کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: سیدنا سہل بن ابی حثمہ انصاری رضی اللہ عنہ، مدینہ میں رہتے تھے
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، وَحَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ كِلَاهُمَا عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ إِلَى سُتْرَةٍ، فَلْيَدْنُ مِنْهَا، لَا يَقْطَعِ الشَّيْطَانُ صَلَاتَهُ»
ترجمہ
سیدنا سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی سترہ کی طرف نماز پڑھے تو اس کے قریب ہو جائے، کہیں شیطان اس کی نماز نہ کاٹ دے۔“
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، قَالَا: ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، أَخْبَرَنِي بَشِيرُ بْنُ يَسَارٍ، أَنَّهُ: سَمِعَ سَهْلَ بْنَ أَبِي حَثْمَةَ يَقُولُ: وَجَدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ سَهْلٍ قَتِيلًا فِي فَقِيرٍ أَوْ قَلِيبٍ مِنْ فُقُرِ، أَوْ قُلُبِ خَيْبَرَ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخُوهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَهْلٍ، وَعَمَّاهُ حُوَيِّصَةُ، وَمُحَيِّصَةُ، ابْنَا مَسْعُودٍ، فَذَهَبَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَتَكَلَّمُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْكُبُرَ الْكُبُرَ» ، فَتَكَلَّمَ مُحَيِّصَةُ، فَذَكَرَ مَقْتَلَ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَهْلٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّا وَجَدْنَا عَبْدَ اللهِ بْنِ سَهْلٍ قَتِيلًا، وَإِنَّ الْيَهُودَ أَهْلُ كُفْرٍ وغَدْرٍ، وَهُمُ الَّذِينَ قَتَلُوهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَتَحْلِفُونَ خَمْسِينَ يَمِينًا، وَتَسْتَحِقُّونَ صَاحِبَكُمْ أَوْ دَمَ صَاحِبِكُمْ» ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، كَيْفَ نَحْلِفُ عَلَى مَا لَمْ نَحْضُرْ وَلَمْ نَشْهَدْ؟ قَالَ: «فَتَبْرَأُ إِلَيْكُمْ يَهُودُ بِخَمْسِينَ يَمِينًا» ، قَالُوا: كَيْفَ نَقْبَلُ أَيْمَانَ قَوْمٍ مُشْرِكِينَ؟ فَوَدِيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عِنْدِهِ، قَالَ سَهْلٌ: «فَلَقَدْ رَكَضَتْنِي بَكْرَةٌ مِنْهَا»
ترجمہ
…نبی کریم ﷺ کے پاس عبدالرحمن بن سہل، اس کے بھائی، اور اس کے دو چچا حویصہ اور محیصہ، ابنائے مسعود، آئے۔ عبدالرحمن بات کرنے لگے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بڑے کو بولنے دو، بڑے کو بولنے دو۔“ چنانچہ محیصہ نے بات کی اور عبداللہ بن سہل کے قتل کا ذکر کیا، اس نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم نے عبداللہ بن سہل کو مقتول پایا، اور یہودی کفر اور دغابازی والی قوم ہیں، اور انہی نے اسے قتل کیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تو تم پچاس قسمیں کھاؤ گے، اور اپنے ساتھی کا حق یا اپنے ساتھی کا خون ثابت کرو گے۔“ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم اس بات پر کیسے قسم کھائیں جس میں نہ ہم حاضر تھے اور نہ ہم نے دیکھا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو یہودی تمہارے سامنے پچاس قسمیں کھا کر بری ہو جائیں گے۔“ انہوں نے عرض کیا: ہم مشرک قوم کی قسمیں کیسے قبول کریں؟ چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی طرف سے خون بہا ادا کیا۔ سہل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ”اس (خون بہا کے اونٹوں) میں سے ایک اونٹنی نے مجھے لات ماری تھی۔“
حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنِ مَسْعُودِ بْنِ نِيَارٍ قَالَ: كَانَ سَهْلُ بْنُ أَبِي حَثْمَةَ فِي مَجْلِسٍ لَنَا، فَحَدَّثَهُمْ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ للخُرَّاصِ: " خُذُوا وَدَعُوا الثُّلُثَ، فَإِنْ لَمْ تَدَعُوا - أَوْ قَالَ: تَجِدُوا - فَدَعُوا الرُّبُعَ "
ترجمہ
عبدالرحمن بن مسعود بن نیار بیان کرتے ہیں کہ سیدنا سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ ہماری مجلس میں تھے، انہوں نے ہمیں بتایا کہ نبی کریم ﷺ پھلوں کا اندازہ لگانے والوں سے فرمایا کرتے تھے: ”زکوٰۃ وصول کرو، مگر تہائی حصہ چھوڑ دو، اور اگر تہائی نہ چھوڑ سکو - یا فرمایا: نہ پاؤ - تو چوتھائی حصہ چھوڑ دو۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَارِمٌ أَبُو النُّعْمَانِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، وَرَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ أَنَّهُمَا حَدَّثَاهُ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ سَهْلٍ، وَمُحَيِّصَةَ بْنَ مَسْعُودٍ أَتَيَا خَيْبَرَ فِي حَاجَةٍ، فَتَفَرَّقَا فِي نَخْلِهَا، فَقُتِلَ عَبْدُ اللهِ بْنُ سَهْلٍ، فَأَتَى أَخُوهُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَهْلٍ، وَابْنَا عَمِّهِ مُحَيِّصَةُ وَحُوَيِّصَةُ، ابْنَا مَسْعُودٍ، فَبَدَأَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فَتَكَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كَبِّرِ الْكُبُرَ» ، يَقُولُ: يَبْدَأُ بِالْكَلَامِ الْأَكْبَرُ، وَكَانَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ أَكْبَرَ مِنْ صَاحِبَيْهِ، فَتَكَلَّمَا فِي قَتْلِ صَاحِبِهِمَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اسْتَحِقُّوا قَتِيلَكُمْ أَوْ صَاحِبَكُمْ بِأَيْمَانِ خَمْسِينَ مِنْهُمْ» ، فَقَالُوا: قَوْمٌ كُفَّارٌ، قَالَ: فَوَدَاهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ سَهْلٌ: «فَأَدْرَكْتُ نَاقَةً مِنْ تِلْكَ الْإِبِلِ، فَرَكَضَتْنِي رَكْضَةً فِي مِرْبَدٍ لَهُمْ»
ترجمہ
…نبی کریم ﷺ کے پاس ان کا بھائی عبدالرحمن بن سہل، اور ان کے چچازاد بھائی محیصہ اور حویصہ، ابنائے مسعود، آئے۔ عبدالرحمن نے پہلے بولنا شروع کیا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بڑے کو بولنے دو۔“ یعنی سب سے بڑا شخص بات کا آغاز کرے، اور عبدالرحمن اپنے دونوں ساتھیوں سے بڑے تھے، تو دونوں چچازاد بھائیوں نے اپنے ساتھی کے قتل کے بارے میں بات کی۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”پچاس افراد کی قسموں سے اپنے مقتول کا خون یا اپنے ساتھی کا حق ثابت کرو۔“ انہوں نے عرض کیا: وہ (یہودی) کافر قوم ہیں۔ راوی کہتے ہیں: چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے اس کا خون بہا ادا کیا۔ سہل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ”پھر میں ان اونٹوں میں سے ایک اونٹنی کے قریب گیا تو اس نے مجھے ان کے باڑے میں ایک لات ماری۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، وَثَنًا عِلَّانُ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ مَاغَمَّهُ، قَالَا: ثنا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ، ثنا قَيْسٌ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ قَالَ: خَرَجَ قَوْمٌ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَقُتِلَ رَجُلٌ مِنْهُمْ، فَرُفِعَ ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «بَيِّنَتَكُمْ؟» ، قَالُوا: مَا لَنَا بَيِّنَةٌ، قَالَ: «فَأَيْمَانَهُمْ؟» ، قَالُوا: إِذَنْ يَقْتُلُنَا يَهُودُ، ثُمَّ يَحْلِفُونَ، قَالَ: «فَأَيْمَانَكُمْ أَنْتُمْ» ، قَالُوا: لَمْ نَشْهَدْ، فَوَدَاهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ
سیدنا سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: انصار کا ایک گروہ نکلا، تو ان میں سے ایک آدمی قتل کر دیا گیا۔ یہ معاملہ رسول اللہ ﷺ کے سامنے پیش کیا گیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہارے پاس گواہ ہیں؟“ انہوں نے عرض کیا: ہمارے پاس کوئی گواہ نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو کیا ان (یہودیوں) سے قسمیں لوں؟“ انہوں نے عرض کیا: تب تو یہودی ہمیں قتل کر کے پھر قسمیں بھی کھا لیں گے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو پھر تم قسمیں کھاؤ۔“ انہوں نے عرض کیا: ہم موقع پر موجود نہیں تھے۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی طرف سے اس کا خون بہا ادا کیا۔
حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَلْطِيُّ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّائِيُّ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ: سَهْلُ بْنُ أَبِي حَثْمَةَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ نَفَرًا مِنْ قَوْمِهِ انْطَلَقُوا إِلَى خَيْبَرَ، فَتَفَرَّقُوا فِيهَا، فَوَجَدُوا أَحَدَهُمْ قَتِيلًا، فَقَالُوا لِلَّذِينَ وَجَدُوهُ عِنْدَهُمْ: قَتَلْتُمْ صَاحِبَنَا؟ فَقَالُوا: مَا قَتَلْنَاهُ، وَلَا عَلِمْنَا، فَانْطَلَقُوا إِلَى نَبِيِّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: يَا نَبِيَّ اللهِ، انْطَلَقْنَا إِلَى خَيْبَرَ، فَوَجَدْنَا أَحَدَنَا قَتِيلًا، فَتَكَلَّمَ أَصْغَرُ الْقَوْمِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْكُبُرَ الْكُبُرَ» ، فَقَالَ لَهُمْ: «تَأْتُونَ بِالْبَيِّنَةِ عَلَى مَنْ قَتَلَ» ، قَالُوا: مَا لَنَا مِنْ بَيِّنَةٍ، قَالَ: «فَيَحْلِفُونَ لَكُمْ» ، قَالُوا: لَا نَرْضَى بِأَيْمَانِ الْيَهُودِ، فَكَرِهَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أنْ يَبْطُلَ دَمُهُ، فَوَدَاهُ بمِائَةٍ مِنْ إِبِلِ الصَّدَقَةِ
ترجمہ
…انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! ہم خیبر گئے تو ہم نے اپنے میں سے ایک شخص کو مقتول پایا۔ وفد میں سے سب سے چھوٹا شخص بولنے لگا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بڑے کو بولنے دو، بڑے کو بولنے دو۔“ پھر آپ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”تم قاتل کے خلاف گواہ لاؤ۔“ انہوں نے عرض کیا: ہمارے پاس کوئی گواہ نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو وہ (یہودی) تمہارے سامنے قسمیں کھا لیں؟“ انہوں نے عرض کیا: ہم یہودیوں کی قسموں پر راضی نہیں۔ نبی اللہ ﷺ نے یہ بات ناپسند کی کہ اس (مقتول) کا خون رائیگاں جائے، چنانچہ آپ ﷺ نے صدقے کے سو اونٹوں سے اس کا خون بہا ادا کیا۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، ح وَحَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ الدِّمْيَاطِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، أَنَا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي لَيْلَى بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَهْلٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ، عَنْ رِجَالٍ مِنْ كُبَرَاءِ قَوْمِهِ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ سَهْلٍ وَمُحَيِّصَةَ خَرَجَا إِلَى خَيْبَرَ مِنْ جَهْدٍ أَصَابَهُمْ، فَأَتَى مُحَيِّصَةُ، فَأُخْبِرَ أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ سَهْلٍ قَدْ قُتِلَ وَطُرِحَ فِي فَقِيرٍ أَوْ عَيْنٍ، فَأَتَى يَهُودَ، فَقَالَ: أَنْتُمْ وَاللهِ قَتَلْتُمُوهُ، قَالُوا: وَاللهِ مَا قَتَلْنَاهُ، ثُمَّ أَقْبَلَ، حَتَّى قَدِمَ عَلَى قَوْمِهِ فَذَكَرَ لَهُمْ ذَلِكَ، فَأَقْبَلَ هُوَ وَأَخُوهُ حُوَيِّصَةُ وَهُوَ أَكْبَرُ مِنْهُ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَهْلٍ، فَذَهَبَ حُوَيِّصَةُ لَيَتَكَلَّمَ، وَهُوَ الَّذِي كَانَ بِخَيْبَرَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمُحَيِّصَةَ: «كَبِّرْ كَبِّرْ» - يُرِيدُ السِّنَّ - فَتَكَلَّمَ حُوَيِّصَةُ، ثُمَّ تَكَلَّمَ مُحَيِّصَةُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِمَّا أَنْ يَدُوا صَاحِبَكُمْ، وإِمَّا أَنْ يَأْذَنُوا بِحَرْبٍ» ، فَكَتَبَ إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ، فَكَتَبُوا: إِنَّا وَاللهِ مَا قَتَلْنَاهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحُوَيِّصَةَ وَمُحَيِّصَةَ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَهْلٍ: «تَحْلِفُونَ وَتَسْتَحِقُّونَ دَمَ صَاحِبِكُمْ؟» ، فَقَالُوا: لَا، قَالَ: «فَيَحْلِفُ لَكُمْ يَهُودُ؟» ، قَالُوا: لَيْسُوا بِمُسْلِمِينَ، فَوَدَاهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عِنْدِهِ، فَبَعَثَ إِلَيْهِمْ بمِائَةِ نَاقَةٍ، حَتَّى أُدْخِلَتْ عَلَيْهِمْ فِي الدَّارِ، قَالَ سَهْلٌ: «لَقَدْ رَكَضَتْنِي مِنْهَا نَاقَةٌ حَمْرَاءُ»
ترجمہ
…چنانچہ وہ (محیصہ) اپنے بھائی حویصہ کے ساتھ آئے، جو ان سے بڑے تھے، اور عبدالرحمن بن سہل بھی۔ حویصہ بات کرنے لگے - وہی خیبر میں اپنے بھائی کے ساتھ موجود تھے - تو رسول اللہ ﷺ نے محیصہ سے فرمایا: ”بڑے کو بولنے دو، بڑے کو بولنے دو۔“ آپ ﷺ کی مراد عمر (میں بڑا) تھی۔ چنانچہ حویصہ نے بات کی، پھر محیصہ نے بات کی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”یا تو وہ (یہودی) تمہارے ساتھی کا خون بہا ادا کریں، یا پھر وہ جنگ کی اجازت دیں۔“ چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے اس بارے میں انہیں خط لکھا، تو انہوں نے جواب لکھا: اللہ کی قسم! ہم نے اسے قتل نہیں کیا۔ رسول اللہ ﷺ نے حویصہ، محیصہ اور عبدالرحمن بن سہل سے فرمایا: ”کیا تم قسم کھا کر اپنے ساتھی کا خون ثابت کرتے ہو؟“ انہوں نے عرض کیا: نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو کیا یہودی تمہارے سامنے قسم کھائیں؟“ انہوں نے عرض کیا: وہ تو مسلمان نہیں ہیں۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی طرف سے اس کا خون بہا ادا کیا، اور ان کی طرف سو اونٹنیاں بھیجیں، یہاں تک کہ وہ ان کے گھر (باڑے) میں پہنچا دی گئیں۔ سہل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ”ان میں سے ایک سرخ اونٹنی نے مجھے لات ماری تھی۔“
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ صَالِحِ بْنِ خَوَّاتٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، فِي صَلَاةِ الْخَوْفِ قَالَ: «يَقُومُ الْإِمَامُ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ، وَتَقُومُ طَائِفَةٌ مِنْهُمْ مِنْ قِبَلِ الْعَدُوِّ، وُجُوهُهُمْ إِلَى الْعَدُوِّ، فَيُصَلِّي بِالَّذِينَ مَعَهُ رَكْعَةً، ثُمَّ يَقُومُ، فَيَرْكَعُونَ لِأَنْفُسِهِمْ رَكْعَةً، وَيَسْجُدُونَ سَجْدَتَيْنِ فِي مَكَانِهِمْ، ثُمَّ يَذْهَبُ هَؤُلَاءِ إِلَى مَقَامِ أُولَئِكَ، فَيَجِيءُ أُولَئِكَ، فَيَرْكَعُ بِهِمْ رَكْعَةً، فَهِيَ لَهُ اثْنَتَانِ وَلَهُمْ وَاحِدَةٌ، ثُمَّ يَرْكَعُونَ لِأَنْفُسِهِمْ، وَيَسْجُدُونَ سَجْدَتَيْنِ»
ترجمہ
سیدنا سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ نماز خوف کے بارے میں کہتے ہیں: ”امام قبلہ رخ کھڑا ہوتا ہے، اور ایک گروہ دشمن کی طرف سے کھڑا ہوتا ہے، ان کا رخ دشمن کی طرف ہوتا ہے، امام اپنے ساتھ والوں کو ایک رکعت پڑھاتا ہے، پھر کھڑا رہتا ہے، اور وہ اپنے طور پر ایک رکعت رکوع کر کے اور اپنی جگہ ہی دو سجدے کر کے مکمل کرتے ہیں، پھر یہ لوگ ان کی جگہ چلے جاتے ہیں، اور وہ دوسرے آ جاتے ہیں، تو امام انہیں ایک رکعت پڑھاتا ہے، یوں امام کی دو رکعتیں مکمل ہو جاتی ہیں اور ان کی ایک، پھر وہ اپنے طور پر رکوع کرتے ہیں اور دو سجدے کرتے ہیں۔“
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ صَالِحِ بْنِ خَوَّاتٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ
ترجمہ
سیدنا سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ سے بھی اسی جیسی حدیث مروی ہے۔
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ التَّمْرِ بِالتَّمْرِ، وَرَخَّصَ فِي الْعَرَايَا أَنْ يُبَاعَ بِخَرْصِهَا، يَأْكُلُهَا أَهْلُهَا رُطَبًا»
ترجمہ
سیدنا سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے کھجور کو کھجور کے بدلے بیچنے سے منع فرمایا، البتہ عرایا (درختوں پر لگی کھجور) کے بارے میں اجازت دی کہ انہیں ان کے اندازے کے مطابق بیچا جائے، تاکہ ان کے مالک انہیں تازہ کھا سکیں۔
حَدَّثَنَا الْمِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ثنا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، حَدَّثَنِي سُفْيَانُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، قَالَ: «قَسَمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ نِصْفَيْنِ، نِصْفٌ لِنَوَائِبِهِ وَخَاصَّتِهِ، وَنِصْفٌ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ، فَقَسَمَهَا بَيْنَهُمْ عَلَى ثَمَانِيَةَ عَشَرَ سَهْمًا»
ترجمہ
سیدنا سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ”رسول اللہ ﷺ نے خیبر کو دو حصوں میں تقسیم کیا، ایک حصہ اپنی ضروریات اور خاص لوگوں کے لیے، اور ایک حصہ مسلمانوں کے درمیان، پھر اسے اٹھارہ حصوں میں تقسیم کیا۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ح وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَا: ثنا أَبُو أُسَامَةَ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ كَثِيرٍ قَالَ: حَدَّثَنِي بُشَيْرُ بْنُ يَسَارٍ مَوْلَى بَنِي حَارِثَةَ، أَنَّ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ وَسَهْلَ بْنَ أَبِي حَثْمَةَ، حَدَّثَاهُ " أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الْمُزَابَنَةِ - وَالْمُزَابَنَةُ التَّمْرُ بِالتَّمْرِ - إِلَّا أَصْحَابَ الْعَرَايَا فَإِنَّهُ قَدْ أَذِنَ لَهُمْ
ترجمہ
بشیر بن یسار مولیٰ بنو حارثہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا رافع بن خدیج اور سیدنا سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہما نے انہیں بتایا کہ رسول اللہ ﷺ نے مزابنہ سے منع فرمایا - اور مزابنہ یہ ہے کہ درخت پر لگی کھجور کو خشک کھجور کے بدلے بیچا جائے - سوائے عرایا والوں کے، کیونکہ آپ ﷺ نے انہیں اجازت دے دی تھی۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ رِشْدِينَ، ثنا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَقُولُ: «اجْتَنِبُوا الْكَبَائِرَ السَّبْعَ» ، فَسَكَتَ النَّاسُ فَلَمْ يَتَكَلَّمْ أَحَدٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَلَا تَسْأَلُونِي عَنْهُنَّ؟ الشِّرْكُ بِاللهِ، وَقَتْلُ النَّفْسِ، وَالْفِرَارُ مِنَ الزَّحْفِ، وَأَكَلُ مَالِ الْيَتِيمِ، وَأَكَلُ الرِّبَا، وَقَذْفُ الْمُحْصَنَةِ، وَالتَّعَرُّبُ بَعْدَ الْهِجْرَةِ»
ترجمہ
سیدنا سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم ﷺ کو منبر پر یہ فرماتے سنا: ”سات بڑے گناہوں سے بچو۔“ لوگ خاموش رہے، کسی نے کچھ نہ پوچھا، تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم مجھ سے ان کے بارے میں نہیں پوچھو گے؟ اللہ کے ساتھ شرک کرنا، کسی جان کو قتل کرنا، جنگ کے میدان سے بھاگنا، یتیم کا مال کھانا، سود کھانا، پاکدامن عورت پر تہمت لگانا، اور ہجرت کے بعد بدوی بن جانا۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ بَكْرِ بْنِ خُنَيْسٍ، ثنا حَجَّاجٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو، وَالْحَجَّاجِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، عَنْ عَمِّهِ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، قَالَا: كَانَتْ حَبِيبَةُ بِنْتُ سَهْلٍ تَحْتَ ثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ الْأَنْصَارِيِّ، فَكَرِهَتْهُ، وَكَانَ رَجُلًا ذَمِيمًا، فَجَاءَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي لَأَرَاهُ، فَلَوْلَا مَخَافَةَ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ لَبَزَقْتُ فِي وَجْهِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَتَرُدِّينَ عَلَيْهِ حَدِيقَتَهُ الَّتِي أَصْدَقَكِ؟» ، قُلْتُ: نَعَمْ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ، فَرَدَّتْ إِلَيْهِ حَدِيقَتَهُ، وَفَرَّقَ بَيْنَهُمَا، وَكَانَ ذَلِكَ أَوَّلَ خُلْعٍ كَانَ فِي الْإِسْلَامِ
ترجمہ
…تو وہ خاتون نبی کریم ﷺ کے پاس آئی اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میں اسے دیکھتی ہوں اور اس سے نفرت کرتی ہوں، اگر اللہ عزوجل کا خوف نہ ہوتا تو میں اس کے چہرے پر تھوک دیتی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم اسے اس کا باغ واپس کرو گی جو اس نے تمہیں مہر میں دیا تھا؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں۔ چنانچہ آپ ﷺ نے اسے بلوایا، تو اس نے اسے اس کا باغ لوٹا دیا، اور آپ ﷺ نے ان دونوں میں جدائی کروا دی، اور یہ اسلام میں ہونے والا پہلا خلع تھا۔