المعجم الكبير للطبراني
باب السين— حرف سین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
سهل ابن الحنظلية الأنصاري " من بني حارثة يقال: الحنظلية أمه، واسم أبيه: عفيف، كان ينزل الشام بدمشق " باب: سیدنا سہل ابن حنظلیہ انصاری رضی اللہ عنہ (بنو حارثہ سے، کہا جاتا ہے کہ حنظلیہ ان کی والدہ کا نام تھا، اور ان کے والد کا نام عفیف تھا، دمشق شام میں رہتے تھے)
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ خُلَيْدٍ الْحَلَبِيُّ، ثنا أَبُو تَوْبَةَ الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَامٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ سَلَامٍ، أَنَّهُ: سَمِعَ أَبَا سَلَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو كَبْشَةَ السَّلُولِيُّ، عَنْ سَهْلِ ابْنِ الْحَنْظَلِيَّةِ، أَنَّهُمْ سَارُوا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حُنَيْنٍ، فَأَطْنَبُوا السَّيْرَ حَتَّى كَانَ عَشِيَّةً، وَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَ رَجُلٌ فَارِسٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي انْطَلَقْتُ بَيْنَ أَيْدِيكُمْ حَتَّى طَلَعْتُ جَبَلَ كَذَا وَكَذَا، فَإِذَا أَنَا بِهَوَازِنَ عَلَى بَكْرَةِ أَبِيهِمْ، بِظُعُنِهِمْ وَنَعَمِهِمْ وَشَائِهِمْ، اجْتَمَعُوا إِلَى حُنَيْنٍ، فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " تِلْكَ غَنِيمَةُ الْمُسْلِمِينَ غَدًا إِنْ شَاءَ اللهُ، ثُمَّ قَالَ: «مَنْ يَحْرُسُنَا اللَّيْلَةَ؟» ، فَقَالَ أَنَسُ بْنُ أَبِي مَرْثَدٍ الْغَنَوِيُّ: أَنَا يَا رَسُولَ اللهِ، فَقَالَ: ارْكَبْ، فَرَكِبَ فَرَسًا لَهُ، فَجَاءَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اسْتَقْبِلْ هَذَا الشِّعْبَ حَتَّى تَكُونَ فِي أَعْلَاهُ، وَلَا تُغَرَّنَّ مِنْ قِبَلِكَ اللَّيْلَةَ» ، فَلَمَّا أَصْبَحْنَا خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى مُصَلَّاهُ، فَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ قَالَ: «هَلْ حَسَسْتُمْ فَارِسَكُمْ؟» ، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا حَسَسْنَاهُ، فَثَوَّبَ بِالصَّلَاةِ، فَجَعَلَ رَسُولُ اللهِ وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ يَلْتَفِتُ إِلَى الشِّعْبِ، حَتَّى إِذَا قَضَى صَلَاتَهُ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَبْشِرُوا، فَقَدْ جَاءَ فَارِسُكُمْ» ، فَجَعَلْنَا نَنْظُرُ إِلَى خِلَالِ الشَّجَرِ فِي الشِّعْبِ، فَإِذَا هُوَ قَدْ جَاءَ، حَتَّى وَقَفَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنِّي انْطَلَقْتُ حَتَّى إِذَا كُنْتُ فِي أَعْلَا هَذَا الشِّعْبِ، حَيْثُ أَمَرَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا أَصْبَحْتُ طَلَعْتُ الشِّعْبَيْنِ كِلَيْهِمَا، فَنَظَرْتُ فَلَمْ أَرَ أَحَدًا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نَزَلْتَ اللَّيْلَةَ؟» ، فَقَالَ: لَا، إِلَّا مُصَلِّيًا أَوْ قَاضِيَ حَاجَةٍ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قَدْ أَوْجَبْتَ، فَلَا عَلَيْكَ أَنْ تَعْمَلَ بَعْدَهَا»…اپنی عورتوں، مویشیوں اور بکریوں سمیت حنین کی طرف جمع ہو گئے، تو رسول اللہ ﷺ مسکرائے اور فرمایا: ”ان شاء اللہ کل یہ مسلمانوں کی غنیمت ہوگی۔“ پھر فرمایا: ”آج رات ہماری نگرانی کون کرے گا؟“ سیدنا انس بن ابی مرثد غنوی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں کروں گا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”سوار ہو جاؤ۔“ چنانچہ وہ اپنے گھوڑے پر سوار ہوئے اور رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے، تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”اس گھاٹی کا رخ کرو یہاں تک کہ تم اس کی چوٹی پر پہنچ جاؤ، اور آج رات اپنی طرف سے کوئی دھوکہ نہ کھانا۔“ جب ہم نے صبح کی تو رسول اللہ ﷺ اپنی نمازگاہ کی طرف نکلے اور دو رکعتیں پڑھیں، پھر فرمایا: ”کیا تمہیں اپنے سوار کی کوئی خبر ملی؟“ ایک آدمی نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہمیں اس کی کوئی خبر نہیں ملی۔ پھر نماز کی تکبیر دی گئی، رسول اللہ ﷺ نماز کی حالت میں بھی گھاٹی کی طرف متوجہ ہو کر دیکھتے رہے، یہاں تک کہ جب آپ ﷺ نے نماز مکمل کر کے سلام پھیرا تو فرمایا: ”خوشخبری ہو، تمہارا سوار آ گیا ہے۔“ ہم درختوں کے درمیان سے گھاٹی میں جھانکنے لگے، تو وہ واقعی آ چکے تھے، یہاں تک کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس رک گئے اور عرض کیا: میں چلتا رہا یہاں تک کہ اس گھاٹی کی چوٹی پر پہنچ گیا، جہاں آپ ﷺ نے مجھے حکم دیا تھا، جب صبح ہوئی تو میں دونوں گھاٹیوں پر چڑھا اور دیکھا تو مجھے کوئی نظر نہ آیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کیا رات کو تم اترے؟“ انہوں نے عرض کیا: نہیں، سوائے نماز پڑھنے یا حاجت پوری کرنے کے۔ رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”تم نے (جنت) واجب کر لی، اب اس کے بعد جو بھی عمل کرو تمہیں کوئی نقصان نہیں دے گا۔“