حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، أَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، أَنَّ عُقْبَةَ بْنَ الْحَارِثِ بْنِ عَامِرٍ أَخْبَرَهُ أَو سَمِعَهُ مِنْهُ - إِنْ لَمْ يَكُنْ خَصَّهُ - أَنَّهُ نَكَحَ أُمَّ يَحْيَى بِنْتَ أَبِي إِهَابٍ، فَقَالَتْ لَهُ أَمَةٌ سَوْدَاءٌ: قَدْ أَرْضَعْتُكُمَا، قَالَ: فَجِئْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ لَهُ فَأَعْرَضَ، فَجِئْتُ إِلَيْهِ الثَّانِيَةَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ: «وَكَيْفَ وَقَدْ زَعَمَتْ أَنَّهَا قَدْ أَرْضَعْتُكُمَا فَنَهَاهُ»
ترجمہ
سیدنا عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ام یحییٰ بنت ابی اہاب سے نکاح کیا تو ایک سیاہ فام لونڈی نے ان سے کہا: میں نے تم دونوں کو دودھ پلایا ہے۔ وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور آپ سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے توجہ نہ دی اور منہ پھیر لیا۔ میں دوبارہ آپ کے پاس آیا اور اس کا ذکر کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”بھلا کیسے، جبکہ اس نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے تم دونوں کو دودھ پلایا ہے؟“ اور آپ نے انہیں (اس بیوی کو رکھنے سے) منع فرما دیا۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثَنَا هَوْذَةُ بْنُ خَلِيفَةَ الْبَكْرَاوِيُّ، ثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ: سَمِعْتُُ ابْنَ أَبِي مُلَيْكَةَ، يَقُولُ: حَدَّثَنِي عُقْبَةُ بْنُ الْحَارِثِ بْنَ عَامِرٍ، أَنَّهُ تَزَوَّجَ أُمَّ يَحْيَى بِنْتَ أَبِي إِهَابٍ، فَجَاءَتْ أَمَةٌ سَوْدَاءُ فَقَالَتْ: قَدْ أَرْضَعْتُكُمَا قَالَ: فَجِئْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَأَعْرَضَ عَنِّي، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ: «وَكَيْفَ وَقَدْ زَعَمَتْ أَنَّهَا قَدْ أَرْضَعْتُكُمَا فَنَهَاهُ عَنْهَا»
ترجمہ
سیدنا عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ام یحییٰ بنت ابی اہاب سے نکاح کیا، پھر ایک سیاہ فام لونڈی آئی اور کہا: میں نے تم دونوں کو دودھ پلایا ہے۔ سیدنا عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور آپ سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے منہ پھیر لیا۔ میں نے پھر اس کا ذکر کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”بھلا کیسے، جبکہ اس نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے تم دونوں کو دودھ پلایا ہے؟“ اور انہیں اس (بیوی) سے منع فرما دیا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا يُوسُفُ الْقَاضِي، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ قَالَا: ثَنَا سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي حُبَيْشٍ، ثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ، أَنَّهُ نَكَحَ امْرَأَةً فَجَاءَتْ أَمَةٌ سَوْدَاءُ فَزَعَمَتْ أَنَّهَا أَرْضَعَتْهُمَا، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَعْرَضَ عَنْهُ، ثُمَّ ذَكَرَ الثَّانِيَةَ وَقَالَ: «إِنَّهَا كَاذِبَةٌ» وَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ: «فَكَيْفَ وَقَدْ قِيلَ»
ترجمہ
سیدنا عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک عورت سے نکاح کیا، پھر ایک سیاہ فام لونڈی آئی اور دعویٰ کیا کہ اس نے ان دونوں کو دودھ پلایا ہے۔ میں نے اس کا ذکر نبی کریم ﷺ سے کیا تو آپ نے منہ پھیر لیا، پھر میں نے دوبارہ ذکر کیا اور کہا: وہ جھوٹی ہے۔ رسول اللہ ﷺ مسکرائے اور فرمایا: ”بھلا کیسے، جبکہ یہ بات کہی جا چکی ہے؟“
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، ثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، حَدَّثَنِي عُقْبَةُ بْنُ الْحَارِثِ قَالَ: تَزَوَّجْتُ بِنْتَ أَبِي إِهَابٍ التَّيْمِيِّ فَلَمَّا كَانَتْ صَبِيحَةَ مِلْكِهَا جَاءَتْ مَوْلَاةٌ لِأَهْلِي بِمَكَّةَ فَقَالَتْ: إِنِّي قَدْ أَرْضَعْتُكُمَا، فَرَكِبْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بالمدينَةِ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ وَقُلْتُ: لَقَدْ سَأَلْتُ أَهْلَ الْجَارِيَةِ فَأَنْكَرُوا، قَالَ: «كَيْفَ وَقَدْ قِيلَ» قَالَ: فَفَارَقْتُهَا وَنَكَحْتُ غَيْرَهَا
ترجمہ
سیدنا عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ابو اہاب تمیمی کی بیٹی سے نکاح کیا، جب نکاح کی اگلی صبح ہوئی تو مکہ میں میرے گھر والوں کی ایک آزاد کردہ لونڈی آئی اور کہنے لگی: میں نے تم دونوں کو دودھ پلایا ہے۔ چنانچہ میں نبی کریم ﷺ کے پاس سوار ہو کر گیا، آپ اس وقت مدینہ میں تھے، میں نے آپ سے اس کا ذکر کیا اور عرض کیا: میں نے اس لڑکی کے گھر والوں سے پوچھا تو انہوں نے انکار کیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بھلا کیسے، جبکہ یہ بات کہی جا چکی ہے؟“ سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: چنانچہ میں نے اسے چھوڑ دیا اور کسی اور سے نکاح کر لیا۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثَنَا عَارِمٌ أَبُو النُّعْمَانِ، ح وَحَدَّثَنَا يُوسُفُ الْقَاضِي، ثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَا: ثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، ثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ عَبْدِ اللهِِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ الْحَارِثِ، وَحَدَّثَنِي صَاحِبٌ لِي وَأَنَا لِحَدِيثِ صَاحِبِي حَافَظٌ، قَالَ: تَزَوَّجْتُ أُمَّ يَحْيَى بِنْتَ أَبِي إِهَابٍ، فَدَخَلَتْ عَلَيْنَا امْرَأَةٌ سَوْدَاءُ، فَزَعَمَتْ أَنَّهَا أَرْضَعَتْهُمَا جَمِيعًا، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَعْرَضَ عَنِّي، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَعْرَضَ عَنِّي، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَأَعْرَضَ عَنِّي فَقُلْتُ: إِنَّهَا كَاذِبَةٌ فَقَالَ: «وَمَا يُدْرِيكَ أَنَّهَا كَاذِبَةٌ وَقَدْ قَالَتْ مَا قَالَتْ، دَعْهَا عَنْكَ»
ترجمہ
سیدنا عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ام یحییٰ بنت ابی اہاب سے نکاح کیا، پھر ہمارے پاس ایک سیاہ فام عورت آئی اور اس نے دعویٰ کیا کہ اس نے ان دونوں کو دودھ پلایا ہے۔ میں نے اس کا ذکر نبی کریم ﷺ سے کیا تو آپ نے مجھ سے منہ پھیر لیا، میں نے پھر نبی کریم ﷺ سے ذکر کیا تو آپ نے پھر منہ پھیر لیا، میں نے پھر آپ سے ذکر کیا تو آپ نے پھر منہ پھیر لیا۔ میں نے عرض کیا: وہ جھوٹی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہیں کیسے معلوم کہ وہ جھوٹی ہے جبکہ اس نے جو کہنا تھا کہہ دیا؟ اسے (اپنی بیوی کو) اپنے سے الگ کر دو۔“
حَدَّثَنَا يُوسُفُ الْقَاضِي، ثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ، ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، أَنَا أَيُّوبُ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ - قَالَ ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ: وَحَدَّثَنِي مَنْ هُوَ أَوْثَقُ مِنِّي - أَنَّهُ كَانَتْ تَحْتَهُ أُمُّ يَحْيَى، فَجَاءَتِ امْرَأَةٌ سَوْدَاءُ فَقَالَتْ: إِنِّي قَدْ أَرْضَعْتُكُمَا، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ امْرَأَةً سَوْدَاءَ زَعَمَتْ أَنَّهَا أَرْضَعَتْنِي وَامْرَأَتِي وَهِيَ كَاذِبَةٌ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ، ثُمَّ أَعَادَ عَلَيْهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَدَعْهَا إِذًا»
ترجمہ
سیدنا عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ام یحییٰ ان کے نکاح میں تھیں، پھر ایک سیاہ فام عورت آئی اور کہنے لگی: میں نے تم دونوں کو دودھ پلایا ہے۔ چنانچہ وہ نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! ایک سیاہ فام عورت نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے مجھے اور میری بیوی کو دودھ پلایا ہے، حالانکہ وہ جھوٹی ہے۔ آپ ﷺ نے منہ پھیر لیا، پھر انہوں نے دوبارہ عرض کیا تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”تو پھر اسے چھوڑ دو۔“
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، وَأَيُّوبَ بْنِ مُوسَى، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: إِنِّي تَزَوَّجْتُ بِنْتَ أَبِي إِهَابٍ، فَجَاءَتِ امْرَأَةٌ سَوْدَاءُ زَعَمَتْ أَنَّهَا أَرْضَعَتْنَا، فَأَعْرَضَ عَنِّي فَأَتَيْتُهُ عَنِ الْجَانِبِ الْآخَرِ فَأَعْرَضَ عَنِّي، فَاسْتَقْبَلْتُهُ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّهَا سَوْدَاءُ فَجَعَلْتُ أُصَغِّرُ مِنْ شَأْنِهَا فَقَالَ: «كَيْفَ وَقَدْ قِيلَ»
ترجمہ
سیدنا عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا: میں نے ابو اہاب کی بیٹی سے نکاح کیا ہے، پھر ایک سیاہ فام عورت آئی جس نے دعویٰ کیا کہ اس نے ہم دونوں کو دودھ پلایا ہے۔ آپ ﷺ نے مجھ سے منہ پھیر لیا، میں دوسری طرف سے آپ کے پاس آیا تو پھر منہ پھیر لیا، پھر میں آپ کے سامنے آیا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! وہ تو ایک سیاہ فام عورت ہے — میں اس کی بات کو کم اہمیت دینے لگا — تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”بھلا کیسے، جبکہ یہ بات کہی جا چکی ہے؟“
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَرْبٍ الْعَبَّادَانِيُّ، ثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْمُؤَدِّبُ، ثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ قَالَا: ثَنَا وَهْبٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ: أُتِيَ بِالنُّعَيْمَانِ أَوِ ابْنِ النُّعَيْمَانِ وَهُوَ سَكْرَانُ، فَشَقَّ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَشَقَّةً شَدِيدَةً «فَأَمَرَ مَنْ كَانَ فِي الْبَيْتِ أَنْ يَضْرِبُوهُ، فَضَرَبُوهُ بِالنِّعَالِ وَالْجَرِيدِ» قَالَ عُقْبَةَ: فَكُنْتُ فِيمَنْ ضَرَبَهُ
ترجمہ
سیدنا عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نعیمان یا ابن نعیمان کو، جو نشے کی حالت میں تھا، لایا گیا تو یہ بات رسول اللہ ﷺ پر شدید گراں گزری۔ آپ ﷺ نے گھر میں موجود لوگوں کو حکم دیا کہ اسے ماریں، چنانچہ انہوں نے اسے جوتیوں اور کھجور کی شاخوں سے مارا۔ سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں بھی ان لوگوں میں شامل تھا جنہوں نے اسے مارا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، ثَنَا أَيُّوبُ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ: أُتِيَ بِالنُّعَيْمَانِ أَوِ ابْنِ النُّعَيْمَانِ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَارِبًا «فَأَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ كَانَ فِي الْبَيْتِ أَنْ يَضْرِبُوهُ، فَكُنْتُ فِيمَنْ ضَرَبَهُ، فَضَرَبْنَاهُ بِالنِّعَالِ وَالْجَرِيدِ»
ترجمہ
سیدنا عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نعیمان یا ابن نعیمان کو شراب پیے ہوئے رسول اللہ ﷺ کے پاس لایا گیا۔ رسول اللہ ﷺ نے گھر میں موجود لوگوں کو حکم دیا کہ اسے ماریں، میں بھی ان میں شامل تھا جنہوں نے اسے مارا، ہم نے اسے جوتیوں اور کھجور کی شاخوں سے مارا۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَسَدِيُّ، حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثَنَا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ، ثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، ثَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ: صَلَّيْتُ وَرَاءَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَصْرَ بالمدينَةِ فَسَلَّمَ، ثُمَّ قَامَ سَرِيعًا يَتَخَطَّى رِقَابَ النَّاسِ إِلَى بَعْضِ حُجَرِ نِسَائِهِ، فَفَزِعَ النَّاسُ مِنْ سُرْعَتِهِ، فَخَرَجَ عَلَيْهِمْ فَرَأَى أَنْ قَدْ عَجِبُوا مِنْ سُرْعَتِهِ فَقَالَ: «ذَكَرْتُ شَيْئًا مِنْ تِبْرٍ عِنْدِي، فَكَرِهْتُ أَنْ يَحْبِسَنِي فَأَمَرْتُ بِقَسْمِهِ»
ترجمہ
سیدنا عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے مدینہ میں نبی کریم ﷺ کے پیچھے عصر کی نماز پڑھی، آپ نے سلام پھیرا، پھر آپ ﷺ لوگوں کی گردنیں پھلانگتے ہوئے تیزی سے اپنی ایک زوجہ کے حجرے کی طرف اٹھے، لوگ آپ کی تیزی سے گھبرا گئے۔ پھر آپ ﷺ ان کے پاس واپس تشریف لائے، جب دیکھا کہ لوگ آپ کی تیزی پر حیران ہیں تو فرمایا: ”مجھے اپنے پاس رکھے ہوئے کچھ سونے کی یاد آئی، مجھے یہ ناپسند ہوا کہ وہ مجھے (اللہ کی یاد سے) روکے رکھے، اس لیے میں نے اس کی تقسیم کا حکم دے دیا۔“