المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
أبو ظبيان عن ابن عباس باب: ابوظبیان کی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایات
حدیث نمبر: 12563
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي اللَّيْثٍ، ثنا الْأَشْجَعِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ قَابُوسَ بْنِ أَبِي ظَبْيَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: {وَلَوْ أَنَّ قُرْآنًا سُيِّرَتْ بِهِ الْجِبَالُ أَوْ قُطِّعَتْ بِهِ الْأَرْضُ أَوْ كُلِّمَ بِهِ الْمَوْتَى} [الرعد: ٣١] قَالَ: " قَالُوا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنْ كَانَ كَمَا تَقُولُ: فَأَرِنَا أَشْيَاخَنَا الْأُوَلَ مِنَ الْمَوْتَى نُكَلِّمْهُمْ، وَافْتَحْ لَنَا هَذِهِ الْجِبَالَ جِبَالَ مَكَّةَ الَّتِي قَدْ ضَمَّتْنَا "، فَنَزَلَتْ: {وَلَوْ أَنَّ قُرْآنًا سُيِّرَتْ بِهِ الْجِبَالُ أَوْ قُطِّعَتْ بِهِ الْأَرْضُ أَوْ كُلِّمَ بِهِ الْمَوْتَى} [الرعد: ٣١]ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ”اور اگر کوئی ایسا قرآن ہوتا جس سے پہاڑ چلا دیے جاتے، یا زمین ٹکڑے ٹکڑے کر دی جاتی، یا مردوں سے بات کرائی جاتی“ [الرعد: 31] کے بارے میں فرماتے ہیں: مشرکین نے نبی کریم ﷺ سے کہا: اگر ایسا ہی ہے جیسا تم کہتے ہو، تو ہمیں ہمارے پہلے بزرگوں کو، جو مر چکے ہیں، دکھاؤ تاکہ ہم ان سے بات کریں، اور ہمارے لیے یہ پہاڑ، یعنی مکہ کے پہاڑ جنہوں نے ہمیں گھیر رکھا ہے، کھول دو۔ تو یہ آیت نازل ہوئی: ”اور اگر کوئی ایسا قرآن ہوتا جس سے پہاڑ چلا دیے جاتے، یا زمین ٹکڑے ٹکڑے کر دی جاتی، یا مردوں سے بات کرائی جاتی“ [الرعد: 31]۔