المعجم الكبير للطبراني
باب السين— حرف سین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
سهل ابن الحنظلية الأنصاري " من بني حارثة يقال: الحنظلية أمه، واسم أبيه: عفيف، كان ينزل الشام بدمشق " باب: سیدنا سہل ابن حنظلیہ انصاری رضی اللہ عنہ (بنو حارثہ سے، کہا جاتا ہے کہ حنظلیہ ان کی والدہ کا نام تھا، اور ان کے والد کا نام عفیف تھا، دمشق شام میں رہتے تھے)
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْبَاقِي الْمِصِّيصِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُصَفًّى، ثنا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ، ثنا ابْنُ جَابِرٍ، حَدَّثَنِي رَبِيعَةُ بْنُ يَزِيدَ، قَالَ: قَدِمَ أَبُو كَبْشَةَ السَّلُولِيُّ دِمَشْقَ، فَسَأَلَهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَامِرٍ الْيَحْصَبِيُّ: مَا الَّذِي أَقْدَمَكَ، لَعَلَّكَ أَرَدْتَ أَنْ تَسْأَلَ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ عَبْدَ الْمَلِكِ بْنِ مَرْوَانَ؟ قَالَ: لَا وَاللهِ، لَا أَسْأَلُ أَحَدًا شَيْئًا بَعْدَ الَّذِي حَدَّثَنِي سَهْلُ ابْنُ الْحَنْظَلِيَّةِ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَاهُ عُيَيْنَةُ بْنُ بَدْرٍ الْفَزَارِيُّ، وَالْأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ التَّمِيمِيُّ، فَسَأَلَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَعَا مُعَاوِيَةَ رَحِمَهُ اللهُ، فَأَمَرَهُ بِشَيْءٍ لَا أَدْرِي مَا هُوَ فَأَقْبَلَ مُعَاوِيَةُ بِصَحِيفَتَيْنِ يَحْمِلُهُمَا، فَأَلْقَى إِحْدَى الصَّحِيفَتَيْنِ إِلَى عُيَيْنَةَ، وَكَانَ أَحْلَمَ الرَّجُلَيْنِ، فَأَخَذَهَا فَرَبَطَهَا فِي عِمَامَتِهِ، وَأَلْقَى الْأُخْرَى إِلَى الْأَقْرَعِ بْنِ حَابِسٍ، قَالَ: مَا فِيهَا؟ قَالَ: فِيهَا الَّذِي أَمَرْتَ بِهِ، قَالَ: بِئْسَ وَافِدُ قَوْمٍ إِنْ أَنَا جِئْتُهُمْ بِصَحِيفَةٍ أَحْمِلُهَا لَا أَدْرِي مَا فِيهَا كَصَحِيفَةِ الْمُتَلَمِّسِ، قَالَ: وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُقْبِلٌ عَلَى رَجُلٍ يُحَدِّثُهُ، فَلَمَّا سَمِعَ مَقَالَتَهُ أَخَذَ الصَّحِيفَةَ فَفَضَّهَا، فَإِذَا بَعِيرٌ مُنَاخٌ، فَقَالَ: «أَيْنَ صَاحِبُ هَذَا الْبَعِيرِ؟» فَابْتُغِيَ فَلَمْ يُوجَدْ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اتَّقُوا اللهَ فِي هَذِهِ الْبَهَائِمِ، كُلُوهَا سِمَانًا، وَارْكَبُوهَا صِحَاحًا» ، ثُمَّ مَضَى، حَتَّى دَخَلَ مَنْزِلَهُ، وَأَنَا مَعَهُ فَطَفِقَ يَقُولُ كَالْمُتَسَخِّطِ: «مَنْ سَأَلَ النَّاسَ عَنْ ظَهْرِ غِنًى، فَإِنَّمَا يَسْتَكْثِرُ مِنْ جَمْرِ جَهَنَّمَ» ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، وَمَا ظَهْرُ الْغِنَى؟ قَالَ: «أَنْ تَعْلَمَ أَنَّ عِنْدَ أَهْلِهِ مَا يُغَدِّيهِمْ أَوْ يُعَشِّيهِمْ»ربیعہ بن یزید کہتے ہیں: ابوکبشہ سلولی دمشق آئے، تو عبداللہ بن عامر یحصبی نے ان سے پوچھا: تمہیں کس چیز نے یہاں لایا؟ شاید تم امیر المؤمنین عبدالملک بن مروان سے کچھ مانگنا چاہتے ہو؟ انہوں نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم! میں کسی سے کچھ نہیں مانگوں گا اس بات کے بعد جو مجھے سیدنا سہل بن حنظلیہ رضی اللہ عنہ نے بتائی۔ انہوں نے کہا: میں رسول اللہ ﷺ کے پاس تھا کہ عیینہ بن بدر فزاری اور اقرع بن حابس تمیمی آئے، اور انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے کچھ مانگا۔ آپ ﷺ نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو بلایا اور انہیں کسی چیز کا حکم دیا، مجھے معلوم نہیں وہ کیا تھا۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ دو خط لے کر آئے، ایک خط عیینہ کی طرف پھینکا — وہ دونوں میں سے زیادہ عقلمند اور بردبار تھا — اس نے وہ خط لے کر اپنی پگڑی میں باندھ لیا۔ دوسرا خط اقرع بن حابس کی طرف پھینکا، اس نے پوچھا: اس میں کیا ہے؟ معاویہ نے کہا: اس میں وہی ہے جس کا آپ ﷺ نے حکم دیا۔ اس نے کہا: میں اپنی قوم کا کیسا بدنصیب وفد ہوں گا اگر میں ان کے پاس ایک ایسا خط اٹھائے ہوئے جاؤں جس میں کیا ہے مجھے معلوم ہی نہیں — جیسے متلمس کا خط! راوی کہتے ہیں: اور رسول اللہ ﷺ ایک آدمی سے بات کرنے میں مصروف تھے، جب آپ ﷺ نے اس کی بات سنی تو خط لے کر اسے کھولا، تو دیکھا کہ ایک اونٹ بیٹھا ہوا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس اونٹ کا مالک کہاں ہے؟“ اسے تلاش کیا گیا مگر نہ ملا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ان جانوروں کے معاملے میں اللہ سے ڈرو، انہیں موٹا تازہ ہونے کی حالت میں کھاؤ، اور تندرست ہونے کی حالت میں سوار ہو۔“ پھر آپ ﷺ آگے بڑھے یہاں تک کہ اپنے گھر میں داخل ہوئے، اور میں آپ ﷺ کے ساتھ تھا، تو آپ ﷺ ناراضگی کے سے انداز میں فرمانے لگے: ”جو شخص خوشحال ہوتے ہوئے لوگوں سے مانگے، وہ گویا جہنم کے انگارے ہی زیادہ جمع کر رہا ہے۔“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! خوشحالی سے کیا مراد ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ کہ تمہیں معلوم ہو کہ اس کے گھر والوں کے پاس اتنا کھانا موجود ہے جو انہیں صبح یا شام کے وقت کھلا دے۔“