المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
ما أسند عتبة بن غزوان باب: سیدنا عتبہ بن غزوان رضی اللہ عنہ کی مرویات
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، ثَنَا فِطْرُ بْنُ خَلِيفَةَ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي نَصْرٍ، عَنْ عُتْبَةَ بْنِ غَزْوَانَ السُّلَمِيِّ، وَكَانَ عُمَرُ بَعَثَهُ أَمِيرًا عَلَى الْبَصْرَةِ وَكَانَ بَدْرِيًّا فَقَامَ فَخَطَبَ فَقَالَ: «إِنَّ الدُّنْيَا قَدْ آذَنَتْ بِصَرْمٍ وَلَمْ يَبْقَ مِنْهَا إلَا صُبَابَةٌ كَصُبَابَةِ الْإِنَاءِ يَصُبُّهَا صَاحِبُهَا، وَإِنَّ مِنْ وَرَائِكُمْ دَارًا فَانْتَقِلُوا إِلَيْهَا بِخَيْرِ مَا بِحَضْرَتِكُمْ وَاللهِ لَقَدْ رَأَيْتُنِي سَابِعَ سَبْعَةٍ مَعَ رَسُولِ اللهِِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَدْ تَسَلَّقَتْ أَفْوَاهُنَا مِنْ أَكْلِ الشَّجَرِ مَا مِنَّا رَجُلٌ الْيَوْمَ إِلَّا وَهُوَ أَمِيرٌ عَلَى مِصْرٍ مِنَ الْأَمْصَارِ وَلَقَدْ رَأَيْتُنِي وَسَعْدَ بْنَ مَالِكٍ ابْتَدَرْنَا بُرْدَةً فَأَخَذْتُ نِصْفَهَا وَأَخَذَ سَعْدٌ نِصْفَهَا وَلَقَدْ بَلَغَنِي أَنَّ مَا بَيْنَ مِصْرَاعَيْنِ مِنْ مَصَارِيعِ الْجَنَّةِ أَرْبَعِينَ سَنَةً، وَلَيَأْتِيَنَّ عَلَيْهِ يَوْمٌ وَهُوَ كَظِيظٌ، وَإِنَّهُ لَمْ يَكُنْ نُبُوَّةٌ إلَّا نُسِخَتْ حَتَّى يَكُونَ مُلْكًا، وَإِنِّي أَعُوذُ بِاللهِ أَنْ أَكُونَ فِي نَفْسِي عَظِيمًا، وَفِي نَفْسِ النَّاسِ صَغِيرًا، وسَتُجَرِّبونَ الْأُمَرَاءَ بَعْدِي»عتبہ بن غزوان سلمی رضی اللہ عنہ - جنہیں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بصرہ کا امیر بنا کر بھیجا تھا اور جو بدری صحابی تھے - کھڑے ہوئے اور خطبہ دیا، فرمایا: ”بے شک دنیا نے اپنے خاتمے کا اعلان کر دیا ہے اور اس میں سے صرف اتنا باقی رہ گیا ہے جتنا برتن کی تلچھٹ جسے اس کا مالک انڈیل دیتا ہے۔ اور بے شک تمہارے آگے ایک اور گھر ہے، سو اس کی طرف اپنے پاس موجود بہترین چیز کے ساتھ منتقل ہو جاؤ۔ اللہ کی قسم! میں نے خود کو دیکھا کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سات آدمیوں میں ساتواں تھا، اور درختوں کے پتے کھا کھا کر ہمارے منہ چھل گئے تھے، آج ہم میں سے کوئی ایسا نہیں جو کسی نہ کسی شہر کا امیر نہ ہو۔ اور مجھے یاد ہے کہ میں اور سعد بن مالک ایک چادر لینے کے لیے دوڑے تھے، میں نے اس کا آدھا حصہ لیا اور سعد نے آدھا۔ اور مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ جنت کے دروازوں میں سے دو کواڑوں کے درمیان چالیس سال کی مسافت ہے، اور ضرور ایک دن ایسا آئے گا کہ وہ دروازہ لوگوں سے بھرا ہوا ہو گا۔ اور بے شک کوئی نبوت ایسی نہیں گزری جو منسوخ نہ کر دی گئی ہو یہاں تک کہ وہ بادشاہت بن جائے۔ اور میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں کہ میں اپنے آپ کو اپنی نظر میں بڑا اور لوگوں کی نظر میں چھوٹا سمجھوں۔ اور عنقریب تم میرے بعد امراء کو آزماؤ گے۔“