کتب حدیث › المعجم الكبير للطبراني › ابواب › باب: سیدنا حذیفہ بن یمان عبسی رضی اللہ عنہ، کنیت ابوعبداللہ
❮
❯
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عِقَالٍ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ النُّفَيْلِيُّ، ثنا زُهَيْرٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ جَامِعٍ الْأَرْحَبِيِّ، قَالَ: " أَتَيْتُ أَنَا وَصَاحِبٌ لِي حُذَيْفَةَ بْنَ الْيَمَانِ، فَقُلْنَا: يَا أَبَا عَبْدِ اللهِ‍ "
ترجمہ
جامع ارحبی رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں اور میرا ایک ساتھی سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، تو ہم نے کہا: اے ابوعبداللہ!
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الحاء / حدیث: 2986
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 161، حدیث 2999
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ثنا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ «أَنَّ حُذَيْفَةَ كَانَ أَحَدَ بَنِي عَبْسٍ، وَكَانَ عِدَادُهُ فِي الْأَنْصَارِ»
ترجمہ
زہری بیان کرتے ہیں: حذیفہ رضی اللہ عنہ بنی عبس میں سے تھے، اور ان کا شمار انصار میں ہوتا تھا۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الحاء / حدیث: 2987
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 162، حدیث 3000
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ثنا أَبِي، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: أَخَذَ حُذَيْفَةَ وَأَبَاهُ الْمُشْرِكُونَ قَبْلَ بَدْرٍ، فَأَرَادُوا أَنْ يَقْتُلُوهُمْ، وَأَخَذُوا عَلَيْهِمْ عَهْدًا وَمِيثَاقًا أَنْ لَا يُعِينُوا عَلَيْنَا، فَأَرْسَلُوهُما، فَأَتَيَا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَا: إِنَّا قَدْ جَعَلْنَا لَهُمْ أَنْ لَا نُعِينَ عَلَيْهِمْ، فَإِنْ شِئْتَ قَاتَلْنَا مَعَكَ. فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بَلْ نَفِي لَهُمْ، وَنَسْتَعِينُ اللهَ عَلَيْهِمْ»
ترجمہ
مصعب بن سعد بیان کرتے ہیں: مشرکین نے بدر سے پہلے سیدنا حذیفہ اور ان کے والد کو پکڑ لیا اور انہیں قتل کرنا چاہا، اور ان سے یہ عہد و پیمان لیا کہ وہ ہمارے خلاف مدد نہیں کریں گے، پھر انہوں نے دونوں کو چھوڑ دیا، تو وہ دونوں نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور عرض کیا: ہم نے ان سے یہ عہد کیا ہے کہ ہم ان کے خلاف مدد نہیں کریں گے، اگر آپ چاہیں تو ہم آپ کے ساتھ مل کر لڑیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ ہم ان سے کیا گیا وعدہ پورا کریں گے، اور ان کے خلاف اللہ سے مدد مانگیں گے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الحاء / حدیث: 2988
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 162، حدیث 3001
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ، ثنا شُرَيْحُ بْنُ مَسْلَمَةَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ أَنَّهُ أَقْبَلَ حُذَيْفَةُ وَأَبُوهُ يَوْمَ بَدْرٍ، فَلَقِيَهُمْ أَبُو جَهْلٍ وَأَصْحَابُهُ، فَقَالُوا لَهُمَا: لَعَلَّكُما تُرِيدَانِ مُحَمَّدًا. قَالَا: قُلْنَا: لَا. قَالَ: فَأَخَذَ عَلَيْنَا أَنْ لَا نُعِينَ عَلَيْهِمْ، فَلَمَّا أَتَيْنَا النَّبِيَّ عَلَيْهِ السَّلَامُ ذَكَرْنَا ذَلِكَ لَهُ، وَقُلْنَا: يَا نَبِيَّ اللهِ، إِنَّ الْقَوْمَ قَدْ أَخَذُوا عَلَيْنَا، وَإِنْ أَمَرْتَنَا أَنْ نُقَاتِلَ مَعَكَ فَعَلْنَا. فَقَالَ: «بَلْ نَسْتَعِينُ اللهَ وَنَفِي لَهُمْ»
ترجمہ
عامر بن سعد بیان کرتے ہیں کہ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ اور ان کے والد بدر کے دن آ رہے تھے کہ انہیں ابوجہل اور اس کے ساتھی ملے، اور انہوں نے ان دونوں سے کہا: شاید تم دونوں محمد (ﷺ) کے پاس جانا چاہتے ہو۔ ان دونوں نے بیان کیا: ہم نے کہا: نہیں۔ حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: تو اس نے ہم سے یہ عہد لیا کہ ہم ان کے خلاف مدد نہیں کریں گے۔ پھر جب ہم نبی کریم ﷺ کے پاس آئے تو ہم نے یہ بات آپ سے ذکر کی اور عرض کیا: اے اللہ کے نبی! ان لوگوں نے ہم سے عہد لیا ہے، اور اگر آپ ہمیں حکم دیں کہ ہم آپ کے ساتھ مل کر لڑیں تو ہم لڑیں گے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ ہم اللہ سے مدد مانگیں گے اور ان سے کیا گیا وعدہ پورا کریں گے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الحاء / حدیث: 2989
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 162، حدیث 3002
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمَرْزُبَانِ أَبِي سَعْدٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حُذَيْفَةَ «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَهُ يَوْمَ الْأَحْزَابِ سَرِيَّةً وَحْدَهُ»
ترجمہ
حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے احزاب (خندق) کے دن انہیں اکیلے ایک خفیہ مہم پر بھیجا۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الحاء / حدیث: 2990
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 162، حدیث 3003
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا عُمَرُ بْنُ بَزِيغٍ، ثنا الْحَارِثُ بْنُ الْحَجَّاجِ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ التَّيْمِيِّ، عَنْ سَاعِدَةَ بْنِ حُذَيْفَةَ أَنَّ حُذَيْفَةَ كَانَ يَقُولُ: مَا مِنْ يَوْمٍ أَقَرَّ لِعَيْنِي وَلَا أَحَبَّ لِنَفْسِي مِنْ يَوْمٍ آتِي أَهْلِي فَلَا أَجِدُ عِنْدَهُمْ طَعَامًا، وَيَقُولُونَ: مَا نَقْدِرُ عَلَى قَلِيلٍ وَلَا كَثِيرٍ. وَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ اللهَ أَشَدُّ حِمْيَةً لِلْمُؤْمِنِ مِنَ الدُّنْيَا مِنَ الْمَرِيضِ أَهْلُهُ مِنَ الطَّعَامِ، وَاللهُ عَزَّ وَجَلَّ أَشَدُّ تَعَاهُدًا لِلْمُؤْمِنِ بِالْبَلَاءِ مِنَ الْوَالِدِ لِوَلَدِهِ بِالْخَيْرِ»
ترجمہ
حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میرے لیے سب سے زیادہ آنکھوں کی ٹھنڈک اور پسندیدہ دن وہ ہے جب میں اپنے گھر والوں کے پاس جاؤں اور ان کے پاس کھانا نہ پاؤں، اور وہ کہیں: ہمارے پاس نہ تھوڑا ہے نہ زیادہ۔ اور فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ”اللہ مومن کو دنیا سے اسی طرح سختی سے روکتا ہے جیسے مریض کے گھر والے اسے کھانے سے روکتے ہیں، اور اللہ عزوجل مومن کی آزمائش کے ذریعے اس کی نگہداشت اس سے کہیں زیادہ کرتا ہے جتنی باپ اپنی اولاد کی بھلائی کے ذریعے نگہداشت کرتا ہے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الحاء / حدیث: 2991
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 162، حدیث 3004
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ شَيْبَانَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ خَيْثَمَةَ، عَنْ فُلْفُلَةَ الْجُعْفِيِّ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ: «وَاللهِ لَوْ شِئْتُ لَحَدَّثْتُكُمْ أَلْفَ كَلِمَةٍ تُحِبُّونِي عَلَيْهَا أَوْ تُتَابِعُوني وَتُصَدِّقُونِي بِرًّا مِنَ اللهِ وَرَسُولِهِ، وَلَوْ شِئْتُ لَحَدَّثْتُكُمْ أَلْفَ كَلِمَةٍ تُبْغِضُونِي عَلَيْهَا وَتُجَانِبُونِي وَتُكَذِّبُونِي»
ترجمہ
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: اللہ کی قسم! اگر میں چاہوں تو تمہیں ہزار ایسی باتیں بتا دوں جن کی وجہ سے تم مجھ سے محبت کرو، یا میری پیروی کرو اور مجھے سچا مانو، جو اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے نیکی ہوں، اور اگر میں چاہوں تو تمہیں ہزار ایسی باتیں بتا دوں جن کی وجہ سے تم مجھ سے نفرت کرو، مجھ سے دور ہو جاؤ اور مجھے جھٹلاؤ۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الحاء / حدیث: 2992
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 163، حدیث 3005
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَسْرُوقِيُّ، ثنا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ السَّبِيعِيِّ، عَنْ صِلَةَ بْنِ زُفَرَ، قَالَ: بَعَثَ حُذَيْفَةُ مَنْ يَبْتَاعُ لَهُ كَفَنًا، فَابْتَاعُوا لَهُ كَفَنًا بِثَلَاثَةِ دَرَاهِمَ، فَقَالَ حُذَيْفَةُ: «لَيْسَ أُرِيدُ هَذَا، وَلَكِنِ ابْتَاعُوا رَيْطَتَيْنِ بَيْضَاوَيْنِ حَسَنَتَيْنِ»
ترجمہ
صلہ بن زفر بیان کرتے ہیں: حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کسی کو اپنے لیے کفن خریدنے بھیجا، تو انہوں نے تین درہم کا کفن خرید لیا۔ حذیفہ نے فرمایا: ”مجھے یہ نہیں چاہیے، بلکہ دو خوبصورت سفید چادریں خرید لاؤ۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الحاء / حدیث: 2993
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 163، حدیث 3006
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ أَنَّ صِلَةَ بْنَ زُفَرَ حَدَّثَهُ أَنَّ حُذَيْفَةَ بْنَ الْيَمَانِ كُفِّنَ فِي ثَوْبَيْنِ. قَالَ: بَعَثَنِي وَأَبَا مَسْعُودٍ، فَابْتَعْنَا لَهُ كَفَنًا حُلَّةَ عَصْبٍ بِثَلَاثِ مِائَةِ دِرْهَمٍ، فَقَالَ: «أَرِيَانِي مَا ابْتَعْتُما لِي» . فَأَرَيْنَاهُ، فَقَالَ: «مَا هَذَا لِي بِكَفَنٍ، إِنَّمَا يَكْفِينِي رَيْطَتَانِ بَيْضَاوَانِ لَيْسَ مَعَهُمَا قَمِيصٌ، وَإِنِّي لَا أَتْرُكُ إِلَّا قَلِيلًا حَتَّى أَنَالَ خَيْرًا مِنْهُمَا أَوْ شَرًّا مِنْهُمَا» . فابْتَعْنَا لَهُ رَيْطَتَيْنِ بَيْضَاوَيْنِ
ترجمہ
صلہ بن زفر بیان کرتے ہیں کہ حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کو دو کپڑوں میں کفن دیا گیا۔ کہتے ہیں: انہوں نے مجھے اور ابومسعود رضی اللہ عنہ کو کفن خریدنے بھیجا، تو ہم نے ان کے لیے یمنی دھاری دار جوڑے کا کفن تین سو درہم میں خریدا۔ انہوں نے فرمایا: ”جو تم نے میرے لیے خریدا ہے وہ مجھے دکھاؤ۔“ ہم نے دکھایا تو فرمایا: ”یہ میرے کفن کے لیے مناسب نہیں، مجھے تو صرف دو سفید چادریں کافی ہیں جن کے ساتھ قمیص نہ ہو، اور میں اس دنیا میں تھوڑی ہی دیر رہوں گا کہ ان سے بہتر یا بدتر چیز پا لوں گا۔“ چنانچہ ہم نے ان کے لیے دو سفید چادریں خرید لیں۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الحاء / حدیث: 2994
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 163، حدیث 3007
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ عَبْدِ الْوَارِثِ، ثنا أَبِي، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّزَّالَ بْنَ سَبْرَةَ قَالَ: سَأَلْنَا أَبَا مَسْعُودٍ مَا قَالَ حُذَيْفَةُ عِنْدَ الْمَوْتِ؟ قَالَ: قَالَ: «أَعُوذُ بِاللهِ مِنْ صَبَاحٍ إِلَى النَّارِ، اشْتَرُوا لِي ثَوْبَيْنِ أَبْيَضَيْنِ فَكَفِّنُونِي فِيهِمَا، فَإِنَّهُمَا لَنْ يُتْرَكَا عَلَيَّ إِلَّا يَسِيرًا حَتَّى أُكْسَى خَيْرًا مِنْهُمَا، أَوْ أُسْلَبَهُمَا سَلْبًا سَرِيعًا»
ترجمہ
نزال بن سبرہ بیان کرتے ہیں: ہم نے ابومسعود رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ حذیفہ رضی اللہ عنہ نے موت کے وقت کیا کہا تھا؟ انہوں نے بتایا کہ حذیفہ نے فرمایا: ”میں اس صبح سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں جو جہنم کی طرف لے جانے والی ہو۔ میرے لیے دو سفید کپڑے خرید لاؤ اور مجھے ان میں کفن دینا، کیونکہ یہ مجھ پر تھوڑی ہی دیر باقی رہیں گے، پھر یا تو مجھے ان سے بہتر لباس پہنایا جائے گا، یا یہ مجھ سے بہت جلد چھین لیے جائیں گے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الحاء / حدیث: 2995
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 163، حدیث 3008
ثنا الْحَضْرَمِيُّ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ جُمَيْعٍ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ: «مَا مَنَعَنِي أَنْ أَشْهَدَ بَدْرًا إِلَّا أَنَّ الْمُشْرِكِينَ أَخَذُوا عَلَيْنَا» . فَذَكَرَ الْحَدِيثَ
ترجمہ
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: مجھے بدر میں شرکت سے اسی بات نے روکا کہ مشرکین نے ہم سے عہد لے لیا تھا۔ پھر انہوں نے آگے پوری حدیث بیان کی۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الحاء / حدیث: 2996
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 164، حدیث 3009
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبَانَ، ثنا عُبَيْدَةُ بْنُ أَسْوَدَ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: قُلْنَا: كَيْفَ أَصَابَ حُذَيْفَةُ مَا لَمْ يُصِبْ أَبُو بَكْرٍ وَلَا عُمَرُ؟ قَالَ صِلَةُ بْنُ زُفَرَ: قَدْ وَاللهِ سَأَلْنَا حُذَيْفَةَ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: كُنْتُ أَمْشِي مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَسِيرٍ ذَاتَ لَيْلَةٍ، فَأَدْلَجْنَا دُلْجَةً، فَنَعَسَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَاحِلَتِهِ، فَقَالَ أُنَاسٌ: لَوْ دَفَعْنَاهُ السَّاعَةَ فَوَقَعَ فَانْدَقَّتْ عُنُقُهُ اسْتَرَحْنَا مِنْهُ. فَلَمَّا سَمِعْتُهُمْ تَقَدَّمْتُهُمْ، فَسِرْتُ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُمْ، فَجَعَلْتُ أَقْرَأُ سُورَةً مِنَ الْقُرْآنِ، فَاسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «مَنْ هَذَا؟» قُلْتُ: حُذَيْفَةُ يَا رَسُولَ اللهِ. قَالَ: «ادْنُ» فَدَنَوْتُ، فَقَالَ: «مَا سَمِعْتَ هَؤُلَاءِ خَلْفَكَ مَا قَالُوا؟» قُلْتُ: بَلَى يَا رَسُولَ اللهِ؛ وَلِذَلِكَ سِرْتُ بَيْنَكَ وَبَيْنَهُمْ. قَالَ: «أَمَا إِنَّهُمْ مُنافِقُونَ، فُلَانٌ وَفُلَانٌ وَفُلَانٌ»
ترجمہ
شعبی رحمہ اللہ کہتے ہیں: ہم نے کہا: حذیفہ نے وہ بات کیسے حاصل کی جو نہ سیدنا ابوبکر اور نہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہما حاصل کر سکے؟ صلہ بن زفر رحمہ اللہ نے کہا: اللہ کی قسم! ہم نے سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے اس کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے فرمایا: میں ایک رات کے سفر میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ چل رہا تھا، ہم نے رات کا کچھ حصہ سفر کیا، تو رسول اللہ ﷺ کو اپنی سواری پر اونگھ آ گئی، تو کچھ لوگوں نے کہا: اگر ہم ابھی انہیں دھکا دے دیں تو وہ گر پڑیں گے اور ان کی گردن ٹوٹ جائے گی، اور ہمیں اس سے چھٹکارا مل جائے گا۔ جب میں نے ان کی باتیں سنیں تو میں ان سے آگے نکل گیا، اور میں ان کے اور رسول اللہ ﷺ کے درمیان چلنے لگا، اور میں قرآن کی ایک سورت پڑھنے لگا۔ اتنے میں رسول اللہ ﷺ بیدار ہو گئے اور پوچھا: ”یہ کون ہے؟“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں حذیفہ ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”قریب آؤ۔“ میں قریب ہوا تو آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا تم نے سنا کہ یہ لوگ تمہارے پیچھے کیا کہہ رہے تھے؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں، یا رسول اللہ! اسی لیے تو میں آپ کے اور ان کے درمیان چلا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”سن لو، یہ منافق ہیں: فلاں، فلاں اور فلاں۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الحاء / حدیث: 2997
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 164، حدیث 3010
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْخُزَاعِيُّ الْأَصْبَهَانِيُّ , ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ , ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ , عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ قَالَ: «خَيَّرَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْهِجْرَةَ وَالنَّصْرَةَ فَاخْتَرْتُ النَّصْرَةَ»
ترجمہ
سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے مجھے ہجرت اور نصرت (بغیر ہجرت کیے مدد کرنے) کے درمیان اختیار دیا، تو میں نے نصرت کو اختیار کیا۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الحاء / حدیث: 2998
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 164، حدیث 3011
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنَا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنِ الْحَجَّاجِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ صِلَةَ بْنِ زُفَرَ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ: أَخَذَنِي وَأَبِي الْمُشْرِكُونَ يَوْمَ بَدْرٍ، فَأَخَذُوا عَلَيْنَا عَهْدًا أَنْ لَا نُعِينَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «فُوا لَهُمْ، وَنَسْتَعِينُ اللهَ عَلَيْهِمْ»
ترجمہ
سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: مجھے اور میرے والد کو مشرکین نے بدر کے دن پکڑ لیا، اور ہم سے یہ عہد لیا کہ ہم نبی کریم ﷺ کی مدد نہیں کریں گے، تو ہم نے یہ بات نبی کریم ﷺ سے ذکر کی، آپ ﷺ نے فرمایا: ”ان سے کیا گیا وعدہ پورا کرو، اور ہم ان کے خلاف اللہ سے مدد مانگیں گے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الحاء / حدیث: 2999
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 165، حدیث 3012
حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنْبَاعِ رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ الْمِصْرِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُكَيْرٍ، قَالَ: «تُوُفِّيَ حُذَيْفَةُ بْنُ الْيَمَانِ سَنَةَ سِتٍّ وَثَلَاثِينَ»
ترجمہ
یحییٰ بن عبداللہ بن بکیر بیان کرتے ہیں: حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ چھتیس ہجری میں وفات پا گئے۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الحاء / حدیث: 3000
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 165، حدیث 3013
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، قَالَ: «مَاتَ حُذَيْفَةُ سَنَةَ سِتٍّ وَثَلَاثِينَ» .
ترجمہ
محمد بن عبداللہ بن نمیر بیان کرتے ہیں: حذیفہ رضی اللہ عنہ چھتیس ہجری میں وفات پا گئے۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الحاء / حدیث: 3001
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 165، حدیث 3014
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا مُصَرِّفُ بْنُ عَمْرٍو الْيَامِيُّ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، ثنا مُجَالِدٌ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ صِلَةَ بْنِ زُفَرَ، قَالَ: قُلْنَا لِحُذَيْفَةَ: كَيْفَ عَرَفْتَ أَمْرَ الْمُنَافِقِينَ، وَلَمْ يَعْرِفْهُ أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبُو بَكْرٍ وَلَا عُمَرُ رَضِي اللهُ عَنْهُمْ؟ قَالَ: إِنِّي كُنْتُ أَسِيرُ خَلْفَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَامَ عَلَى رَاحِلَتِهِ، فَسَمِعْتُ نَاسًا مِنْهُمْ يَقُولُونَ: لَوْ طَرَحْنَاهُ عَنْ رَاحِلَتِهِ فَانْدَقَّتْ عُنُقُهُ، فاسْتَرَحْنَا مِنْهُ. فَسِرْتُ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَهُ، وَجَعَلْتُ أَقْرَأُ وَأَرْفَعُ صَوْتِي، فَانْتَبَهَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «مَنْ هَذَا؟» فَقُلْتُ: حُذَيْفَةُ. قَالَ: «مَنْ هَؤُلَاءِ؟» قُلْتُ: فُلَانٌ وَفُلَانٌ، حَتَّى عَدَدْتُهُمْ. قَالَ: «أَوَسَمِعْتَ مَا قَالُوا؟» قُلْتُ: نَعَمْ؛ وَلِذَلِكَ سِرْتُ بَيْنَكَ وَبَيْنَهُمْ. قَالَ: «فَإِنَّ هَؤُلَاءِ فُلَانًا وَفُلَانًا - حَتَّى عَدَّ أَسْمَاءَهُمْ - مُنافِقُونَ، لَا تُخْبِرَنَّ أَحَدًا»
ترجمہ
صلہ بن زفر رحمہ اللہ کہتے ہیں: ہم نے سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ نے منافقین کا معاملہ کیسے پہچانا، جبکہ رسول اللہ ﷺ کے کسی صحابی نے، نہ سیدنا ابوبکر اور نہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہما نے، اسے نہیں پہچانا؟ فرمایا: میں رسول اللہ ﷺ کے پیچھے چل رہا تھا، تو آپ ﷺ کو اپنی سواری پر نیند آ گئی، تو میں نے ان میں سے کچھ لوگوں کو یہ کہتے سنا: اگر ہم انہیں سواری سے گرا دیں تو ان کی گردن ٹوٹ جائے، اور ہمیں اس سے چھٹکارا مل جائے۔ تو میں ان کے اور آپ ﷺ کے درمیان چلنے لگا، اور بلند آواز سے قرآن پڑھنے لگا، تو نبی کریم ﷺ بیدار ہو گئے اور پوچھا: ”یہ کون ہے؟“ میں نے عرض کیا: حذیفہ۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”یہ کون لوگ تھے؟“ میں نے کہا: فلاں اور فلاں، یہاں تک کہ میں نے ان سب کے نام گنوا دیے۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا تم نے سنا کہ انہوں نے کیا کہا؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں، اسی لیے تو میں آپ کے اور ان کے درمیان چلا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”سن لو، یہ فلاں اور فلاں“ — یہاں تک کہ آپ ﷺ نے ان کے نام گنوائے — ”منافق ہیں، کسی کو مت بتانا۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الحاء / حدیث: 3002
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 165، حدیث 3015