حدیث نمبر: 5595
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، أَخْبَرَنِي قَيْسُ بْنُ بِشْرٍ الثَّعْلَبِيُّ، قَالَ: كَانَ أَبِي جَلِيسًا لِأَبِي الدَّرْدَاءِ بِدِمَشْقَ، فَأَخْبَرَنِي أَنَّهُ كَانَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَالُ لَهُ: ابْنُ الْحَنْظَلِيَّةِ، وَكَانَ رَجُلًا مُتَوَحِّدًا، قَلَّمَا يُجَالِسُ النَّاسَ، إِنَّمَا هُوَ صَلَاةٌ، فَإِذَا انْصَرَفَ فَإِنَّمَا هُوَ تَسْبِيحٌ وتَهْليلٌ وَتَكْبِيرٌ، حَتَّى يَأْتِيَ أَهْلَهُ، فَمَرَّ بِنَا يَوْمًا وَنَحْنُ عِنْدَ أَبِي الدَّرْدَاءِ فَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ أَبُو الدَّرْدَاءِ: كَلِمَةٌ تَنْفَعُنَا اللهُ وَلَا تَضُرُّكَ، فَقَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً فَقَدِمْتُ، فَجَاءَ رَجُلٌ فَجَلَسَ فِي الْمَجْلِسِ الَّذِي فِيهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لِرَجُلٍ إِلَى جَنْبِهِ: لَوْ رَأَيْتُنَا حِينَ لَقِينَا الْعَدُوَّ، وَطَعَنَ فُلَانٌ فُلَانًا، فَقَالَ: خُذْهَا، وَأَنَا الْغُلَامُ الْغِفَارِيُّ كَيْفَ تَرَى؟ قَالَ: مَا أُرَاهُ إِلَّا قَدْ أَبْطَلَ أَجْرَهُ، قَالَ آخَرُ: مَا أَرَى بَأْسًا، فَتَنَازَعُوا فِي ذَلِكَ، حَتَّى سَمِعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «سُبْحَانَ اللهِ، لَا بَأْسَ أَنْ يُؤْجَرَ، وَيُحْمَدَ» ، قَالَ: فَسُرَّ بِذَلِكَ أَبُو الدَّرْدَاءِ، وَجَعَلَ يَقُولُ: أَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: فَجَعَلَ يَقُولُ: نَعَمْ، حَتَّى إِنِّي لَأَقُولُ وَهُوَ يَرْفَعُ إِلَيْهِ رَأْسَهُ: لَيَرْكَبَنَّ عَلَى رُكْبَتَيْهِ
فَمَرَّ بِنَا يَوْمًا آخَرَ، فَسَلَّمَ فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ: كَلِمَةً تَنْفَعُنَا وَلَا تَضُرُّكَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الْمُنْفِقَ عَلَى الْخَيْلِ فِي سَبِيلِ اللهِ كَالْبَاسِطِ يَدَيْهِ بِالصَّدَقَةِ، وَلَا يَقْبِضُهَا»
قَالَ: فَمَرَّ بِنَا يَوْمًا آخَرَ، فَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ أَبُو الدَّرْدَاءِ: كَلِمَةً تَنْفَعُنَا وَلَا تَضُرُّكَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نِعْمَ الرَّجُلُ خُرَيْمٌ الْأَسَدِيُّ، لَوْلَا طُولُ جُمَّتِهِ، وإِسْبَالِ إِزَارِهِ» ، فَبَلَغَ ذَلِكَ خُرَيْمًا، فَأَخَذَ شَفْرَةً، فَقَطَعَ جُمَّتَهُ إِلَى أُذُنَيْهِ، وَرَفَعَ إِزَارَهُ إِلَى أَنْصَافِ سَاقَيْهِ
قَالَ: ثُمَّ مَرَّ بِنَا يَوْمًا آخَرَ، فَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ أَبُو الدَّرْدَاءِ: كَلِمَةً تَنْفَعُنَا وَلَا تَضُرُّكَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّكُمْ قَادِمُونَ غَدًا عَلَى إِخْوَانِكُمْ، فَأَصْلِحُوا حَالَكُمْ، وَأَصْلِحُوا لِبَاسَكُمْ، حَتَّى تَكُونُوا كَالشَّامَةِ فِي النَّاسِ، إِنَّ اللهَ لَا يُحِبُّ الْفُحْشَ وَلَا التَّفَحُّشَ»
ترجمہ

…”اور میں غفاری لڑکا ہوں، آپ کیا سمجھتے ہیں؟“ ایک شخص نے کہا: میرا خیال ہے کہ اس نے اپنا اجر ضائع کر لیا۔ دوسرے نے کہا: مجھے تو اس میں کوئی حرج نظر نہیں آتا۔ چنانچہ ان کے درمیان اس بارے میں اختلاف ہو گیا، یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ نے سن لیا تو فرمایا: ”سبحان اللہ! اس میں کوئی حرج نہیں کہ اسے اجر بھی ملے اور تعریف بھی ہو۔“ راوی کہتے ہیں: اس پر سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ کو بہت خوشی ہوئی اور وہ باربار کہنے لگے: کیا آپ نے یہ خود رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے؟ راوی کہتے ہیں: وہ باربار ”ہاں“ کہتے رہے، یہاں تک کہ میں کہنے لگا کہ وہ اپنے گھٹنوں کے بل بیٹھے جا رہے ہیں۔
پھر دوسرے دن وہ (سہل بن حنظلیہ) ہمارے پاس سے گزرے اور سلام کیا تو سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نے کہا: کوئی ایسی بات بتائیے جو ہمیں فائدہ دے اور آپ کو نقصان نہ دے۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کی راہ میں گھوڑوں پر خرچ کرنے والا اس شخص کی طرح ہے جو صدقہ دیتے ہوئے اپنے دونوں ہاتھ کھلے رکھتا ہے اور انہیں بند نہیں کرتا۔“
راوی کہتے ہیں: پھر دوسرے دن وہ ہمارے پاس سے گزرے اور سلام کیا، تو سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: کوئی ایسی بات بتائیے جو ہمیں فائدہ دے اور آپ کو نقصان نہ دے۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”خریم اسدی کتنا اچھا آدمی ہے، اگر اس کے بالوں کی لمبائی اور تہبند کے لٹکانے کی بات نہ ہوتی۔“ یہ بات خریم تک پہنچی تو انہوں نے استرا لے کر اپنے بال کانوں تک کاٹ لیے، اور اپنا تہبند اپنی پنڈلیوں کے وسط تک اونچا کر لیا۔
راوی کہتے ہیں: پھر ایک دن وہ پھر ہمارے پاس سے گزرے اور سلام کیا، تو سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: کوئی ایسی بات بتائیے جو ہمیں فائدہ دے اور آپ کو نقصان نہ دے۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم کل اپنے (دینی) بھائیوں کے پاس جانے والے ہو، اس لیے اپنی حالت درست کرو اور اپنا لباس درست کرو، یہاں تک کہ تم لوگوں میں (نمایاں) تِل کی طرح ہو جاؤ، بلاشبہ اللہ بےحیائی اور بےحیائی کے اظہار کو پسند نہیں فرماتا۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 5595
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 6، صفحہ 94، حدیث 5616