المعجم الكبير للطبراني
باب الخاء— حرف خا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
خريم بن فاتك الأسدي يكنى أبا عبد الله باب: سیدنا خریم بن فاتک اسدی رضی اللہ عنہ، کنیت ابوعبداللہ تھی
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ تَسْنِيمٍ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ خَلِيفَةَ الْأَسَدِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ ذَاتَ يَوْمٍ لِابْنِ عَبَّاسٍ: حَدِّثْنِي بِحَدِيثٍ تُعْجِبُنِي بِهِ، فَقَالَ: حَدَّثَنِي خُرَيْمُ بْنُ فَاتِكٍ الْأَسَدِيُّ، قَالَ: خَرَجْتُ فِي بُغَاءِ إِبِلٍ فَأَصَبْتُهَا بِالْأَبْرَقِ الْعَزَّافِ فَعَقَلْتُهَا وَتَوَسَّدْتُ ذِرَاعَ بَعِيرٍ مِنْهَا، وَذَلِكَ حِدْثَانَ خُرُوجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قُلْتُ: أَعُوذُ بِعَظِيمِ هَذَا الْوَادِي، قَالَ: وَكَذَلِكَ كَانُوا يَصْنَعُونَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَإِذَا هَاتِفٌ يَهْتِفُ بِي وَيَقُولُ:
[البحر الرجز]
وَيْحَكَ عُذْ بِاللهِ ذِي الْجَلَالِ ... مُنَزِّلِ الْحَرَامِ وَالْحَلَالِ
وَوَحِّدِ اللهِ وَلَا تُبَالِي ... مَا هَوْلُ ذِي الْجِنِّ مِنِ الْأَهْوَالِ
إِذْ تَذْكُرُ اللهَ عَلَى الْأَمْيَالِ ... وَفِي سُهُوِلِ الْأَرْضِ وَالْجِبَالِ
وَصَارَ كَيْدُ الْجِنِّ فِي سَفَالِ ... إِلَّا التُّقَى وَصَالِحَ الْأَعْمَالِ
قَالَ: فَقُلْتُ:
[البحر الرجز]
يَا أَيُّهَا الدَّاعِي مَا تَحِيلُ ... أَرَشَدٌ عِنْدَكَ أَمْ تَضْلِيلُ
قَالَ:
هَذَا رَسُولُ اللهِ ذِي الْخَيْرَاتِ ... جَاءَ بِيس وَحَامِيمَاتِ
وَسُوَرٍ بَعْدُ مُفَصَّلَاتِ ... مُحَرِّمَاتٍ ومُحَلِّلَاتِ
يَأْمُرُ بِالصَّوْمِ وَالصَّلَاةِ ... ويَزْجُرُ النَّاسِ عَنِ الْهَنَاتِ
قَدْ كُنَّ فِي الْأَيَّامِ مُنْكَرَاتِ
قَالَ: قُلْتُ مَنْ أَنْتَ يَرْحَمُكَ اللهُ؟ قَالَ: أَنَا مَلَكُ بْنُ مَالِكٍ بَعَثَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى جِنِّ أَهْلِ نَجْدٍ، قَالَ: قُلْتُ: لَوْ كَانَ لِي مَنْ يَكْفِينِي إِبِلِي هَذِهِ لَأَتَيْتُهُ حَتَّى أُومِنَ بِهِ، قَالَ: أَنَا أَكْفِيكُهَا حَتَّى أُؤَدِّيَهَا إِلَى أَهْلِكَ سَالِمَةً إِنْ شَاءَ اللهُ، فَاعْتَقَلْتُ بَعِيرًا مِنْهَا، ثُمَّ أَتَيْتُ الْمَدِينَةَ فَوَافَقَتُ النَّاسَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَهُمْ فِي الصَّلَاةِ، فَقُلْتُ: يَقْضُونَ صَلَاتَهُمْ، ثُمَّ أَدْخُلُ فَإِنِّي دَائِبٌ أُنِيخُ رَاحِلَتِي إِذْ خَرَجَ إِلَيَّ أَبُو ذَرٍّ رَحِمَهُ اللهُ، فَقَالَ لِي: يَقُولُ لَكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ادْخُلْ» فَدَخَلْتُ، فَلَمَّا رَآنِي قَالَ: «مَا فَعَلَ الشَّيْخُ الَّذِي ضَمِنَ لَكَ أَنْ يُؤَدِّيَ إِبِلَكَ إِلَى أَهْلِكَ سَالِمَةً؟ أَمَا إِنَّهُ أَدَّاهَا إِلَى أَهْلِكَ سَالِمَةً؟» قَالَ: قُلْتُ رَحِمَهُ اللهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَجَلْ رَحِمَهُ اللهُ» فَقَالَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحَسُنَ إِسْلَامُهُحسن بن محمد رحمہ اللہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: ایک دن عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: مجھے کوئی ایسی حدیث سناؤ جو مجھے پسند آئے۔ انہوں نے کہا: مجھے خریم بن فاتک اسدی رضی اللہ عنہ نے بتایا، وہ کہتے ہیں: میں اونٹوں کی تلاش میں نکلا اور انہیں ابرق العزاف کے مقام پر پا لیا، تو میں نے انہیں باندھ دیا اور ان میں سے ایک اونٹ کی کلائی پر سر رکھ کر لیٹ گیا، اور یہ نبی کریم ﷺ کے ظہور کے قریب کا زمانہ تھا۔ پھر میں نے کہا: میں اس وادی کے بڑے (جن) کی پناہ لیتا ہوں۔ وہ کہتے ہیں: زمانہ جاہلیت میں لوگ اسی طرح کیا کرتے تھے۔ اتنے میں ایک پکارنے والا مجھے پکارنے لگا اور کہہ رہا تھا: افسوس تجھ پر! اللہ ذوالجلال کی پناہ لے، جو حرام اور حلال اتارنے والا ہے، اور اللہ کو ایک مان اور مت ڈر، جنوں کی دنیا کے خوف سے کچھ بھی نہ ڈر، جبکہ تو میلوں پر بھی اللہ کو یاد کرے اور زمین کے میدانوں اور پہاڑوں میں بھی، اور جنوں کی چال پست ہو چکی ہے سوائے تقویٰ اور نیک اعمال کے۔ وہ کہتے ہیں: تو میں نے کہا: اے پکارنے والے! تو کیا رائے رکھتا ہے، تیرے نزدیک ہدایت ہے یا گمراہی؟ اس نے کہا: یہ رسول اللہ ہیں، خیر والے، سورۃ یس اور حم والی سورتیں اور بعد کی مفصل سورتیں لے کر آئے ہیں، جو حرام اور حلال بیان کرتی ہیں، روزہ اور نماز کا حکم دیتے ہیں اور لوگوں کو ان برائیوں سے روکتے ہیں جو ہمیشہ سے ناپسندیدہ سمجھی جاتی رہی ہیں۔ وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: تم کون ہو، اللہ تم پر رحم کرے؟ اس نے کہا: میں ملک بن مالک ہوں، مجھے رسول اللہ ﷺ نے نجد کے جنوں پر (اسلام کی دعوت دینے) بھیجا ہے۔ وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اگر میرے پاس کوئی ہو جو میرے ان اونٹوں کی کفالت کر لے تو میں ان کے پاس جا کر ان پر ایمان لے آؤں۔ اس نے کہا: میں ان کی کفالت کر لوں گا یہاں تک کہ انہیں صحیح سلامت تمہارے گھر والوں تک پہنچا دوں، اگر اللہ نے چاہا۔ چنانچہ میں نے ان میں سے ایک اونٹ کو باندھ لیا، پھر مدینہ آیا تو لوگوں کو جمعہ کے دن پایا جبکہ وہ نماز میں تھے، تو میں نے کہا: وہ اپنی نماز پوری کر لیں، پھر میں اندر جاؤں گا۔ چنانچہ میں اپنی سواری بٹھائے مصروف تھا کہ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ میرے پاس آئے اور کہا: رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ اندر آ جاؤ۔ چنانچہ میں اندر گیا، جب آپ ﷺ نے مجھے دیکھا تو فرمایا: ”اس بوڑھے کا کیا بنا جس نے تمہاری ذمہ داری لی تھی کہ تمہارے اونٹ تمہارے گھر والوں تک صحیح سلامت پہنچا دے گا؟ سن لو، اس نے انہیں تمہارے گھر والوں تک صحیح سلامت پہنچا دیا ہے۔“ راوی کہتے ہیں: میں نے کہا: اللہ اس پر رحم کرے۔ اس پر نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، اللہ اس پر رحم کرے۔“ (یہ سن کر) اس نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں، اور اس کا اسلام اچھا ہو گیا۔