المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عطاء، عن ابن عباس باب: عطاء کی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایات
حدیث نمبر: 11277
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَاسِطِيُّ، ثنا تَمِيمُ بْنُ الْمُنْتَصِرِ، ثنا إِسْحَاقُ الْأَزْرَقُ، عَنْ شَرِيكِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «خَرَجَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْمَدِينَةِ إِلَى مَكَّةَ حِينَ افْتَتَحَهَا وَذَلِكَ فِي رَمَضَانَ، وَهُوَ صَائِمٌ فَصَامَ حَتَّى أَتَى قُدَيْدًا فَبَلَغَهُ أَنَّ النَّاسَ قَدْ أَصَابَهُمْ عَطَشٌ، وَجَهْدٌ فَدَعَا بِمَاءٍ فَشَرِبَ وَأَفْطَرَ فَمَنْ شَاءَ صَامَ وَمَنْ شَاءَ أَفْطَرَ»ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: نبی اللہ ﷺ جب مکہ فتح کرنے کے لیے مدینہ سے روانہ ہوئے تو یہ رمضان کا مہینہ تھا، آپ ﷺ روزے سے تھے، چنانچہ آپ ﷺ نے روزہ رکھا یہاں تک کہ قدید پہنچے، وہاں آپ ﷺ کو خبر ملی کہ لوگوں کو پیاس اور تکلیف لاحق ہو گئی ہے تو آپ ﷺ نے پانی منگوایا اور پی لیا اور روزہ چھوڑ دیا، اس کے بعد جو چاہے روزہ رکھے اور جو چاہے چھوڑ دے۔