المعجم الكبير للطبراني
باب السين— حرف سین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
سعد بن معاذ الأنصاري ثم الأشهلي " بدري أحدي، يكنى أبا عمرو استشهد يوم الخندق " باب: سیدنا سعد بن معاذ انصاری، پھر اشہلی، رضی اللہ عنہ، بدری اور احدی، کنیت ابوعمرو، غزوہ خندق میں شہید ہوئے
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْقَزَّازُ، ثنا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الْحَوْضِيُّ، قَالَا: ثنا شُعْبَةُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ، عَنْ سَعْدٍ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ إِلَى سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ فِي أَمْرِ بَنِي قُرَيْظَةَ، فَجَاءَ سَعْدٌ عَلَى حِمَارٍ قَدْ كَادَتْ رِجْلَاهُ تَبْلُغانِ الْأَرْضَ، فَلَمَّا رَآهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِأَصْحَابِهِ: «قُومُوا إِلَى سَيِّدِكُمْ» ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ هَؤُلَاءِ قَدْ رَضُوا بِحُكْمِكَ، فَاحْكُمْ فِيهِمْ» ، قَالَ: أَحْكُمُ فِيهِمْ أَنْ تُقْتَلَ مُقَاتِلَتُهُمْ، وَأَنْ تُسْبَى ذَرَارِيُّهُمْ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَقَدْ حَكَمْتَ بِحُكْمِ اللهِ وَحُكْمِ الْمَلِكِ»…نبی کریم ﷺ نے بنو قریظہ کے معاملے میں سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو بلوایا، تو سعد رضی اللہ عنہ ایک گدھے پر سوار آئے جس پر ان کے پاؤں زمین کو چھونے کے قریب تھے۔ جب نبی کریم ﷺ نے انہیں دیکھا تو اپنے صحابہ سے فرمایا: ”اپنے سردار کے احترام میں کھڑے ہو جاؤ۔“ پھر نبی کریم ﷺ نے ان سے فرمایا: ”یہ لوگ تمہارے فیصلے پر راضی ہو گئے ہیں، تم ان کے بارے میں فیصلہ کرو۔“ انہوں نے کہا: میں ان کے بارے میں یہ فیصلہ کرتا ہوں کہ ان کے لڑنے والوں کو قتل کیا جائے اور ان کی اولاد کو قیدی بنا لیا جائے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”تم نے اللہ اور بادشاہ (اللہ) کے فیصلے کے مطابق فیصلہ کیا ہے۔“