حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ، ثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ عَارِمٌ، ثَنَا جَرِيرٌ، ثَنَا حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ، حَدَّثَنِي خَالِدُ بْنُ عُمَيْرٍ قَالَ: " غَزَوْنَا مَعَ عُتْبَةَ بْنَ غَزْوَانَ، فَفَتَحْنَا الْأُبُلَّةَ فَإِذَا سَفِيقَةُ جَوْزٍ، فَقُلْنَا: مَا رَأَيْنَا حِجَارَةً نَكْسِرُ فَنَأْكُلُ "
ترجمہ
خالد بن عمیر بیان کرتے ہیں: ہم نے عتبہ بن غزوان رضی اللہ عنہ کے ساتھ غزوہ کیا، ہم نے ابلہ فتح کیا تو وہاں اخروٹ کے چھلکے پڑے دیکھے، ہم نے کہا: ہم نے تو ایسے پتھر کبھی نہیں دیکھے جنہیں توڑ کر ہم کھا سکیں (یعنی ہمیں کبھی اخروٹ دیکھنے کا اتفاق نہ ہوا تھا)۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، ثَنَا فِطْرُ بْنُ خَلِيفَةَ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي نَصْرٍ، عَنْ عُتْبَةَ بْنِ غَزْوَانَ السُّلَمِيِّ، وَكَانَ عُمَرُ بَعَثَهُ أَمِيرًا عَلَى الْبَصْرَةِ وَكَانَ بَدْرِيًّا فَقَامَ فَخَطَبَ فَقَالَ: «إِنَّ الدُّنْيَا قَدْ آذَنَتْ بِصَرْمٍ وَلَمْ يَبْقَ مِنْهَا إلَا صُبَابَةٌ كَصُبَابَةِ الْإِنَاءِ يَصُبُّهَا صَاحِبُهَا، وَإِنَّ مِنْ وَرَائِكُمْ دَارًا فَانْتَقِلُوا إِلَيْهَا بِخَيْرِ مَا بِحَضْرَتِكُمْ وَاللهِ لَقَدْ رَأَيْتُنِي سَابِعَ سَبْعَةٍ مَعَ رَسُولِ اللهِِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَدْ تَسَلَّقَتْ أَفْوَاهُنَا مِنْ أَكْلِ الشَّجَرِ مَا مِنَّا رَجُلٌ الْيَوْمَ إِلَّا وَهُوَ أَمِيرٌ عَلَى مِصْرٍ مِنَ الْأَمْصَارِ وَلَقَدْ رَأَيْتُنِي وَسَعْدَ بْنَ مَالِكٍ ابْتَدَرْنَا بُرْدَةً فَأَخَذْتُ نِصْفَهَا وَأَخَذَ سَعْدٌ نِصْفَهَا وَلَقَدْ بَلَغَنِي أَنَّ مَا بَيْنَ مِصْرَاعَيْنِ مِنْ مَصَارِيعِ الْجَنَّةِ أَرْبَعِينَ سَنَةً، وَلَيَأْتِيَنَّ عَلَيْهِ يَوْمٌ وَهُوَ كَظِيظٌ، وَإِنَّهُ لَمْ يَكُنْ نُبُوَّةٌ إلَّا نُسِخَتْ حَتَّى يَكُونَ مُلْكًا، وَإِنِّي أَعُوذُ بِاللهِ أَنْ أَكُونَ فِي نَفْسِي عَظِيمًا، وَفِي نَفْسِ النَّاسِ صَغِيرًا، وسَتُجَرِّبونَ الْأُمَرَاءَ بَعْدِي»
ترجمہ
عتبہ بن غزوان سلمی رضی اللہ عنہ - جنہیں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بصرہ کا امیر بنا کر بھیجا تھا اور جو بدری صحابی تھے - کھڑے ہوئے اور خطبہ دیا، فرمایا: ”بے شک دنیا نے اپنے خاتمے کا اعلان کر دیا ہے اور اس میں سے صرف اتنا باقی رہ گیا ہے جتنا برتن کی تلچھٹ جسے اس کا مالک انڈیل دیتا ہے۔ اور بے شک تمہارے آگے ایک اور گھر ہے، سو اس کی طرف اپنے پاس موجود بہترین چیز کے ساتھ منتقل ہو جاؤ۔ اللہ کی قسم! میں نے خود کو دیکھا کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سات آدمیوں میں ساتواں تھا، اور درختوں کے پتے کھا کھا کر ہمارے منہ چھل گئے تھے، آج ہم میں سے کوئی ایسا نہیں جو کسی نہ کسی شہر کا امیر نہ ہو۔ اور مجھے یاد ہے کہ میں اور سعد بن مالک ایک چادر لینے کے لیے دوڑے تھے، میں نے اس کا آدھا حصہ لیا اور سعد نے آدھا۔ اور مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ جنت کے دروازوں میں سے دو کواڑوں کے درمیان چالیس سال کی مسافت ہے، اور ضرور ایک دن ایسا آئے گا کہ وہ دروازہ لوگوں سے بھرا ہوا ہو گا۔ اور بے شک کوئی نبوت ایسی نہیں گزری جو منسوخ نہ کر دی گئی ہو یہاں تک کہ وہ بادشاہت بن جائے۔ اور میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں کہ میں اپنے آپ کو اپنی نظر میں بڑا اور لوگوں کی نظر میں چھوٹا سمجھوں۔ اور عنقریب تم میرے بعد امراء کو آزماؤ گے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، ثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَيَّاشٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي نَصْرٍ، قَالَ: خَطَبَنَا عُتْبَةُ بْنُ غَزْوَانَ فَقَالَ: لَقَدْ كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَابِعَ سَبْعَةٍ مَا لَنَا طَعَامٌ إلَّا لِحَاءُ الشَّجَرِ "
ترجمہ
ابونصر بیان کرتے ہیں: عتبہ بن غزوان رضی اللہ عنہ نے ہمیں خطاب کیا اور فرمایا: ”میں نبی کریم ﷺ کے ساتھ سات آدمیوں میں ساتواں تھا، ہمارے پاس درختوں کی چھال کے سوا کوئی کھانا نہ تھا۔“
حَدَّثَنَا الْمِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ، ثَنَا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ح وَحَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخٍ، قَالُوا: ثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عُمَيْرٍ الْعَدَوِيِّ قَالَ: خَطَبَنَا عُتْبَةُ بْنُ غَزْوَانَ فَحَمِدَ اللهَ وَأثْنَي عَلَيْهِ، ثُمّ قَالَ: «أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ الدُّنْيَا قَدْ آذَنَتْ بِصَرْمٍ وَوَلَّتْ حَذَّاءَ، وإنَّمَا بَقِيَ مِنْهَا صُبَابَةٌ كَصُبَابَةِ الْإِنَاءِ يَصُبُّهَا صَاحِبُهَا، وَإنَّكُمْ مُتَنَقِّلُونَ مِنْهَا إِلَى دَارٍ لَا زَوَالَ لَهَا، فَانْتَقِلُوا بِخَيْرِ مَا بِحَضْرَتِكُمْ، فَإِنَّهُ قَدْ ذُكِرَ لَنَا أَنَّ الْحَجَرَ يُلْقَى مِنْ شَفِيرِ جَهَنَّمَ فَيَهْوِي بِهَا سَبْعِينَ عَامًا مَا يُدْرِكُ قَعْرَهَا فَوَاللهِ لَتُمْلَأَنَّ، أَفَعَجِبْتُمْ، فَلَقَدْ ذُكِرَ لَنَا أَنَّ مِصْرَاعَيْنِ مِنْ مَصَارِيعِ الْجَنَّةِ بَيْنَهُمَا مَسِيرَةُ أَرْبَعِينَ سَنَةُ لَيَأْتِيَنَّ عَلَيْهِ يَوْمٌ وَهُوَ كَظِيظٌ الزِّحَامِ، وَلَقَدْ رَأَيْتُنِي وَإِنِّي لَسَابِعُ سَبْعَةٍ مَعَ رَسُولِ اللهِِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لَنَا طَعَامٌ إَِلَا وَرَقُ الشَّجَرِ حَتَّى قَرِحَتْ أَشْدَاقُنَا، وَإِنِّي الْتَقَطْتُ بُرْدَةً فَشَقَقْتُهَا بَيْنِي وَبَيْنَ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ فَارِسِ الْإِسْلَامِ، فَائْتَزَرْتُ بِنِصْفِهَا، وَمَا أَصْبَحَ مِنَّا الْيَوْمَ أَحَدٌ حَيٌّ إِلَّا أَصْبَحَ أَمِيرَ مِصْرٍ مِنَ الْأَمْصَارِ، وَإِنِّي أَعُوذُ بِاللهِ أَنْ أَكُونَ فِي نَفْسِي عَظِيمًا وَعِنْدَ اللهِ صَغِيرًا، وإنَّها لَمْ تَبْقَ نُبُوَّةٌ قَطُّ إلَّا تَنَاسَخَتْ حَتَّى تَكُونَ عَاقِبَتُهَا مُلْكًا، سَتُجَرِّبونَ أَوْ تُبْلَوُنَّ الْأُمَرَاءَ بَعْدَنَا»
ترجمہ
خالد بن عمیر عدوی بیان کرتے ہیں: عتبہ بن غزوان رضی اللہ عنہ نے ہمیں خطاب کیا، اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر فرمایا: ”حمد و ثنا کے بعد: بے شک دنیا نے اپنے خاتمے کا اعلان کر دیا ہے اور تیزی سے پیٹھ پھیر لی ہے، اور اس میں سے صرف اتنا باقی رہ گیا ہے جتنا برتن کی تلچھٹ جسے اس کا مالک انڈیل دیتا ہے۔ اور بے شک تم اس سے ایک ایسے گھر کی طرف منتقل ہونے والے ہو جسے کبھی زوال نہیں، سو اس کی طرف اپنے پاس موجود بہترین چیز کے ساتھ منتقل ہو جاؤ۔ کیونکہ ہمیں بتایا گیا ہے کہ پتھر جہنم کے کنارے سے پھینکا جاتا ہے تو ستر سال تک گرتا رہتا ہے اور اس کی گہرائی تک نہیں پہنچتا، اللہ کی قسم! وہ ضرور بھر دی جائے گی، کیا تمہیں تعجب ہوا؟ ہمیں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ جنت کے دروازوں میں سے دو کواڑوں کے درمیان چالیس سال کی مسافت ہے، اور ضرور ایک دن ایسا آئے گا کہ وہ بہت زیادہ ہجوم سے بھرا ہوا ہو گا۔ اور میں نے خود کو دیکھا کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سات آدمیوں میں ساتواں تھا، ہمارے پاس درختوں کے پتوں کے سوا کوئی کھانا نہ تھا، یہاں تک کہ ہمارے منہ چھل گئے۔ اور میں نے ایک چادر اٹھائی اور اسے اپنے اور سعد بن ابی وقاص - سوارانِ اسلام میں سے ایک - کے درمیان پھاڑ لیا، میں نے اس کا آدھا حصہ اپنے تہبند کے طور پر باندھا۔ آج ہم میں سے کوئی زندہ ایسا نہیں جو کسی نہ کسی شہر کا امیر نہ ہو۔ اور میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں کہ میں اپنے آپ کو اپنی نظر میں بڑا اور اللہ کے نزدیک چھوٹا سمجھوں۔ اور بے شک کوئی نبوت ایسی نہیں گزری جو منتقل نہ ہوئی ہو یہاں تک کہ اس کا انجام بادشاہت پر ہوا ہو، تم عنقریب امراء کو آزماؤ گے یا آزمائے جاؤ گے ہمارے بعد۔“
حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَلَطِيُّ، ثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، ثَنَا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عُمَيْرٍ، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي ح، وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَا: ثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ قُرَّةَ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عُمَيْرٍ الْعَدَوِيُّ، قَالَ وَكِيعٌ: قَالَ أَبُو نَعَامَةَ سَمِعْتُ مِنْ خَالِدِ بْنِ عُمَيْرٍ قَالَ: خَطَبَنَا عُتْبَةُ بْنُ غَزْوَانَ فَقَالَ: «إِنَّ الدُّنْيَا قَدْ آذَنَتْ بِصَرْمٍ وَوَلَّتْ حَذَّاءَ، وَلَمْ يَبْقَ مِنْهَا إِلَّا صُبَابَةٌ كَصُبَابَةِ الْإِنَاءِ، وَإنَّكُمْ فِي دَارٍ تَنْتَقِلونَ عَنْهَا، فَانْتَقِلُوا بِخَيْرِ مَا بِحَضْرَتِكُمْ، وَلَقَدْ رَأَيْتُنِي سَابِعَ سَبْعَةٍ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لَنَا طَعَامٌ نَأْكُلُهُ إلَا وَرَقُ الشَّجَرِ حَتَّى قَرِحَتْ أَشْدَاقُنَا» قَالَ قُرَّةُ: وَلَقَدْ وَجَدْتُ بُرْدَةً وَقَالَ أَبُو نَعَامَةَ: الْتَقَطْتُ بُرْدَةً فَشَقَقْتُهَا نِصْفَيْنِ فَلَبِسْتُ نِصْفًا وَأعْطَيْتُ سَعْدًا نِصْفًا، وَلَيْسَ مِنْ أُولَئِكَ السَّبْعَةِ الْيَوْمَ أَحَدٌ إِلَّا عَلَى مِصْرٍ مِنَ الْأَمْصَارِ، ولَيُجَرَّبَنَّ الْأُمَرَاءُ بَعْدِي، وَإِنَّهُ وَاللهِ مَا كَانَتْ نُبُوَّةٌ قَطُّ إِلَّا تَنَاسَخَتْ حَتَّى تَكُونَ مُلْكًا وجَبْرِيَّةً، وَلَقَدْ ذُكِرَ لِي قَالَ قُرَّةُ: إِنَّ الْحَجَرَ، وَقَالَ أَبُو نَعَامَةَ: إِنَّ الصَّحِيفَةَ تُقْذَفُ بِهَا مِنْ شَفِيرِ جَهَنَّمَ فَتَهْوِي إِلَى قَرَارِهَا، قَالَ قُرَّةُ: سَبْعِينَ خَرِيفًا، وَقَالَ أَبُو نَعَامَةَ: سَبْعِينَ خَرِيفًا، وَلَيُمْلَأَنَّ، وَمَا بَيْنَ الْمِصْرَاعَيْنِ مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ مَسِيرَةَ أَرْبَعِينَ يَوْمًا، وَلَيَأْتِيَنَّ عَلَى أَبْوَابِ الْجَنَّةِ يَوْمٌ، وَلَيْسَ فِيهَا بَابٌ إِلَّا وَهُوَ كَظِيظٌ، وَإِنِّي أَعُوذُ بِاللهِ أَنْ أَكُونَ فِي نَفْسِي كَبِيرًا وَعِنْدَ اللهِ صَغِيرًا
ترجمہ
خالد بن عمیر عدوی بیان کرتے ہیں: عتبہ بن غزوان رضی اللہ عنہ نے ہمیں خطاب کیا اور فرمایا: ”بے شک دنیا نے اپنے خاتمے کا اعلان کر دیا ہے اور تیزی سے پیٹھ پھیر لی ہے، اور اس میں سے صرف اتنا باقی رہ گیا ہے جتنا برتن کی تلچھٹ۔ اور تم ایک ایسے گھر میں ہو جس سے تم منتقل ہونے والے ہو، سو اپنے پاس موجود بہترین چیز کے ساتھ منتقل ہو جاؤ۔ اور میں نے خود کو دیکھا کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سات آدمیوں میں ساتواں تھا، ہمارے پاس کھانے کو درختوں کے پتوں کے سوا کچھ نہ تھا، یہاں تک کہ ہمارے منہ چھل گئے۔“ (راوی کہتے ہیں: ایک روایت میں ہے کہ) مجھے ایک چادر ملی، (اور دوسری روایت میں ہے کہ) میں نے ایک چادر اٹھائی اور اسے دو حصوں میں پھاڑ لیا، ایک حصہ خود پہنا اور ایک حصہ سعد کو دے دیا۔ آج ان سات میں سے کوئی ایسا نہیں جو کسی نہ کسی شہر کا امیر نہ ہو، اور میرے بعد امراء ضرور آزمائے جائیں گے۔ اللہ کی قسم! کوئی نبوت ایسی نہیں گزری جو منتقل نہ ہوئی ہو یہاں تک کہ وہ بادشاہت اور جبر بن گئی ہو۔ اور مجھے بتایا گیا ہے کہ (ایک روایت میں) پتھر اور (دوسری روایت میں) ایک تختی جہنم کے کنارے سے پھینکی جاتی ہے تو وہ (دونوں روایتوں کے مطابق) ستر خزاں (سال) تک اس کی گہرائی تک گرتی رہتی ہے، اور وہ ضرور بھر دی جائے گی۔ اور جنت کے دروازوں میں سے دو کواڑوں کے درمیان چالیس دن کی مسافت ہے، اور جنت کے دروازوں پر ایک ایسا دن ضرور آئے گا کہ ان میں سے کوئی دروازہ ایسا نہ ہو گا جو ہجوم سے بھرا ہوا نہ ہو۔ اور میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں کہ میں اپنے آپ کو اپنی نظر میں بڑا اور اللہ کے نزدیک چھوٹا سمجھوں۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ، ثَنَا أَزْهَرُ بْنُ جَمِيلٍ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطُّفَاوِيُّ، ثَنَا أَيُّوبُ السَّخْتِيَانِيُّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عُتْبَةَ بْنِ غَزْوَانَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ .
ترجمہ
خالد بن عمیر، عتبہ بن غزوان رضی اللہ عنہ سے، اسی سابقہ حدیث کی طرح روایت کرتے ہیں۔
حَدَّثَنَا إِدْرِيسُ بْنُ جَعْفَرٍ الْعَطَّارُ، ثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، ثَنَا أَبُو نَعَامَةَ الْعَدَوِيُّ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عُمَيْرٍ، وَشُوَيْسُ بْنُ كَيْسَانَ قَالَا: خَطَبَ عُتْبَةُ بْنُ غَزْوَانَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
ترجمہ
خالد بن عمیر اور شویس بن کیسان بیان کرتے ہیں: عتبہ بن غزوان رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیا، اور اسی سابقہ حدیث کی طرح بیان کیا۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثَنَا سَهْلُ بْنُ بَكَّارٍ، ثَنَا يَزِيدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عُتْبَةَ بْنِ غَزْوَانَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ
ترجمہ
عتبہ بن غزوان رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ سے بھی اسی جیسی حدیث بیان کرتے ہیں۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبُو عُبَيْدَةَ بْنِ فُضَيْلِ بْنِ عِيَاضٍ، ح وَحَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِيُّ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ الْجَوَّازُ، قَالَا: ثَنَا أَبُو سَعِيدٍ، مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، ثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ عُتْبَةَ بْنِ غَزْوَانَ، قَالَ: «لَقَدْ رَأَيْتُنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَابِعَ سَبْعَةٍ مَا لَنَا طَعَامٌ إِلَّا وَرَقُ الْحَبَلَةِ حَتَّى إِنَّ أَحَدَا لَيَضَعُ كَمَا تَضَعُ الشَّاةُ»
ترجمہ
سیدنا عتبہ بن غزوان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ”میں نے خود کو دیکھا کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سات آدمیوں میں ساتواں تھا، ہمارے پاس انگور کی بیل کے پتوں کے سوا کوئی کھانا نہ تھا، یہاں تک کہ ہم میں سے کوئی بکری کی طرح فضلہ خارج کرتا تھا۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنُ مَنْدَهْ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثَنَا عَبَّادُ بْنُ يَعْقُوبَ الْأَسَدِيُّ، ثَنَا عَمْرُو بْنُ ثَابِتٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ خَبَّابٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْخَلِيلِ، يُحَدِّثُ عَنْ مُجَاهِدٍ، حَدَّثَنِي ابْنُ الشِّخِّيرِ قَالَ: قَدِمَ عَلَيْنَا عُتْبَةُ بْنُ غَزْوَانَ السُّلَمِيُّ فَخَطَبَنَا وَهُوَ بِالْبَصْرَةِ فَقَالَ: «إِنَّ الدُّنْيَا قَدْ آذَنَتْ بِصَرْمٍ وَوَلَّتْ حَذَّاءَ فَلَمْ يَبْقَ مِنْهَا إِلَّا صُبَابَةٌ كَصُبَابَةِ الْإِنَاءِ صَبَّهَا صَاحِبُهَا إِلَّا وَإنَّكُمْ مُنْتَقِلُونَ فَانْتَقِلُوا بِخَيْرِ مَا بِحَضْرَتِكُمْ وَلَقَدْ رَأَيْتُنِي سَابِعَ سَبْعَةٍ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ قَرِحَتْ أَفْوَاهُنَا مِنْ أَكْلِ الْأَشْجَارِ»
ترجمہ
ابن شخیر بیان کرتے ہیں: عتبہ بن غزوان سلمی رضی اللہ عنہ ہمارے پاس آئے اور بصرہ میں ہمیں خطاب کیا اور فرمایا: ”بے شک دنیا نے اپنے خاتمے کا اعلان کر دیا ہے اور تیزی سے پیٹھ پھیر لی ہے، اور اس میں سے صرف اتنا باقی رہ گیا ہے جتنا برتن کی تلچھٹ جو اس کا مالک انڈیل دیتا ہے، اور تم ضرور منتقل ہونے والے ہو، سو اپنے پاس موجود بہترین چیز کے ساتھ منتقل ہو جاؤ۔ اور میں نے خود کو دیکھا کہ میں نبی کریم ﷺ کے ساتھ سات آدمیوں میں ساتواں تھا اور درخت کے پتے کھا کھا کر ہمارے منہ چھل گئے تھے۔“
حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَسْكَرِيُّ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَامِعٍ الْعَطَّارُ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْقُرَشِيُّ، ثَنَا أَبُو نَعَامَةَ الْعَدَوِيُّ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عُتْبَةَ بْنِ غَزْوَانَ، قَالَ: كُنَّا نَشْهَدُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقِتَالَ، فَإِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ قَالَ لَنَا: «احْمِلُوا» فَحَمَلْنَا
ترجمہ
سیدنا عتبہ بن غزوان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ لڑائی میں حاضر ہوتے تھے، جب سورج ڈھل جاتا تو آپ ﷺ ہم سے فرماتے: ”حملہ کرو۔“ تو ہم حملہ کرتے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زَكَرِيَّا الْغَلَابِيُّ، ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرِو بْنِ نَضْلَةَ، ثَنَا عُمَرُ بْنُ الْفَضْلِ السُّلَمِيُّ، ثَنَا غَزْوَانُ بْنُ عُتْبَةَ بْنِ غَزْوَانَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ»
ترجمہ
سیدنا عتبہ بن غزوان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ”جو مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ باندھے، وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے۔“
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ الدِّمْياطِيُّ، ثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، ثَنَا خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ صُبْحٍ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي عَبْلَةَ، عَنْ عُتْبَةَ بْنِ غَزْوَانَ، أَخِي بَنِي مَازِنِ بْنِ صَعْصَعَةَ وَكَانَ مِنَ الصَّحَابَةِ أَنَّ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ مِنْ وَرَائِكُمْ أَيَّامَ الصَّبْرِ، الْمُتَمَسِّكُ فِيهِنَّ يَوْمَئِذٍ بِمِثْلِ مَا أَنْتُمْ عَلَيْهِ لَهُ كَأَجْرِ خَمْسِينَ مِنْكُمْ» ، قَالُوا: يَا نَبِيَّ اللهِ، أَوَمِنْهُمْ؟ قَالَ: «بَلْ مِنْكُمْ» ، قَالُوا: يَا نَبِيَّ اللهِ، أَوَمِنْهُمْ؟ قَالَ: «لَا، بَلْ مِنْكُمْ» ثَلَاثُ مَرَّاتٍ أَوْ أَرْبَعًا
ترجمہ
سیدنا عتبہ بن غزوان رضی اللہ عنہ - جو بنو مازن بن صعصعہ کے بھائی تھے اور صحابہ میں سے تھے - سے روایت ہے کہ نبی اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بے شک تمہارے بعد صبر کے دن آئیں گے، اس وقت جو شخص تمہاری جیسی حالت پر قائم رہے گا اسے تم میں سے پچاس آدمیوں کے برابر اجر ملے گا۔“ صحابہ نے عرض کیا: یا نبی اللہ! کیا ان (بعد میں آنے والوں) میں سے پچاس کے برابر؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ تم میں سے۔“ صحابہ نے پھر عرض کیا: یا نبی اللہ! کیا ان میں سے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ تم میں سے۔“ تین یا چار بار یہی فرمایا۔
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى الصُّوفِيُّ، ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَهْلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عِيسَى، عَنْ زَيْدِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ عُتْبَةَ بْنِ غَزْوَانَ، عَنْ نَبِيِّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا أَضَلَّ أَحَدُكُمْ شَيْئًا أَوْ أَرَادَ أَحَدُكُمْ عَوْنًا وَهُوَ بِأَرْضٍ لَيْسَ بِهَا أَنِيسٌ، فَلْيَقُلْ: يَا عِبَادَ اللهِ أَغِيثُونِي، يَا عِبَادَ اللهِ أَغِيثُونِي، فَإِنَّ لِلَّهِ عِبَادًا لَا نَرَاهُمْ " وَقَدْ جُرِّبَ ذَلِكَ
ترجمہ
سیدنا عتبہ بن غزوان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی کوئی چیز گم کر دے، یا مدد چاہے اور وہ ایسی زمین میں ہو جہاں کوئی انسان موجود نہ ہو، تو وہ کہے: اے اللہ کے بندو! میری مدد کرو، اے اللہ کے بندو! میری مدد کرو، کیونکہ اللہ کے کچھ بندے ایسے ہیں جنہیں ہم نہیں دیکھتے۔“ اور یہ بات آزمائی جا چکی ہے۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْمَعْمَرِيُّ، ثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ بَشِيرٍ الشَّامِيُّ، ثَنَا عُمَرُ أَبُو حَفْصٍ، ثَنَا عُتْبَةُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ غَزْوَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُتْبَةَ بْنِ غَزْوَانَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَوْمًا لِقُرَيْشٍ: «هَلْ فِيكُمْ مَنْ لَيْسَ مِنْكُمْ؟» قَالُوا: ابْنُ أَخِينَا عُتْبَةُ بْنُ غَزْوَانَ قَالَ: «ابْنُ أُخْتِ الْقَوْمِ مِنْهُمْ وَحَلِيفُ الْقَوْمِ مِنْهُمْ»
ترجمہ
سیدنا عتبہ بن غزوان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک دن قریش سے فرمایا: ”کیا تم میں کوئی ایسا ہے جو تم میں سے نہیں؟“ انہوں نے کہا: ہمارے بھتیجے عتبہ بن غزوان۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”قوم کی بہن کا بیٹا قوم میں سے ہے، اور قوم کا حلیف بھی قوم میں سے ہے۔“