❮
❯
حدیث نمبر: 15050
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَسَدِيُّ، حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثَنَا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ، ثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، ثَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ: صَلَّيْتُ وَرَاءَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَصْرَ بالمدينَةِ فَسَلَّمَ، ثُمَّ قَامَ سَرِيعًا يَتَخَطَّى رِقَابَ النَّاسِ إِلَى بَعْضِ حُجَرِ نِسَائِهِ، فَفَزِعَ النَّاسُ مِنْ سُرْعَتِهِ، فَخَرَجَ عَلَيْهِمْ فَرَأَى أَنْ قَدْ عَجِبُوا مِنْ سُرْعَتِهِ فَقَالَ: «ذَكَرْتُ شَيْئًا مِنْ تِبْرٍ عِنْدِي، فَكَرِهْتُ أَنْ يَحْبِسَنِي فَأَمَرْتُ بِقَسْمِهِ»
ترجمہ

سیدنا عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے مدینہ میں نبی کریم ﷺ کے پیچھے عصر کی نماز پڑھی، آپ نے سلام پھیرا، پھر آپ ﷺ لوگوں کی گردنیں پھلانگتے ہوئے تیزی سے اپنی ایک زوجہ کے حجرے کی طرف اٹھے، لوگ آپ کی تیزی سے گھبرا گئے۔ پھر آپ ﷺ ان کے پاس واپس تشریف لائے، جب دیکھا کہ لوگ آپ کی تیزی پر حیران ہیں تو فرمایا: ”مجھے اپنے پاس رکھے ہوئے کچھ سونے کی یاد آئی، مجھے یہ ناپسند ہوا کہ وہ مجھے (اللہ کی یاد سے) روکے رکھے، اس لیے میں نے اس کی تقسیم کا حکم دے دیا۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 15050
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 17، صفحہ 354، حدیث 979