❮
❯
حدیث نمبر: 5596
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ الدِّمْيَاطِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ رَجُلِ صِدْقٍ مِنْ أَهْلِ قِنِّسْرِينَ، يُقَالُ لَهُ: قَيْسُ بْنُ بِشْرٍ، قَالَ: كَانَ أَبِي مِنْ جُلَسَاءِ أَبِي الدَّرْدَاءِ، فَحَدَّثَنِي: أَنَّهُ كَانَ هُنَاكَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ مُتَعَبِّدٌ مُعْتَزِلٌ، لَا يَكَادُ يَفْرُغُ مِنَ الْعِبَادَةِ، يُقَالُ لَهُ: ابْنُ الْحَنْظَلِيَّةِ، فَكَانَ يَمُرُّ بِأَبِي الدَّرْدَاءِ، فَيَقِفُ عَلَيْهِ فَيَقُولُ أَبُو الدَّرْدَاءِ: حَدِّثْنَا حَدِيثًا يَنْفَعُنَا وَلَا يَضُرُّكَ، فَحَدَّثَهُ فَقَالَ لَهُ يَوْمًا: خَرَجَتْ سَرِيَّةٌ، فَقَاتَلَ فِيهَا رَجُلٌ مِنْ بَنِي غِفَارٍ، فَضَرَبَ رَجُلًا مِنَ الْمُشْرِكِينَ، ثُمَّ قَالَ: خُذْهَا وَأَنَا الْغِفَارِيُّ، فَقَدِمُوا، فَحَدَّثُوا بِقَوْلِ الْغِفَارِيِّ، فَقَالَ بَعْضُ الْمُسْلِمِينَ: أَبْطَلَ أَجْرَهُ، وَقَالَ آخَرُونَ: كَلَّا، حَتَّى بَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «لَا بَأْسَ بِأَنْ يُؤْجَرَ وَيُحْمَدَ» قَالَ: فَسُرَّ بِهَا أَبُو الدَّرْدَاءِ
وَقَالَ ابْنُ الْحَنْظَلِيَّةِ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَنَا يَوْمًا: «إِنَّكُمْ قَادِمُونَ عَلَى إِخْوَانِكُمْ، فَأَصْلِحُوا رِحَالَكُمْ وَلِبَاسَكُمْ حَتَّى تَكُونُوا كَأَنَّكُمْ شَامَةً فِي النَّاسِ، فَإِنَّ اللهَ لَا يُحِبُّ الْفُحْشَ وَلَا التَّفَحُّشَ» ،
وَقَالَ ابْنُ الْحَنْظَلِيَّةِ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الْمُنْفِقَ عَلَى الْخَيْلِ فِي سَبِيلِ اللهِ كَالْبَاسِطِ يَدَهُ بِالصَّدَقَةِ لَا يَقْبِضُهَا»
ترجمہ

قیس بن بشر کہتے ہیں: میرے والد سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ کے ہم نشینوں میں سے تھے، انہوں نے مجھے بتایا کہ وہاں انصار میں سے ایک عبادت گزار، گوشہ نشین آدمی تھا جسے ابن حنظلیہ کہا جاتا تھا، وہ عبادت سے فارغ ہی نہیں ہوتا تھا۔ وہ سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرتا تو ان کے پاس رک جاتا، سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ کہتے: ہمیں کوئی ایسی حدیث سناؤ جو ہمیں فائدہ دے اور تمہیں نقصان نہ دے، تو وہ انہیں حدیث سناتا۔ ایک دن اس نے ان سے کہا: ایک دستہ روانہ ہوا، اس میں بنو غفار کے ایک آدمی نے لڑائی کی، اس نے مشرکین میں سے ایک آدمی کو مارا، پھر کہا: یہ لے لو، اور میں غفاری ہوں۔ جب وہ لوٹے تو انہوں نے غفاری کی یہ بات بیان کی، تو بعض مسلمانوں نے کہا: اس نے اپنا اجر ضائع کر لیا، اور دوسروں نے کہا: ہرگز نہیں، یہاں تک کہ یہ بات رسول اللہ ﷺ تک پہنچی، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس میں کوئی حرج نہیں کہ اسے اجر بھی ملے اور تعریف بھی ہو۔“ راوی کہتے ہیں: اس پر سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ کو بہت خوشی ہوئی۔
ابن حنظلیہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے ہم سے ایک دن فرمایا: ”تم اپنے بھائیوں کے پاس جانے والے ہو، اس لیے اپنی سواریاں اور اپنا لباس درست کر لو، یہاں تک کہ تم لوگوں میں (نمایاں) تِل کی طرح ہو جاؤ، بلاشبہ اللہ بےحیائی اور بےحیائی کے اظہار کو پسند نہیں فرماتا۔“
ابن حنظلیہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کی راہ میں گھوڑوں پر خرچ کرنے والا اس شخص کی طرح ہے جو صدقہ دیتے ہوئے اپنا ہاتھ کھلا رکھتا ہے اور اسے بند نہیں کرتا۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 5596
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 6، صفحہ 95، حدیث 5617