کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: سیدنا سہل ابن حنظلیہ انصاری رضی اللہ عنہ (بنو حارثہ سے، کہا جاتا ہے کہ حنظلیہ ان کی والدہ کا نام تھا، اور ان کے والد کا نام عفیف تھا، دمشق شام میں رہتے تھے)
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، أَخْبَرَنِي قَيْسُ بْنُ بِشْرٍ الثَّعْلَبِيُّ، قَالَ: كَانَ أَبِي جَلِيسًا لِأَبِي الدَّرْدَاءِ بِدِمَشْقَ، فَأَخْبَرَنِي أَنَّهُ كَانَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَالُ لَهُ: ابْنُ الْحَنْظَلِيَّةِ، وَكَانَ رَجُلًا مُتَوَحِّدًا، قَلَّمَا يُجَالِسُ النَّاسَ، إِنَّمَا هُوَ صَلَاةٌ، فَإِذَا انْصَرَفَ فَإِنَّمَا هُوَ تَسْبِيحٌ وتَهْليلٌ وَتَكْبِيرٌ، حَتَّى يَأْتِيَ أَهْلَهُ، فَمَرَّ بِنَا يَوْمًا وَنَحْنُ عِنْدَ أَبِي الدَّرْدَاءِ فَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ أَبُو الدَّرْدَاءِ: كَلِمَةٌ تَنْفَعُنَا اللهُ وَلَا تَضُرُّكَ، فَقَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً فَقَدِمْتُ، فَجَاءَ رَجُلٌ فَجَلَسَ فِي الْمَجْلِسِ الَّذِي فِيهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لِرَجُلٍ إِلَى جَنْبِهِ: لَوْ رَأَيْتُنَا حِينَ لَقِينَا الْعَدُوَّ، وَطَعَنَ فُلَانٌ فُلَانًا، فَقَالَ: خُذْهَا، وَأَنَا الْغُلَامُ الْغِفَارِيُّ كَيْفَ تَرَى؟ قَالَ: مَا أُرَاهُ إِلَّا قَدْ أَبْطَلَ أَجْرَهُ، قَالَ آخَرُ: مَا أَرَى بَأْسًا، فَتَنَازَعُوا فِي ذَلِكَ، حَتَّى سَمِعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «سُبْحَانَ اللهِ، لَا بَأْسَ أَنْ يُؤْجَرَ، وَيُحْمَدَ» ، قَالَ: فَسُرَّ بِذَلِكَ أَبُو الدَّرْدَاءِ، وَجَعَلَ يَقُولُ: أَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: فَجَعَلَ يَقُولُ: نَعَمْ، حَتَّى إِنِّي لَأَقُولُ وَهُوَ يَرْفَعُ إِلَيْهِ رَأْسَهُ: لَيَرْكَبَنَّ عَلَى رُكْبَتَيْهِ
فَمَرَّ بِنَا يَوْمًا آخَرَ، فَسَلَّمَ فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ: كَلِمَةً تَنْفَعُنَا وَلَا تَضُرُّكَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الْمُنْفِقَ عَلَى الْخَيْلِ فِي سَبِيلِ اللهِ كَالْبَاسِطِ يَدَيْهِ بِالصَّدَقَةِ، وَلَا يَقْبِضُهَا»
قَالَ: فَمَرَّ بِنَا يَوْمًا آخَرَ، فَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ أَبُو الدَّرْدَاءِ: كَلِمَةً تَنْفَعُنَا وَلَا تَضُرُّكَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نِعْمَ الرَّجُلُ خُرَيْمٌ الْأَسَدِيُّ، لَوْلَا طُولُ جُمَّتِهِ، وإِسْبَالِ إِزَارِهِ» ، فَبَلَغَ ذَلِكَ خُرَيْمًا، فَأَخَذَ شَفْرَةً، فَقَطَعَ جُمَّتَهُ إِلَى أُذُنَيْهِ، وَرَفَعَ إِزَارَهُ إِلَى أَنْصَافِ سَاقَيْهِ
قَالَ: ثُمَّ مَرَّ بِنَا يَوْمًا آخَرَ، فَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ أَبُو الدَّرْدَاءِ: كَلِمَةً تَنْفَعُنَا وَلَا تَضُرُّكَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّكُمْ قَادِمُونَ غَدًا عَلَى إِخْوَانِكُمْ، فَأَصْلِحُوا حَالَكُمْ، وَأَصْلِحُوا لِبَاسَكُمْ، حَتَّى تَكُونُوا كَالشَّامَةِ فِي النَّاسِ، إِنَّ اللهَ لَا يُحِبُّ الْفُحْشَ وَلَا التَّفَحُّشَ»
فَمَرَّ بِنَا يَوْمًا آخَرَ، فَسَلَّمَ فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ: كَلِمَةً تَنْفَعُنَا وَلَا تَضُرُّكَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الْمُنْفِقَ عَلَى الْخَيْلِ فِي سَبِيلِ اللهِ كَالْبَاسِطِ يَدَيْهِ بِالصَّدَقَةِ، وَلَا يَقْبِضُهَا»
قَالَ: فَمَرَّ بِنَا يَوْمًا آخَرَ، فَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ أَبُو الدَّرْدَاءِ: كَلِمَةً تَنْفَعُنَا وَلَا تَضُرُّكَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نِعْمَ الرَّجُلُ خُرَيْمٌ الْأَسَدِيُّ، لَوْلَا طُولُ جُمَّتِهِ، وإِسْبَالِ إِزَارِهِ» ، فَبَلَغَ ذَلِكَ خُرَيْمًا، فَأَخَذَ شَفْرَةً، فَقَطَعَ جُمَّتَهُ إِلَى أُذُنَيْهِ، وَرَفَعَ إِزَارَهُ إِلَى أَنْصَافِ سَاقَيْهِ
قَالَ: ثُمَّ مَرَّ بِنَا يَوْمًا آخَرَ، فَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ أَبُو الدَّرْدَاءِ: كَلِمَةً تَنْفَعُنَا وَلَا تَضُرُّكَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّكُمْ قَادِمُونَ غَدًا عَلَى إِخْوَانِكُمْ، فَأَصْلِحُوا حَالَكُمْ، وَأَصْلِحُوا لِبَاسَكُمْ، حَتَّى تَكُونُوا كَالشَّامَةِ فِي النَّاسِ، إِنَّ اللهَ لَا يُحِبُّ الْفُحْشَ وَلَا التَّفَحُّشَ»
ترجمہ
قیس بن بشر ثعلبی کہتے ہیں: میرے والد دمشق میں سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ کے ہم نشین تھے، انہوں نے مجھے بتایا کہ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ میں سے ایک شخص تھے جنہیں ابن حنظلیہ کہا جاتا تھا، وہ ایک گوشہ نشین آدمی تھے، شاذ و نادر ہی لوگوں کے ساتھ بیٹھتے، بس نماز میں مصروف رہتے، اور جب نماز سے فارغ ہوتے تو تسبیح، تہلیل اور تکبیر میں لگے رہتے، یہاں تک کہ اپنے گھر والوں کے پاس پہنچتے۔ ایک دن وہ ہمارے پاس سے گزرے جبکہ ہم سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ کے پاس تھے، تو انہوں نے سلام کیا۔ سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: کوئی ایسی بات بتائیں جس سے اللہ ہمیں فائدہ دے اور آپ کو نقصان نہ ہو۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے ایک دستہ روانہ کیا، پھر میں (واپس) آیا۔ ایک شخص آیا اور اس مجلس میں بیٹھ گیا جس میں رسول اللہ ﷺ موجود تھے، اس نے اپنے پہلو میں بیٹھے ایک آدمی سے کہا: کاش تم ہمیں اس وقت دیکھتے جب ہمارا دشمن سے آمنا سامنا ہوا، اور فلاں نے فلاں کو نیزہ مارا اور کہا: یہ لے لو، اور میں غفاری لڑکا ہوں، آپ کیا سمجھتے ہیں؟ ایک شخص نے کہا: میرا خیال ہے کہ اس نے اپنا اجر ضائع کر لیا۔ دوسرے نے کہا: مجھے تو اس میں کوئی حرج نظر نہیں آتا۔ چنانچہ ان کے درمیان اس بارے میں اختلاف ہو گیا، یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ نے سن لیا تو فرمایا: ”سبحان اللہ! اس میں کوئی حرج نہیں کہ اسے اجر بھی ملے اور تعریف بھی ہو۔“ راوی کہتے ہیں: اس پر سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ کو بہت خوشی ہوئی اور وہ باربار کہنے لگے: کیا آپ نے یہ خود رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے؟ راوی کہتے ہیں: وہ باربار ”ہاں“ کہتے رہے، یہاں تک کہ میں کہنے لگا کہ وہ اپنے گھٹنوں کے بل بیٹھے جا رہے ہیں۔
پھر دوسرے دن وہ (سہل بن حنظلیہ) ہمارے پاس سے گزرے اور سلام کیا تو سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نے کہا: کوئی ایسی بات بتائیے جو ہمیں فائدہ دے اور آپ کو نقصان نہ دے۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کی راہ میں گھوڑوں پر خرچ کرنے والا اس شخص کی طرح ہے جو صدقہ دیتے ہوئے اپنے دونوں ہاتھ کھلے رکھتا ہے اور انہیں بند نہیں کرتا۔“
راوی کہتے ہیں: پھر دوسرے دن وہ ہمارے پاس سے گزرے اور سلام کیا، تو سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: کوئی ایسی بات بتائیے جو ہمیں فائدہ دے اور آپ کو نقصان نہ دے۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”خریم اسدی کتنا اچھا آدمی ہے، اگر اس کے بالوں کی لمبائی اور تہبند کے لٹکانے کی بات نہ ہوتی۔“ یہ بات خریم تک پہنچی تو انہوں نے استرا لے کر اپنے بال کانوں تک کاٹ لیے، اور اپنا تہبند اپنی پنڈلیوں کے وسط تک اونچا کر لیا۔
راوی کہتے ہیں: پھر ایک دن وہ پھر ہمارے پاس سے گزرے اور سلام کیا، تو سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: کوئی ایسی بات بتائیے جو ہمیں فائدہ دے اور آپ کو نقصان نہ دے۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم کل اپنے (دینی) بھائیوں کے پاس جانے والے ہو، اس لیے اپنی حالت درست کرو اور اپنا لباس درست کرو، یہاں تک کہ تم لوگوں میں (نمایاں) تِل کی طرح ہو جاؤ، بلاشبہ اللہ بےحیائی اور بےحیائی کے اظہار کو پسند نہیں فرماتا۔“
پھر دوسرے دن وہ (سہل بن حنظلیہ) ہمارے پاس سے گزرے اور سلام کیا تو سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نے کہا: کوئی ایسی بات بتائیے جو ہمیں فائدہ دے اور آپ کو نقصان نہ دے۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کی راہ میں گھوڑوں پر خرچ کرنے والا اس شخص کی طرح ہے جو صدقہ دیتے ہوئے اپنے دونوں ہاتھ کھلے رکھتا ہے اور انہیں بند نہیں کرتا۔“
راوی کہتے ہیں: پھر دوسرے دن وہ ہمارے پاس سے گزرے اور سلام کیا، تو سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: کوئی ایسی بات بتائیے جو ہمیں فائدہ دے اور آپ کو نقصان نہ دے۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”خریم اسدی کتنا اچھا آدمی ہے، اگر اس کے بالوں کی لمبائی اور تہبند کے لٹکانے کی بات نہ ہوتی۔“ یہ بات خریم تک پہنچی تو انہوں نے استرا لے کر اپنے بال کانوں تک کاٹ لیے، اور اپنا تہبند اپنی پنڈلیوں کے وسط تک اونچا کر لیا۔
راوی کہتے ہیں: پھر ایک دن وہ پھر ہمارے پاس سے گزرے اور سلام کیا، تو سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: کوئی ایسی بات بتائیے جو ہمیں فائدہ دے اور آپ کو نقصان نہ دے۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم کل اپنے (دینی) بھائیوں کے پاس جانے والے ہو، اس لیے اپنی حالت درست کرو اور اپنا لباس درست کرو، یہاں تک کہ تم لوگوں میں (نمایاں) تِل کی طرح ہو جاؤ، بلاشبہ اللہ بےحیائی اور بےحیائی کے اظہار کو پسند نہیں فرماتا۔“
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ الدِّمْيَاطِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ رَجُلِ صِدْقٍ مِنْ أَهْلِ قِنِّسْرِينَ، يُقَالُ لَهُ: قَيْسُ بْنُ بِشْرٍ، قَالَ: كَانَ أَبِي مِنْ جُلَسَاءِ أَبِي الدَّرْدَاءِ، فَحَدَّثَنِي: أَنَّهُ كَانَ هُنَاكَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ مُتَعَبِّدٌ مُعْتَزِلٌ، لَا يَكَادُ يَفْرُغُ مِنَ الْعِبَادَةِ، يُقَالُ لَهُ: ابْنُ الْحَنْظَلِيَّةِ، فَكَانَ يَمُرُّ بِأَبِي الدَّرْدَاءِ، فَيَقِفُ عَلَيْهِ فَيَقُولُ أَبُو الدَّرْدَاءِ: حَدِّثْنَا حَدِيثًا يَنْفَعُنَا وَلَا يَضُرُّكَ، فَحَدَّثَهُ فَقَالَ لَهُ يَوْمًا: خَرَجَتْ سَرِيَّةٌ، فَقَاتَلَ فِيهَا رَجُلٌ مِنْ بَنِي غِفَارٍ، فَضَرَبَ رَجُلًا مِنَ الْمُشْرِكِينَ، ثُمَّ قَالَ: خُذْهَا وَأَنَا الْغِفَارِيُّ، فَقَدِمُوا، فَحَدَّثُوا بِقَوْلِ الْغِفَارِيِّ، فَقَالَ بَعْضُ الْمُسْلِمِينَ: أَبْطَلَ أَجْرَهُ، وَقَالَ آخَرُونَ: كَلَّا، حَتَّى بَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «لَا بَأْسَ بِأَنْ يُؤْجَرَ وَيُحْمَدَ» قَالَ: فَسُرَّ بِهَا أَبُو الدَّرْدَاءِ
وَقَالَ ابْنُ الْحَنْظَلِيَّةِ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَنَا يَوْمًا: «إِنَّكُمْ قَادِمُونَ عَلَى إِخْوَانِكُمْ، فَأَصْلِحُوا رِحَالَكُمْ وَلِبَاسَكُمْ حَتَّى تَكُونُوا كَأَنَّكُمْ شَامَةً فِي النَّاسِ، فَإِنَّ اللهَ لَا يُحِبُّ الْفُحْشَ وَلَا التَّفَحُّشَ» ،
وَقَالَ ابْنُ الْحَنْظَلِيَّةِ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الْمُنْفِقَ عَلَى الْخَيْلِ فِي سَبِيلِ اللهِ كَالْبَاسِطِ يَدَهُ بِالصَّدَقَةِ لَا يَقْبِضُهَا»
وَقَالَ ابْنُ الْحَنْظَلِيَّةِ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَنَا يَوْمًا: «إِنَّكُمْ قَادِمُونَ عَلَى إِخْوَانِكُمْ، فَأَصْلِحُوا رِحَالَكُمْ وَلِبَاسَكُمْ حَتَّى تَكُونُوا كَأَنَّكُمْ شَامَةً فِي النَّاسِ، فَإِنَّ اللهَ لَا يُحِبُّ الْفُحْشَ وَلَا التَّفَحُّشَ» ،
وَقَالَ ابْنُ الْحَنْظَلِيَّةِ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الْمُنْفِقَ عَلَى الْخَيْلِ فِي سَبِيلِ اللهِ كَالْبَاسِطِ يَدَهُ بِالصَّدَقَةِ لَا يَقْبِضُهَا»
ترجمہ
قیس بن بشر کہتے ہیں: میرے والد سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ کے ہم نشینوں میں سے تھے، انہوں نے مجھے بتایا کہ وہاں انصار میں سے ایک عبادت گزار، گوشہ نشین آدمی تھا جسے ابن حنظلیہ کہا جاتا تھا، وہ عبادت سے فارغ ہی نہیں ہوتا تھا۔ وہ سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرتا تو ان کے پاس رک جاتا، سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ کہتے: ہمیں کوئی ایسی حدیث سناؤ جو ہمیں فائدہ دے اور تمہیں نقصان نہ دے، تو وہ انہیں حدیث سناتا۔ ایک دن اس نے ان سے کہا: ایک دستہ روانہ ہوا، اس میں بنو غفار کے ایک آدمی نے لڑائی کی، اس نے مشرکین میں سے ایک آدمی کو مارا، پھر کہا: یہ لے لو، اور میں غفاری ہوں۔ جب وہ لوٹے تو انہوں نے غفاری کی یہ بات بیان کی، تو بعض مسلمانوں نے کہا: اس نے اپنا اجر ضائع کر لیا، اور دوسروں نے کہا: ہرگز نہیں، یہاں تک کہ یہ بات رسول اللہ ﷺ تک پہنچی، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس میں کوئی حرج نہیں کہ اسے اجر بھی ملے اور تعریف بھی ہو۔“ راوی کہتے ہیں: اس پر سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ کو بہت خوشی ہوئی۔
ابن حنظلیہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے ہم سے ایک دن فرمایا: ”تم اپنے بھائیوں کے پاس جانے والے ہو، اس لیے اپنی سواریاں اور اپنا لباس درست کر لو، یہاں تک کہ تم لوگوں میں (نمایاں) تِل کی طرح ہو جاؤ، بلاشبہ اللہ بےحیائی اور بےحیائی کے اظہار کو پسند نہیں فرماتا۔“
ابن حنظلیہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کی راہ میں گھوڑوں پر خرچ کرنے والا اس شخص کی طرح ہے جو صدقہ دیتے ہوئے اپنا ہاتھ کھلا رکھتا ہے اور اسے بند نہیں کرتا۔“
ابن حنظلیہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے ہم سے ایک دن فرمایا: ”تم اپنے بھائیوں کے پاس جانے والے ہو، اس لیے اپنی سواریاں اور اپنا لباس درست کر لو، یہاں تک کہ تم لوگوں میں (نمایاں) تِل کی طرح ہو جاؤ، بلاشبہ اللہ بےحیائی اور بےحیائی کے اظہار کو پسند نہیں فرماتا۔“
ابن حنظلیہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کی راہ میں گھوڑوں پر خرچ کرنے والا اس شخص کی طرح ہے جو صدقہ دیتے ہوئے اپنا ہاتھ کھلا رکھتا ہے اور اسے بند نہیں کرتا۔“
حَدَّثَنَا الْمِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، ثنا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ بِشْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ الْحَنْظَلِيَّةِ يَقُولُ: بَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً، فَالْتَقَوْا هُمْ وَالْعَدُوُّ، فَحَمَلَ عَلَى رَجُلٍ مِنْ بَنِي غِفَارٍ فَقَالَ: خُذُوهَا وَأَنَا الْفَتَى الْغِفَارِيُّ، فَقَالَ رَجُلٌ: بَطَلَ أَجْرُهُ، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «لَا بَأْسَ أَنْ يُؤْجَرَ وَيُحْمَدَ»
ترجمہ
قیس بن بشر، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: میں نے ابن حنظلیہ کو کہتے سنا: رسول اللہ ﷺ نے ایک دستہ بھیجا، پھر ان کا اور دشمن کا آمنا سامنا ہوا، تو بنو غفار کے ایک شخص نے دشمن کے ایک آدمی پر حملہ کیا اور کہا: یہ لے لو، میں غفاری لڑکا ہوں! ایک شخص نے کہا: اس نے اپنا اجر ضائع کر لیا۔ یہ بات رسول اللہ ﷺ سے ذکر کی گئی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس میں کوئی حرج نہیں کہ اسے اجر بھی ملے اور تعریف بھی ہو۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ خُلَيْدٍ الْحَلَبِيُّ، ثنا أَبُو تَوْبَةَ الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَامٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ سَلَامٍ، أَنَّهُ: سَمِعَ أَبَا سَلَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو كَبْشَةَ السَّلُولِيُّ، عَنْ سَهْلِ ابْنِ الْحَنْظَلِيَّةِ، أَنَّهُمْ سَارُوا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حُنَيْنٍ، فَأَطْنَبُوا السَّيْرَ حَتَّى كَانَ عَشِيَّةً، وَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَ رَجُلٌ فَارِسٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي انْطَلَقْتُ بَيْنَ أَيْدِيكُمْ حَتَّى طَلَعْتُ جَبَلَ كَذَا وَكَذَا، فَإِذَا أَنَا بِهَوَازِنَ عَلَى بَكْرَةِ أَبِيهِمْ، بِظُعُنِهِمْ وَنَعَمِهِمْ وَشَائِهِمْ، اجْتَمَعُوا إِلَى حُنَيْنٍ، فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " تِلْكَ غَنِيمَةُ الْمُسْلِمِينَ غَدًا إِنْ شَاءَ اللهُ، ثُمَّ قَالَ: «مَنْ يَحْرُسُنَا اللَّيْلَةَ؟» ، فَقَالَ أَنَسُ بْنُ أَبِي مَرْثَدٍ الْغَنَوِيُّ: أَنَا يَا رَسُولَ اللهِ، فَقَالَ: ارْكَبْ، فَرَكِبَ فَرَسًا لَهُ، فَجَاءَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اسْتَقْبِلْ هَذَا الشِّعْبَ حَتَّى تَكُونَ فِي أَعْلَاهُ، وَلَا تُغَرَّنَّ مِنْ قِبَلِكَ اللَّيْلَةَ» ، فَلَمَّا أَصْبَحْنَا خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى مُصَلَّاهُ، فَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ قَالَ: «هَلْ حَسَسْتُمْ فَارِسَكُمْ؟» ، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا حَسَسْنَاهُ، فَثَوَّبَ بِالصَّلَاةِ، فَجَعَلَ رَسُولُ اللهِ وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ يَلْتَفِتُ إِلَى الشِّعْبِ، حَتَّى إِذَا قَضَى صَلَاتَهُ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَبْشِرُوا، فَقَدْ جَاءَ فَارِسُكُمْ» ، فَجَعَلْنَا نَنْظُرُ إِلَى خِلَالِ الشَّجَرِ فِي الشِّعْبِ، فَإِذَا هُوَ قَدْ جَاءَ، حَتَّى وَقَفَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنِّي انْطَلَقْتُ حَتَّى إِذَا كُنْتُ فِي أَعْلَا هَذَا الشِّعْبِ، حَيْثُ أَمَرَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا أَصْبَحْتُ طَلَعْتُ الشِّعْبَيْنِ كِلَيْهِمَا، فَنَظَرْتُ فَلَمْ أَرَ أَحَدًا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نَزَلْتَ اللَّيْلَةَ؟» ، فَقَالَ: لَا، إِلَّا مُصَلِّيًا أَوْ قَاضِيَ حَاجَةٍ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قَدْ أَوْجَبْتَ، فَلَا عَلَيْكَ أَنْ تَعْمَلَ بَعْدَهَا»
ترجمہ
سہل بن حنظلیہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حنین کے دن روانہ ہوئے، اور تیز رفتاری سے سفر کیا یہاں تک کہ شام ہو گئی اور رسول اللہ ﷺ کے پاس نماز کا وقت آ گیا، تو ایک سوار آیا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میں آپ لوگوں سے آگے نکل گیا یہاں تک کہ فلاں فلاں پہاڑ پر چڑھ گیا، تو میں نے دیکھا کہ ہوازن اپنے سب لوگوں سمیت، اپنی عورتوں، مویشیوں اور بکریوں سمیت حنین کی طرف جمع ہو گئے، تو رسول اللہ ﷺ مسکرائے اور فرمایا: ”ان شاء اللہ کل یہ مسلمانوں کی غنیمت ہوگی۔“ پھر فرمایا: ”آج رات ہماری نگرانی کون کرے گا؟“ سیدنا انس بن ابی مرثد غنوی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں کروں گا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”سوار ہو جاؤ۔“ چنانچہ وہ اپنے گھوڑے پر سوار ہوئے اور رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے، تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”اس گھاٹی کا رخ کرو یہاں تک کہ تم اس کی چوٹی پر پہنچ جاؤ، اور آج رات اپنی طرف سے کوئی دھوکہ نہ کھانا۔“ جب ہم نے صبح کی تو رسول اللہ ﷺ اپنی نمازگاہ کی طرف نکلے اور دو رکعتیں پڑھیں، پھر فرمایا: ”کیا تمہیں اپنے سوار کی کوئی خبر ملی؟“ ایک آدمی نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہمیں اس کی کوئی خبر نہیں ملی۔ پھر نماز کی تکبیر دی گئی، رسول اللہ ﷺ نماز کی حالت میں بھی گھاٹی کی طرف متوجہ ہو کر دیکھتے رہے، یہاں تک کہ جب آپ ﷺ نے نماز مکمل کر کے سلام پھیرا تو فرمایا: ”خوشخبری ہو، تمہارا سوار آ گیا ہے۔“ ہم درختوں کے درمیان سے گھاٹی میں جھانکنے لگے، تو وہ واقعی آ چکے تھے، یہاں تک کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس رک گئے اور عرض کیا: میں چلتا رہا یہاں تک کہ اس گھاٹی کی چوٹی پر پہنچ گیا، جہاں آپ ﷺ نے مجھے حکم دیا تھا، جب صبح ہوئی تو میں دونوں گھاٹیوں پر چڑھا اور دیکھا تو مجھے کوئی نظر نہ آیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کیا رات کو تم اترے؟“ انہوں نے عرض کیا: نہیں، سوائے نماز پڑھنے یا حاجت پوری کرنے کے۔ رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”تم نے (جنت) واجب کر لی، اب اس کے بعد اگر تم (مزید نفلی) عمل نہ بھی کرو تو تم پر کوئی حرج نہیں۔“
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْبَاقِي الْمِصِّيصِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُصَفًّى، ثنا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ، ثنا ابْنُ جَابِرٍ، حَدَّثَنِي رَبِيعَةُ بْنُ يَزِيدَ، قَالَ: قَدِمَ أَبُو كَبْشَةَ السَّلُولِيُّ دِمَشْقَ، فَسَأَلَهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَامِرٍ الْيَحْصَبِيُّ: مَا الَّذِي أَقْدَمَكَ، لَعَلَّكَ أَرَدْتَ أَنْ تَسْأَلَ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ عَبْدَ الْمَلِكِ بْنِ مَرْوَانَ؟ قَالَ: لَا وَاللهِ، لَا أَسْأَلُ أَحَدًا شَيْئًا بَعْدَ الَّذِي حَدَّثَنِي سَهْلُ ابْنُ الْحَنْظَلِيَّةِ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَاهُ عُيَيْنَةُ بْنُ بَدْرٍ الْفَزَارِيُّ، وَالْأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ التَّمِيمِيُّ، فَسَأَلَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَعَا مُعَاوِيَةَ رَحِمَهُ اللهُ، فَأَمَرَهُ بِشَيْءٍ لَا أَدْرِي مَا هُوَ فَأَقْبَلَ مُعَاوِيَةُ بِصَحِيفَتَيْنِ يَحْمِلُهُمَا، فَأَلْقَى إِحْدَى الصَّحِيفَتَيْنِ إِلَى عُيَيْنَةَ، وَكَانَ أَحْلَمَ الرَّجُلَيْنِ، فَأَخَذَهَا فَرَبَطَهَا فِي عِمَامَتِهِ، وَأَلْقَى الْأُخْرَى إِلَى الْأَقْرَعِ بْنِ حَابِسٍ، قَالَ: مَا فِيهَا؟ قَالَ: فِيهَا الَّذِي أَمَرْتَ بِهِ، قَالَ: بِئْسَ وَافِدُ قَوْمٍ إِنْ أَنَا جِئْتُهُمْ بِصَحِيفَةٍ أَحْمِلُهَا لَا أَدْرِي مَا فِيهَا كَصَحِيفَةِ الْمُتَلَمِّسِ، قَالَ: وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُقْبِلٌ عَلَى رَجُلٍ يُحَدِّثُهُ، فَلَمَّا سَمِعَ مَقَالَتَهُ أَخَذَ الصَّحِيفَةَ فَفَضَّهَا، فَإِذَا بَعِيرٌ مُنَاخٌ، فَقَالَ: «أَيْنَ صَاحِبُ هَذَا الْبَعِيرِ؟» فَابْتُغِيَ فَلَمْ يُوجَدْ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اتَّقُوا اللهَ فِي هَذِهِ الْبَهَائِمِ، كُلُوهَا سِمَانًا، وَارْكَبُوهَا صِحَاحًا» ، ثُمَّ مَضَى، حَتَّى دَخَلَ مَنْزِلَهُ، وَأَنَا مَعَهُ فَطَفِقَ يَقُولُ كَالْمُتَسَخِّطِ: «مَنْ سَأَلَ النَّاسَ عَنْ ظَهْرِ غِنًى، فَإِنَّمَا يَسْتَكْثِرُ مِنْ جَمْرِ جَهَنَّمَ» ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، وَمَا ظَهْرُ الْغِنَى؟ قَالَ: «أَنْ تَعْلَمَ أَنَّ عِنْدَ أَهْلِهِ مَا يُغَدِّيهِمْ أَوْ يُعَشِّيهِمْ»
ترجمہ
ربیعہ بن یزید کہتے ہیں: ابوکبشہ سلولی دمشق آئے، تو عبداللہ بن عامر یحصبی نے ان سے پوچھا: تمہیں کس چیز نے یہاں لایا؟ شاید تم امیر المؤمنین عبدالملک بن مروان سے کچھ مانگنا چاہتے ہو؟ انہوں نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم! میں کسی سے کچھ نہیں مانگوں گا اس بات کے بعد جو مجھے سیدنا سہل بن حنظلیہ رضی اللہ عنہ نے بتائی۔ انہوں نے کہا: میں رسول اللہ ﷺ کے پاس تھا کہ عیینہ بن بدر فزاری اور اقرع بن حابس تمیمی آئے، اور انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے کچھ مانگا۔ آپ ﷺ نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو بلایا اور انہیں کسی چیز کا حکم دیا، مجھے معلوم نہیں وہ کیا تھا۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ دو خط لے کر آئے، ایک خط عیینہ کی طرف پھینکا — وہ دونوں میں سے زیادہ عقلمند اور بردبار تھا — اس نے وہ خط لے کر اپنی پگڑی میں باندھ لیا۔ دوسرا خط اقرع بن حابس کی طرف پھینکا، اس نے پوچھا: اس میں کیا ہے؟ معاویہ نے کہا: اس میں وہی ہے جس کا آپ ﷺ نے حکم دیا۔ اس نے کہا: میں اپنی قوم کا کیسا بدنصیب وفد ہوں گا اگر میں ان کے پاس ایک ایسا خط اٹھائے ہوئے جاؤں جس میں کیا ہے مجھے معلوم ہی نہیں — جیسے متلمس کا خط! راوی کہتے ہیں: اور رسول اللہ ﷺ ایک آدمی سے بات کرنے میں مصروف تھے، جب آپ ﷺ نے اس کی بات سنی تو خط لے کر اسے کھولا، تو دیکھا کہ ایک اونٹ بیٹھا ہوا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس اونٹ کا مالک کہاں ہے؟“ اسے تلاش کیا گیا مگر نہ ملا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ان جانوروں کے معاملے میں اللہ سے ڈرو، انہیں موٹا تازہ ہونے کی حالت میں کھاؤ، اور تندرست ہونے کی حالت میں سوار ہو۔“ پھر آپ ﷺ آگے بڑھے یہاں تک کہ اپنے گھر میں داخل ہوئے، اور میں آپ ﷺ کے ساتھ تھا، تو آپ ﷺ ناراضگی کے سے انداز میں فرمانے لگے: ”جو شخص خوشحال ہوتے ہوئے لوگوں سے مانگے، وہ گویا جہنم کے انگارے ہی زیادہ جمع کر رہا ہے۔“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! خوشحالی سے کیا مراد ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ کہ تمہیں معلوم ہو کہ اس کے گھر والوں کے پاس اتنا کھانا موجود ہے جو انہیں صبح یا شام کے وقت کھلا دے۔“
حَدَّثَنَا الْمِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ثنا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ بِشْرِ بْنِ نُمَيْرٍ، ثنا الْقَاسِمُ الشَّامِيُّ، قَالَ: مَرَّ سَهْلُ ابْنُ الْحَنْظَلِيَّةِ عَلَى رَجُلٍ يُصَلِّي مُتَرَاخِيًا عَلَى الْقِبْلَةِ، فَقَالَ سَهْلٌ: «تَقَدَّمْ إِلَى مُصَلَّاكَ، لَا يَقْطَعِ الشَّيْطَانُ صَلَاتَكَ» ، وَلَا أُحَدِّثُكَ إِلَّا مَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ
قاسم شامی بیان کرتے ہیں: سہل بن حنظلیہ رضی اللہ عنہ ایک ایسے شخص کے پاس سے گزرے جو قبلے (کی جانب سترے) سے پیچھے ہٹ کر دور کھڑا نماز پڑھ رہا تھا، تو سہل رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اپنی جائے نماز کی طرف آگے بڑھ آؤ، کہیں شیطان تمہاری نماز نہ کاٹ دے، اور میں تمہیں صرف وہی بتاتا ہوں جو میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي رَحِمَهُ اللهُ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ قَالَا: ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ أَبِي الرَّبِيعِ، عَنِ الْقَاسِمِ مَوْلَى مُعَاوِيَةَ، قَالَ: دَخَلْتُ مَسْجِدَ دِمَشْقَ، فَرَأَيْتُ نَاسًا مُجْتَمِعِينَ، وَشَيْخًا يُحَدِّثُهُمْ، فَقُلْتُ: مَنْ هَذَا؟، قَالُوا: سَهْلُ ابْنُ الْحَنْظَلِيَّةِ، فَسَمِعْتُهُ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ أَكَلَ لَحْمًا فَلْيَتَوَضَّأْ»
ترجمہ
قاسم مولیٰ معاویہ کہتے ہیں: میں دمشق کی مسجد میں داخل ہوا، تو میں نے دیکھا کہ کچھ لوگ جمع ہیں اور ایک بزرگ انہیں حدیث سنا رہے ہیں، میں نے پوچھا: یہ کون ہیں؟ لوگوں نے بتایا: یہ سہل بن حنظلیہ رضی اللہ عنہ ہیں۔ چنانچہ میں نے انہیں یہ کہتے سنا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”جو گوشت کھائے وہ وضو کر لے۔“
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، ثنا الْمُطْعِمُ بْنُ الْمِقْدَامِ الصَّنْعَانِيُّ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ، أَنَّهُ قَالَ لِابْنِ الْحَنْظَلِيَّةِ: حَدِّثْنَا حَدِيثًا سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «الْخَيْلُ مَعْقُودٌ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، وَأَهْلُهَا مُعَانُونَ عَلَيْهَا، وَمَنْ رَبَطَ فَرَسًا فِي سَبِيلِ اللهِ، كَانَتِ النَّفَقَةُ عَلَيْهِ كَالمَادِّ يَدَهُ بِالصَّدَقَةِ لَا يَقْبِضُهَا»
ترجمہ
حسن بن ابی الحسن بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے ابن حنظلیہ رضی اللہ عنہ سے کہا: ہمیں کوئی ایسی حدیث سنائیے جو آپ نے رسول اللہ ﷺ سے سنی ہو۔ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”گھوڑوں کی پیشانیوں میں قیامت تک کے لیے خیر باندھی گئی ہے، اور ان کے مالکوں کی ان (گھوڑوں کی دیکھ بھال) پر مدد کی جاتی ہے، اور جو شخص اللہ کی راہ میں گھوڑا باندھے، تو اس پر خرچ کرنا اس شخص کی طرح ہے جو صدقہ دیتے ہوئے اپنا ہاتھ کھلا رکھے اور اسے بند نہ کرے۔“