المعجم الكبير للطبراني
باب الخاء— حرف خا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
خريم بن فاتك الأسدي يكنى أبا عبد الله باب: سیدنا خریم بن فاتک اسدی رضی اللہ عنہ، کنیت ابوعبداللہ تھی
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ زُهَيْرٍ التُّسْتَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ كَرَامَةَ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ شَيْبَانَ، عَنِ الرُّكَيْنِ بْنِ الرَّبِيعِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمِّهِ يَسِيرِ بْنِ عَمِيلَةَ، عَنْ خُرَيْمِ بْنِ فَاتِكٍ الْأَسَدِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «النَّاسُ أَرْبَعَةٌ، وَأَعْمَالٌ سِتَّةٌ، فَالنَّاسُ مُوَسَّعٌ لَهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، وَمُوَسَّعٌ لَهُ فِي الدُّنْيَا وَمَقْتُورٌ عَلَيْهِ فِي الْآخِرَةِ، وَمَقْتُورٌ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا، مُوَسَّعٌ عَلَيْهِ فِي الْآخِرَةِ، وَشَقِيٌّ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، وَالْأَعْمَالُ مُوجِبَتَانِ، وَمِثْلٌ بِمِثْلٍ، وَعَشْرَةُ أَضْعَافٍ وَسَبْعُمِائَةِ ضِعْفٍ. وَالْمُوجِبَتَانِ، مَنْ مَاتَ مُسْلِمًا أَوْ مُؤْمِنًا لَا يُشْرِكُ بِاللهِ شَيْئًا وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ، وَمَنْ مَاتَ كَافِرًا وَجَبَتْ لَهُ النَّارُ، وَمَنْ هَمَّ بِحَسَنَةٍ وَلَمْ يَعْمَلْهَا، فَعَلِمَ اللهُ أَنَّهُ قَدْ أَشْعَرَهَا قَلْبَهُ وَحَرَصَ عَلَيْهَا كُتِبَتْ لَهُ حَسَنَةً وَلَمْ يُضَاعَفْ شَيْءٌ، وَمَنْ هَمَّ بِسَيِّئَةٍ وَلَمْ يَعْمَلْهَا لَمْ تُكْتَبْ عَلَيْهِ، وَمَنْ عَمِلَهَا كُتِبَتْ عَلَيْهِ وَاحِدَةً وَلَمْ يُضَاعَفْ عَلَيْهِ، وَمَنْ عَمِلَ حَسَنَةً كَانَتْ لَهُ عَشْرَ أَمْثَالِهَا، وَمَنْ أَنْفَقَ نَفَقَةً فِي سَبِيلِ اللهِ كَانَتْ لَهُ بِسَبْعِمِائَةِ ضِعْفٍ» .سیدنا خریم بن فاتک اسدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”لوگ چار قسم کے ہیں اور اعمال چھ قسم کے: (لوگوں میں سے) کوئی دنیا و آخرت دونوں میں کشادگی والا ہے، کوئی دنیا میں کشادگی اور آخرت میں تنگی والا ہے، کوئی دنیا میں تنگی اور آخرت میں کشادگی والا ہے، اور کوئی دنیا و آخرت دونوں میں بدبخت ہے۔ اور اعمال دو واجب کرنے والے، ایک برابر کے بدلے میں، ایک دس گنا، اور ایک سات سو گنا (والے) ہیں۔ دو واجب کرنے والے یہ ہیں: جو مسلمان یا مومن اس حال میں مرے کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو، اس کے لیے جنت واجب ہو گئی، اور جو کافر مرے، اس کے لیے جہنم واجب ہو گئی۔ اور جو نیکی کا ارادہ کرے مگر اسے نہ کرے، اللہ کو معلوم ہو جائے کہ اس نے دل میں اس کا احساس رکھا اور اس کی خواہش کی، تو اس کے لیے ایک نیکی لکھی جاتی ہے اور اس میں اضافہ نہیں کیا جاتا۔ اور جو برائی کا ارادہ کرے مگر اسے نہ کرے، اس پر کچھ نہیں لکھا جاتا، اور جو اسے کر گزرے، اس پر صرف ایک برائی لکھی جاتی ہے اور اس میں اضافہ نہیں کیا جاتا۔ اور جو کوئی نیکی کرے، اس کے لیے اس کی دس مثلیں لکھی جاتی ہیں، اور جو اللہ کی راہ میں کچھ خرچ کرے، اسے سات سو گنا (اجر) دیا جاتا ہے۔“