْنَهُ وَبَيْنَ آدَمَ» ، ثُمَّ قَرَأَ: {فِي أَيِّ صُورَةٍ مَا شَاءَ رَكَّبَكَ} [الانفطار: ٨]
ترجمہ
سیدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب اللہ کسی جان کو پیدا کرنے کا ارادہ فرماتا ہے، اور مرد عورت سے مجامعت کرتا ہے، تو اس کا پانی عورت کی ہر رگ اور پٹھے میں پھیل جاتا ہے، پھر جب ساتواں دن ہوتا ہے تو اللہ عزوجل اس کے لیے آدم علیہ السلام تک پہنچنے والی ہر رگ کو ہرا (زندہ) کر دیتا ہے۔“ پھر آپ ﷺ نے یہ آیت پڑھی: ”جس صورت میں چاہا اس نے تجھے جوڑ کر بنایا۔“ [سورۃ الانفطار: 8]
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، ثنا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، ثنا أُنَيْسُ بْنُ سَوَّارٍ أَبُو زِيَادٍ الْجَرْمِيُّ، قَالَ: قَالَ أَبِي: كُنْتُ أَنَا وَأَبُو قِلَابَةَ جَالِسَيْنِ فِي مُؤَخَّرِ الْمَسْجِدِ فَدَخَلَ عَلَيْنَا مَالِكُ بْنُ الْحُوَيْرِثِ، فَقَالَ: " أَلَا أُنَبِّئُكُمْ كَيْفَ كَانَ يُصَلِّي نَبِيُّكُمْ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟، قُلْنَا: نَعَمْ، فَتَقَدَّمَ وَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ أَوْجَزَ فِيهِمَا، فَاخْتَلَفْتُ أَنَا وَأَبُو قِلَابَةَ فِي رُكْبَتَيْهِ، فَقُلْتُ أَنَا: أَلْزَقَ بِالْأَرْضِ، وَقَالَ أَبُو قِلَابَةَ: يُجَافِي
ترجمہ
انیس بن سوار ابوزیاد جرمی کہتے ہیں کہ میرے والد نے بیان کیا: میں اور ابوقلابہ مسجد کے پچھلے حصے میں بیٹھے تھے کہ سیدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ ہمارے پاس آئے اور کہا: ”کیا میں تمہیں نہ بتاؤں کہ تمہارے نبی ﷺ کیسے نماز پڑھا کرتے تھے؟“ ہم نے کہا: جی ہاں۔ چنانچہ وہ آگے بڑھے اور دو رکعتیں پڑھیں، ان میں اختصار کیا، تو میرا اور ابوقلابہ رحمہ اللہ کا ان کے دونوں گھٹنوں کے بارے میں اختلاف ہو گیا، میں نے کہا: انہوں نے (گھٹنے) زمین سے چپکائے رکھے، اور ابوقلابہ نے کہا: وہ (انہیں) الگ رکھتے تھے۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدٌ الْعِجْلُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ، ثنا عُمَرُ بْنُ أَبَانَ، ثنا مَالِكُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ، أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ»
ترجمہ
سیدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس کا میں مولا ہوں اس کے علی رضی اللہ عنہ (بھی) مولا ہیں۔“
حَدَّثَنَا عُبَيْدٌ الْعِجْلُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ، ثنا عِمْرَانُ بْنُ أَبَانَ، ثنا مَالِكُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَلِيٍّ: «أَمَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى»
ترجمہ
سیدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”کیا تم اس بات پر راضی نہیں کہ تم مجھ سے ویسی ہی منزلت رکھو جیسی ہارون علیہ السلام کو موسیٰ علیہ السلام سے تھی؟“
حَدَّثَنَا عُبَيْدٌ الْعِجْلُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ، ثنا عِمْرَانُ بْنُ أَبَانَ، ثنا مَالِكُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ مَالِكُ بْنُ الْحُوَيْرِثِ: «كَانَ أَوَّلَ مَنْ أَسْلَمَ مِنَ الرِّجَالِ عَلِيٌّ، وَمَنَ النِّسَاءِ خَدِيجَةُ»
ترجمہ
سیدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ نے کہا: ”مردوں میں سب سے پہلے اسلام لانے والے سیدنا علی رضی اللہ عنہ تھے، اور عورتوں میں خدیجہ رضی اللہ عنہا۔“
حَدَّثَنَا عُبَيْدٌ الْعِجْلُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ، ثنا عِمْرَانُ بْنُ أَبَانَ، ثنا مَالِكُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ: أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَقَى عَتَبَةَ الْمِنْبَرِ فَقَالَ: «آمِينَ» ، ثُمَّ رَقَى عَتَبَةً أُخْرَى، فَقَالَ: «آمِينَ» ، ثُمَّ رَقَى عَتَبَةً أُخْرَى، فَقَالَ: «آمِينَ» ، فَقَالَ: " أَتَانِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ مَنْ أَدْرَكَ وَالِدَيْهِ أَوْ أَحَدَهُمَا ثُمَّ دَخَلَ النَّارَ فَأَبْعَدَهُ اللهُ، قُلْ: آمِينَ، فَقُلْتُ: آمِينَ، وَمَنْ أَدْرَكَ رَمَضَانَ فَلَمْ يُغْفَرْ لَهُ فَأَبْعَدَهُ اللهُ، قُلْ: آمِينَ، فَقُلْتُ: آمِينَ، وَمَنْ ذُكِرْتَ عِنْدَهُ فَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْكَ فَأَبْعَدَهُ اللهُ، قُلْ: آمِينَ، فَقُلْتُ: آمِينَ "
ترجمہ
سیدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ منبر کی سیڑھی پر چڑھے تو فرمایا: ”آمین۔“ پھر دوسری سیڑھی پر چڑھے تو فرمایا: ”آمین۔“ پھر تیسری سیڑھی پر چڑھے تو فرمایا: ”آمین۔“ پھر فرمایا: ”میرے پاس جبریل علیہ السلام آئے اور کہا: اے محمد! جس نے اپنے والدین کو یا ان میں سے کسی ایک کو پایا، پھر آگ میں داخل ہو گیا، تو اللہ اسے دور کرے، کہو: آمین۔ میں نے کہا: آمین۔ اور جس نے رمضان پایا اور اس کی بخشش نہ ہوئی، تو اللہ اسے دور کرے، کہو: آمین۔ میں نے کہا: آمین۔ اور جس کے سامنے تمہارا ذکر کیا جائے اور وہ تم پر درود نہ بھیجے، تو اللہ اسے دور کرے، کہو: آمین۔ میں نے کہا: آمین۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَزَّارُ التُّسْتَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ السَّكَنِ الْأَيْلِيُّ، ثنا عِمْرَانُ بْنُ أَبَانَ، ثنا مَالِكُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ اللَّيْثِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْحَسَنُ، وَالْحُسَيْنُ سَيِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ، وَأَبُوهُمَا خَيْرٌ مِنْهُمَا»
ترجمہ
سیدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”حسن اور حسین (رضی اللہ عنہما) جنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں، اور ان کے والد ان دونوں سے بہتر ہیں۔“