حدیث نمبر: 5309
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَتْوَيْهِ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ أَبِي مُسْلِمٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: جَعَلَتْ أُمُّ سَعْدٍ تَقُولُ:
[البحر الرجز]
وَيْلُ أُمِّكَ سَعْدًا ... حَزامَةً وَجِدًا
، فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَزِيدِينَ عَلَى هَذَا، وَكَانَ وَاللهِ مَا عَلِمْتُ حازِمًا فِي أَمْرِهِ، قَوِيًّا فِي أَمْرِ اللهِ»
ترجمہ

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: سعد رضی اللہ عنہ کی والدہ کہنے لگیں: ”ہائے سعد پر افسوس، وہ کیسا سمجھدار اور محنتی تھا۔“ نبی کریم ﷺ نے ان سے فرمایا: ”اس سے زیادہ کچھ مت کہو، اللہ کی قسم! جہاں تک میں جانتا ہوں، وہ اپنے معاملے میں سمجھدار اور اللہ کے معاملے میں مضبوط تھا۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 5309
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 6، صفحہ 9، حدیث 5328