حدیث نمبر: 13488
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ ابْنُ بِنْتِ رِشْدِينَ بْنِ سَعْدٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ الْجُعْفِيُّ، ثنا أَبُو الْمُحَيَّاةِ يَحْيَى بْنُ يَعْلَى، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يَبِعْ حَاضِرٌ لِبَادٍ»
«وَلَا تَسْتَقْبِلُوا الْجَلَبَ، وَلَا تَنَاجَشُوا»
«وَلَا يَخْطُبْ أَحَدُكُمْ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ»
«وَلَا تَسْأَلِ الْمَرْأَةُ طَلَاقَ أُخْتِهَا لِتَكْتَفِئَ مَا فِي صَفْحَتِهَا، فَإِنَّمَا لَهَا مَا كُتِبَ لَهَا»
«وَلَا تُصِرُّوا الْإِبِلَ، وَالْغَنَمَ لِبَيْعٍ، فَمَنِ اشْتَرَى شَاةً مُصَرَّاةً، فَإِنَّهُ بِأَحَدِ النَّظَرَيْنِ، إِنْ رَدَّهَا، رَدَّهَا بِصَاعٍ مِنْ تَمْرٍ»
ترجمہ

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”کوئی شہری کسی دیہاتی کے لیے اس کا مال نہ بیچے۔“
”اور قافلوں کا استقبال نہ کرو، اور جھوٹی بولی نہ لگاؤ۔“
”اور تم میں سے کوئی اپنے بھائی کے پیغامِ نکاح پر پیغام نہ بھیجے۔“
”اور کوئی عورت اپنی بہن کی طلاق کا مطالبہ نہ کرے تاکہ اس کے پیالے میں جو کچھ ہے وہ خالی کر لے، کیونکہ اسے وہی ملے گا جو اس کے لیے لکھا جا چکا ہے۔“
”اور اونٹنیوں اور بکریوں کے تھن باندھ کر فروخت کے لیے مت رکھو، جو کوئی ایسی بندھے تھن والی بکری خریدے تو وہ دو باتوں میں سے ایک کا مختار ہے: اگر وہ اسے واپس کرے تو ایک صاع کھجور کے ساتھ واپس کرے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 13488
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 12، صفحہ 419، حدیث 13545