❮
❯
حدیث نمبر: 4150
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الشَّامِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى الْإِسْكَنْدَرَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ خُرَيْمُ بْنُ فَاتِكٍ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَلَا أُخْبِرُكَ كَيْفَ كَانَ بُدُوُّ إِسْلَامِي؟، قَالَ: بَلَى، قَالَ: بَيْنَمَا أَنَا أَطُوفُ فِي طَلَبِ نَعَمٍ لِي إِذَا أَنَا مِنْهَا عَلَى أَثَرٍ إِذْ أَجَنَّنِي اللَّيْلُ بِأَبْرَقِ الْعَزَّافِ فَنَادَيْتُ بِأَعْلَى صَوْتِي أَعُوذُ بِعَزِيزِ هَذَا الْوَادِي مِنْ سُفَهَاءِ قَوْمِهِ فَإِذَا هَاتِفٌ يَهْتِفُ:
[البحر الرجز]
وَيْحَكْ عُذْ بِاللهِ ذِي الْجَلَالِ ... وَالْمَجْدِ وَالنَّعْمَاءِ وَالْأَفْضَالِ
وَاقْتَرِ آيَاتٍ مِنَ الْأَنْفَالِ ... وَوَحِّدِ اللهَ وَلَا تُبَالِ
قَالَ: فَذُعِرْتُ ذُعْرًا شَدِيدًا، فَلَمَّا رَجَعْتُ إِلَى نَفْسِي قُلْتُ:
[البحر الرجز]
يَا أَيُّهَا الْهَاتِفُ مَا تَقُولُ ... أَرَشَدٌ عِنْدَكَ أَمْ تَضْلِيلُ
بَيِّنْ لَنَا هُدِيتَ مَا الْحَوِيلُ
قَالَ:
هَذَا رَسُولُ اللهِ ذِي الْخَيْرَاتِ ... بِيَثْرِبَ يَدْعُو إِلَى النَّجَاةِ
يَأْمُرُ بِالصَّوْمِ وَبِالصَّلَاةِ ... ويَنْزِعُ النَّاسَ عَنِ الْهَنَاتِ
قَالَ: فَاتَّبَعْتُ رَاحِلَتِي، فَقُلْتُ:
أَرْشِدْنِي رُشْدًا هُدِيتَ ... لَا جُعْتَ وَلَا عُرَيتَ
بَرِحْتَ سَعِيدًا مَا بَقِيَتَ ... وَلَا تُؤْثِرْنَ عَلَى الْخَيْرِ الَّذِي أُتِيتَ
قَالَ: فَاتَّبَعَنِي وَهُوَ يَقُولُ:
صَاحَبَكَ اللهُ وَسَلَّمَ نَفْسَكَا ... وَبَلَغَ الْأَهْلَ وَأَدَّى رِحْلَكَا
آمِنْ بِهِ أَفْلَحَ رَبِّي حَقَّكَا ... وانْصُرْهُ أَعَزَّ رَبِّي نَصْرَكَا
قَالَ: فَدَخَلْتُ الْمَدِينَةَ، وَذَلِكَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فَاطَّلَعْتُ فِي الْمَسْجِدِ، فَخَرَجَ إِلَيَّ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ: ادْخُلْ رَحِمَكَ اللهُ، فَإِنَّهُ قَدْ بَلَغَنَا إِسْلَامُكَ، قُلْتُ: لَا أُحْسِنُ الطُّهُورَ فَعَلَّمَنِي، فَدَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَخْطُبُ كَأَنَّهُ الْبَدْرُ وَهُوَ يَقُولُ: «مَا مِنْ مُسْلِمٍ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ ثُمَّ صَلَّى صَلَاةً يَحْفَظُهَا ويَعْقِلُهَا إِلَّا دَخَلَ الْجَنَّةَ» ، فَقَالَ لِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، لَتَأْتِيَنَّ عَلَى هَذَا الْبَيِّنَةَ أَوْ لَأُنَكِّلَنَّ بِكَ، فَشَهِدَ لِي شَيْخُ قُرَيْشٍ، عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَأَجَازَ شَهَادَتَهُ
ترجمہ

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ خریم بن فاتک رضی اللہ عنہ نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے کہا: اے امیر المومنین! کیا میں آپ کو نہ بتاؤں کہ میرے اسلام کی ابتدا کیسے ہوئی؟ انہوں نے کہا: ہاں ضرور بتاؤ۔ خریم رضی اللہ عنہ نے کہا: میں اپنے اونٹوں کی تلاش میں پھر رہا تھا، انہی کے نشانات پر چلتے ہوئے، کہ رات نے مجھے ابرق العزاف کے مقام پر ڈھانپ لیا، تو میں نے بلند آواز سے پکارا: میں اس وادی کے سردار (جن) کی پناہ لیتا ہوں اس کی قوم کے بے وقوفوں سے۔ اچانک ایک پکارنے والا (غیب سے) پکارا، کہہ رہا تھا: افسوس تجھ پر! اللہ ذوالجلال کی پناہ لے، جو بزرگی، نعمت اور فضل والا ہے، اور سورۃ الانفال میں سے کچھ آیات پڑھ، اور اللہ کو ایک مان اور کسی سے مت ڈر۔ خریم رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے شدید خوف نے آ لیا، پھر جب میں سنبھلا تو میں نے کہا: اے پکارنے والے! تو کیا کہتا ہے، تیرے نزدیک ہدایت ہے یا گمراہی؟ ہمیں بتا، اللہ تجھے ہدایت دے، راستہ کیا ہے؟ اس نے کہا: یہ رسول اللہ ہیں، خیر والے، یثرب میں نجات کی طرف بلا رہے ہیں، روزہ اور نماز کا حکم دیتے ہیں اور لوگوں کو برائیوں سے روکتے ہیں۔ خریم رضی اللہ عنہ نے کہا: چنانچہ میں اپنی سواری کے پیچھے چل پڑا اور کہا: مجھے صحیح راہنمائی دے، اللہ تجھے ہدایت دے، نہ تو کبھی بھوکا رہے نہ ننگا۔ تو ہمیشہ خوش رہے جب تک زندہ رہے، اور جو بھلائی تجھے دی گئی ہے اس پر کسی چیز کو ترجیح نہ دے۔ خریم رضی اللہ عنہ نے کہا: وہ میرے پیچھے چلتا رہا اور کہتا رہا: اللہ تیرا ساتھی ہو اور تجھے سلامت رکھے، تجھے تیرے گھر والوں تک پہنچائے اور تیرا سفر مکمل کرے۔ اس پر ایمان لا، میرا رب تیرا حق پورا کرے، اور اس کی مدد کر، میرا رب تیری مدد کو عزت دے۔ خریم رضی اللہ عنہ نے کہا: چنانچہ میں مدینہ میں داخل ہوا، اور یہ جمعہ کا دن تھا، میں نے مسجد میں جھانکا تو ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ میرے پاس نکل کر آئے اور فرمایا: اندر آ جاؤ، اللہ تم پر رحم کرے، ہمیں تمہارے اسلام لانے کی خبر پہنچی ہے، میں نے کہا: مجھے طہارت اچھی طرح نہیں آتی، تو انہوں نے مجھے سکھائی۔ چنانچہ میں مسجد میں داخل ہوا تو دیکھا کہ نبی کریم ﷺ منبر پر خطبہ دے رہے ہیں، گویا آپ چودھویں کا چاند ہوں، اور فرما رہے تھے: ”جو مسلمان اچھی طرح وضو کرے، پھر ایسی نماز پڑھے جسے وہ یاد رکھے اور سمجھے، وہ جنت میں داخل ہو گا۔“ اس پر عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا: تم اس پر گواہ لاؤ، ورنہ میں تمہیں سزا دوں گا۔ چنانچہ قریش کے بزرگ عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے میرے حق میں گواہی دی، تو انہوں (عمر) نے ان کی گواہی قبول کر لی۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الخاء / حدیث: 4150
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 4، صفحہ 210، حدیث 4165