کتب حدیث › المعجم الكبير للطبراني › ابواب › باب: سیدنا عقبہ بن مالک لیثی رضی اللہ عنہ
❮
❯
حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَلَطِيُّ، ثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ح وَحَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّائِغُ الْمَكِّيُّ، ثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا الْمِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ، ثَنَا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، قَالُوا: ثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ قَالَ: أَتَانِي أَبُو الْعَالِيَةِ أَنَا وَصَاحِبٌ لِي فَقَالَ: هَلُمَّا فَأَنْتُمَا أَشَبُّ مِنِّي وَأَوْعَى لِلْحَدِيثِ مِنِّي، فَانْطَلَقَ بِنَا حَتَّى أَتَى بِنَا إِلَى بِشْرِ بْنِ عَاصِمٍ اللَّيْثِيِّ فَقَالَ: حَدِّثْ هَذَيْنِ حَدِيثَكَ فَقَالَ بِشْرٌ: حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مَالِكٍ - وَكَانَ مِنْ رَهْطِهِ - فَقَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً فَأَغَارَتْ عَلَى قَوْمٍ فَشَذَّ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ فَتَبِعَهُ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ السَّرِيَّةِ مَعَهُ السَّيْفُ شَاهِرَهُ، فَقَالَ الشَّاذُّ مِنَ الْقَوْمِ: إنِّي مُسْلِمٌ، فَلَمْ يَنْظُرْ فِيمَا قَالَ، قَالَ: فَضَرَبَهُ فَقَتَلَهُ، فَنَمَا الْحَدِيثُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ فِيهِ قَوْلًا شَدِيدًا فَبَلَغَ الْقَاتِلَ، قَالَ: فَبَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ إِذْ قَالَ الْقَاتِلُ: وَاللهِ يَا رَسُولَ اللهِ، مَا قَالَ الَّذِي قَالَهُ إِلَّا تَعَوُّذًا مِنَ الْقَتْلِ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَمَّنْ قِبَلَهُ مِنَ النَّاسِ وَأَخَذَ فِي خُطْبَتِهِ، ثُمَّ قَالَ الثَّانِيَةَ وَاللهِ مَا قَالَ الَّذِي قَالَ إلَّا تَعَوُّذًا مِنَ الْقَتْلِ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَمَّنْ قِبَلَهُ مِنَ النَّاسِ وَأَخَذَ فِي خُطْبَتِهِ، ثُمَّ لَمْ يَصْبِرْ أَنْ قَالَ الثَّالِثَةَ وَاللهِ مَا قَالَ الَّذِي قَالَ إلَّا تَعَوُّذًا مِنَ الْقَتْلِ، فَأَقْبَلَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُعْرَفُ الْمَسَاءَةُ فِي وَجْهِهِ، ثُمَّ قَالَ: «إِنَّ اللهَ أَبَى عَلَيَّ فِيمَنْ قَتَلَ مُؤْمِنًا» قَالَهَا ثَلَاثًا
ترجمہ
حمید بن ہلال کہتے ہیں: ابوالعالیہ میرے اور میرے ایک ساتھی کے پاس آئے اور کہا: آؤ، تم دونوں مجھ سے زیادہ جوان ہو اور مجھ سے زیادہ حدیث یاد رکھنے والے ہو۔ پھر وہ ہمیں لے کر چلے یہاں تک کہ ہمیں بشر بن عاصم لیثی کے پاس لے آئے اور کہا: ان دونوں کو اپنی حدیث سناؤ۔ بشر نے کہا: ہم سے سیدنا عقبہ بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا — اور وہ ان کے قبیلے سے تھے — انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے ایک سریہ بھیجا، اس نے ایک قوم پر حملہ کیا تو اس قوم کا ایک آدمی الگ ہو کر نکل بھاگا، سریہ والوں میں سے ایک آدمی سونتی ہوئی تلوار لیے اس کے پیچھے لگ گیا۔ الگ ہونے والے آدمی نے کہا: میں مسلمان ہوں، مگر اس نے اس کی بات پر غور نہ کیا، راوی کہتے ہیں: اس نے اسے وار کر کے قتل کر دیا۔ یہ بات رسول اللہ ﷺ تک پہنچی تو آپ ﷺ نے اس کے بارے میں سخت بات فرمائی جو قاتل تک پہنچ گئی۔ راوی کہتے ہیں: ایک بار رسول اللہ ﷺ خطبہ دے رہے تھے کہ قاتل نے کہا: اللہ کی قسم، یا رسول اللہ! اس نے جو بات کہی وہ صرف قتل سے بچنے کے لیے کہی تھی۔ رسول اللہ ﷺ نے اس سے اور اس کی طرف کے لوگوں سے منہ پھیر لیا اور اپنا خطبہ جاری رکھا۔ پھر اس نے دوسری بار کہا: اللہ کی قسم! اس نے جو کچھ کہا وہ صرف قتل سے بچنے کے لیے کہا تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے اس سے اور اس کی طرف کے لوگوں سے منہ پھیر لیا اور اپنا خطبہ جاری رکھا۔ پھر وہ صبر نہ کر سکا اور تیسری بار پھر یہی بات کہی: اللہ کی قسم! اس نے جو کچھ کہا وہ صرف قتل سے بچنے کے لیے کہا تھا۔ رسول اللہ ﷺ اس کی طرف متوجہ ہوئے، آپ کے چہرے سے ناگواری ظاہر ہو رہی تھی، پھر فرمایا: ”جو کسی مومن کو قتل کرے اس کے بارے میں اللہ نے میری بات ماننے سے انکار کر دیا ہے۔“ آپ ﷺ نے یہ بات تین بار فرمائی۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 15051
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 17، صفحہ 355، حدیث 980
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَأَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ قَالَا: ثَنَا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، قَالَ: جَمَعَ بَيْنِي وَبَيْنَ بِشْرِ بْنِ عَاصِمٍ رَجُلٌ فَحَدَّثَنِي، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ جَيْشًا لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَشُوا أَهْلَ مَاءٍ صُبْحًا، فَثَارَ رَجُلٌ مِنَ الْمَاءِ فَحَمَلَ عَلَيْهِ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنِّي مُسْلِمٌ، فَقَتَلَهُ، فَلَمَّا قَدِمُوا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُخْبِرَ بِذَلِكَ فَقَامَ خَطِيبًا فَحَمِدَ اللهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: " أَمَّا بَعْدُ فَمَا بَالُ الْمُسْلِمِ يَقْتُلُ الْمُسْلِمَ وَهُوَ يَقُولُ: إِنِّي مُسْلِمٌ " فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَهَا تَعَوُّذًا فَقَالَ: هَكَذَا وَحَوَّلَ وَجْهَهُ عَنْهُ، فَقَالَ: «إِنَّ اللهَ أَبَى عَلَيَّ فِيمَنْ قَتَلَ مُسْلِمًا» قَالَهَا ثَلَاثًا
ترجمہ
حمید بن ہلال کہتے ہیں: ایک آدمی نے مجھے اور بشر بن عاصم کو اکٹھا کیا تو انہوں نے مجھے سیدنا عقبہ بن مالک رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ کا ایک لشکر صبح سویرے ایک چشمے والوں پر جا پڑا، تو چشمے والوں میں سے ایک آدمی اٹھ کھڑا ہوا، نبی کریم ﷺ کے صحابہ میں سے ایک آدمی نے اس پر حملہ کیا، اس نے کہا: میں مسلمان ہوں، مگر اس نے اسے قتل کر دیا۔ جب وہ لوگ نبی کریم ﷺ کے پاس آئے تو آپ ﷺ کو اس کی خبر دی گئی، آپ ﷺ خطبہ دینے کھڑے ہوئے، اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”امّا بعد! مسلمان کو کیا ہوا کہ وہ مسلمان کو قتل کرتا ہے جبکہ وہ کہہ رہا تھا: میں مسلمان ہوں؟“ اس پر اس نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اس نے یہ بات صرف بچنے کے لیے کہی تھی۔ آپ ﷺ نے یوں فرمایا اور اپنا چہرہ اس سے پھیر لیا، پھر فرمایا: ”جو کسی مسلمان کو قتل کرے اس کے بارے میں اللہ نے میری بات ماننے سے انکار کر دیا ہے۔“ آپ ﷺ نے یہ بات تین بار فرمائی۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 15052
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 17، صفحہ 356، حدیث 981
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّائِغُ الْمَكِّيُّ، ثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ يَحْيَى الْمَدَنِيُّ، ثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي حُمَيْدٍ، عَنْ حُمَيْدَةَ بِنْتِ عُبَادَةَ الْأَنْصَارِيَّةِ، عَنْ أُخْتِهَا، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَطَبَ عَلَى الْمِنْبَرِ فِي رَمَضَانَ فَقَالَ: «قَدْ قُمْتُ عَلَى هَذَا الْمِنْبَرِ وَأَنَا أَعْلَمُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ، فَالْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ فِي لَيْلَةِ الْوِتْرِ»
ترجمہ
سیدنا عقبہ بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ رمضان میں منبر پر کھڑے ہوئے اور خطبہ دیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں اس منبر پر اس حال میں کھڑا ہوا ہوں کہ میں شب قدر کو جانتا تھا، پس اسے آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرو۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 15053
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 17، صفحہ 357، حدیث 982