المعجم الكبير للطبراني
باب الحاء— حرف حا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
حذيفة بن اليمان، يكنى أبا عبد الله العبسي باب: سیدنا حذیفہ بن یمان عبسی رضی اللہ عنہ، کنیت ابوعبداللہ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبَانَ، ثنا عُبَيْدَةُ بْنُ أَسْوَدَ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: قُلْنَا: كَيْفَ أَصَابَ حُذَيْفَةُ مَا لَمْ يُصِبْ أَبُو بَكْرٍ وَلَا عُمَرُ؟ قَالَ صِلَةُ بْنُ زُفَرَ: قَدْ وَاللهِ سَأَلْنَا حُذَيْفَةَ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: كُنْتُ أَمْشِي مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَسِيرٍ ذَاتَ لَيْلَةٍ، فَأَدْلَجْنَا دُلْجَةً، فَنَعَسَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَاحِلَتِهِ، فَقَالَ أُنَاسٌ: لَوْ دَفَعْنَاهُ السَّاعَةَ فَوَقَعَ فَانْدَقَّتْ عُنُقُهُ اسْتَرَحْنَا مِنْهُ. فَلَمَّا سَمِعْتُهُمْ تَقَدَّمْتُهُمْ، فَسِرْتُ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُمْ، فَجَعَلْتُ أَقْرَأُ سُورَةً مِنَ الْقُرْآنِ، فَاسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «مَنْ هَذَا؟» قُلْتُ: حُذَيْفَةُ يَا رَسُولَ اللهِ. قَالَ: «ادْنُ» فَدَنَوْتُ، فَقَالَ: «مَا سَمِعْتَ هَؤُلَاءِ خَلْفَكَ مَا قَالُوا؟» قُلْتُ: بَلَى يَا رَسُولَ اللهِ؛ وَلِذَلِكَ سِرْتُ بَيْنَكَ وَبَيْنَهُمْ. قَالَ: «أَمَا إِنَّهُمْ مُنافِقُونَ، فُلَانٌ وَفُلَانٌ وَفُلَانٌ»شعبی رحمہ اللہ کہتے ہیں: ہم نے کہا: حذیفہ نے وہ بات کیسے حاصل کی جو نہ سیدنا ابوبکر اور نہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہما حاصل کر سکے؟ صلہ بن زفر رحمہ اللہ نے کہا: اللہ کی قسم! ہم نے سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے اس کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے فرمایا: میں ایک رات کے سفر میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ چل رہا تھا، ہم نے رات کا کچھ حصہ سفر کیا، تو رسول اللہ ﷺ کو اپنی سواری پر اونگھ آ گئی، تو کچھ لوگوں نے کہا: اگر ہم ابھی انہیں دھکا دے دیں تو وہ گر پڑیں گے اور ان کی گردن ٹوٹ جائے گی، اور ہمیں اس سے چھٹکارا مل جائے گا۔ جب میں نے ان کی باتیں سنیں تو میں ان سے آگے نکل گیا، اور میں ان کے اور رسول اللہ ﷺ کے درمیان چلنے لگا، اور میں قرآن کی ایک سورت پڑھنے لگا۔ اتنے میں رسول اللہ ﷺ بیدار ہو گئے اور پوچھا: ”یہ کون ہے؟“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں حذیفہ ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”قریب آؤ۔“ میں قریب ہوا تو آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا تم نے سنا کہ یہ لوگ تمہارے پیچھے کیا کہہ رہے تھے؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں، یا رسول اللہ! اسی لیے تو میں آپ کے اور ان کے درمیان چلا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”سن لو، یہ منافق ہیں: فلاں، فلاں اور فلاں۔“