المعجم الكبير للطبراني
باب السين— حرف سین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
سعد بن معاذ الأنصاري ثم الأشهلي " بدري أحدي، يكنى أبا عمرو استشهد يوم الخندق " باب: سیدنا سعد بن معاذ انصاری، پھر اشہلی، رضی اللہ عنہ، بدری اور احدی، کنیت ابوعمرو، غزوہ خندق میں شہید ہوئے
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَأَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، قَالَا: ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ: " أَنَّ سَعْدَ بْنَ مُعَاذٍ رُمِيَ فِي أَكْحَلِهِ يَوْمَ الْخَنْدَقِ، فَضَرَبَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خِبَاءً فِي الْمَسْجِدِ لِيَعُودَهُ قَرِيبًا، فَبَرَأَ حَتَّى تَحَجَّرَ كَلْمُهُ لِلْبُرْءِ، فَقَالَ: اللهُمَّ إِنَّكَ تَعْلَمُ أَنَّ أَحَبَّ النَّاسِ كَانَ إِلَيَّ قِتَالًا لَقَوْمٌ كَذَّبُوا نَبِيَّكَ، وَأَخْرَجُوهُ، وَقَاتَلُوهُ، وَفَعَلُوا، وَإِنِّي أَظُنُّ أَنَّكَ قَدْ وَضَعْتَ الْحَرْبَ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ، اللهُمَّ إِنْ كُنْتَ أَبْقَيْتَ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ قِتَالًا فَابْقِنِي لِقِتَالِهِمْ، فَبَيْنَمَا هُوَ ذَاتَ لَيْلَةٍ إِذْ تَفَجَّرَ كَلْمُهُ فَسَالَ الدَّمُ مِنْ جُرْحِهِ، حَتَّى دَخَلَ خِبَاءً إِلَى جَنْبِهِ، فَقَالَ الْهنه أَهْلَ الْخِبَاءِ: يَا أَهْلَ الْخِبَاءِ، مَا هَذَا الَّذِي يَأْتِينَا مِنْ قِبَلِكُمْ، فَنَظَرُوا فَإِذَا سَعْدٌ قَدِ انْفَجَرَ كَلْمُهُ وَالدَّمُ لَهُ هَدِيْرٌ، فَمَاتَ "سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو خندق کے دن ان کی کلائی کی رگ (اکحل) میں تیر لگا، تو رسول اللہ ﷺ نے ان کی تیمارداری کے لیے قریب ہی مسجد میں ایک خیمہ لگوا دیا۔ وہ ٹھیک ہونے لگے یہاں تک کہ ان کا زخم بھرنے کے قریب ہو گیا۔ اس پر انہوں نے دعا کی: اے اللہ! تجھے معلوم ہے کہ مجھے لڑنے کے لیے کسی بھی قوم سے زیادہ محبوب وہ قوم تھی جس نے تیرے نبی کو جھٹلایا، انہیں نکالا اور ان سے جنگ کی اور جو کچھ کیا۔ اور مجھے گمان ہے کہ تو نے ہمارے اور ان کے درمیان جنگ ختم کر دی ہے۔ اے اللہ! اگر تو نے ہمارے اور ان کے درمیان کوئی جنگ باقی رکھی ہے تو مجھے ان سے لڑنے کے لیے زندہ رکھ، اور اگر تو نے ہمارے اور ان کے درمیان جنگ ختم کر دی ہے تو یہ زخم پھر سے کھول دے اور اسی میں میری موت کر دے۔
پھر ایک رات اچانک ان کا زخم پھٹ گیا اور خون بہنے لگا، یہاں تک کہ وہ ان کے پہلو کے خیمے میں داخل ہو گیا۔ خیمے والوں میں سے کسی نے پوچھا: اے خیمے والو! یہ کیا چیز ہماری طرف آ رہی ہے؟ تو انہوں نے دیکھا کہ سعد رضی اللہ عنہ کا زخم پھٹ گیا ہے اور خون کا ریلا بہہ رہا ہے، پھر وہ وفات پا گئے۔