المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
مجاهد، عن ابن عمر باب: مجاہد کی سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ هُوَ أَبُو هِشَامٍ الرِّفَاعِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الطُّهَوِيُّ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: بَيْنَمَا أَنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ظِلٍّ بِالْمَدِينَةِ وَهُوَ يَطْلُبُ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِذِ انْتَهَيْنَا إِلَى حَائِطٍ، فَنَظَرْنَا فِيهِ فَنَظَرَ إِلَى عَلِيٍّ وَهُوَ نَائِمٌ فِي الْأَرْضِ، وَقَدْ أَغْبَرَ فَقَالَ: «لَا أَلُومُ النَّاسَ يُكَنُّونَكَ أَبَا تُرَابٍ» ، فَلَقَدْ رَأَيْتُ عَلِيًّا تَغَيَّرَ وَجْهُهُ، وَاشْتَدَّ ذَلِكَ عَلَيْهِ فَقَالَ: «أَلَا أُرْضِيكَ يَا عَلِيُّ؟» قَالَ: بَلَى يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: «أَنْتَ أَخِي، وَوَزِيرِي تَقْضِي دَيْنِي وَتُنْجِزُ مَوْعِدِي، وَتُبْرِئُ ذِمَّتِي، فَمَنْ أَحَبَّكَ فِي حَيَاةٍ مِنِّي فَقَدْ قَضَى، نحبه، وَمَنْ أَحَبَّكَ في حياة منك بَعْدِي ختم الله له بالأمن والإيمان، ومن أحبك بعدي وَلَمْ يَرَكَ خَتَمَ اللهُ لَهُ بِالْأَمْنِ وَالْإِيمَانِ، وَأَمَّنَهُ يَوْمَ الْفَزَعِ الْأَكْبَرِ، وَمَنْ مَاتَ وَهُوَ يَبْغَضُكَ يَا عَلِيُّ مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً، يُحَاسِبُهُ اللهُ بِمَا عَمِلَ فِي الْإِسْلَامِ»سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نبی کریم ﷺ کے ساتھ مدینہ میں ایک سائے میں تھا اور آپ ﷺ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو تلاش کر رہے تھے، یہاں تک کہ ہم ایک باغ کی دیوار کے پاس پہنچے، ہم نے اس میں جھانکا تو آپ ﷺ نے علی رضی اللہ عنہ کو زمین پر سوئے ہوئے دیکھا، اور ان پر مٹی لگی ہوئی تھی، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں لوگوں کو ملامت نہیں کرتا کہ وہ تمہیں ابوتراب کہتے ہیں۔“ میں نے دیکھا کہ علی رضی اللہ عنہ کا چہرہ متغیر ہو گیا اور انہیں یہ بات ناگوار گزری، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں راضی نہ کر دوں، اے علی؟“ انہوں نے کہا: کیوں نہیں، یا رسول اللہ! آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم میرے بھائی اور میرے وزیر ہو، میرا قرض ادا کرو گے، میرا وعدہ پورا کرو گے، اور میرے ذمے کو بری کرو گے۔ جو میری زندگی میں تم سے محبت رکھے اس نے اپنا عہد پورا کر دیا، اور جو میرے بعد تمہاری زندگی میں تم سے محبت رکھے اللہ اس کے لیے امن و ایمان کی مہر لگائے گا، اور جو میرے بعد تم سے محبت رکھے اور تمہیں دیکھا بھی نہ ہو، اللہ اس کے لیے امن و ایمان کی مہر لگائے گا، اور اسے سب سے بڑی گھبراہٹ کے دن امان دے گا۔ اور اے علی! جو تم سے بغض رکھتے ہوئے مرے، وہ جاہلیت کی موت مرا، اللہ اس سے اسلام میں کیے گئے اعمال کا حساب لے گا۔“