کتب حدیثالمعجم الكبير للطبرانيابوابباب: سیدنا سعد بن معاذ انصاری، پھر اشہلی، رضی اللہ عنہ، بدری اور احدی، کنیت ابوعمرو، غزوہ خندق میں شہید ہوئے
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا، ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ «فِي تَسْمِيَةِ مَنْ شَهِدَ بَدْرًا مِنَ الْأَنْصَارِ، سَعْدُ بْنُ مُعَاذِ بْنِ النُّعْمَانِ بْنِ امْرِئِ الْقَيْسِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ الْأَشْهَلِ»
ترجمہ
عروہ بیان کرتے ہیں کہ بدر میں شریک ہونے والے انصار میں سیدنا سعد بن معاذ بن نعمان بن امرؤ القیس بن زید بن عبدالاشہل رضی اللہ عنہ کا نام شامل ہے۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 5299
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 6، صفحہ 5، حدیث 5318
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ هَارُونَ بْنِ سُلَيْمَانَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْمُسَيِّبِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ فُلَيْحٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ «فِي تَسْمِيَةِ مَنْ شَهِدَ بَدْرًا مِنَ الْأَنْصَارِ مِنَ النَّبِيتِ، ثُمَّ مِنْ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ، سَعْدُ بْنُ مُعَاذِ بْنِ النُّعْمَانِ بْنِ امْرِئِ الْقَيْسِ»
ترجمہ
ابن شہاب بیان کرتے ہیں کہ بدر میں شریک ہونے والے انصار میں، بنو النبیت میں سے، پھر بنو عبدالاشہل میں سے، سیدنا سعد بن معاذ بن نعمان بن امرؤ القیس رضی اللہ عنہ کا نام شامل ہے۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 5300
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 6، صفحہ 5، حدیث 5319
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحِيمِ الْبَرْقِيُّ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ هِشَامٍ السَّدُوسِيُّ، ثنا زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَكَّائِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ «فِي تَسْمِيَةِ مَنْ شَهِدَ بَدْرًا مِنَ الْأَنْصَارِ، ثُمَّ مِنْ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ، سَعْدُ بْنُ مُعَاذِ بْنِ النُّعْمَانِ بْنِ امْرِئِ الْقَيْسِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ الْأَشْهَلِ بْنِ جُشَمَ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَوْفِ بْنِ مَالِكِ بْنِ الْأَوْسِ»
ترجمہ
محمد بن اسحاق بیان کرتے ہیں کہ بدر میں شریک ہونے والے انصار میں، پھر بنو عبدالاشہل میں سے، سیدنا سعد بن معاذ بن نعمان بن امرؤ القیس بن زید بن عبدالاشہل بن جشم بن حارث بن خزرج بن عمرو بن عوف بن مالک بن اوس رضی اللہ عنہ کا نام شامل ہے۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 5301
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 6، صفحہ 5، حدیث 5320
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ أَسَدٍ الْبَجَلِيُّ، ثنا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ، عَنِ الْمَاجِشُونِ، قَالَ: قَالَ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ: " ثَلَاثٌ أَنَا عَمَّا سِوَاهُنَّ ضَعِيفٌ: مَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا إِلَّا عَلِمْتُ أَنَّهُ حَقٌّ، وَلَا صَلَّيْتُ صَلَاةً فَحَدَّثْتُ نَفْسِي بِغَيْرِهَا حَتَّى أنْفَتِلَ عَنْهَا، وَلَا تَبِعْتُ جِنَازَةً فَحَدَّثْتُ نَفْسِي بِغَيْرِ مَا إِيَّاهُ قَائِلَةٌ ومَقُولٌ لَهَا "
ترجمہ
ماجشون بیان کرتے ہیں کہ سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تین باتوں کے سوا میں (ہر معاملے میں) کمزور ہوں: میں نے رسول اللہ ﷺ سے کوئی بات نہیں سنی مگر مجھے یقین ہو گیا کہ وہ حق ہے، اور میں نے کبھی کوئی نماز اس طرح نہیں پڑھی کہ میں نے اس سے ہٹ کر کوئی اور خیال دل میں لایا ہو یہاں تک کہ اس سے فارغ ہو جاؤں، اور میں نے کبھی کسی جنازے کے پیچھے چلتے ہوئے اس کے سوا کچھ اور خیال دل میں نہیں لایا جو میت کہتی ہے اور جو اس سے کہا جاتا ہے۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 5302
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 6، صفحہ 5، حدیث 5321
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا لَيْثُ بْنُ هَارُونَ الْعُكْلِيُّ، ثنا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُبَيْدَةَ، حَدَّثَنِي، مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، أَنَّ سَعْدَ بْنَ مُعَاذٍ قَالَ: " ثَلَاثُ خِصَالٍ فِيَّ: مَا حَدَّثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحَدِيثٍ إِلَّا صَدَّقْتُهُ وَعَلِمْتُ أَنَّهُ حَقٌّ، وَمَا حَضَرْتُ مَيِّتًا إِلَّا حَضَّرْتُ نَفْسِي بِمَا يَقُولُ وَمَا يُقَالُ لَهُ، وَلَا صَلَّيْتُ صَلَاةً فَحَدَّثْتُ نَفْسِي بِغَيْرِهَا حَتَّى أَقْضِيَ صَلَاتِي "
ترجمہ
ابوسلمہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مجھ میں تین خصلتیں ہیں: رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے جو بھی بات فرمائی میں نے اس کی تصدیق کی اور جانا کہ وہ حق ہے، اور میں کسی میت کے پاس حاضر نہیں ہوا مگر میں نے اپنے دل کو اس کے متعلق سوچنے میں لگایا کہ وہ کیا کہتی ہے اور اس سے کیا کہا جاتا ہے، اور میں نے کبھی کوئی نماز اس طرح نہیں پڑھی کہ اس کے سوا کوئی اور خیال دل میں لایا ہو یہاں تک کہ اپنی نماز مکمل کر لوں۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 5303
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 6، صفحہ 5، حدیث 5322
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْقَزَّازُ، ثنا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الْحَوْضِيُّ، قَالَا: ثنا شُعْبَةُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ، عَنْ سَعْدٍ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ إِلَى سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ فِي أَمْرِ بَنِي قُرَيْظَةَ، فَجَاءَ سَعْدٌ عَلَى حِمَارٍ قَدْ كَادَتْ رِجْلَاهُ تَبْلُغانِ الْأَرْضَ، فَلَمَّا رَآهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِأَصْحَابِهِ: «قُومُوا إِلَى سَيِّدِكُمْ» ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ هَؤُلَاءِ قَدْ رَضُوا بِحُكْمِكَ، فَاحْكُمْ فِيهِمْ» ، قَالَ: أَحْكُمُ فِيهِمْ أَنْ تُقْتَلَ مُقَاتِلَتُهُمْ، وَأَنْ تُسْبَى ذَرَارِيُّهُمْ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَقَدْ حَكَمْتَ بِحُكْمِ اللهِ وَحُكْمِ الْمَلِكِ»
ترجمہ
…نبی کریم ﷺ نے بنو قریظہ کے معاملے میں سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو بلوایا، تو سعد رضی اللہ عنہ ایک گدھے پر سوار آئے جس پر ان کے پاؤں زمین کو چھونے کے قریب تھے۔ جب نبی کریم ﷺ نے انہیں دیکھا تو اپنے صحابہ سے فرمایا: ”اپنے سردار کے احترام میں کھڑے ہو جاؤ۔“ پھر نبی کریم ﷺ نے ان سے فرمایا: ”یہ لوگ تمہارے فیصلے پر راضی ہو گئے ہیں، تم ان کے بارے میں فیصلہ کرو۔“ انہوں نے کہا: میں ان کے بارے میں یہ فیصلہ کرتا ہوں کہ ان کے لڑنے والوں کو قتل کیا جائے اور ان کی اولاد کو قیدی بنا لیا جائے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”تم نے اللہ اور بادشاہ (اللہ) کے فیصلے کے مطابق فیصلہ کیا ہے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 5304
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 6، صفحہ 6، حدیث 5323
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمُعَلَّى الدِّمَشْقِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا صَدَقَةُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ: " كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَذَا سَيِّدُكُمْ»
ترجمہ
…(راوی کے دادا) کہتے ہیں: ہم نبی کریم ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ آئے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”یہ تمہارا سردار ہے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 5305
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 6، صفحہ 6، حدیث 5324
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَأَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، قَالَا: ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ: " أَنَّ سَعْدَ بْنَ مُعَاذٍ رُمِيَ فِي أَكْحَلِهِ يَوْمَ الْخَنْدَقِ، فَضَرَبَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خِبَاءً فِي الْمَسْجِدِ لِيَعُودَهُ قَرِيبًا، فَبَرَأَ حَتَّى تَحَجَّرَ كَلْمُهُ لِلْبُرْءِ، فَقَالَ: اللهُمَّ إِنَّكَ تَعْلَمُ أَنَّ أَحَبَّ النَّاسِ كَانَ إِلَيَّ قِتَالًا لَقَوْمٌ كَذَّبُوا نَبِيَّكَ، وَأَخْرَجُوهُ، وَقَاتَلُوهُ، وَفَعَلُوا، وَإِنِّي أَظُنُّ أَنَّكَ قَدْ وَضَعْتَ الْحَرْبَ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ، اللهُمَّ إِنْ كُنْتَ أَبْقَيْتَ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ قِتَالًا فَابْقِنِي لِقِتَالِهِمْ، فَبَيْنَمَا هُوَ ذَاتَ لَيْلَةٍ إِذْ تَفَجَّرَ كَلْمُهُ فَسَالَ الدَّمُ مِنْ جُرْحِهِ، حَتَّى دَخَلَ خِبَاءً إِلَى جَنْبِهِ، فَقَالَ الْهنه أَهْلَ الْخِبَاءِ: يَا أَهْلَ الْخِبَاءِ، مَا هَذَا الَّذِي يَأْتِينَا مِنْ قِبَلِكُمْ، فَنَظَرُوا فَإِذَا سَعْدٌ قَدِ انْفَجَرَ كَلْمُهُ وَالدَّمُ لَهُ هَدِيْرٌ، فَمَاتَ "
ترجمہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو خندق کے دن ان کی کلائی کی رگ (اکحل) میں تیر لگا، تو رسول اللہ ﷺ نے ان کی تیمارداری کے لیے قریب ہی مسجد میں ایک خیمہ لگوا دیا۔ وہ ٹھیک ہونے لگے یہاں تک کہ ان کا زخم بھرنے کے قریب ہو گیا۔ اس پر انہوں نے دعا کی: اے اللہ! تجھے معلوم ہے کہ مجھے لڑنے کے لیے کسی بھی قوم سے زیادہ محبوب وہ قوم تھی جس نے تیرے نبی کو جھٹلایا، انہیں نکالا اور ان سے جنگ کی اور جو کچھ کیا۔ اور مجھے گمان ہے کہ تو نے ہمارے اور ان کے درمیان جنگ ختم کر دی ہے۔ اے اللہ! اگر تو نے ہمارے اور ان کے درمیان کوئی جنگ باقی رکھی ہے تو مجھے ان سے لڑنے کے لیے زندہ رکھ، اور اگر تو نے ہمارے اور ان کے درمیان جنگ ختم کر دی ہے تو یہ زخم پھر سے کھول دے اور اسی میں میری موت کر دے۔ پھر ایک رات اچانک ان کا زخم پھٹ گیا اور خون بہنے لگا، یہاں تک کہ وہ ان کے پہلو کے خیمے میں داخل ہو گیا۔ خیمے والوں میں سے کسی نے پوچھا: اے خیمے والو! یہ کیا چیز ہماری طرف آ رہی ہے؟ تو انہوں نے دیکھا کہ سعد رضی اللہ عنہ کا زخم پھٹ گیا ہے اور خون کا ریلا بہہ رہا ہے، پھر وہ وفات پا گئے۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 5306
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 6، صفحہ 6، حدیث 5325
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ الرَّازِيُّ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ عِيسَى بْنِ مَيْسَرَةَ الرَّازِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْعَامِرِيُّ، ثنا عَبْدُ الْكَرِيمِ أَبُو أُمَيَّةَ، عَنِ الْحَسَنِ، وَعَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: " رُمِيَ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَوْمَ قُرَيْظَةَ وَالنَّضِيرِ، فَقُطِعَ أَكْحَلُهُ، فَحَسَمَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَعَفَّرَ وانْتَفَضَ، فَحَسَمَهُ الثَّانِيَةَ، فَقَالَ سَعْدٌ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: اللهُمَّ لَا تَنْزِعْ نَفْسِي حَتَّى تُقِرَّ عَيْنِي مِنْ قُرَيْظَةَ، وَالنَّضِيرِ "
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو بنو قریظہ اور بنو نضیر کے دن تیر لگا اور ان کی کلائی کی رگ (اکحل) کٹ گئی، تو رسول اللہ ﷺ نے اسے داغ دیا۔ اس پر وہ بے چین ہوئے اور تڑپے، تو آپ ﷺ نے اسے دوبارہ داغ دیا۔ اس پر سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ! میری جان اس وقت تک نہ نکال جب تک تو بنو قریظہ اور بنو نضیر کے معاملے میں میری آنکھیں ٹھنڈی نہ کر دے۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 5307
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 6، صفحہ 7، حدیث 5326
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ أَنَّ سَعْدَ بْنَ مُعَاذٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ رُمِيَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ رَمْيَةً، فَقَطَعَتِ الْأَكْحَلَ مِنْ عَضُدِهِ، فَزَعَمُوا أَنَّهُ رَمَاهُ حِبَّانُ بْنُ قَيْسٍ، أَحَدُ بَنِي عَامِرِ بْنِ لُؤَيٍّ، ثُمَّ أَخُو بَنِي الْعَرِقَةِ، وَيَقُولُ آخَرُونَ: رَمَاهُ أَبُو أُسَامَةَ الْجُشَمِيُّ. فَقَالَ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: رَبِّ اشْفِنِي مِنْ بَنِي قُرَيْظَةَ قَبْلَ الْمَمَاتِ "، فَرَقَأَ الْكَلْمُ بَعْدَمَا قَدِ انْفَجَرَ. قَالَ: وَأَقَامَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى بَنِي قُرَيْظَةَ حَتَّى سَأَلُوهُ أَنْ يَجْعَلَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُمْ حَكَمًا يَنْزِلُونَ عَلَى حُكْمِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اخْتَارُوا مِنْ أَصْحَابِي مِنْ أَرَدْتُمْ، فَلْنَسْتَمِعْ لِقَوْلِهِ» ، فَاخْتَارُوا سَعْدَ بْنَ مُعَاذٍ، فَرَضِيَ بِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَسَلَّمُوا، وَأَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأسْلِحَتِهِمْ، فَجُعِلَتْ فِي بَيْتٍ، وَأَمَرَ بِهِمْ فَكُتِّفُوا، وَأُوثِقُوا، فَجُعِلُوا فِي دَارِ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، وَبَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ، فَأَقْبَلَ عَلَى حِمَارِ أَعْرَابِيٍّ، يَزْعُمُونَ أَنَّ وَطْأَةَ بَرْذَعِهِ مِنْ لِيفٍ، وَاتَّبَعَهُ رَجُلٌ مِنْ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ، فَجَعَلَ يَمْشِي مَعَهُ يُعَظِّمُ حَقَّ بَنِي قُرَيْظَةَ، وَيَذْكُرُ حِلْفَهُمْ وَالَّذِي أَبْلَوْهُمْ يَوْمَ بُعَاثٍ، وَأَنَّهُمُ اخْتَارُوكَ عَلَى مَنْ سِوَاكَ رَجَاءَ عَطْفِكَ، وتَحَنُّنِكَ عَلَيْهِمْ، فاسْتَبْقِهِمْ، فَإِنَّهُمْ لَكَ جَمَالٌ وَعَدَدٌ، قَالَ: فَأَكْثَرَ ذَلِكَ الرَّجُلُ، وَلَمْ يَحِرْ إِلَيْهِ سَعْدٌ شَيْئًا، حَتَّى دَنَوْا، فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ: أَلَا تُرْجِعُ إِلَيَّ شَيْئًا، فَقَالَ سَعْدٌ: وَاللهِ لَا أُبَالِي فِي اللهِ لَوْمَةَ لَائِمٍ، فَفَارَقَهُ الرَّجُلُ، فَأَتَى إِلَى قَوْمِهِ، قَدْ يَئِسَ مِنْ أَنْ يَسْتَبْقِيَهُمْ، وَأَخْبَرَهُمْ بِالَّذِي كَلَّمَهُ بِهِ، وَالَّذِي رَجَعَ إِلَيْهِ، ونَفَذَ سَعْدٌ، حَتَّى أَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «يَا سَعْدُ، احْكُمْ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ» ، فَقَالَ سَعْدٌ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: أَحْكُمُ فِيهِمْ بِأَنْ تُقْتَلَ مُقَاتِلَتُهُمْ، ويُغْتَنَمَ سَبْيُهُمْ، وَتُؤْخَذَ أَمْوَالُهُمْ، وَتُسْبَى ذَرَارِيِّهُمْ وَنِسَاؤُهُمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «حَكَمَ فِيهِمْ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ بِحُكْمِ اللهِ» ، وَيَزْعُمُ نَاسٌ أَنَّهُمْ نَزَلُوا عَلَى حُكْمِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَدَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحُكْمَ فِيهِمْ إِلَى سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ، فَأُخْرِجُوا رَسْلًا رَسْلًا، فَضُرِبَتْ أَعْنَاقُهُمْ، وَأُخْرِجَ حُيَيُّ بْنُ أَخْطَبَ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَلْ أَخْزَاكَ اللهُ» ، فَقَالَ: قَدْ ظَهَرْتَ عَلَيَّ، وَمَا أَلُومُ نَفْسِي فِيكَ، فَأَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأُخْرِجَ إِلَى أَحْجَارِ الزَّيْتِ الَّتِي بِالسُّوقِ، فَضُرِبَتْ عُنُقُهُ، كُلُّ ذَلِكَ بِعَيْنِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ، وَزَعَمُوا أَنَّهُ كَانَ بَرِئَ كَلْمُ سَعْدٍ، وَتَحَجَّرَ بِالْبُرْءِ، ثُمَّ إِنَّهُ دَعَا فَقَالَ: اللهُمَّ رَبَّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ، فَإِنَّهُ لَمْ يَكُنْ فِي الْأَرْضِ قَوْمٌ أَبْغَضُ إِلَيَّ مِنْ قَوْمٍ كَذَّبُوا رَسُولَكَ، وَأَخْرَجُوهُ، وَإِنِّي أَظُنُّ أَنْ قَدْ وَضَعْتَ الْحَرْبَ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ، فَإِنْ كَانَ بَقِيَ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ قِتَالٌ، فَابْقِنِي أُقَاتِلْهُمْ فِيكَ، وَإِنْ كُنْتَ قَدْ وَضَعْتَ الْحَرْبَ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ، فافْجُرْ هَذَا الْمَكَانَ، وَاجْعَلْ مَوْتِي فِيهِ، فَفَجَرَهُ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى، وَإِنَّهُ لَرَاقِدٌ بَيْنَ ظَهْرَيِ اللَّيْلِ، فَمَا دَرَوْا بِهِ حَتَّى مَاتَ، وَمَا رَقَأَ الْكَلْمُ حَتَّى مَاتَ رَحِمَهُ اللهُ
ترجمہ
…(زخم پھٹنے کے بعد کا ذکر جاری ہے) راوی کہتے ہیں: نبی کریم ﷺ بنو قریظہ پر ٹھہرے رہے یہاں تک کہ انہوں نے آپ ﷺ سے درخواست کی کہ آپ ﷺ ان کے اور اپنے درمیان کوئی ثالث مقرر فرما دیں جس کے فیصلے پر وہ اتریں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میرے صحابہ میں سے جسے چاہو منتخب کر لو، ہم اس کی بات سنیں گے۔“ چنانچہ انہوں نے سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو منتخب کیا، تو رسول اللہ ﷺ نے اس پر رضامندی ظاہر فرمائی، اور وہ ہتھیار ڈال کر نیچے اتر آئے۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کے ہتھیاروں کو ایک گھر میں جمع کرنے کا حکم دیا، اور انہیں باندھنے کا حکم دیا، چنانچہ انہیں رسیوں سے باندھ کر اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کے گھر میں رکھ دیا گیا۔ رسول اللہ ﷺ نے سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو بلوایا تو وہ ایک دیہاتی کے گدھے پر سوار آئے — کہتے ہیں کہ اس کی زین کھجور کی چھال سے بنی ہوئی تھی۔ ان کے ساتھ بنو عبدالاشہل کا ایک آدمی بھی چل رہا تھا، وہ ان کے ساتھ چلتے ہوئے بنو قریظہ کا حق جتانے لگا اور ان کے حلف اور یومِ بُعاث میں ان کے کارناموں کا ذکر کرنے لگا، اور کہنے لگا کہ انہوں نے آپ کے سوا کسی اور کو نہیں چنا، اس امید پر کہ آپ ان پر مہربانی اور نرمی فرمائیں گے، لہٰذا انہیں چھوڑ دیجیے، کیونکہ وہ آپ کے لیے زینت اور تعداد میں اضافہ ہیں۔ راوی کہتے ہیں: وہ آدمی بہت اصرار کرتا رہا، لیکن سعد رضی اللہ عنہ نے اسے کوئی جواب نہ دیا، یہاں تک کہ وہ قریب پہنچ گئے۔ اس آدمی نے کہا: کیا آپ مجھے کوئی جواب نہیں دیں گے؟ سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! میں اللہ کے معاملے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پروا نہیں کرتا۔ اس پر وہ آدمی ان سے الگ ہو کر اپنی قوم کے پاس گیا، وہ اس بات سے مایوس ہو چکا تھا کہ سعد انہیں چھوڑ دیں گے، اور اس نے انہیں بتایا کہ اس نے سعد سے کیا کہا اور اس کا کیا جواب ملا۔ پھر سعد رضی اللہ عنہ آگے بڑھے یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس پہنچے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے سعد! ہمارے اور ان کے درمیان فیصلہ کرو۔“ سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: میں ان کے بارے میں یہ فیصلہ کرتا ہوں کہ ان کے لڑنے والوں کو قتل کیا جائے، ان کے قیدیوں کو مالِ غنیمت بنایا جائے، ان کے اموال لیے جائیں، اور ان کی اولاد اور عورتوں کو قیدی بنایا جائے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”سعد بن معاذ نے ان کے بارے میں اللہ کے حکم کے مطابق فیصلہ کیا ہے۔“ اور کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے فیصلے پر اترے تھے اور آپ ﷺ نے ان کے بارے میں فیصلہ سعد بن معاذ کے سپرد کر دیا تھا۔ چنانچہ انہیں ایک ایک گروہ کر کے نکالا گیا اور ان کی گردنیں اڑا دی گئیں۔ حیی بن اخطب کو بھی نکالا گیا تو رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا: ”کیا اللہ نے تجھے رسوا نہیں کیا؟“ اس نے کہا: آپ مجھ پر غالب آ گئے ہیں، اور میں اس بارے میں اپنے آپ کو ملامت نہیں کرتا۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ کے حکم سے اسے بازار میں احجار الزیت کے مقام پر لے جایا گیا اور اس کی گردن اڑا دی گئی۔ یہ سب کچھ سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کی موجودگی میں ہوا۔ کہا جاتا ہے کہ سعد رضی اللہ عنہ کا زخم اس وقت تک ٹھیک ہو چکا تھا اور بھرنے کے قریب تھا، پھر انہوں نے دعا کی: اے اللہ! اے آسمانوں اور زمین کے رب! زمین پر مجھے اس قوم سے زیادہ ناپسندیدہ کوئی قوم نہیں جس نے تیرے رسول کو جھٹلایا اور انہیں نکالا۔ اور مجھے گمان ہے کہ تو نے ہمارے اور ان کے درمیان جنگ ختم کر دی ہے۔ اگر ہمارے اور ان کے درمیان کوئی جنگ باقی ہے تو مجھے زندہ رکھ تاکہ میں تیری راہ میں ان سے لڑوں، اور اگر تو نے ہمارے اور ان کے درمیان جنگ ختم کر دی ہے تو اس زخم کی جگہ کو پھر سے کھول دے اور اسی میں میری موت کر دے۔ چنانچہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اسے کھول دیا، اور وہ رات کے دوران آرام کر رہے تھے کہ انہیں معلوم ہی نہ ہوا یہاں تک کہ وہ وفات پا گئے، اور زخم بند نہ ہوا یہاں تک کہ وہ وفات پا گئے، اللہ ان پر رحم فرمائے۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 5308
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 6، صفحہ 7، حدیث 5327
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَتْوَيْهِ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ أَبِي مُسْلِمٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: جَعَلَتْ أُمُّ سَعْدٍ تَقُولُ:
[البحر الرجز]
وَيْلُ أُمِّكَ سَعْدًا ... حَزامَةً وَجِدًا
، فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَزِيدِينَ عَلَى هَذَا، وَكَانَ وَاللهِ مَا عَلِمْتُ حازِمًا فِي أَمْرِهِ، قَوِيًّا فِي أَمْرِ اللهِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: سعد رضی اللہ عنہ کی والدہ کہنے لگیں: ”ہائے سعد پر افسوس، وہ کیسا سمجھدار اور محنتی تھا۔“ نبی کریم ﷺ نے ان سے فرمایا: ”اس سے زیادہ کچھ مت کہو، اللہ کی قسم! جہاں تک میں جانتا ہوں، وہ اپنے معاملے میں سمجھدار اور اللہ کے معاملے میں مضبوط تھا۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 5309
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 6، صفحہ 9، حدیث 5328
حَدَّثَنَا أَبُو شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ النُّفَيْلِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، قَالَتْ أُمُّ سَعْدٍ حِينَ احْتُمِلَ نَعْشُهُ وَهِيَ تَبْكِيهِ:
[البحر الرجز]
وَيْلُ أُمِّ سَعْدٍ سَعْدًا
حَزامَةً وَجِدًا
وسَيِّدًا سُدَّ بِهِ مَسَدًّا
، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كُلُّ بَاكِيَةٍ تَكْذِبُ إِلَّا بَاكِيَةُ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ»
ترجمہ
…سعد رضی اللہ عنہ کی والدہ نے، جب ان کا جنازہ اٹھایا گیا اور وہ روتے ہوئے یہ کہہ رہی تھیں: ”ہائے سعد کی ماں پر افسوس، وہ کیسا سمجھدار، محنتی اور ایسا سردار تھا جس نے قوم کی کمی پوری کر دی۔“ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ہر رونے والی جھوٹ بولتی ہے سوائے سعد بن معاذ پر رونے والی کے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 5310
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 6، صفحہ 9، حدیث 5329
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَأَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، قَالَا: ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: لَمَّا مَاتَ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ، بَكَى أَبُو بَكْرٍ، وَبَكَى عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، حَتَّى عُرِفَ بُكَاءُ أَبِي بَكْرٍ مِنْ بُكَاءِ عُمَرَ، وَبُكَاءُ عُمَرَ مِنْ بُكَاءِ أَبِي بَكْرٍ، فَقُلْتُ لِعَائِشَةَ: هَلْ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْكِي؟ قَالَتْ: «لَا، لَكِنَّهُ كَانَ يَقْبِضُ عَلَى لِحْيَتِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»
ترجمہ
…عمر رضی اللہ عنہ رونے لگے، یہاں تک کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کا رونا عمر رضی اللہ عنہ کے رونے سے، اور عمر رضی اللہ عنہ کا رونا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے رونے سے پہچانا جانے لگا۔ راوی کہتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: کیا رسول اللہ ﷺ بھی روئے تھے؟ انہوں نے فرمایا: ”نہیں، لیکن آپ ﷺ اپنی ڈاڑھی مبارک کو پکڑے ہوئے تھے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 5311
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 6، صفحہ 9، حدیث 5330
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا، مُؤَمَّلُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الثَّقَفِيُّ، ثنا سَهْلٌ أَبُو حَرِيزٍ مَوْلَى الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «انْصَرَفَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ جِنَازَةِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ، وَدُمُوعُهُ تَحَادَرُ عَلَى لِحْيَتِهِ، وَيَدُهُ فِي لِحْيَتِهِ»
ترجمہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے جنازے سے واپس لوٹے تو آپ ﷺ کے آنسو آپ ﷺ کی ڈاڑھی مبارک پر ٹپک رہے تھے اور آپ ﷺ کا ہاتھ اپنی ڈاڑھی پر تھا۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 5312
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 6، صفحہ 9، حدیث 5331