کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: سیدنا خریم بن فاتک اسدی رضی اللہ عنہ، کنیت ابوعبداللہ تھی
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو غَسَّانَ مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ النَّهْدِيُّ، ثنا مَسْلَمَةُ بْنُ إِسْحَاقَ، قَالَ: سَمِعْتُ الرُّكَيْنَ أَبَا الرَّبِيعِ الْفَزَارِيَّ، حَدَّثَنِي عَمِّي، عَنْ أَبِي عَبْدِ خُرَيْمِ بْنِ فَاتِكٍ الْأَسَدِيِّ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " النَّاسُ أَرْبَعَةٌ، وَالْأَعْمَالُ سِتَّةٌ، فَالْأَعْمَالُ: مُوجِبَتَانِ وَمِثْلٌ بِمِثْلٍ وَعَشْرَةُ أَضْعَافٍ وَسَبْعُمِائَةِ ضِعْفٍ، مُوجِبَتَانِ مَنْ مَاتَ مُسْلِمًا وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ، وَمَنْ مَاتَ كَافِرًا وَجَبَتْ لَهُ النَّارُ، وَمِثْلٌ بِمِثْلٍ الْعَبْدُ يَهُمُّ بِالْحَسَنَةِ فَيُكْتَبُ لَهُ حَسَنَةٌ، ويَهُمُّ بِالسَّيِّئَةِ فَلَا يُجْزَى إِلَّا بِمِثْلِهَا وَالْعَبْدُ يَعْمَلُ الْحَسَنَةَ فَيُكْتَبُ لَهُ عَشْرًا، وَالْعَبْدُ يُنْفِقُ النَّفَقَةَ فِي سَبِيلِ اللهِ فَيُضَاعَفُ لَهُ سَبْعُمِائَةِ ضِعْفٍ، وَالنَّاسُ أَرْبَعَةٌ فَمُوَسَّعٌ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا مُوَسَّعٌ عَلَيْهِ فِي الْآخِرَةِ، وَمَقْتُورٌ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا مُوَسَّعٌ عَلَيْهِ فِي الْآخِرَةِ، وَمُوَسَّعٌ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا مَقْتُورٌ عَلَيْهِ فِي الْآخِرَةِ وَشَقِيٌّ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ "
ترجمہ
سیدنا خریم بن فاتک اسدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”لوگ چار قسم کے ہیں، اور اعمال چھ قسم کے: دو واجب کرنے والے، ایک برابر کے بدلے میں، ایک دس گنا، اور ایک سات سو گنا۔ دو واجب کرنے والے اعمال یہ ہیں: جو مسلمان مر جائے اس کے لیے جنت واجب ہو گئی، اور جو کافر مر جائے اس کے لیے جہنم واجب ہو گئی۔ برابر کے بدلے میں یہ ہے کہ بندہ نیکی کا ارادہ کرے تو اس کے لیے ایک نیکی لکھی جاتی ہے، اور برائی کا ارادہ کرے تو صرف اسی کے برابر سزا دی جاتی ہے۔ بندہ نیکی کرے تو اس کے لیے دس گنا لکھی جاتی ہے، اور بندہ اللہ کی راہ میں خرچ کرے تو اسے سات سو گنا بڑھا دیا جاتا ہے۔ اور لوگ چار قسم کے ہیں: ایک وہ جس پر دنیا میں کشادگی ہو اور آخرت میں بھی کشادگی ہو، دوسرا وہ جس پر دنیا میں تنگی ہو اور آخرت میں کشادگی ہو، تیسرا وہ جس پر دنیا میں کشادگی ہو اور آخرت میں تنگی ہو، اور چوتھا وہ جو دنیا اور آخرت دونوں میں بدبخت ہو۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ الرَّازِيُّ، ثنا مِهْرَانُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ بَشِيرِ بْنِ سَلْمَانَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ الْمُلَائِيِّ، عَنِ الرُّكَيْنِ بْنِ الرَّبِيعِ، عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ عَمِيلَةَ، عَنْ خُرَيْمِ بْنِ فَاتِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «النَّاسُ أَرْبَعَةٌ، وَالْأَعْمَالُ سِتَّةٌ، فَمِنْهُمْ مُوَسَّعٌ لَهُ فِي الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ، وَمِنْهُمْ مُوَسَّعٌ لَهُ فِي الدُّنْيَا مُقَتَّرٌ عَلَيْهِ فِي الْآخِرَةِ، وَمِنْهُمْ مُقَتَّرٌ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا مُوَسَّعٌ لَهُ فِي الْآخِرَةِ، وَمِنْهُمْ شَقِيٌّ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، وَالْأَعْمَالُ مُوجِبَتَانِ وَمِثْلٌ بِمِثْلٍ وَعَشَرَةِ أَضْعَافٍ وَسَبْعُمِائَةِ ضِعْفٍ، فَالْمُوجِبَتَانِ مَنْ مَاتَ لَا يُشْرِكُ بِاللهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ، وَمَنْ مَاتَ يُشْرِكُ بِاللهِ شَيْئًا دَخَلَ النَّارَ، وَمَنْ هَمَّ بِسَيِّئَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا كُتِبَتْ لَهُ حَسَنَةً، وَمَنْ عَمِلَهَا كُتِبَتْ عَلَيْهِ سَيِّئَةً، وَمَنْ هَمَّ بِحَسَنَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا كُتِبَتْ لَهُ حَسَنَةً فَإِنْ عَمِلَهَا كُتِبَتْ لَهُ عَشَرَةَ أَضْعَافٍ، وَالنَّفَقَةُ فِي سَبِيلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ سَبْعُمِائَةِ ضِعْفٍ»
ترجمہ
سیدنا خریم بن فاتک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”لوگ چار قسم کے ہیں، اور اعمال چھ قسم کے: ان میں سے کچھ وہ ہیں جن پر دنیا اور آخرت دونوں میں کشادگی ہو، کچھ وہ جن پر دنیا میں کشادگی اور آخرت میں تنگی ہو، کچھ وہ جن پر دنیا میں تنگی اور آخرت میں کشادگی ہو، اور کچھ وہ جو دنیا اور آخرت دونوں میں بدبخت ہوں۔ اور اعمال دو واجب کرنے والے ہیں، ایک برابر کے بدلے میں، ایک دس گنا، اور ایک سات سو گنا۔ دو واجب کرنے والے یہ ہیں: جو اس حال میں مرے کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو، وہ جنت میں داخل ہو گا، اور جو اللہ کے ساتھ شرک کرتے ہوئے مرے، وہ جہنم میں داخل ہو گا۔ جو کسی برائی کا ارادہ کرے مگر اسے نہ کرے، اس کے لیے ایک نیکی لکھی جاتی ہے، اور جو اسے کر گزرے، اس پر ایک برائی لکھی جاتی ہے۔ جو کسی نیکی کا ارادہ کرے مگر اسے نہ کرے، اس کے لیے بھی ایک نیکی لکھی جاتی ہے، اور اگر اسے کر گزرے تو اس کے لیے دس گنا لکھی جاتی ہے، اور اللہ کی راہ میں خرچ کرنا سات سو گنا (بڑھا دیا جاتا) ہے۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ زُهَيْرٍ التُّسْتَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ كَرَامَةَ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ شَيْبَانَ، عَنِ الرُّكَيْنِ بْنِ الرَّبِيعِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمِّهِ يَسِيرِ بْنِ عَمِيلَةَ، عَنْ خُرَيْمِ بْنِ فَاتِكٍ الْأَسَدِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «النَّاسُ أَرْبَعَةٌ، وَأَعْمَالٌ سِتَّةٌ، فَالنَّاسُ مُوَسَّعٌ لَهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، وَمُوَسَّعٌ لَهُ فِي الدُّنْيَا وَمَقْتُورٌ عَلَيْهِ فِي الْآخِرَةِ، وَمَقْتُورٌ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا، مُوَسَّعٌ عَلَيْهِ فِي الْآخِرَةِ، وَشَقِيٌّ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، وَالْأَعْمَالُ مُوجِبَتَانِ، وَمِثْلٌ بِمِثْلٍ، وَعَشْرَةُ أَضْعَافٍ وَسَبْعُمِائَةِ ضِعْفٍ. وَالْمُوجِبَتَانِ، مَنْ مَاتَ مُسْلِمًا أَوْ مُؤْمِنًا لَا يُشْرِكُ بِاللهِ شَيْئًا وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ، وَمَنْ مَاتَ كَافِرًا وَجَبَتْ لَهُ النَّارُ، وَمَنْ هَمَّ بِحَسَنَةٍ وَلَمْ يَعْمَلْهَا، فَعَلِمَ اللهُ أَنَّهُ قَدْ أَشْعَرَهَا قَلْبَهُ وَحَرَصَ عَلَيْهَا كُتِبَتْ لَهُ حَسَنَةً وَلَمْ يُضَاعَفْ شَيْءٌ، وَمَنْ هَمَّ بِسَيِّئَةٍ وَلَمْ يَعْمَلْهَا لَمْ تُكْتَبْ عَلَيْهِ، وَمَنْ عَمِلَهَا كُتِبَتْ عَلَيْهِ وَاحِدَةً وَلَمْ يُضَاعَفْ عَلَيْهِ، وَمَنْ عَمِلَ حَسَنَةً كَانَتْ لَهُ عَشْرَ أَمْثَالِهَا، وَمَنْ أَنْفَقَ نَفَقَةً فِي سَبِيلِ اللهِ كَانَتْ لَهُ بِسَبْعِمِائَةِ ضِعْفٍ» .
ترجمہ
سیدنا خریم بن فاتک اسدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”لوگ چار قسم کے ہیں اور اعمال چھ قسم کے: (لوگوں میں سے) کوئی دنیا و آخرت دونوں میں کشادگی والا ہے، کوئی دنیا میں کشادگی اور آخرت میں تنگی والا ہے، کوئی دنیا میں تنگی اور آخرت میں کشادگی والا ہے، اور کوئی دنیا و آخرت دونوں میں بدبخت ہے۔ اور اعمال دو واجب کرنے والے، ایک برابر کے بدلے میں، ایک دس گنا، اور ایک سات سو گنا (والے) ہیں۔ دو واجب کرنے والے یہ ہیں: جو مسلمان یا مومن اس حال میں مرے کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو، اس کے لیے جنت واجب ہو گئی، اور جو کافر مرے، اس کے لیے جہنم واجب ہو گئی۔ اور جو نیکی کا ارادہ کرے مگر اسے نہ کرے، اللہ کو معلوم ہو جائے کہ اس نے دل میں اس کا احساس رکھا اور اس کی خواہش کی، تو اس کے لیے ایک نیکی لکھی جاتی ہے اور اس میں اضافہ نہیں کیا جاتا۔ اور جو برائی کا ارادہ کرے مگر اسے نہ کرے، اس پر کچھ نہیں لکھا جاتا، اور جو اسے کر گزرے، اس پر صرف ایک برائی لکھی جاتی ہے اور اس میں اضافہ نہیں کیا جاتا۔ اور جو کوئی نیکی کرے، اس کے لیے اس کی دس مثلیں لکھی جاتی ہیں، اور جو اللہ کی راہ میں کچھ خرچ کرے، اسے سات سو گنا (اجر) دیا جاتا ہے۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي النَّضْرِ، ثنا أَبُو النَّضْرِ، ثنا الْأَشْجَعِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الرُّكَيْنِ بْنِ الرَّبِيعِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ يَسِيرِ بْنِ عَمِيلَةَ، عَنْ خُرَيْمِ بْنِ فَاتِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ
ترجمہ
سیدنا خریم بن فاتک اسدی رضی اللہ عنہ سے نبی کریم ﷺ سے اسی طرح کی حدیث مروی ہے۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ غَنَّامٍ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنِ الرُّكَيْنِ بْنِ الرَّبِيعِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ يَسِيرِ بْنِ عَمِيلَةَ، عَنْ خُرَيْمِ بْنِ فَاتِكٍ الْأَسَدِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «النَّاسُ أَرْبَعَةٌ، وَالْأَعْمَالُ سِتَّةٌ، مُوَسَّعٌ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، وَمُوَسَّعٌ لَهُ فِي الدُّنْيَا، وَمَقْتُورٌ عَلَيْهِ فِي الْآخِرَةِ وَمَقْتُورٌ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا، مَقْتُورٌ عَلَيْهِ فِي الْآخِرَةِ، وَمُوَسَّعٌ عَلَيْهِ فِي الْآخِرَةِ مَقْتُورٌ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا، وَالْأَعْمَالُ سِتَّةٌ مُوجِبَتَانِ، وَمِثْلٌ بِمِثْلٍ، وَعَشْرَةُ أَضْعَافِهِ، وَسَبْعُمِائَةِ ضِعْفٍ، مَنْ مَاتَ مُسْلِمًا أَوْ مُؤْمِنًا لَا يُشْرِكُ بِاللهِ شَيْئًا أُدْخِلَ الْجَنَّةَ، وَمَنْ مَاتَ كَافِرًا أُدْخِلَ النَّارَ، وَمَنْ هَمَّ بِحَسَنَةٍ حَتَّى يُشْعِرَهَا قَلْبَهُ كُتِبَتْ لَهُ حَسَنَةٌ لَا تُضَاعَفُ وَمَنْ عَمِلَ سَيِّئَةً كُتِبَتْ عَلَيْهِ سَيِّئَةٌ وَاحِدَةٌ لَمْ تُضَاعَفْ عَلَيْهِ، وَمَنْ عَمِلَ حَسَنَةً كُتِبَتْ لَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا، وَمَنْ أَنْفَقَ نَفَقَةً فِي سَبِيلِ اللهِ كُتِبَتْ لَهُ سَبْعُمِائَةِ ضِعْفٍ»
ترجمہ
سیدنا خریم بن فاتک اسدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”لوگ چار قسم کے ہیں اور اعمال چھ قسم کے: دنیا و آخرت دونوں میں کشادگی والا، دنیا میں کشادگی اور آخرت میں تنگی والا، دنیا میں تنگی اور آخرت میں بھی تنگی والا، اور دنیا میں تنگی مگر آخرت میں کشادگی والا۔ اور اعمال چھ ہیں: دو واجب کرنے والے، ایک برابر کے بدلے میں، ایک اس کے دس گنا، اور ایک سات سو گنا۔ جو مسلمان یا مومن اس حال میں مرے کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو، وہ جنت میں داخل کیا جائے گا، اور جو کافر مرے، وہ جہنم میں داخل کیا جائے گا۔ اور جو کسی نیکی کا ارادہ کرے یہاں تک کہ اپنے دل میں اس کا احساس کرے، اس کے لیے ایک نیکی لکھی جاتی ہے جس میں اضافہ نہیں ہوتا، اور جو کوئی برائی کرے، اس پر ایک ہی برائی لکھی جاتی ہے، اس میں اضافہ نہیں کیا جاتا۔ اور جو کوئی نیکی کرے، اس کے لیے اس کی دس مثلیں لکھی جاتی ہیں، اور جو اللہ کی راہ میں کچھ خرچ کرے، اسے سات سو گنا لکھا جاتا ہے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْمُؤَدِّبُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ الْعِجْلِيُّ، ثنا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ شِمْرِ بْنِ عَطِيَّةَ، عَنْ خُرَيْمِ بْنِ فَاتِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَيُّ رَجُلٍ أَنْتَ لَوْلَا خَلَّتَانِ فِيكَ» ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ وَمَا هُمَا؟، قَالَ: «تُسْبِلُ إِزَارَكَ وتُرْخِي شَعْرَكَ» ، قُلْتُ: لَا جَرَمَ لَا أَعُودُ، قَالَ: «فَجَزَّ شَعْرَهُ، وَرَفَعَ إِزَارَهُ»
ترجمہ
سیدنا خریم بن فاتک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم کیسے اچھے آدمی ہو، اگر تم میں دو خصلتیں نہ ہوتیں!“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! وہ کیا ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم اپنا تہبند (ٹخنوں سے نیچے) لٹکاتے ہو اور اپنے بال بڑھائے رکھتے ہو۔“ میں نے عرض کیا: بس اب ایسا نہیں کروں گا۔ راوی کہتے ہیں: چنانچہ انہوں نے اپنے بال کٹوا لیے اور اپنا تہبند اونچا کر لیا۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ شِمْرِ بْنِ عَطِيَّةَ، عَنْ خُرَيْمِ بْنِ فَاتِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْلَا خَلَّتَانِ فِيكَ كُنْتَ أَنْتَ الرَّجُلَ تَسْبِيلُ الْإِزَارِ، وإِرْخَاءُ الشَّعْرِ»
ترجمہ
سیدنا خریم بن فاتک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تم میں دو خصلتیں نہ ہوتیں تو تم واقعی (اچھے) آدمی ہوتے: تہبند کا لٹکانا اور بالوں کا بڑھانا۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، ثنا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبِي حُصَيْنٍ، عَنْ شِمْرِ بْنِ عَطِيَّةَ، عَنْ خُرَيْمِ بْنِ فَاتِكٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «نِعْمَ الْفَتَى خُرَيْمٌ لَوْ أَخَذَ مِنْ شَعْرِهِ وَقَصَّرَ مِنْ إِزَارِهِ»
ترجمہ
سیدنا خریم بن فاتک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”خریم کتنا اچھا نوجوان ہے، اگر وہ اپنے بال چھوٹے کر لیتا اور اپنا تہبند اونچا کر لیتا۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ مَعْنٍ الْمَسْعُودِيُّ، ثنا أَبِي، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ شِمْرِ بْنِ عَطِيَّةَ، عَنْ خُرَيْمِ بْنِ فَاتِكٍ أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «يَا خُرَيْمُ بْنُ فَاتِكٍ لَوْلَا خَصْلَتَانِ فِيكَ لَكُنْتَ أَنْتَ الرَّجُلَ» ، قَالَ: مَا هُمَا بِأَبِي أَنْتَ يَا رَسُولَ اللهِ حَسْبِي وَاحِدَةٌ؟، قَالَ: «تَوْفِيرُ شَعْرِكَ، وَتَسْبِيلُ إِزَارِكَ» ، فَانْطَلَقَ خُرَيْمٌ فَجَزَ شَعْرَهُ، وَقَصَّرَ إِزَارَهُ.
ترجمہ
سیدنا خریم بن فاتک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ نبی کریم ﷺ کے پاس آئے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے خریم بن فاتک! اگر تم میں دو خصلتیں نہ ہوتیں تو تم واقعی (اچھے) آدمی ہوتے۔“ انہوں نے عرض کیا: میرے ماں باپ آپ پر قربان، وہ کیا ہیں؟ کیا ایک ہی کافی نہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بالوں کا بڑھانا اور تہبند کا لٹکانا۔“ راوی کہتے ہیں: چنانچہ خریم رضی اللہ عنہ گئے، اپنے بال کٹوائے اور اپنا تہبند اونچا کر لیا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّقِّيُّ، ثنا أَبُو الْجَوَّابِ، ثنا عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ شِمْرِ بْنِ عَطِيَّةَ، عَنْ خُرَيْمِ بْنِ فَاتِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ
ترجمہ
سیدنا خریم بن فاتک رضی اللہ عنہ سے نبی کریم ﷺ سے اسی طرح کی حدیث مروی ہے۔
حَدَّثَنَا حَاجِبُ بْنُ أركينَ الْفَرْغَانِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُفَضَّلٍ الْحَرَّانِيُّ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ الْمَسْعُودِيِّ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أَيْمَنَ بْنِ خُرَيْمِ بْنِ فَاتِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نِعْمَ الْفَتَى خُرَيْمٌ لَوْ قَصَّرَ مِنْ شَعْرِهِ، وَرَفَعَ مِنْ إِزَارِهِ» ، قَالَ: فَقَالَ خُرَيْمٌ: لَا يُجَاوِزُ شَعْرِي أُذُنِي، وَلَا إِزَارِي عَقِبِي
ترجمہ
سیدنا خریم بن فاتک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”خریم کتنا اچھا نوجوان ہے، اگر وہ اپنے بال چھوٹے کر لیتا اور اپنا تہبند اونچا کر لیتا۔“ راوی کہتے ہیں: اس پر خریم رضی اللہ عنہ نے کہا: (آئندہ) میرے بال میرے کانوں سے آگے نہیں بڑھیں گے، اور نہ میرا تہبند میری ایڑھی سے آگے جائے گا۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ رَاهَوَيْهِ، ثنا أَبِي، قَالُوا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ زِيَادٍ الْعُصْفُرِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ النُّعْمَانِ الْأَسَدِيِّ، عَنْ خُرَيْمِ بْنِ فَاتِكٍ الْأَسَدِيِّ، قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الصُّبْحِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَائِمًا قَالَ: «عَدَلَتْ شَهَادَةُ الزُّورِ الْإِشْرَاكَ بِاللهِ» ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ: {وَاجْتَنِبُوا قَوْلَ الزُّورِ حُنَفَاءَ لِلَّهِ غَيْرَ مُشْرِكِينَ بِهِ} [الحج: ٣١]
ترجمہ
سیدنا خریم بن فاتک اسدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے صبح کی نماز پڑھائی، جب آپ کھڑے ہو کر (نماز سے) فارغ ہوئے تو تین بار فرمایا: ”جھوٹی گواہی، اللہ کے ساتھ شرک کے برابر ہے۔“ پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ”اور جھوٹی بات سے بچو، اللہ کے لیے یکسو ہو کر، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتے ہوئے“ [سورۃ الحج: 31]۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمُعَلَّى الدِّمَشْقِيُّ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزْدَادَ التَّوْزِيُّ الْبَصْرِيُّ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعٍ، قَالَا: ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَيُّوبَ بْنِ مَيْسَرَةَ بْنِ حَلْبَسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ خُرَيْمِ بْنِ فَاتِكٍ الْأَسَدِيِّ صَاحِبِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «أَهْلُ الشَّامِ سَوْطُ اللهِ فِي أَرْضِهِ، يَنْتَقِمُ بِهِمْ مِمَّنْ يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ، وَحَرَامٌ عَلَى مُنَافِقِيهِمْ أَنْ يَظْهَرُوا عَلَى مُؤْمِنِيهِمْ، وَلَا يَمُوتُوا إِلَّا غَمًّا وَهَمًّا»
ترجمہ
سیدنا خریم بن فاتک اسدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، جو رسول اللہ ﷺ کے صحابی تھے، کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”اہلِ شام اللہ کا کوڑا ہیں اس کی زمین میں، وہ ان کے ذریعے اپنے بندوں میں سے جس سے چاہے انتقام لیتا ہے، اور ان کے منافقوں پر حرام ہے کہ وہ ان کے مومنوں پر غالب آ جائیں، اور وہ غم اور پریشانی کے سوا کسی اور حال میں نہیں مریں گے۔“
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الرَّقِّيُّ، ثنا الْعَلَاءُ بْنُ هِلَالٍ، ثنا أَبِي، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ وَابِصَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ خُرَيْمِ بْنِ فَاتِكٍ الْأَسَدِيِّ، مِنْ بَنِي عَمْرِو بْنِ أَسَدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «سَتَكُونُ فِتْنَةٌ النَّائِمُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْقَاعِدِ، وَالْقَاعِدُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْمَاشِيِ، وَالْمَاشِي فِيهَا خَيْرٌ مِنَ السَّاعِيِ، وَالسَّاعِي خَيْرٌ مِنَ الرَّاكِبِ»
ترجمہ
سیدنا خریم بن فاتک اسدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”عنقریب ایک فتنہ برپا ہو گا، اس میں سونے والا بیٹھنے والے سے بہتر ہو گا، بیٹھنے والا چلنے والے سے بہتر ہو گا، چلنے والا دوڑنے والے سے بہتر ہو گا، اور دوڑنے والا سوار سے بہتر ہو گا۔“
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الشَّامِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى الْإِسْكَنْدَرَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ خُرَيْمُ بْنُ فَاتِكٍ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَلَا أُخْبِرُكَ كَيْفَ كَانَ بُدُوُّ إِسْلَامِي؟، قَالَ: بَلَى، قَالَ: بَيْنَمَا أَنَا أَطُوفُ فِي طَلَبِ نَعَمٍ لِي إِذَا أَنَا مِنْهَا عَلَى أَثَرٍ إِذْ أَجَنَّنِي اللَّيْلُ بِأَبْرَقِ الْعَزَّافِ فَنَادَيْتُ بِأَعْلَى صَوْتِي أَعُوذُ بِعَزِيزِ هَذَا الْوَادِي مِنْ سُفَهَاءِ قَوْمِهِ فَإِذَا هَاتِفٌ يَهْتِفُ:
[البحر الرجز]
وَيْحَكْ عُذْ بِاللهِ ذِي الْجَلَالِ ... وَالْمَجْدِ وَالنَّعْمَاءِ وَالْأَفْضَالِ
وَاقْتَرِ آيَاتٍ مِنَ الْأَنْفَالِ ... وَوَحِّدِ اللهَ وَلَا تُبَالِ
قَالَ: فَذُعِرْتُ ذُعْرًا شَدِيدًا، فَلَمَّا رَجَعْتُ إِلَى نَفْسِي قُلْتُ:
[البحر الرجز]
يَا أَيُّهَا الْهَاتِفُ مَا تَقُولُ ... أَرَشَدٌ عِنْدَكَ أَمْ تَضْلِيلُ
بَيِّنْ لَنَا هُدِيتَ مَا الْحَوِيلُ
قَالَ:
هَذَا رَسُولُ اللهِ ذِي الْخَيْرَاتِ ... بِيَثْرِبَ يَدْعُو إِلَى النَّجَاةِ
يَأْمُرُ بِالصَّوْمِ وَبِالصَّلَاةِ ... ويَنْزِعُ النَّاسَ عَنِ الْهَنَاتِ
قَالَ: فَاتَّبَعْتُ رَاحِلَتِي، فَقُلْتُ:
أَرْشِدْنِي رُشْدًا هُدِيتَ ... لَا جُعْتَ وَلَا عُرَيتَ
بَرِحْتَ سَعِيدًا مَا بَقِيَتَ ... وَلَا تُؤْثِرْنَ عَلَى الْخَيْرِ الَّذِي أُتِيتَ
قَالَ: فَاتَّبَعَنِي وَهُوَ يَقُولُ:
صَاحَبَكَ اللهُ وَسَلَّمَ نَفْسَكَا ... وَبَلَغَ الْأَهْلَ وَأَدَّى رِحْلَكَا
آمِنْ بِهِ أَفْلَحَ رَبِّي حَقَّكَا ... وانْصُرْهُ أَعَزَّ رَبِّي نَصْرَكَا
قَالَ: فَدَخَلْتُ الْمَدِينَةَ، وَذَلِكَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فَاطَّلَعْتُ فِي الْمَسْجِدِ، فَخَرَجَ إِلَيَّ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ: ادْخُلْ رَحِمَكَ اللهُ، فَإِنَّهُ قَدْ بَلَغَنَا إِسْلَامُكَ، قُلْتُ: لَا أُحْسِنُ الطُّهُورَ فَعَلَّمَنِي، فَدَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَخْطُبُ كَأَنَّهُ الْبَدْرُ وَهُوَ يَقُولُ: «مَا مِنْ مُسْلِمٍ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ ثُمَّ صَلَّى صَلَاةً يَحْفَظُهَا ويَعْقِلُهَا إِلَّا دَخَلَ الْجَنَّةَ» ، فَقَالَ لِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، لَتَأْتِيَنَّ عَلَى هَذَا الْبَيِّنَةَ أَوْ لَأُنَكِّلَنَّ بِكَ، فَشَهِدَ لِي شَيْخُ قُرَيْشٍ، عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَأَجَازَ شَهَادَتَهُ
[البحر الرجز]
وَيْحَكْ عُذْ بِاللهِ ذِي الْجَلَالِ ... وَالْمَجْدِ وَالنَّعْمَاءِ وَالْأَفْضَالِ
وَاقْتَرِ آيَاتٍ مِنَ الْأَنْفَالِ ... وَوَحِّدِ اللهَ وَلَا تُبَالِ
قَالَ: فَذُعِرْتُ ذُعْرًا شَدِيدًا، فَلَمَّا رَجَعْتُ إِلَى نَفْسِي قُلْتُ:
[البحر الرجز]
يَا أَيُّهَا الْهَاتِفُ مَا تَقُولُ ... أَرَشَدٌ عِنْدَكَ أَمْ تَضْلِيلُ
بَيِّنْ لَنَا هُدِيتَ مَا الْحَوِيلُ
قَالَ:
هَذَا رَسُولُ اللهِ ذِي الْخَيْرَاتِ ... بِيَثْرِبَ يَدْعُو إِلَى النَّجَاةِ
يَأْمُرُ بِالصَّوْمِ وَبِالصَّلَاةِ ... ويَنْزِعُ النَّاسَ عَنِ الْهَنَاتِ
قَالَ: فَاتَّبَعْتُ رَاحِلَتِي، فَقُلْتُ:
أَرْشِدْنِي رُشْدًا هُدِيتَ ... لَا جُعْتَ وَلَا عُرَيتَ
بَرِحْتَ سَعِيدًا مَا بَقِيَتَ ... وَلَا تُؤْثِرْنَ عَلَى الْخَيْرِ الَّذِي أُتِيتَ
قَالَ: فَاتَّبَعَنِي وَهُوَ يَقُولُ:
صَاحَبَكَ اللهُ وَسَلَّمَ نَفْسَكَا ... وَبَلَغَ الْأَهْلَ وَأَدَّى رِحْلَكَا
آمِنْ بِهِ أَفْلَحَ رَبِّي حَقَّكَا ... وانْصُرْهُ أَعَزَّ رَبِّي نَصْرَكَا
قَالَ: فَدَخَلْتُ الْمَدِينَةَ، وَذَلِكَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فَاطَّلَعْتُ فِي الْمَسْجِدِ، فَخَرَجَ إِلَيَّ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ: ادْخُلْ رَحِمَكَ اللهُ، فَإِنَّهُ قَدْ بَلَغَنَا إِسْلَامُكَ، قُلْتُ: لَا أُحْسِنُ الطُّهُورَ فَعَلَّمَنِي، فَدَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَخْطُبُ كَأَنَّهُ الْبَدْرُ وَهُوَ يَقُولُ: «مَا مِنْ مُسْلِمٍ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ ثُمَّ صَلَّى صَلَاةً يَحْفَظُهَا ويَعْقِلُهَا إِلَّا دَخَلَ الْجَنَّةَ» ، فَقَالَ لِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، لَتَأْتِيَنَّ عَلَى هَذَا الْبَيِّنَةَ أَوْ لَأُنَكِّلَنَّ بِكَ، فَشَهِدَ لِي شَيْخُ قُرَيْشٍ، عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَأَجَازَ شَهَادَتَهُ
ترجمہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ خریم بن فاتک رضی اللہ عنہ نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے کہا: اے امیر المومنین! کیا میں آپ کو نہ بتاؤں کہ میرے اسلام کی ابتدا کیسے ہوئی؟ انہوں نے کہا: ہاں ضرور بتاؤ۔ خریم رضی اللہ عنہ نے کہا: میں اپنے اونٹوں کی تلاش میں پھر رہا تھا، انہی کے نشانات پر چلتے ہوئے، کہ رات نے مجھے ابرق العزاف کے مقام پر ڈھانپ لیا، تو میں نے بلند آواز سے پکارا: میں اس وادی کے سردار (جن) کی پناہ لیتا ہوں اس کی قوم کے بے وقوفوں سے۔ اچانک ایک پکارنے والا (غیب سے) پکارا، کہہ رہا تھا: افسوس تجھ پر! اللہ ذوالجلال کی پناہ لے، جو بزرگی، نعمت اور فضل والا ہے، اور سورۃ الانفال میں سے کچھ آیات پڑھ، اور اللہ کو ایک مان اور کسی سے مت ڈر۔ خریم رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے شدید خوف نے آ لیا، پھر جب میں سنبھلا تو میں نے کہا: اے پکارنے والے! تو کیا کہتا ہے، تیرے نزدیک ہدایت ہے یا گمراہی؟ ہمیں بتا، اللہ تجھے ہدایت دے، راستہ کیا ہے؟ اس نے کہا: یہ رسول اللہ ہیں، خیر والے، یثرب میں نجات کی طرف بلا رہے ہیں، روزہ اور نماز کا حکم دیتے ہیں اور لوگوں کو برائیوں سے روکتے ہیں۔ خریم رضی اللہ عنہ نے کہا: چنانچہ میں اپنی سواری کے پیچھے چل پڑا اور کہا: مجھے صحیح راہنمائی دے، اللہ تجھے ہدایت دے، نہ تو کبھی بھوکا رہے نہ ننگا۔ تو ہمیشہ خوش رہے جب تک زندہ رہے، اور جو بھلائی تجھے دی گئی ہے اس پر کسی چیز کو ترجیح نہ دے۔ خریم رضی اللہ عنہ نے کہا: وہ میرے پیچھے چلتا رہا اور کہتا رہا: اللہ تیرا ساتھی ہو اور تجھے سلامت رکھے، تجھے تیرے گھر والوں تک پہنچائے اور تیرا سفر مکمل کرے۔ اس پر ایمان لا، میرا رب تیرا حق پورا کرے، اور اس کی مدد کر، میرا رب تیری مدد کو عزت دے۔ خریم رضی اللہ عنہ نے کہا: چنانچہ میں مدینہ میں داخل ہوا، اور یہ جمعہ کا دن تھا، میں نے مسجد میں جھانکا تو ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ میرے پاس نکل کر آئے اور فرمایا: اندر آ جاؤ، اللہ تم پر رحم کرے، ہمیں تمہارے اسلام لانے کی خبر پہنچی ہے، میں نے کہا: مجھے طہارت اچھی طرح نہیں آتی، تو انہوں نے مجھے سکھائی۔ چنانچہ میں مسجد میں داخل ہوا تو دیکھا کہ نبی کریم ﷺ منبر پر خطبہ دے رہے ہیں، گویا آپ چودھویں کا چاند ہوں، اور فرما رہے تھے: ”جو مسلمان اچھی طرح وضو کرے، پھر ایسی نماز پڑھے جسے وہ یاد رکھے اور سمجھے، وہ جنت میں داخل ہو گا۔“ اس پر عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا: تم اس پر گواہ لاؤ، ورنہ میں تمہیں سزا دوں گا۔ چنانچہ قریش کے بزرگ عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے میرے حق میں گواہی دی، تو انہوں (عمر) نے ان کی گواہی قبول کر لی۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ تَسْنِيمٍ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ خَلِيفَةَ الْأَسَدِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ ذَاتَ يَوْمٍ لِابْنِ عَبَّاسٍ: حَدِّثْنِي بِحَدِيثٍ تُعْجِبُنِي بِهِ، فَقَالَ: حَدَّثَنِي خُرَيْمُ بْنُ فَاتِكٍ الْأَسَدِيُّ، قَالَ: خَرَجْتُ فِي بُغَاءِ إِبِلٍ فَأَصَبْتُهَا بِالْأَبْرَقِ الْعَزَّافِ فَعَقَلْتُهَا وَتَوَسَّدْتُ ذِرَاعَ بَعِيرٍ مِنْهَا، وَذَلِكَ حِدْثَانَ خُرُوجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قُلْتُ: أَعُوذُ بِعَظِيمِ هَذَا الْوَادِي، قَالَ: وَكَذَلِكَ كَانُوا يَصْنَعُونَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَإِذَا هَاتِفٌ يَهْتِفُ بِي وَيَقُولُ:
[البحر الرجز]
وَيْحَكَ عُذْ بِاللهِ ذِي الْجَلَالِ ... مُنَزِّلِ الْحَرَامِ وَالْحَلَالِ
وَوَحِّدِ اللهِ وَلَا تُبَالِي ... مَا هَوْلُ ذِي الْجِنِّ مِنِ الْأَهْوَالِ
إِذْ تَذْكُرُ اللهَ عَلَى الْأَمْيَالِ ... وَفِي سُهُوِلِ الْأَرْضِ وَالْجِبَالِ
وَصَارَ كَيْدُ الْجِنِّ فِي سَفَالِ ... إِلَّا التُّقَى وَصَالِحَ الْأَعْمَالِ
قَالَ: فَقُلْتُ:
[البحر الرجز]
يَا أَيُّهَا الدَّاعِي مَا تَحِيلُ ... أَرَشَدٌ عِنْدَكَ أَمْ تَضْلِيلُ
قَالَ:
هَذَا رَسُولُ اللهِ ذِي الْخَيْرَاتِ ... جَاءَ بِيس وَحَامِيمَاتِ
وَسُوَرٍ بَعْدُ مُفَصَّلَاتِ ... مُحَرِّمَاتٍ ومُحَلِّلَاتِ
يَأْمُرُ بِالصَّوْمِ وَالصَّلَاةِ ... ويَزْجُرُ النَّاسِ عَنِ الْهَنَاتِ
قَدْ كُنَّ فِي الْأَيَّامِ مُنْكَرَاتِ
قَالَ: قُلْتُ مَنْ أَنْتَ يَرْحَمُكَ اللهُ؟ قَالَ: أَنَا مَلَكُ بْنُ مَالِكٍ بَعَثَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى جِنِّ أَهْلِ نَجْدٍ، قَالَ: قُلْتُ: لَوْ كَانَ لِي مَنْ يَكْفِينِي إِبِلِي هَذِهِ لَأَتَيْتُهُ حَتَّى أُومِنَ بِهِ، قَالَ: أَنَا أَكْفِيكُهَا حَتَّى أُؤَدِّيَهَا إِلَى أَهْلِكَ سَالِمَةً إِنْ شَاءَ اللهُ، فَاعْتَقَلْتُ بَعِيرًا مِنْهَا، ثُمَّ أَتَيْتُ الْمَدِينَةَ فَوَافَقَتُ النَّاسَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَهُمْ فِي الصَّلَاةِ، فَقُلْتُ: يَقْضُونَ صَلَاتَهُمْ، ثُمَّ أَدْخُلُ فَإِنِّي دَائِبٌ أُنِيخُ رَاحِلَتِي إِذْ خَرَجَ إِلَيَّ أَبُو ذَرٍّ رَحِمَهُ اللهُ، فَقَالَ لِي: يَقُولُ لَكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ادْخُلْ» فَدَخَلْتُ، فَلَمَّا رَآنِي قَالَ: «مَا فَعَلَ الشَّيْخُ الَّذِي ضَمِنَ لَكَ أَنْ يُؤَدِّيَ إِبِلَكَ إِلَى أَهْلِكَ سَالِمَةً؟ أَمَا إِنَّهُ أَدَّاهَا إِلَى أَهْلِكَ سَالِمَةً؟» قَالَ: قُلْتُ رَحِمَهُ اللهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَجَلْ رَحِمَهُ اللهُ» فَقَالَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحَسُنَ إِسْلَامُهُ
[البحر الرجز]
وَيْحَكَ عُذْ بِاللهِ ذِي الْجَلَالِ ... مُنَزِّلِ الْحَرَامِ وَالْحَلَالِ
وَوَحِّدِ اللهِ وَلَا تُبَالِي ... مَا هَوْلُ ذِي الْجِنِّ مِنِ الْأَهْوَالِ
إِذْ تَذْكُرُ اللهَ عَلَى الْأَمْيَالِ ... وَفِي سُهُوِلِ الْأَرْضِ وَالْجِبَالِ
وَصَارَ كَيْدُ الْجِنِّ فِي سَفَالِ ... إِلَّا التُّقَى وَصَالِحَ الْأَعْمَالِ
قَالَ: فَقُلْتُ:
[البحر الرجز]
يَا أَيُّهَا الدَّاعِي مَا تَحِيلُ ... أَرَشَدٌ عِنْدَكَ أَمْ تَضْلِيلُ
قَالَ:
هَذَا رَسُولُ اللهِ ذِي الْخَيْرَاتِ ... جَاءَ بِيس وَحَامِيمَاتِ
وَسُوَرٍ بَعْدُ مُفَصَّلَاتِ ... مُحَرِّمَاتٍ ومُحَلِّلَاتِ
يَأْمُرُ بِالصَّوْمِ وَالصَّلَاةِ ... ويَزْجُرُ النَّاسِ عَنِ الْهَنَاتِ
قَدْ كُنَّ فِي الْأَيَّامِ مُنْكَرَاتِ
قَالَ: قُلْتُ مَنْ أَنْتَ يَرْحَمُكَ اللهُ؟ قَالَ: أَنَا مَلَكُ بْنُ مَالِكٍ بَعَثَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى جِنِّ أَهْلِ نَجْدٍ، قَالَ: قُلْتُ: لَوْ كَانَ لِي مَنْ يَكْفِينِي إِبِلِي هَذِهِ لَأَتَيْتُهُ حَتَّى أُومِنَ بِهِ، قَالَ: أَنَا أَكْفِيكُهَا حَتَّى أُؤَدِّيَهَا إِلَى أَهْلِكَ سَالِمَةً إِنْ شَاءَ اللهُ، فَاعْتَقَلْتُ بَعِيرًا مِنْهَا، ثُمَّ أَتَيْتُ الْمَدِينَةَ فَوَافَقَتُ النَّاسَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَهُمْ فِي الصَّلَاةِ، فَقُلْتُ: يَقْضُونَ صَلَاتَهُمْ، ثُمَّ أَدْخُلُ فَإِنِّي دَائِبٌ أُنِيخُ رَاحِلَتِي إِذْ خَرَجَ إِلَيَّ أَبُو ذَرٍّ رَحِمَهُ اللهُ، فَقَالَ لِي: يَقُولُ لَكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ادْخُلْ» فَدَخَلْتُ، فَلَمَّا رَآنِي قَالَ: «مَا فَعَلَ الشَّيْخُ الَّذِي ضَمِنَ لَكَ أَنْ يُؤَدِّيَ إِبِلَكَ إِلَى أَهْلِكَ سَالِمَةً؟ أَمَا إِنَّهُ أَدَّاهَا إِلَى أَهْلِكَ سَالِمَةً؟» قَالَ: قُلْتُ رَحِمَهُ اللهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَجَلْ رَحِمَهُ اللهُ» فَقَالَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحَسُنَ إِسْلَامُهُ
ترجمہ
حسن بن محمد رحمہ اللہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: ایک دن عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: مجھے کوئی ایسی حدیث سناؤ جو مجھے پسند آئے۔ انہوں نے کہا: مجھے خریم بن فاتک اسدی رضی اللہ عنہ نے بتایا، وہ کہتے ہیں: میں اونٹوں کی تلاش میں نکلا اور انہیں ابرق العزاف کے مقام پر پا لیا، تو میں نے انہیں باندھ دیا اور ان میں سے ایک اونٹ کی کلائی پر سر رکھ کر لیٹ گیا، اور یہ نبی کریم ﷺ کے ظہور کے قریب کا زمانہ تھا۔ پھر میں نے کہا: میں اس وادی کے بڑے (جن) کی پناہ لیتا ہوں۔ وہ کہتے ہیں: زمانہ جاہلیت میں لوگ اسی طرح کیا کرتے تھے۔ اتنے میں ایک پکارنے والا مجھے پکارنے لگا اور کہہ رہا تھا: افسوس تجھ پر! اللہ ذوالجلال کی پناہ لے، جو حرام اور حلال اتارنے والا ہے، اور اللہ کو ایک مان اور مت ڈر، جنوں کی دنیا کے خوف سے کچھ بھی نہ ڈر، جبکہ تو میلوں پر بھی اللہ کو یاد کرے اور زمین کے میدانوں اور پہاڑوں میں بھی، اور جنوں کی چال پست ہو چکی ہے سوائے تقویٰ اور نیک اعمال کے۔ وہ کہتے ہیں: تو میں نے کہا: اے پکارنے والے! تو کیا رائے رکھتا ہے، تیرے نزدیک ہدایت ہے یا گمراہی؟ اس نے کہا: یہ رسول اللہ ہیں، خیر والے، سورۃ یس اور حم والی سورتیں اور بعد کی مفصل سورتیں لے کر آئے ہیں، جو حرام اور حلال بیان کرتی ہیں، روزہ اور نماز کا حکم دیتے ہیں اور لوگوں کو ان برائیوں سے روکتے ہیں جو ہمیشہ سے ناپسندیدہ سمجھی جاتی رہی ہیں۔ وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: تم کون ہو، اللہ تم پر رحم کرے؟ اس نے کہا: میں ملک بن مالک ہوں، مجھے رسول اللہ ﷺ نے نجد کے جنوں پر (اسلام کی دعوت دینے) بھیجا ہے۔ وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اگر میرے پاس کوئی ہو جو میرے ان اونٹوں کی کفالت کر لے تو میں ان کے پاس جا کر ان پر ایمان لے آؤں۔ اس نے کہا: میں ان کی کفالت کر لوں گا یہاں تک کہ انہیں صحیح سلامت تمہارے گھر والوں تک پہنچا دوں، اگر اللہ نے چاہا۔ چنانچہ میں نے ان میں سے ایک اونٹ کو باندھ لیا، پھر مدینہ آیا تو لوگوں کو جمعہ کے دن پایا جبکہ وہ نماز میں تھے، تو میں نے کہا: وہ اپنی نماز پوری کر لیں، پھر میں اندر جاؤں گا۔ چنانچہ میں اپنی سواری بٹھائے مصروف تھا کہ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ میرے پاس آئے اور کہا: رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ اندر آ جاؤ۔ چنانچہ میں اندر گیا، جب آپ ﷺ نے مجھے دیکھا تو فرمایا: ”اس بوڑھے کا کیا بنا جس نے تمہاری ذمہ داری لی تھی کہ تمہارے اونٹ تمہارے گھر والوں تک صحیح سلامت پہنچا دے گا؟ سن لو، اس نے انہیں تمہارے گھر والوں تک صحیح سلامت پہنچا دیا ہے۔“ راوی کہتے ہیں: میں نے کہا: اللہ اس پر رحم کرے۔ اس پر نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، اللہ اس پر رحم کرے۔“ (یہ سن کر) اس نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں، اور اس کا اسلام اچھا ہو گیا۔