حدیث نمبر: 2997
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبَانَ، ثنا عُبَيْدَةُ بْنُ أَسْوَدَ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: قُلْنَا: كَيْفَ أَصَابَ حُذَيْفَةُ مَا لَمْ يُصِبْ أَبُو بَكْرٍ وَلَا عُمَرُ؟ قَالَ صِلَةُ بْنُ زُفَرَ: قَدْ وَاللهِ سَأَلْنَا حُذَيْفَةَ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: كُنْتُ أَمْشِي مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَسِيرٍ ذَاتَ لَيْلَةٍ، فَأَدْلَجْنَا دُلْجَةً، فَنَعَسَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَاحِلَتِهِ، فَقَالَ أُنَاسٌ: لَوْ دَفَعْنَاهُ السَّاعَةَ فَوَقَعَ فَانْدَقَّتْ عُنُقُهُ اسْتَرَحْنَا مِنْهُ. فَلَمَّا سَمِعْتُهُمْ تَقَدَّمْتُهُمْ، فَسِرْتُ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُمْ، فَجَعَلْتُ أَقْرَأُ سُورَةً مِنَ الْقُرْآنِ، فَاسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «مَنْ هَذَا؟» قُلْتُ: حُذَيْفَةُ يَا رَسُولَ اللهِ. قَالَ: «ادْنُ» فَدَنَوْتُ، فَقَالَ: «مَا سَمِعْتَ هَؤُلَاءِ خَلْفَكَ مَا قَالُوا؟» قُلْتُ: بَلَى يَا رَسُولَ اللهِ؛ وَلِذَلِكَ سِرْتُ بَيْنَكَ وَبَيْنَهُمْ. قَالَ: «أَمَا إِنَّهُمْ مُنافِقُونَ، فُلَانٌ وَفُلَانٌ وَفُلَانٌ»
ترجمہ

…وہ گر پڑا اور اس کی گردن ٹوٹ گئی، ہمیں اس سے چھٹکارا مل گیا۔ (راوی، یعنی حذیفہ، بیان کرتے ہیں) جب میں نے ان کی باتیں سنیں تو میں ان سے آگے نکل گیا، اور میں ان کے اور رسول اللہ ﷺ کے درمیان چلنے لگا، اور قرآن کی ایک سورت پڑھنے لگا۔ اتنے میں رسول اللہ ﷺ بیدار ہو گئے اور پوچھا: ”یہ کون ہے؟“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں حذیفہ ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”قریب آؤ۔“ میں قریب ہوا تو آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا تم نے سنا کہ یہ لوگ تمہارے پیچھے کیا کہہ رہے تھے؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں، یا رسول اللہ! اسی لیے تو میں آپ کے اور ان کے درمیان چلا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”سن لو، یہ منافق ہیں: فلاں، فلاں اور فلاں۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الحاء / حدیث: 2997
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 164، حدیث 3010