حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ الدِّمْيَاطِيُّ، ثنا نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ، ثنا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، وَعُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الذُّبَابُ فِي النَّارِ إِلَّا النَّحْلَ، فَكَانُوا يَكْرَهُونَ قَتْلَهَا، وَإِحْرَاقَ الطَّعَامِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عمر اور عبید بن عمیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مکھی آگ میں ہے سوائے شہد کی مکھی کے“، تو وہ اسے مارنے کو اور کھانا جلانے کو ناپسند سمجھتے تھے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ ابْنُ بِنْتِ رِشْدِينَ بْنِ سَعْدٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ الْجُعْفِيُّ، ثنا أَبُو الْمُحَيَّاةِ يَحْيَى بْنُ يَعْلَى، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يَبِعْ حَاضِرٌ لِبَادٍ»
«وَلَا تَسْتَقْبِلُوا الْجَلَبَ، وَلَا تَنَاجَشُوا»
«وَلَا يَخْطُبْ أَحَدُكُمْ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ»
«وَلَا تَسْأَلِ الْمَرْأَةُ طَلَاقَ أُخْتِهَا لِتَكْتَفِئَ مَا فِي صَفْحَتِهَا، فَإِنَّمَا لَهَا مَا كُتِبَ لَهَا»
«وَلَا تُصِرُّوا الْإِبِلَ، وَالْغَنَمَ لِبَيْعٍ، فَمَنِ اشْتَرَى شَاةً مُصَرَّاةً، فَإِنَّهُ بِأَحَدِ النَّظَرَيْنِ، إِنْ رَدَّهَا، رَدَّهَا بِصَاعٍ مِنْ تَمْرٍ»
«وَلَا تَسْتَقْبِلُوا الْجَلَبَ، وَلَا تَنَاجَشُوا»
«وَلَا يَخْطُبْ أَحَدُكُمْ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ»
«وَلَا تَسْأَلِ الْمَرْأَةُ طَلَاقَ أُخْتِهَا لِتَكْتَفِئَ مَا فِي صَفْحَتِهَا، فَإِنَّمَا لَهَا مَا كُتِبَ لَهَا»
«وَلَا تُصِرُّوا الْإِبِلَ، وَالْغَنَمَ لِبَيْعٍ، فَمَنِ اشْتَرَى شَاةً مُصَرَّاةً، فَإِنَّهُ بِأَحَدِ النَّظَرَيْنِ، إِنْ رَدَّهَا، رَدَّهَا بِصَاعٍ مِنْ تَمْرٍ»
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”کوئی شہری کسی دیہاتی کے لیے اس کا مال نہ بیچے۔“
”اور قافلوں کا استقبال نہ کرو، اور جھوٹی بولی نہ لگاؤ۔“
”اور تم میں سے کوئی اپنے بھائی کے پیغامِ نکاح پر پیغام نہ بھیجے۔“
”اور کوئی عورت اپنی بہن کی طلاق کا مطالبہ نہ کرے تاکہ اس کے پیالے میں جو کچھ ہے وہ خالی کر لے، کیونکہ اسے وہی ملے گا جو اس کے لیے لکھا جا چکا ہے۔“
”اور اونٹنیوں اور بکریوں کے تھن باندھ کر فروخت کے لیے مت رکھو، جو کوئی ایسی بندھے تھن والی بکری خریدے تو وہ دو باتوں میں سے ایک کا مختار ہے: اگر وہ اسے واپس کرے تو ایک صاع کھجور کے ساتھ واپس کرے۔“
”اور قافلوں کا استقبال نہ کرو، اور جھوٹی بولی نہ لگاؤ۔“
”اور تم میں سے کوئی اپنے بھائی کے پیغامِ نکاح پر پیغام نہ بھیجے۔“
”اور کوئی عورت اپنی بہن کی طلاق کا مطالبہ نہ کرے تاکہ اس کے پیالے میں جو کچھ ہے وہ خالی کر لے، کیونکہ اسے وہی ملے گا جو اس کے لیے لکھا جا چکا ہے۔“
”اور اونٹنیوں اور بکریوں کے تھن باندھ کر فروخت کے لیے مت رکھو، جو کوئی ایسی بندھے تھن والی بکری خریدے تو وہ دو باتوں میں سے ایک کا مختار ہے: اگر وہ اسے واپس کرے تو ایک صاع کھجور کے ساتھ واپس کرے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ السَّقَطِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: «نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَتَلَقَّى الْبُيُوعَ فِي أَفْوَاهِ الطُّرُقِ، وَأَنْ يَبِيعَ حَاضِرٌ لِبَادٍ»
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا کہ ہم راستوں کے دہانوں پر مال کا استقبال کریں، اور یہ کہ کوئی شہری کسی دیہاتی کے لیے مال بیچے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْبَرَاءِ، ثنا الْمُعَافَى بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا مُوسَى بْنُ أَعْيَنَ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَبِعْ حَاضِرٌ لِبَادٍ، وَلَا يَشْتَرِ لَهُ»
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کوئی شہری کسی دیہاتی کے لیے نہ بیچے اور نہ اس کے لیے خریدے۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا ابْنُ الْأَصْبَهَانِيِّ، ثنا شَرِيكٌ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قِيلَ لَهُ: إِنَّا إِذَا دَخَلْنَا عَلَى الْأُمَرَاءِ قُلْنَا لَهُمْ مَا لَا نَقُولُ لَهُمْ إِذَا خَرَجْنَا مِنْ عِنْدِهِمْ، فَقَالَ: «كُنَّا نَعُدُّ ذَلِكَ نِفَاقًا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»
ترجمہ
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا گیا: ہم جب حکمرانوں کے پاس جاتے ہیں تو انہیں وہ باتیں کہتے ہیں جو ان کے پاس سے نکلنے کے بعد نہیں کہتے، تو انہوں نے فرمایا: ”ہم رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں اسے نفاق شمار کرتے تھے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ هُوَ أَبُو هِشَامٍ الرِّفَاعِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الطُّهَوِيُّ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: بَيْنَمَا أَنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ظِلٍّ بِالْمَدِينَةِ وَهُوَ يَطْلُبُ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِذِ انْتَهَيْنَا إِلَى حَائِطٍ، فَنَظَرْنَا فِيهِ فَنَظَرَ إِلَى عَلِيٍّ وَهُوَ نَائِمٌ فِي الْأَرْضِ، وَقَدْ أَغْبَرَ فَقَالَ: «لَا أَلُومُ النَّاسَ يُكَنُّونَكَ أَبَا تُرَابٍ» ، فَلَقَدْ رَأَيْتُ عَلِيًّا تَغَيَّرَ وَجْهُهُ، وَاشْتَدَّ ذَلِكَ عَلَيْهِ فَقَالَ: «أَلَا أُرْضِيكَ يَا عَلِيُّ؟» قَالَ: بَلَى يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: «أَنْتَ أَخِي، وَوَزِيرِي تَقْضِي دَيْنِي وَتُنْجِزُ مَوْعِدِي، وَتُبْرِئُ ذِمَّتِي، فَمَنْ أَحَبَّكَ فِي حَيَاةٍ مِنِّي فَقَدْ قَضَى، نحبه، وَمَنْ أَحَبَّكَ في حياة منك بَعْدِي ختم الله له بالأمن والإيمان، ومن أحبك بعدي وَلَمْ يَرَكَ خَتَمَ اللهُ لَهُ بِالْأَمْنِ وَالْإِيمَانِ، وَأَمَّنَهُ يَوْمَ الْفَزَعِ الْأَكْبَرِ، وَمَنْ مَاتَ وَهُوَ يَبْغَضُكَ يَا عَلِيُّ مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً، يُحَاسِبُهُ اللهُ بِمَا عَمِلَ فِي الْإِسْلَامِ»
ترجمہ
نبی کریم ﷺ مدینہ میں ایک سائے میں تھے اور علی رضی اللہ عنہ کو تلاش کر رہے تھے، یہاں تک کہ ہم ایک باغ کی دیوار کے پاس پہنچے، ہم نے اس میں جھانکا تو آپ ﷺ نے علی رضی اللہ عنہ کو زمین پر سوئے ہوئے دیکھا، اور ان پر مٹی لگی ہوئی تھی، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں لوگوں کو ملامت نہیں کرتا کہ وہ تمہیں ابوتراب کہتے ہیں۔“ میں نے دیکھا کہ علی رضی اللہ عنہ کا چہرہ متغیر ہو گیا اور انہیں یہ بات ناگوار گزری، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں راضی نہ کر دوں، اے علی؟“ انہوں نے کہا: کیوں نہیں، یا رسول اللہ! آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم میرے بھائی اور میرے وزیر ہو، میرا قرض ادا کرو گے، میرا وعدہ پورا کرو گے، اور میری ذمہ داری سے بری الذمہ کرو گے۔ جو میری زندگی میں تم سے محبت رکھے وہ اپنا حق ادا کر گیا، اور جو میرے بعد تمہاری زندگی میں تم سے محبت رکھے اللہ اس کے لیے امن و ایمان کی مہر لگائے گا، اور جو میرے بعد تم سے محبت رکھے اور تمہیں دیکھا بھی نہ ہو، اللہ اس کے لیے امن و ایمان کی مہر لگائے گا، اور اسے سب سے بڑی گھبراہٹ کے دن امان دے گا۔ اور اے علی! جو تم سے بغض رکھتے ہوئے مرے، وہ جاہلیت کی موت مرا، اللہ اس سے اسلام میں کیے گئے اعمال کا حساب لے گا۔“
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، ثنا حَفْصُ بْنُ أَبِي دَاوُدَ، عَنْ لَيْثِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَوَّلُ مَنْ أَشْفَعُ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَهْلُ بَيْتِي، ثُمَّ الْأَقْرَبُ فَالْأَقْرَبُ مِنْ قُرَيْشٍ، ثُمَّ الْأَنْصَارُ، ثُمَّ مَنْ آمَنَ بِي، وَاتَّبَعَنِي مِنَ الْيَمَنِ، ثُمَّ سَائِرِ الْعَرَبِ، ثُمَّ الْأَعَاجِمِ، وَأَوَّلُ مَنْ أَشْفَعُ لَهُ أُولُو الْفَضْلِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”قیامت کے دن میں سب سے پہلے جن کی شفاعت کروں گا وہ میرے اہل بیت ہیں، پھر قریش میں سے قریب تر لوگ، پھر انصار، پھر جو یمن سے مجھ پر ایمان لائے اور میری پیروی کی، پھر باقی عرب، پھر عجمی۔ اور سب سے پہلے جن کی شفاعت کروں گا وہ فضیلت والے لوگ ہیں۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْأَخْرَمُ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ، ثنا الْحَكَمُ بْنُ ظُهَيْرٍ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ مَاتَ بُكْرَةً، فَلَا يَقِيلَنَّ إِلَّا فِي قَبْرِهِ، وَمَنْ مَاتَ عَشِيَّةً فَلَا يَبِيتَنَّ إِلَّا فِي قَبْرِهِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو صبح کے وقت مرے وہ اپنی دوپہر کی نیند اپنی قبر ہی میں لے، اور جو شام کے وقت مرے وہ اپنی رات اپنی قبر ہی میں گزارے۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَلِيٍّ الْجَارُودِيُّ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصٍ، ثنا أَبِي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ مُسْلِمٍ الْأَعْوَرِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: «نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ إِسْبَالِ الْإِزَارِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے تہبند لٹکانے سے منع فرمایا۔
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ مُسْلِمٍ الْمُلَائِيِّ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا فَتَحَ اللهُ عَلَى عَادٍ مِنَ الرِّيحِ الَّتِي أُهْلِكُوا فِيهَا إِلَّا مِثْلَ مَوْضِعِ الْخَاتَمِ، فَمَرَّتْ بِأَهْلِ الْبَادِيَةِ فَحَمَلَتْ مَوَاشِيَهُمْ، وَأَمْوَالَهُمْ فَحَمَلَتْهُمْ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ، فَلَمَّا رَأَوْا ذَلِكَ أَهْلُ الْحَاضِرَةِ مِنَ الرِّيحِ، وَمَا فِيهَا قَالُوا: هَذَا عَارِضٌ مُمْطِرُنَا فَأَلْقَتْ أَهْلَ الْبَادِيَةِ، وَمَوَاشِيَهُمْ عَلَى أَهْلِ الْحَاضِرَةِ "
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے عاد پر جس ہوا سے انہیں ہلاک کیا اس میں سے صرف انگوٹھی کے سوراخ برابر کھولا، وہ ہوا بادیہ (صحرا) کے رہنے والوں کے پاس سے گزری اور ان کے مویشیوں اور مال و اسباب کو اٹھا لے گئی، اور انہیں آسمان و زمین کے درمیان اٹھا کر لے گئی۔ جب بستی والوں نے یہ ہوا اور اس میں موجود چیزیں دیکھیں تو کہا: یہ تو بادل ہے جو ہمیں بارش دے گا۔ چنانچہ اس نے بادیہ والوں اور ان کے مویشیوں کو بستی والوں پر جا گرایا۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْجَعْدِ الْوَشَّاءُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ، عَنْ سَالِمٍ الْأَفْطَسِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْمُؤَذِّنُ الْمُحْتَسِبُ كَالشَّهِيدِ يَتَشَخَّطُ فِي دَمِهِ حَتَّى يَفْرُغَ مِنْ أَذَانِهِ، وَيَشْهَدُ لَهُ كُلُّ رَطْبٍ وَيَابِسٍ وَإِذَا مَاتَ لَمْ يُدَوَّدْ فِي قَبْرِهِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ثواب کی نیت سے اذان دینے والا اپنے خون میں لتھڑے ہوئے شہید کی مانند ہے یہاں تک کہ وہ اپنی اذان سے فارغ ہو جائے، اور ہر تر و خشک چیز اس کے حق میں گواہی دیتی ہے، اور جب وہ مرتا ہے تو اس کی قبر میں کیڑے نہیں پڑتے۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو غَسَّانَ مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ النَّهْدِيُّ، ثنا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: اهْتَزَّ الْعَرْشُ لِحُبِّ لِقَاءِ اللهِ سَعْدًا وَكَانَ آخِرَهُمْ , خَرَجَ مِنْ قَبْرِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ: «إِنَّ سَعْدًا ضُغِطَ فِي قَبْرِهِ ضَغْطَةً، فَسَأَلْتُ اللهَ أَنْ يُخَفِّفَ عَنْهُ»
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: عرش (الٰہی) سعد رضی اللہ عنہ کے اللہ سے ملاقات کی محبت کے باعث ہل اٹھا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”سعد کو ان کی قبر میں ایک دبانے والا دباؤ دیا گیا، تو میں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ اسے ان پر ہلکا کر دے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سَهْلٍ الْحَنَّاطُ، ثنا عِمْرَانُ بْنُ عُتَيْبَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْغَازِي فِي سَبِيلِ اللهِ، وَالْحَاجُّ إِلَى بَيْتِ اللهِ وَفْدُ اللهِ دَعَاهُمْ فَأَجَابُوهُ»
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والا، اور بیت اللہ کا حج کرنے والا، اللہ کا وفد ہیں، اس نے انہیں بلایا تو انہوں نے اس کی پکار پر لبیک کہا۔“
حَدَّثَنَا عُبَيْدٌ الْعِجْلُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرَوَيْهِ الْهَرَوِيُّ، ثنا الْجَارُودُ بْنُ يَزِيدَ، ثنا عُمَرُ بْنُ ذَرٍّ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ رَبَّكُمْ حَيِيٌّ كَرِيمٌ يَسْتَحْيِي أَنْ يَرْفَعَ الْعَبْدُ يَدَيْهِ فَيَرُدُّهُمَا صِفَرًا لَا خَيْرَ فِيهِمَا، فَإِذَا رَفَعَ أَحَدُكُمْ يَدَيْهِ فَلْيَقُلْ: يَا حَيُّ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ إِذَا رَدَّ يَدَيْهِ فَلْيُفْرِغْ ذَلِكَ الْخَيْرَ إِلَى وَجْهِهِ "
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بے شک تمہارا رب بہت حیا والا اور کریم ہے، وہ اس بات سے شرماتا ہے کہ بندہ اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے اور وہ انہیں خالی، بغیر کسی بھلائی کے، لوٹا دے۔ چنانچہ جب تم میں سے کوئی اپنے ہاتھ اٹھائے تو کہے: یا حیّ! لا الہ الا انت، یا ارحم الراحمین - تین بار - پھر جب اپنے ہاتھ نیچے کرے تو اس بھلائی کو اپنے چہرے پر پھیر لے۔“
حَدَّثَنَا أَبُو شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَابْلُتِّيُّ، ثنا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي عَبْدَةُ بْنُ أَبِي لُبَابَةَ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: «انْقَطَعَتِ الْهِجْرَةُ بَعْدَ الْفَتْحِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”فتح مکہ کے بعد ہجرت ختم ہو گئی۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ صُبَيْحٍ الْأَسَدِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَعْلَى، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ عَمَّارٍ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ، حَدَّثَنِي مُجَاهِدٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ فَارَقَ عَلِيًّا فَارَقَنِي، وَمَنْ فَارَقَنِي فَارَقَ اللهَ»
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو علی سے جدا ہوا وہ مجھ سے جدا ہوا، اور جو مجھ سے جدا ہوا وہ اللہ سے جدا ہوا۔“
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مَنْصُورٍ الرُّمَّانِيُّ الْمِصِّيصِيُّ، حَدَّثَنِي مُصْعَبُ بْنُ سَعِيدٍ أَبُو خَيْثَمَةَ، ثنا مُوسَى بْنُ أَعْيَنَ، ثنا أَبُو شِهَابٍ الْحَنَّاطُ، عَنْ فِطْرٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا الْمُعْطِي مِنْ سَعَةٍ بِأَفْضَلَ مِنَ الْآخِذِ إِذَا كَانَ مُحْتَاجًا»
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”فراخی میں سے دینے والا اس لینے والے سے افضل نہیں جو محتاج ہو۔“
حَدَّثَنَا أَبُو شُعَيْبٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرَّانِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَابْلُتِّيُّ، ثنا أَيُّوبُ بْنُ نَهِيكٍ الْحَلَبِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ مُجَاهِدًا، يَقُولُ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَرَسُولِهِ فَلْيُؤَدِّ زَكَاةَ مَالِهِ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَرَسُولِهِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَسْكُتْ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَرَسُولِهِ فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ»
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتا ہے وہ اپنے مال کی زکاۃ ادا کرے، اور جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتا ہے وہ اچھی بات کہے یا خاموش رہے، اور جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتا ہے وہ اپنے مہمان کی عزت کرے۔“
حَدَّثَنَا أَبُو شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَابْلُتِّيُّ، ثنا أَيُّوبُ بْنُ نَهِيكٍ، قَالَ: سَمِعْتُ مُجَاهِدًا، يَقُولُ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ قَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي تَوَاضَعَ كُلُّ شَيْءٍ لَعَظَمَتِهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي ذَلَّ كُلُّ شَيْءٍ لِعِزَّتِهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي خَضَعَ كُلُّ شَيْءٍ لِمُلْكِهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي اسْتَسْلَمَ كُلُّ شَيْءٍ لِقُدْرَتِهِ، فَقَالَهَا مَا يَطْلُبُ بِهَا مَا عِنْدَهُ كَتَبَ اللهُ لَهُ بِهَا أَلْفَ حَسَنَةٍ وَرَفَعَ لَهُ بِهَا أَلْفَ دَرَجَةٍ، وَوَكَّلَ بِهِ سَبْعِينَ أَلْفَ مَلَكٍ يَسْتَغْفِرُونَ لَهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ "
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”جو یہ کہے: الحمد للہ الذی تواضع کل شیء لعظمتہ (سب تعریفیں اس اللہ کے لیے جس کی عظمت کے آگے ہر چیز جھک گئی)، والحمد للہ الذی ذل کل شیء لعزتہ (اور سب تعریفیں اس اللہ کے لیے جس کی عزت کے آگے ہر چیز ذلیل ہو گئی)، والحمد للہ الذی خضع کل شیء لملکہ (اور سب تعریفیں اس اللہ کے لیے جس کی بادشاہت کے آگے ہر چیز خاضع ہو گئی)، والحمد للہ الذی استسلم کل شیء لقدرتہ (اور سب تعریفیں اس اللہ کے لیے جس کی قدرت کے آگے ہر چیز سرِ تسلیم خم کر گئی) - اسے کہے، اس کے بغیر کہ اس سے کوئی دنیوی مقصد چاہتا ہو، تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے اس سے ایک ہزار نیکیاں لکھ دیتا ہے، اس کے ایک ہزار درجات بلند کر دیتا ہے، اور ستر ہزار فرشتے اس پر مقرر کر دیتا ہے جو قیامت تک اس کے لیے استغفار کرتے رہتے ہیں۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّازِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، أنا شَرِيكٌ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: «صَلَاةُ الضُّحَى بِدْعَةٌ، وَنِعْمَتِ الْبِدْعَةُ»
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”چاشت کی نماز بدعت ہے، اور کیا اچھی بدعت ہے۔“
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا الْفَضْلُ بْنُ سَهْلٍ الْأَعْرَجُ، ثنا أَبُو الْجَوَّابِ الْأَحْوَصُ بْنُ جَوَّابٍ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ رُزَيْقٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَانَ يَقْرَأُ فِي رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ وَقُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ "
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ فجر کی دو رکعتوں میں ”قل یا ایھا الکافرون“ اور ”قل ھو اللہ احد“ پڑھا کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا أَبُو حَنِيفَةَ مُحَمَّدُ بْنُ حَنِيفَةَ الْوَاسِطِيُّ، ثنا مَعْمَرُ بْنُ سَهْلٍ الْأَهْوَازِيُّ، ثنا عَامِرُ بْنُ مُدْرِكٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا تَمْنَعُوا إِمَاءَ اللهِ مَسَاجِدَ اللهِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کی بندیوں کو اللہ کی مسجدوں سے مت روکو۔“
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ مُجَاهِدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلَانِ أَحَدُهُمَا مِنَ الْأَنْصَارِ، وَالْآخَرُ مِنْ ثَقِيفٍ فَسَبَقَهُ الْأَنْصَارِيُّ , فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلثَّقَفِيِّ: «يَا أَخَا ثَقِيفٍ سَبَقَكَ الْأَنْصَارِيُّ» ، فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ: أَنَا أَبَدُّهُ يَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ: «يَا أَخَا ثَقِيفٍ سَلْ عَنْ حَاجَتِكَ، وَإِنْ شِئْتَ أَنْ أُخْبِرَكَ عَمَّا جِئْتَ بِهِ تَسْأَلُ عَنْهُ» قَالَ: فَذَاكَ أَعْجَبُ إِلَيَّ أَنْ تَفْعَلَ، قَالَ: " فَإِنَّكَ تَسْأَلُنِي عَنْ صَلَاتِكَ، وَعَنْ رُكُوعِكَ، وَعَنِ سُجُودِكَ، وَعَنْ صِيَامِكَ، وَتَقُولُ: مَاذَا لِي فِيهِ؟ "، قَالَ: إِي وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ، قَالَ: «فَصَلِّ أَوَّلَ اللَّيْلِ وَآخِرَهُ، وَنَمْ وَسَطَهُ» قَالَ: فَإِنْ صَلَّيْتُ وَسَطَهُ، قَالَ: «فَأَنْتَ إِذًا - قَالَ - فَإِذَا قُمْتَ إِلَى الصَّلَاةِ فَرَكَعْتَ فَضَعْ يَدَكَ عَلَى رُكْبَتَيْكَ، وَفَرِّجْ بَيْنَ أَصَابِعِكَ، ثُمَّ ارْفَعْ رَأْسَكَ حَتَّى يَرْجِعَ كُلُّ عُضْوٍ إِلَى مَفْصِلِهِ، وَإِذَا سَجَدْتَ فَأَمْكِنْ جَبْهَتَكَ مِنَ الْأَرْضِ، وَلَا تَنْقُرْ، وَصُمِ اللَّيَالِيَ الْبِيضَ ثَلَاثَ عَشْرَةَ وَأَرْبَعَ عَشْرَةَ وَخَمْسَ عَشْرَةَ» ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى الْأَنْصَارِيِّ , فَقَالَ: «سَلْ عَنْ حَاجَتِكَ وَإِنْ شِئْتَ أَخْبَرْتُكَ» ، قَالَ: فَذَلِكَ أَعْجَبُ إِلَيَّ، قَالَ: " فَإِنَّكَ جِئْتَ تَسْأَلُنِي عَنْ خُرُوجِكَ مِنْ بَيْتِكَ تَؤُمُّ الْبَيْتَ الْحَرَامَ وَتَقُولُ: مَاذَا لِي فِيهِ؟ "، وَجِئْتَ تَسْأَلُ عَنْ وُقُوفِكَ بِعَرَفَةَ وَتَقُولُ: مَاذَا لِي فِيهِ؟ وَعَنْ رَمْيِكَ الْجِمَارَ، وَتَقُولُ: مَاذَا لِي فِيهِ؟ وَعَنْ طَوَافِكَ بِالْبَيْتِ، وَتَقُولُ: مَاذَا لِي فِيهِ؟ وَعَنْ حَلْقِكَ رَأْسَكَ، وَتَقُولُ: مَاذَا لِي فِيهِ؟ " قَالَ: إِي وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ، قَالَ: " أَمَّا خُرُوجُكَ مِنْ بَيْتِكَ تَؤُمُّ الْبَيْتَ فَإِنَّ لَكَ بِكُلِّ وَطْأَةٍ تَطَأُهَا رَاحِلَتُكَ يَكْتُبُ اللهُ لَكَ بِهَا حَسَنَةً، وَيَمْحُو عَنْكَ بِهَا سَيِّئَةً، وَأَمَّا وُقُوفُكَ بِعَرَفَةَ فَإِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يَنْزِلُ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا فَيُبَاهِي بِهِمُ الْمَلَائِكَةَ فَيَقُولُ: «هَؤُلَاءِ عِبَادِي جَاءُونِي شُعْثًا غُبْرًا مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ يَرْجُونَ رَحْمَتِي، وَيَخَافُونَ عَذَابِي، وَلَمْ يَرَوْنِي، فَكَيْفَ لَوْ رَأَوْنِي فَلَوْ كَانَ عَلَيْكَ مِثْلُ رَمْلِ عَالِجٍ، أَوْ مِثْلُ أَيَّامِ الدُّنْيَا أَوْ مِثْلُ قَطْرِ السَّمَاءِ ذُنُوبًا غَسَلَهَا اللهُ عَنْكَ، وَأَمَّا رَمْيُكَ الْجِمَارَ فَإِنَّهُ مَذْخُورٌ لَكَ، وَأَمَّا حَلْقُكَ رَأْسَكَ، فَإِنَّ لَكَ بِكُلِّ شَعْرَةٍ تَسْقُطُ حَسَنَةٌ فَإِذَا طُفْتَ بِالْبَيْتِ خَرَجْتَ مِنْ ذُنُوبِكَ كَيَوْمِ وَلَدَتْكَ أُمُّكَ»
ترجمہ
دو آدمی نبی کریم ﷺ کے پاس آئے، ان میں سے ایک انصار میں سے تھا اور دوسرا ثقیف میں سے، تو انصاری نے بات کرنے میں سبقت لے لی، اس پر نبی کریم ﷺ نے ثقفی سے فرمایا: ”اے ثقیف کے بھائی! انصاری نے تم سے سبقت لے لی۔“ انصاری نے کہا: یا رسول اللہ! میں اسے ترجیح دیتا ہوں۔ تو آپ ﷺ نے اس (ثقفی) سے فرمایا: ”اے ثقیف کے بھائی! اپنی ضرورت پوچھو، اور اگر چاہو تو میں تمہیں بتا دوں کہ تم کس بارے میں پوچھنے آئے ہو۔“ اس نے کہا: مجھے یہی زیادہ پسند ہے کہ آپ خود بتا دیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم مجھ سے اپنی نماز، اپنے رکوع، اپنے سجدے اور اپنے روزے کے بارے میں پوچھنے آئے ہو اور کہتے ہو: مجھے اس میں کیا ملے گا؟“ اس نے کہا: جی ہاں، اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”رات کے شروع اور آخر میں نماز پڑھو، اور درمیان میں سو جاؤ۔“ اس نے کہا: اگر میں درمیان میں بھی نماز پڑھوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تب تو تم اور بھی بہتر ہو - اور جب تم نماز کے لیے کھڑے ہو کر رکوع کرو تو اپنا ہاتھ اپنے گھٹنوں پر رکھو اور اپنی انگلیوں کو کھلا رکھو، پھر اپنا سر اٹھاؤ یہاں تک کہ ہر عضو اپنے جوڑ کی طرف لوٹ جائے، اور جب سجدہ کرو تو اپنی پیشانی زمین پر جما دو، جلدی نہ کرو، اور ایامِ بیض کے روزے رکھو: تیرہ، چودہ اور پندرہ تاریخ کے۔“ پھر آپ ﷺ انصاری کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”اپنی ضرورت پوچھو، اور اگر چاہو تو میں تمہیں بتا دوں۔“ اس نے کہا: مجھے یہی زیادہ پسند ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم اپنے گھر سے بیت الحرام کا رخ کر کے نکلنے کے بارے میں پوچھنے آئے ہو اور کہتے ہو: مجھے اس میں کیا ملے گا؟ اور تم عرفہ میں اپنے وقوف کے بارے میں پوچھنے آئے ہو اور کہتے ہو: مجھے اس میں کیا ملے گا؟ اور اپنی رمی جمار کے بارے میں پوچھنے آئے ہو اور کہتے ہو: مجھے اس میں کیا ملے گا؟ اور بیت اللہ کے اپنے طواف کے بارے میں پوچھنے آئے ہو اور کہتے ہو: مجھے اس میں کیا ملے گا؟ اور اپنا سر منڈوانے کے بارے میں پوچھنے آئے ہو اور کہتے ہو: مجھے اس میں کیا ملے گا؟“ اس نے کہا: جی ہاں، اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”رہا تمہارا اپنے گھر سے بیت اللہ کی طرف نکلنا، تو تمہاری سواری جو بھی قدم رکھے گی اس کے بدلے اللہ تمہارے لیے ایک نیکی لکھے گا اور ایک برائی مٹائے گا۔ اور رہا تمہارا عرفہ میں وقوف، تو اللہ عزوجل آسمانِ دنیا کی طرف نزول فرماتا ہے اور فرشتوں کے سامنے ان پر فخر کرتا ہوا فرماتا ہے: ’یہ میرے بندے ہیں جو ہر دور دراز گھاٹی سے پراگندہ حال، غبار آلود میرے پاس آئے ہیں، میری رحمت کی امید رکھتے اور میرے عذاب سے ڈرتے ہوئے، انہوں نے مجھے دیکھا بھی نہیں، تو اگر وہ مجھے دیکھ لیتے تو کیا حال ہوتا! اگر تم پر ریگستان کی ریت کے برابر، یا دنیا کے دنوں کے برابر، یا آسمان کے قطروں کے برابر گناہ بھی ہوں تو اللہ انہیں تم سے دھو ڈالے گا۔‘ اور رہی تمہاری رمی جمار، تو وہ تمہارے لیے محفوظ رکھی جائے گی۔ اور رہا تمہارا سر منڈوانا، تو تمہارے لیے ہر گرنے والے بال کے بدلے ایک نیکی ہے۔ پھر جب تم بیت اللہ کا طواف کرو گے تو اپنے گناہوں سے یوں نکلو گے جیسے تمہاری ماں نے تمہیں آج ہی جنم دیا ہو۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَيُّوبَ الْقِرَبِيُّ، ثنا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، ثنا بِشْرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ مُجَاهِدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْعَبَادِلَةِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، وَعَبْدِ اللهِ بْنِ الْعَبَّاسِ، وَعَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، وَعَبْدِ اللهِ بْنُ عَمْرٍو، قَالُوا: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْقَاصُّ يَنْتَظِرُ الْمَقْتَ، وَالْمُسْتَمِعُ يَنْتَظِرُ الرَّحْمَةَ، وَالتَّاجِرُ يَنْتَظِرُ الرِّزْقَ، وَالْمُحْتَكِرُ يَنْتَظِرُ اللَّعْنَةَ، وَالنَّائِحَةُ وَمَنْ حَوْلَهَا مِنَ امْرَأَةٍ عَلَيْهِمْ لَعْنَةُ اللهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ»
ترجمہ
عبادلہ - عبداللہ بن عمر، عبداللہ بن عباس، عبداللہ بن زبیر اور عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہم - بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”قصہ گو (خود پسندی سے وعظ کرنے والا) ناراضگی کا منتظر ہے، سننے والا رحمت کا منتظر ہے، تاجر رزق کا منتظر ہے، ذخیرہ اندوز لعنت کا منتظر ہے، اور نوحہ کرنے والی عورت اور اس کے اردگرد کی عورتیں - ان پر اللہ، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَيْثَمَةَ، ثنا مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى، ثنا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنِ ابْنِ مُجَاهِدٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ فَبَسَطَ كَفَّهُ الْيُمْنَى فَقَالَ: «بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ هَذَا كِتَابٌ مِنَ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ بِأَسْمَاءِ أَهْلِ الْجَنَّةِ، وَأَسْمَاءِ آبَائِهِمْ، وَقَبَائِلِهِمْ، وَعَشَائِرِهِمْ، لَا يُزَادُ فِيهِمْ، وَلَا يُنْقَصُ مِنْهُمْ» ، ثُمَّ بَسَطَ كَفَّهُ الْيُسْرَى، فَقَالَ: «بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ هَذَا كِتَابٌ مِنَ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ لِأَهْلِ النَّارِ بِأَسْمَائِهِمْ وَأَسْمَاءِ آبَائِهِمْ، وَقَبَائِلِهِمْ، وَعَشَائِرِهِمْ لَا يُزَادُ فِيهِمْ، وَلَا يُنْقَصُ مِنْهُمْ»
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ باہر تشریف لائے تو اپنی داہنی ہتھیلی پھیلائی اور فرمایا: ”بسم اللہ الرحمن الرحیم، یہ اللہ الرحمن الرحیم کی طرف سے ایک کتاب ہے جس میں اہلِ جنت کے نام، ان کے آباء کے نام، ان کے قبیلے اور ان کے خاندان درج ہیں، ان میں نہ کوئی اضافہ ہوگا نہ کمی۔“ پھر آپ ﷺ نے اپنی بائیں ہتھیلی پھیلائی اور فرمایا: ”بسم اللہ الرحمن الرحیم، یہ اللہ الرحمن الرحیم کی طرف سے اہلِ جہنم کے لیے ایک کتاب ہے جس میں ان کے نام، ان کے آباء کے نام، ان کے قبیلے اور ان کے خاندان درج ہیں، ان میں نہ کوئی اضافہ ہوگا نہ کمی۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَيُّوبَ صَاحِبُ الْمَغَازِي، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَلِمُ الرُّكْنَ الْيَمَانِيَّ وَالْحَجَرَ، وَلَا يَسْتَلِمُ غَيْرَهُمَا»
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ رکن یمانی اور حجر اسود کا استلام کرتے تھے، اور ان کے سوا کسی اور کونے کا استلام نہیں کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ، ثنا وَرْقَاءُ بْنُ عُمَرَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «ائْذَنُوا لِلنِّسَاءِ فِي الْمَسَاجِدِ بِاللَّيْلِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”عورتوں کو رات کے وقت مسجدوں میں جانے کی اجازت دو۔“
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفِرْيَابِيُّ، وَأَبُو عَبْدِ الْمَلِكِ الْقُرَشِيُّ أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَائِذٍ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا الْهَيْثَمُ بْنُ حُمَيْدٍ، ثنا الْمُطْعِمُ بْنُ الْمِقْدَامِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: خَرَجْتُ إِلَى الْغَزْوِ أَنَا وَرَجُلٌ مَعِي فَشَيَّعَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ فَلَمَّا أَرَادَ فِرَاقَنَا قَالَ: إِنَّهُ لَيَسُرُّنِي مَا أَعْطَيْتُمَاهُ، وَلَكِنْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِذَا اسْتُودِعَ اللهُ شَيْئًا حِفِظَهُ، وَإِنِّي أَسْتَوْدِعُ اللهَ دِينَكُمَا وَأَمَانَتَكُمَا، وَخَوَاتِيمَ عَمَلِكُمَا»
ترجمہ
راوی بیان کرتے ہیں: میں اور میرے ساتھ ایک آدمی جہاد کے لیے نکلے تو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ہمیں رخصت کیا، جب وہ ہم سے جدا ہونے لگے تو فرمایا: مجھے وہ بات اچھی لگی جو تم دونوں کو دی گئی ہے، لیکن میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا ہے: ”جب کوئی چیز اللہ کے سپرد کی جائے تو وہ اس کی حفاظت کرتا ہے، اور میں تم دونوں کے دین، تمہاری امانت اور تمہارے اعمال کے انجام کو اللہ کے سپرد کرتا ہوں۔“