حدیث نمبر: 4136
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو غَسَّانَ مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ النَّهْدِيُّ، ثنا مَسْلَمَةُ بْنُ إِسْحَاقَ، قَالَ: سَمِعْتُ الرُّكَيْنَ أَبَا الرَّبِيعِ الْفَزَارِيَّ، حَدَّثَنِي عَمِّي، عَنْ أَبِي عَبْدِ خُرَيْمِ بْنِ فَاتِكٍ الْأَسَدِيِّ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " النَّاسُ أَرْبَعَةٌ، وَالْأَعْمَالُ سِتَّةٌ، فَالْأَعْمَالُ: مُوجِبَتَانِ وَمِثْلٌ بِمِثْلٍ وَعَشْرَةُ أَضْعَافٍ وَسَبْعُمِائَةِ ضِعْفٍ، مُوجِبَتَانِ مَنْ مَاتَ مُسْلِمًا وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ، وَمَنْ مَاتَ كَافِرًا وَجَبَتْ لَهُ النَّارُ، وَمِثْلٌ بِمِثْلٍ الْعَبْدُ يَهُمُّ بِالْحَسَنَةِ فَيُكْتَبُ لَهُ حَسَنَةٌ، ويَهُمُّ بِالسَّيِّئَةِ فَلَا يُجْزَى إِلَّا بِمِثْلِهَا وَالْعَبْدُ يَعْمَلُ الْحَسَنَةَ فَيُكْتَبُ لَهُ عَشْرًا، وَالْعَبْدُ يُنْفِقُ النَّفَقَةَ فِي سَبِيلِ اللهِ فَيُضَاعَفُ لَهُ سَبْعُمِائَةِ ضِعْفٍ، وَالنَّاسُ أَرْبَعَةٌ فَمُوَسَّعٌ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا مُوَسَّعٌ عَلَيْهِ فِي الْآخِرَةِ، وَمَقْتُورٌ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا مُوَسَّعٌ عَلَيْهِ فِي الْآخِرَةِ، وَمُوَسَّعٌ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا مَقْتُورٌ عَلَيْهِ فِي الْآخِرَةِ وَشَقِيٌّ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ "
ترجمہ

سیدنا خریم بن فاتک اسدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”لوگ چار قسم کے ہیں، اور اعمال چھ قسم کے: دو واجب کرنے والے، ایک برابر کے بدلے میں، ایک دس گنا، اور ایک سات سو گنا۔ دو واجب کرنے والے اعمال یہ ہیں: جو مسلمان مر جائے اس کے لیے جنت واجب ہو گئی، اور جو کافر مر جائے اس کے لیے جہنم واجب ہو گئی۔ برابر کے بدلے میں یہ ہے کہ بندہ نیکی کا ارادہ کرے تو اس کے لیے ایک نیکی لکھی جاتی ہے، اور برائی کا ارادہ کرے تو صرف اسی کے برابر سزا دی جاتی ہے۔ بندہ نیکی کرے تو اس کے لیے دس گنا لکھی جاتی ہے، اور بندہ اللہ کی راہ میں خرچ کرے تو اسے سات سو گنا بڑھا دیا جاتا ہے۔ اور لوگ چار قسم کے ہیں: ایک وہ جس پر دنیا میں کشادگی ہو اور آخرت میں بھی کشادگی ہو، دوسرا وہ جس پر دنیا میں تنگی ہو اور آخرت میں کشادگی ہو، تیسرا وہ جس پر دنیا میں کشادگی ہو اور آخرت میں تنگی ہو، اور چوتھا وہ جو دنیا اور آخرت دونوں میں بدبخت ہو۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الخاء / حدیث: 4136
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 4، صفحہ 205، حدیث 4151