کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: ابوظبیان کی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایات
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا زُهَيْرٌ، ثنا قَابُوسُ بْنُ أَبِي ظَبْيَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ الْهَدْيَ الصَّالِحَ، وَالسَّمْتَ الصَّالِحَ جُزْءٌ مِنْ سَبْعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اچھی سیرت اور اچھا وقار نبوت کے ستّر اجزاء میں سے ایک جزو ہے۔“
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ النَّحْوِيُّ الصُّورِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ فَائِدٍ، ثنا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ قَابُوسَ بْنِ أَبِي ظَبْيَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْهَدْيُ الصَّالِحُ، وَالسَّمْتُ الصَّالِحُ، وَالِاقْتِصَادُ جُزْءٌ مِنْ خَمْسَةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اچھی سیرت، اچھا وقار اور میانہ روی نبوت کے پینتالیس اجزاء میں سے ایک جزو ہیں۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ وَاقِدٍ الْحَرَّانِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ، ثنا أَبِي، قَالُوا: ثنا زُهَيْرٌ، ثنا قَابُوسُ أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ قَالَ: قُلْنَا لِابْنِ عَبَّاسٍ: أَرَأَيْتَ قَوْلَ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ: {مَا جَعَلَ اللهُ لِرَجُلٍ مِنْ قَلْبَيْنِ فِي جَوْفِهِ} [الأحزاب: ٤] ، فَقَالَ: «قَامَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا يُصَلِّي فَخَطَرَ خَطْرَةً» ، فَقَالَ الْمُنَافِقُونُ الَّذِينَ يُصَلُّونَ مَعَهُ: أَلَا تَرَوْنَ أَنَّ لَهُ قَلْبَيْنِ قَلْبًا مَعَكُمْ، وَقَلْبًا مَعَهُمْ، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {مَا جَعَلَ اللهُ لِرَجُلٍ مِنْ قَلْبَيْنِ فِي جَوْفِهِ} [الأحزاب: ٤]
ترجمہ
راوی بیان کرتے ہیں: ہم نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا: اللہ عزوجل کے اس فرمان ”اللہ نے کسی آدمی کے سینے میں دو دل نہیں رکھے“ [الأحزاب: 4] کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ انہوں نے فرمایا: ایک دن نبی اللہ ﷺ نماز پڑھنے کھڑے ہوئے تو (نماز میں) خیال آ گیا، اس پر منافقین، جو آپ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے، کہنے لگے: کیا تم نہیں دیکھتے کہ اس کے دو دل ہیں، ایک دل تمہارے ساتھ ہے اور ایک ان کے ساتھ! تو اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی: ”اللہ نے کسی آدمی کے سینے میں دو دل نہیں رکھے“ [الأحزاب: 4]۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ وَاقِدٍ الْحَرَّانِيُّ، ثنا زُهَيْرٌ، ثنا قَابُوسُ بْنُ أَبِي ظَبْيَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: جَاءَ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلَانِ حَاجَتُهُمَا وَاحِدَةٌ فَسَلَّمَ أَحَدُهُمَا، فَوَجَدَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ فِيهِ أَخْلَافًا، فَقَالَ لَهُ: «أَمَا تَسْتَاكُ؟» قَالَ: إِنِّي لِأَفْعَلُ، وَلَكِنْ لَمْ أَطْعَمْ طَعَامًا مُنْذُ ثَلَاثٍ، «فَأَمَرَ بِهِ رَجُلًا فَأَقْرَاهُ وَقَضَى حَاجَتَهُ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: نبی اللہ ﷺ کے پاس دو آدمی آئے، دونوں کی حاجت ایک ہی تھی، ان میں سے ایک نے سلام کیا تو رسول اللہ ﷺ نے اس کے منہ سے بدبو محسوس کی، آپ ﷺ نے اس سے فرمایا: ”کیا تم مسواک نہیں کرتے؟“ اس نے کہا: میں کرتا تو ہوں، لیکن تین دن سے مجھے کھانا نصیب نہیں ہوا۔ آپ ﷺ نے ایک آدمی کو حکم دیا تو اس نے اسے کھانا کھلایا اور اس کی حاجت پوری کی۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْقَاسِمِ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا أَبُو كُدَيْنَةَ، عَنْ قَابُوسَ بْنِ أَبِي ظَبْيَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَيْسَ مِنَّا مَنِ انْتَهَبَ أَوْ سَلَبَ، أَوْ أَشَارَ بِالسَّلَبِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے لوٹ مار کی، یا (مقتول کا سامان) چھینا، یا چھیننے کی طرف اشارہ کیا، وہ ہم میں سے نہیں۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ مُسَاوِرٍ، ثنا عَفَّانُ، ثنا أَبُو كُدَيْنَةَ، عَنْ قَابُوسَ بْنِ أَبِي ظَبْيَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّهُ مَرَّ عَلَى الْقُبُورِ بِالْمَدِينَةِ , فَقَالَ: «السَّلَامُ عَلَيْكُمْ يَا أَهْلَ الْقُبُورِ الْمُؤْمِنِينَ، وَالْمُسْلِمِينَ أَسْتَغْفِرُ اللهَ لَنَا وَلَكُمْ , أَنْتُمْ سَلَفُنَا، وَنَحْنُ عَلَى الْأَثَرِ»
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ بْنِ الصَّبَّاحِ الرَّقِّيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّلْتٍ الْكُوفِيُّ، ثنا أَبُو كُدَيْنَةَ، عَنْ قَابُوسَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: " قُلْنَ النِّسَاءُ: يَا رَسُولَ اللهِ , مَا بَالُهُ يَذْكُرُ الْمُؤْمِنِينَ، وَلَا يَذْكُرُ الْمُؤْمِنَاتِ؟ " فَنَزَلَتْ {إِنَّ الْمُسْلِمِينَ وَالْمُسْلِمَاتِ وَالْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ} [الأحزاب: ٣٥]
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ بْنِ الصَّبَّاحِ الرَّقِّيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّلْتٍ الْكُوفِيُّ، ثنا أَبُو كُدَيْنَةَ، عَنْ قَابُوسَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: " قُلْنَ النِّسَاءُ: يَا رَسُولَ اللهِ , مَا بَالُهُ يَذْكُرُ الْمُؤْمِنِينَ، وَلَا يَذْكُرُ الْمُؤْمِنَاتِ؟ " فَنَزَلَتْ {إِنَّ الْمُسْلِمِينَ وَالْمُسْلِمَاتِ وَالْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ} [الأحزاب: ٣٥]
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ مدینہ کی قبروں کے پاس سے گزرے تو فرمایا: ”السلام علیکم اے مومن اور مسلمان قبر والو! ہم اپنے اور تمہارے لیے اللہ سے بخشش مانگتے ہیں، تم ہم سے پہلے (چلے گئے) ہو اور ہم تمہارے پیچھے آ رہے ہیں۔“
اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ بھی روایت ہے: عورتوں نے کہا: یا رسول اللہ! کیا وجہ ہے کہ آپ مومن مردوں کا ذکر کرتے ہیں مگر مومن عورتوں کا ذکر نہیں کرتے؟ تو یہ آیت نازل ہوئی: ”بےشک مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں، اور مومن مرد اور مومن عورتیں…“ [الأحزاب: 35]۔
اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ بھی روایت ہے: عورتوں نے کہا: یا رسول اللہ! کیا وجہ ہے کہ آپ مومن مردوں کا ذکر کرتے ہیں مگر مومن عورتوں کا ذکر نہیں کرتے؟ تو یہ آیت نازل ہوئی: ”بےشک مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں، اور مومن مرد اور مومن عورتیں…“ [الأحزاب: 35]۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْفَسَوِيُّ، ثنا خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ الْبَصْرِيُّ، ثنا جَرِيرٌ، عَنْ قَابُوسَ بْنِ أَبِي ظَبْيَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَّجَ فَخِذَيِ الْحُسَيْنِ وَقَبَّلَ زَبِيبَتَهُ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ ﷺ نے (بچپن میں) سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی دونوں رانیں کھولیں اور ان کی زبیبہ (شرمگاہ کے سرے) کو بوسہ دیا۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ الْمَكِّيُّ، ثنا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، ثنا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنْ قَابُوسَ بْنِ أَبِي ظَبْيَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْ يَعْلَمُ صَاحِبُ الْمَسْأَلَةِ مَا لَهُ فِيهَا لَمْ يَسْأَلْ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اگر سوال کرنے والے کو معلوم ہو جائے کہ سوال کرنے میں اس کے لیے کیا (نقصان) ہے تو وہ کبھی سوال نہ کرے۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي اللَّيْثٍ، ثنا الْأَشْجَعِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ قَابُوسَ بْنِ أَبِي ظَبْيَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: {وَلَوْ أَنَّ قُرْآنًا سُيِّرَتْ بِهِ الْجِبَالُ أَوْ قُطِّعَتْ بِهِ الْأَرْضُ أَوْ كُلِّمَ بِهِ الْمَوْتَى} [الرعد: ٣١] قَالَ: " قَالُوا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنْ كَانَ كَمَا تَقُولُ: فَأَرِنَا أَشْيَاخَنَا الْأُوَلَ مِنَ الْمَوْتَى نُكَلِّمْهُمْ، وَافْتَحْ لَنَا هَذِهِ الْجِبَالَ جِبَالَ مَكَّةَ الَّتِي قَدْ ضَمَّتْنَا "، فَنَزَلَتْ: {وَلَوْ أَنَّ قُرْآنًا سُيِّرَتْ بِهِ الْجِبَالُ أَوْ قُطِّعَتْ بِهِ الْأَرْضُ أَوْ كُلِّمَ بِهِ الْمَوْتَى} [الرعد: ٣١]
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ”اور اگر کوئی ایسا قرآن ہوتا جس سے پہاڑ چلا دیے جاتے، یا زمین ٹکڑے ٹکڑے کر دی جاتی، یا مردوں سے بات کرائی جاتی“ [الرعد: 31] کے بارے میں فرماتے ہیں: مشرکین نے نبی کریم ﷺ سے کہا: اگر ایسا ہی ہے جیسا تم کہتے ہو، تو ہمیں ہمارے پہلے بزرگوں کو، جو مر چکے ہیں، دکھاؤ تاکہ ہم ان سے بات کریں، اور ہمارے لیے یہ پہاڑ، یعنی مکہ کے پہاڑ جنہوں نے ہمیں گھیر رکھا ہے، کھول دو۔ تو یہ آیت نازل ہوئی: ”اور اگر کوئی ایسا قرآن ہوتا جس سے پہاڑ چلا دیے جاتے، یا زمین ٹکڑے ٹکڑے کر دی جاتی، یا مردوں سے بات کرائی جاتی“ [الرعد: 31]۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي اللَّيْثِ، ثنا الْأَشْجَعِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ قَابُوسَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، {أَدْخِلْنِي مُدْخَلَ صِدْقٍ وَأَخْرِجْنِي مُخْرَجَ صِدْقٍ} [الإسراء: ٨٠] قَالَ: " مَكَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشْرَ سِنِينَ بِمَكَّةَ , فَنَزَلَتْ: {قُلْ رَبِّ أَدْخِلْنِي مُدْخَلَ صِدْقٍ وَأَخْرِجْنِي مُخْرَجَ صِدْقٍ} [الإسراء: ٨٠] ، فَهَاجَرَ إِلَى الْمَدِينَةِ "
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ”مجھے سچائی کے ساتھ داخل کر اور سچائی کے ساتھ نکال“ [الإسراء: 80] کے بارے میں فرماتے ہیں: نبی کریم ﷺ مکہ میں دس سال ٹھہرے، پھر یہ آیت نازل ہوئی: ”کہہ دیجیے: اے میرے رب! مجھے سچائی کے ساتھ داخل کر اور سچائی کے ساتھ نکال“ [الإسراء: 80]، تو آپ ﷺ مدینہ کی طرف ہجرت کر گئے۔
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، ثنا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، ثنا قَابُوسُ بْنُ أَبِي ظَبْيَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الرَّجُلُ الَّذِي لَيْسَ فِي جَوْفِهِ شَيْءٌ مِنَ الْقُرْآنِ كَالْبَيْتِ الْخَرَابِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”وہ آدمی جس کے سینے میں قرآن کا کچھ حصہ بھی نہ ہو، وہ ویران گھر کی مانند ہے۔“
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، ثنا جَرِيرٌ، عَنْ قَابُوسَ بْنِ أَبِي ظَبْيَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَيْسَ مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا وَقَدْ وُكِّلَ بِهِ قَرِينُهُ مِنَ الشَّيَاطِينِ» . قَالُوا: وَأَنْتَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: «نَعَمْ , وَلَكِنَّ اللهَ أَعَانَنِي عَلَيْهِ فَأَسْلَمَ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی بھی ایسا نہیں مگر اس پر شیاطین میں سے ایک ساتھی مقرر کیا گیا ہے۔“ صحابہ نے عرض کیا: اور آپ بھی، یا رسول اللہ؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جی ہاں، لیکن اللہ نے اس کے مقابلے میں میری مدد فرمائی، تو وہ مسلمان ہو گیا۔“
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، ثنا جَرِيرٌ، عَنْ قَابُوسَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: أَقْبَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُسْرِعًا وَنَحْنُ قُعُودٌ فَأَفْزَعَنَا سُرْعَتُهُ , فَلَمَّا انْتَهَى إِلَيْنَا سَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ: «لَقَدْ أَقْبَلْتُ إِلَيْكُمْ مُسْرِعًا لِأُخْبِرَكُمَ بِلَيْلَةِ الْقَدْرِ، فَنَسِيتُهَا فِيمَا بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ , فَالْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْآوَاخِرِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ تیزی سے تشریف لائے جبکہ ہم بیٹھے ہوئے تھے، آپ ﷺ کی تیزی نے ہمیں گھبرا دیا۔ جب آپ ﷺ ہمارے پاس پہنچے تو سلام کیا، پھر فرمایا: ”میں تمہیں لیلۃ القدر کے بارے میں بتانے کے لیے تیزی سے آیا تھا، لیکن میرے اور تمہارے درمیان (آتے آتے) وہ مجھے بھلا دی گئی، تو اسے آخری عشرے میں تلاش کرو۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، قَالَا: ثنا ابْنُ الْأَصْبَهَانِيِّ، ثنا شَرِيكٌ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ أَبِي ظَبْيَانَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ: بِمَ أَعْرِفُ أَنَّكَ رَسُولُ اللهِ؟ قَالَ: «إِنْ دَعَوْتُ هَذَا الْعِذْقَ مِنْ هَذِهِ النَّخْلَةِ أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللهِ؟» قَالَ: نَعَمْ، فَجَاءَ الْعِذْقُ يَنْزِلُ مِنَ النَّخْلَةِ حَتَّى سَقَطَ فِي الْأَرْضِ فَجَعَلَ يَنْقُرُ حَتَّى أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , ثُمَّ قَالَ لَهُ: «ارْجِعْ» فَرَجَعَ حَتَّى عَادَ إِلَى مَكَانِهِ , فَقَالَ: أَشْهَدُ أَنَّكَ رَسُولُ اللهِ , وَآمَنَ
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ایک بدوی نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور کہا: میں کیسے جانوں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر میں اس کھجور کے درخت کی اس ٹہنی کو بلاؤں، تو کیا تم گواہی دو گے کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟“ اس نے کہا: جی ہاں۔ چنانچہ وہ ٹہنی کھجور کے درخت سے اترنے لگی یہاں تک کہ زمین پر گر پڑی، پھر رینگتی ہوئی نبی کریم ﷺ کے پاس آ گئی، پھر آپ ﷺ نے اس سے فرمایا: ”واپس چلی جا۔“ تو وہ واپس اپنی جگہ چلی گئی۔ اس نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں، اور وہ ایمان لے آیا۔