المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
مجاهد، عن ابن عمر باب: مجاہد کی سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایات
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ مُجَاهِدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلَانِ أَحَدُهُمَا مِنَ الْأَنْصَارِ، وَالْآخَرُ مِنْ ثَقِيفٍ فَسَبَقَهُ الْأَنْصَارِيُّ , فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلثَّقَفِيِّ: «يَا أَخَا ثَقِيفٍ سَبَقَكَ الْأَنْصَارِيُّ» ، فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ: أَنَا أَبَدُّهُ يَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ: «يَا أَخَا ثَقِيفٍ سَلْ عَنْ حَاجَتِكَ، وَإِنْ شِئْتَ أَنْ أُخْبِرَكَ عَمَّا جِئْتَ بِهِ تَسْأَلُ عَنْهُ» قَالَ: فَذَاكَ أَعْجَبُ إِلَيَّ أَنْ تَفْعَلَ، قَالَ: " فَإِنَّكَ تَسْأَلُنِي عَنْ صَلَاتِكَ، وَعَنْ رُكُوعِكَ، وَعَنِ سُجُودِكَ، وَعَنْ صِيَامِكَ، وَتَقُولُ: مَاذَا لِي فِيهِ؟ "، قَالَ: إِي وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ، قَالَ: «فَصَلِّ أَوَّلَ اللَّيْلِ وَآخِرَهُ، وَنَمْ وَسَطَهُ» قَالَ: فَإِنْ صَلَّيْتُ وَسَطَهُ، قَالَ: «فَأَنْتَ إِذًا - قَالَ - فَإِذَا قُمْتَ إِلَى الصَّلَاةِ فَرَكَعْتَ فَضَعْ يَدَكَ عَلَى رُكْبَتَيْكَ، وَفَرِّجْ بَيْنَ أَصَابِعِكَ، ثُمَّ ارْفَعْ رَأْسَكَ حَتَّى يَرْجِعَ كُلُّ عُضْوٍ إِلَى مَفْصِلِهِ، وَإِذَا سَجَدْتَ فَأَمْكِنْ جَبْهَتَكَ مِنَ الْأَرْضِ، وَلَا تَنْقُرْ، وَصُمِ اللَّيَالِيَ الْبِيضَ ثَلَاثَ عَشْرَةَ وَأَرْبَعَ عَشْرَةَ وَخَمْسَ عَشْرَةَ» ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى الْأَنْصَارِيِّ , فَقَالَ: «سَلْ عَنْ حَاجَتِكَ وَإِنْ شِئْتَ أَخْبَرْتُكَ» ، قَالَ: فَذَلِكَ أَعْجَبُ إِلَيَّ، قَالَ: " فَإِنَّكَ جِئْتَ تَسْأَلُنِي عَنْ خُرُوجِكَ مِنْ بَيْتِكَ تَؤُمُّ الْبَيْتَ الْحَرَامَ وَتَقُولُ: مَاذَا لِي فِيهِ؟ "، وَجِئْتَ تَسْأَلُ عَنْ وُقُوفِكَ بِعَرَفَةَ وَتَقُولُ: مَاذَا لِي فِيهِ؟ وَعَنْ رَمْيِكَ الْجِمَارَ، وَتَقُولُ: مَاذَا لِي فِيهِ؟ وَعَنْ طَوَافِكَ بِالْبَيْتِ، وَتَقُولُ: مَاذَا لِي فِيهِ؟ وَعَنْ حَلْقِكَ رَأْسَكَ، وَتَقُولُ: مَاذَا لِي فِيهِ؟ " قَالَ: إِي وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ، قَالَ: " أَمَّا خُرُوجُكَ مِنْ بَيْتِكَ تَؤُمُّ الْبَيْتَ فَإِنَّ لَكَ بِكُلِّ وَطْأَةٍ تَطَأُهَا رَاحِلَتُكَ يَكْتُبُ اللهُ لَكَ بِهَا حَسَنَةً، وَيَمْحُو عَنْكَ بِهَا سَيِّئَةً، وَأَمَّا وُقُوفُكَ بِعَرَفَةَ فَإِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يَنْزِلُ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا فَيُبَاهِي بِهِمُ الْمَلَائِكَةَ فَيَقُولُ: «هَؤُلَاءِ عِبَادِي جَاءُونِي شُعْثًا غُبْرًا مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ يَرْجُونَ رَحْمَتِي، وَيَخَافُونَ عَذَابِي، وَلَمْ يَرَوْنِي، فَكَيْفَ لَوْ رَأَوْنِي فَلَوْ كَانَ عَلَيْكَ مِثْلُ رَمْلِ عَالِجٍ، أَوْ مِثْلُ أَيَّامِ الدُّنْيَا أَوْ مِثْلُ قَطْرِ السَّمَاءِ ذُنُوبًا غَسَلَهَا اللهُ عَنْكَ، وَأَمَّا رَمْيُكَ الْجِمَارَ فَإِنَّهُ مَذْخُورٌ لَكَ، وَأَمَّا حَلْقُكَ رَأْسَكَ، فَإِنَّ لَكَ بِكُلِّ شَعْرَةٍ تَسْقُطُ حَسَنَةٌ فَإِذَا طُفْتَ بِالْبَيْتِ خَرَجْتَ مِنْ ذُنُوبِكَ كَيَوْمِ وَلَدَتْكَ أُمُّكَ»دو آدمی نبی کریم ﷺ کے پاس آئے، ان میں سے ایک انصار میں سے تھا اور دوسرا ثقیف میں سے، تو انصاری نے بات کرنے میں سبقت لے لی، اس پر نبی کریم ﷺ نے ثقفی سے فرمایا: ”اے ثقیف کے بھائی! انصاری نے تم سے سبقت لے لی۔“ انصاری نے کہا: یا رسول اللہ! میں اسے ترجیح دیتا ہوں۔ تو آپ ﷺ نے اس (ثقفی) سے فرمایا: ”اے ثقیف کے بھائی! اپنی ضرورت پوچھو، اور اگر چاہو تو میں تمہیں بتا دوں کہ تم کس بارے میں پوچھنے آئے ہو۔“ اس نے کہا: مجھے یہی زیادہ پسند ہے کہ آپ خود بتا دیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم مجھ سے اپنی نماز، اپنے رکوع، اپنے سجدے اور اپنے روزے کے بارے میں پوچھنے آئے ہو اور کہتے ہو: مجھے اس میں کیا ملے گا؟“ اس نے کہا: جی ہاں، اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”رات کے شروع اور آخر میں نماز پڑھو، اور درمیان میں سو جاؤ۔“ اس نے کہا: اگر میں درمیان میں بھی نماز پڑھوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تب تو تم اور بھی بہتر ہو - اور جب تم نماز کے لیے کھڑے ہو کر رکوع کرو تو اپنا ہاتھ اپنے گھٹنوں پر رکھو اور اپنی انگلیوں کو کھلا رکھو، پھر اپنا سر اٹھاؤ یہاں تک کہ ہر عضو اپنے جوڑ کی طرف لوٹ جائے، اور جب سجدہ کرو تو اپنی پیشانی زمین پر جما دو، جلدی نہ کرو، اور ایامِ بیض کے روزے رکھو: تیرہ، چودہ اور پندرہ تاریخ کے۔“ پھر آپ ﷺ انصاری کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”اپنی ضرورت پوچھو، اور اگر چاہو تو میں تمہیں بتا دوں۔“ اس نے کہا: مجھے یہی زیادہ پسند ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم اپنے گھر سے بیت الحرام کا رخ کر کے نکلنے کے بارے میں پوچھنے آئے ہو اور کہتے ہو: مجھے اس میں کیا ملے گا؟ اور تم عرفہ میں اپنے وقوف کے بارے میں پوچھنے آئے ہو اور کہتے ہو: مجھے اس میں کیا ملے گا؟ اور اپنی رمی جمار کے بارے میں پوچھنے آئے ہو اور کہتے ہو: مجھے اس میں کیا ملے گا؟ اور بیت اللہ کے اپنے طواف کے بارے میں پوچھنے آئے ہو اور کہتے ہو: مجھے اس میں کیا ملے گا؟ اور اپنا سر منڈوانے کے بارے میں پوچھنے آئے ہو اور کہتے ہو: مجھے اس میں کیا ملے گا؟“ اس نے کہا: جی ہاں، اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”رہا تمہارا اپنے گھر سے بیت اللہ کی طرف نکلنا، تو تمہاری سواری جو بھی قدم رکھے گی اس کے بدلے اللہ تمہارے لیے ایک نیکی لکھے گا اور ایک برائی مٹائے گا۔ اور رہا تمہارا عرفہ میں وقوف، تو اللہ عزوجل آسمانِ دنیا کی طرف نزول فرماتا ہے اور فرشتوں کے سامنے ان پر فخر کرتا ہوا فرماتا ہے: ’یہ میرے بندے ہیں جو ہر دور دراز گھاٹی سے پراگندہ حال، غبار آلود میرے پاس آئے ہیں، میری رحمت کی امید رکھتے اور میرے عذاب سے ڈرتے ہوئے، انہوں نے مجھے دیکھا بھی نہیں، تو اگر وہ مجھے دیکھ لیتے تو کیا حال ہوتا! اگر تم پر ریگستان کی ریت کے برابر، یا دنیا کے دنوں کے برابر، یا آسمان کے قطروں کے برابر گناہ بھی ہوں تو اللہ انہیں تم سے دھو ڈالے گا۔‘ اور رہی تمہاری رمی جمار، تو وہ تمہارے لیے محفوظ رکھی جائے گی۔ اور رہا تمہارا سر منڈوانا، تو تمہارے لیے ہر گرنے والے بال کے بدلے ایک نیکی ہے۔ پھر جب تم بیت اللہ کا طواف کرو گے تو اپنے گناہوں سے یوں نکلو گے جیسے تمہاری ماں نے تمہیں آج ہی جنم دیا ہو۔“