حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الرَّقِّيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّقِّيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَسَاهُ قِبْطِيَّةً مِمَّا أَهْدَاهُ لَهُ دِحْيَةُ الْكَلْبِيُّ، فَكَسَوْتُهَا امْرَأَتِي، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا لَكَ لَا تَلْبَسُ الْقِبْطِيَّةَ؟» قُلْتُ: كَسَوْتُهَا امْرَأَتِي، قَالَ: «مُرْهَا أَنْ تَجْعَلَ تَحْتَهَا غِلَالَةً، فَإِنِّي أَخَافُ أَنْ تَصِفَ عِظَامَهَا»
ترجمہ
…اپنے والد سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے انہیں ایک قبطی کپڑا پہنایا جو دحیہ الکلبی نے آپ ﷺ کو تحفے میں دیا تھا، تو میں نے وہ اپنی بیوی کو پہنا دیا۔ رسول اللہ ﷺ نے پوچھا: ”تم قبطی کپڑا کیوں نہیں پہنتے؟“ میں نے عرض کیا: میں نے وہ اپنی بیوی کو پہنا دیا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے کہو کہ وہ اس کے نیچے ایک استر پہن لے، کیونکہ مجھے خدشہ ہے کہ اس کی ہڈیوں کا خاکہ نمایاں ہو جائے۔“
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ السَّبَّاقِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: لَمَّا ثَقُلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَبَطْتُ وَهَبَطَ النَّاسُ إِلَى الْمَدِينَةِ، فَدَخَلْتُ عَلَيْهِ وَقَدْ أَصْمَتَ وَهُوَ لَا يَتَكَلَّمُ فَجَعَلَ «يَرْفَعُ يَدَهُ إِلَى السَّمَاءِ وَيَصُبُّهَا عَلَيَّ» فَعَرَفْتُ أَنَّهُ يَدْعُو لِي
ترجمہ
…محمد بن اسامہ بن زید اپنے والد سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: جب نبی کریم ﷺ کی بیماری شدید ہو گئی تو میں اور دوسرے لوگ مدینہ کی طرف اترے، تو میں آپ ﷺ کے پاس گیا جبکہ آپ ﷺ خاموش تھے اور بول نہیں رہے تھے، تو آپ ﷺ اپنا ہاتھ آسمان کی طرف اٹھا کر مجھ پر ڈالنے لگے، تو میں سمجھ گیا کہ آپ ﷺ میرے لیے دعا فرما رہے ہیں۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عِقَالٍ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ النُّفَيْلِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ قُسَيْطٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِجَعْفَرٍ: «خَلْقُكَ كَخَلْقِي، وَأَنْتَ مِنِّي، وَأَنْتَ يَا عَلِيُّ، فَمِنِّي وَأَبُو وَلَدِي»
ترجمہ
…محمد بن اسامہ بن زید اپنے والد سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے جعفر سے فرمایا: ”تمہاری خِلقت میری خِلقت جیسی ہے، اور تم مجھ سے ہو۔ اور اے علی! تم بھی مجھ سے ہو اور میرے بیٹے کے والد ہو۔“
حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ عَمْرٍو الْعُكْبَرِيُّ، ثنا مُعَلَّى بْنُ مَهْدِيٍّ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ
ترجمہ
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نبی کریم ﷺ سے بھی اسی طرح کی حدیث روایت کرتے ہیں۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سُوَيْدٍ الشِّبَامِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، مَوْلَى سِبَاعٍ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا أَتَى جَمْعًا صَلَّى بِهَا الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ»
ترجمہ
…سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ جب مزدلفہ (جمع) پہنچے تو وہاں مغرب اور عشاء کی نماز پڑھی۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدُوسٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبَانَ، ثنا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، أَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي ظَبْيَانَ، عَنْ أُسَامَةَ، قَالَ: «بَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً إِلَى الْحُرُقَاتِ» الْحَدِيثَ
ترجمہ
سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے حُرقات کی طرف ایک لشکر بھیجا... (آگے حدیث بیان کی)۔
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يَزِيدَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ، ثنا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، ثنا عَيَّاشُ بْنُ عَبَّاسٍ، أَنَّ أَبَا النَّضْرِ، أَخْبَرَهُ أَنَّ عَامِرَ بْنَ سَعْدٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ أَخْبَرَهُ، قَالَ: " جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنِّي أَعْزِلُ " وَذَكَرَ الْحَدِيثَ
ترجمہ
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما بتاتے ہیں: ایک آدمی نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور کہا: میں عزل کرتا ہوں (یعنی مباشرت میں انزال باہر کرتا ہوں)... اور آگے حدیث بیان کی۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ هَذَا الْوَبَاءَ رِجْزٌ» فَذَكَرَ الْحَدِيثَ
ترجمہ
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”یہ وبا ایک عذاب ہے“... اور آگے حدیث بیان کی۔
حَدَّثَنَا إِدْرِيسُ بْنُ جَعْفَرٍ الْعَطَّارُ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أُسَامَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ هَذَا الْوَبَاءَ رِجْزٌ» فَذَكَرَ الْحَدِيثَ
ترجمہ
سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہما نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ وبا ایک عذاب ہے“... اور آگے حدیث بیان کی۔
حَدَّثَنَا مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَزْدِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي عَقِيلٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ أَخْبَرَهُ، قَالَ: «رَكِبْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى حِمَارٍ عَلَى إِكَافٍ عَلَى قَطِيفَةٍ» فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ
ترجمہ
…سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما بتاتے ہیں: میں نبی کریم ﷺ کے ساتھ ایک گدھے پر، جس پر ایک کملی سے ڈھکا ہوا پالان تھا، سوار ہوا... اور پوری حدیث بیان کی۔
حَدَّثَنَا إِدْرِيسُ بْنُ جَعْفَرٍ الْعَطَّارُ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، أَنَّهُ دَفَعَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشِيَّةَ عَرَفَةَ، فَصَارَ إِلَى الْمَضِيقِ، فَأَنَاخَ رَاحِلَتَهُ فَقَضَى حَاجَتَهُ، ثُمَّ جَاءَ فَجَعَلَ يَتَوَضَّأُ وَأُسَامَةُ يَصُبُّ عَلَيْهِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، الصَّلَاةَ، قَالَ: «الْمُصَلَّى أَمَامَكَ»
ترجمہ
…نبی کریم ﷺ تنگ راستے میں پہنچے تو اپنی سواری بٹھا کر قضائے حاجت کی، پھر آئے اور وضو کرنے لگے جبکہ اسامہ پانی ڈال رہے تھے، تو عرض کیا گیا: یا رسول اللہ! نماز کا وقت ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نماز کی جگہ تمہارے آگے ہے۔“
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ، ثنا خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ الْعُمَرِيُّ، ثنا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنْ أُسَامَةَ، قَالَ: دَخَلَتْ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْكَآبَةُ، فَقُلْتُ: مَا لَكَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: «إِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَعَدَنِي أَنْ يَأْتِيَنِي وَلَمْ يَأْتِنِي مُنْذُ ثَلَاثٍ» . قَالَ: وَإِذَا كَلْبٌ، قَالَ أُسَامَةُ: فَوَضَعْتُ يَدِي عَلَى رَأْسِي فَصِحْتُ، فَقَالَ: «مَا لَكَ يَا أُسَامَةُ؟» فَقُلْتُ: كَلْبٌ. فَأَمَرَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُتِلَ، ثُمَّ أَتَاهُ جِبْرِيلُ، فَقَالَ: " مَا لَكَ لَمِ تَأْتِنِي، وَكُنْتَ إِذَا وَعَدْتَنِي لَمْ تُخْلِفْنِي، فَقَالَ: إِنَّا لَا نَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلَا تَصَاوِيرُ "
ترجمہ
…اسامہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: نبی کریم ﷺ پر افسردگی طاری ہوئی، تو میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا بات ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جبریل علیہ السلام نے مجھ سے آنے کا وعدہ کیا تھا مگر تین دن سے نہیں آئے۔“ اتنے میں دیکھا تو ایک کتا وہاں موجود تھا۔ اسامہ کہتے ہیں: تو میں نے اپنا ہاتھ اپنے سر پر رکھا اور چیخ اٹھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے اسامہ! کیا بات ہے؟“ میں نے عرض کیا: کتا ہے۔ تو نبی کریم ﷺ نے اس کے نکالے جانے کا حکم دیا، تو وہ مار دیا گیا۔ پھر جبریل آئے تو آپ ﷺ نے فرمایا: تم کیوں نہیں آئے، جبکہ تم جب وعدہ کرتے تو خلاف وعدہ نہیں کرتے تھے؟ جبریل نے کہا: ہم اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا ہو یا تصویریں ہوں۔
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُهَاجِرٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، حَدَّثَنِي كُرَيْبٌ، أَنَّ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ أَخْبَرَهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ: «أَلَا مُشَمِّرٌ لِلْجَنَّةِ؟ هِيَ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ نُورٌ يَتَلَأْلَأُ، وَرَيْحَانَةٌ تَهْتَزُّ، وَنَهَرٌ مُطَّرِدٌ، وَزَوْجَةٌ حَسْنَاءُ جَمِيلَةٌ فِي رَوْضَةٍ، وَحِبْرَةٍ فِي إِقَامَةِ الْأَبَدِ»
ترجمہ
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما بتاتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کیا کوئی ہے جو جنت کے لیے کمر کس لے؟ رب کعبہ کی قسم! وہ ایک چمکتا ہوا نور ہے، لہلہاتا ہوا پھول ہے، ایک بہتی ہوئی نہر ہے، ایک باغ میں حسین و جمیل بیوی ہے، اور ہمیشہ کے لیے خوشی و مسرت ہے۔“
حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الدِّمَشْقِيُّ، ثنا أَبُو الْيَمَانِ الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ، أَنَا شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ يَأْخُذُونَ الْعَفْوَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ، وَأَهْلِ الْكِتَابِ كَمَا أَمَرَهُمُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ، وَيَصْبِرُوا عَلَى الْأَذَى قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {وَلَتَسْمَعُنَّ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِكُمْ، وَمِنَ الَّذِينَ أَشْرَكُوا أَذًى كَثِيرًا} [آل عمران: ١٨٦] الْآيَةَ، وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَأَوَّلُ فِي الْعَفْوِ مَا أَمَرَهُ اللهُ بِهِ، حَتَّى أَذِنَ اللهُ فِيهِمْ، فَلَمَّا غَزَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَدْرًا فَقَتَلَ اللهُ مَنْ قَتَلَ مِنَ الْكُفَّارِ مِنْ صَنَادِيدِ قُرَيْشٍ " قَالَ ابْنُ أُبَيٍّ، وَمَنْ مَعَهُ مِنَ الْمُشْرِكِينَ: هَذَا أَمْرٌ قَدْ تَوَجَّهَ لَهُ، فَبَايِعُوا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْإِسْلَامِ، فَأَسْلَمُوا
ترجمہ
…سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ اور آپ ﷺ کے صحابہ مشرکین اور اہل کتاب سے درگزر کرتے تھے جیسا اللہ عزوجل نے انہیں حکم دیا تھا، اور تکلیف پر صبر کرتے تھے۔ اللہ عزوجل نے فرمایا: ”اور تم اپنے سے پہلے کتاب دیے جانے والوں اور مشرکین سے بہت سی تکلیف دہ باتیں سنو گے“ [آل عمران: 186] پوری آیت۔ اور نبی کریم ﷺ اللہ کے حکم کے مطابق درگزر پر عمل کرتے رہے، یہاں تک کہ اللہ نے ان کے بارے میں جنگ کی اجازت دے دی۔ جب نبی کریم ﷺ نے بدر کی جنگ کی اور اللہ نے قریش کے بڑے سرداروں میں سے جنہیں مارا جانا تھا مروا دیا، تو ابن ابی (سلول) اور اس کے ساتھ کے مشرکین نے کہا: یہ معاملہ اب واضح ہو چکا ہے، چنانچہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے اسلام پر بیعت کی اور مسلمان ہو گئے۔
حَدَّثَنَا أَبُو عَقِيلٍ أَنَسُ بْنُ سَلْمٍ الْخَوْلَانِيُّ، ثنا أَبُو الْأَصْبَغِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ يَحْيَى الْحَرَّانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُ عَبْدَ اللهِ بْنَ أُبَيٍّ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ، وَأَنَا مَعَهُ، فَعَرَفَ فِيهِ الْمَوْتَ، فَقَالَ: «كُنْتُ أَنْهَاكَ عَنْ حُبِّ الْيَهُودِ» قَالَ أَسْعَدُ بْنُ زُرَارَةَ: مَاتَ فَمُهُ؟ فَلَمَّا مَاتَ أَتَاهُ ابْنُهُ عَبْدُ اللهِ، فَقَالَ: إِنَّ عَبْدَ اللهِ مَاتَ، فَأَعْطِنِي قَمِيصَكَ أُكَفِّنْهُ فِيهِ، فَنَزَعَ قَمِيصَهُ فَأَلْبَسَهُ إِيَّاهُ
ترجمہ
…سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ عبداللہ بن ابی (سلول) کی اس بیماری میں عیادت کے لیے نکلے جس میں وہ فوت ہوا، اور میں آپ ﷺ کے ساتھ تھا۔ آپ ﷺ نے اس میں موت کے آثار دیکھے تو فرمایا: ”میں تمہیں یہودیوں سے محبت رکھنے سے منع کیا کرتا تھا۔“ اسعد بن زرارہ نے کہا: کیا وہ اپنی بات پر اڑا رہ کر مر گیا؟ جب وہ فوت ہو گیا تو اس کا بیٹا عبداللہ رضی اللہ عنہ آپ ﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا: عبداللہ (میرا والد) فوت ہو گیا ہے، مجھے اپنی قمیص دے دیجیے تاکہ میں اسے اس میں کفن دوں۔ تو آپ ﷺ نے اپنی قمیص اتار کر انہیں دے دی۔
حَدَّثَنَا أَبُو حُصَيْنٍ الْقَاضِي، ثنا يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، ثنا هُشَيْمٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ أُسَامَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَرِثُ الْكَافِرُ الْمُسْلِمَ، وَلَا الْمُسْلِمُ الْكَافِرَ، وَلَا يَتَوَارَثُ أَهْلُ مِلَّتَيْنِ»
ترجمہ
…سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہما نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں: ”کافر مسلمان کا وارث نہیں بنے گا، اور نہ مسلمان کافر کا، اور دو مختلف مذاہب والے ایک دوسرے کے وارث نہیں بنیں گے۔“
حَدَّثَنَا أَبُو حُصَيْنٍ، ثنا يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، ثنا خَالِدٌ الْوَاسِطِيُّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أُسَامَةَ، قَالَ: أَوْجَرْتُ رَجُلًا الرُّمْحَ وَهُوَ يَقُولُ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأُسَامَةَ: «كَيْفَ لَكَ بِلَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟» قَالَ ذَلِكَ مِرَارًا حَتَّى وَدِدْتُ أَنِّي لَمْ أَكُنْ أَسْلَمْتُ قَبْلَ تِلْكَ السَّاعَةِ
ترجمہ
…اسامہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: میں نے ایک آدمی کو نیزہ مارا جبکہ وہ ”لا الٰہ الا اللہ“ کہہ رہا تھا، تو نبی کریم ﷺ نے اسامہ سے فرمایا: ”تم قیامت کے دن ‘لا الٰہ الا اللہ’ کا کیا جواب دو گے؟“ آپ ﷺ نے یہ بات بار بار دہرائی، یہاں تک کہ میں نے تمنا کی کہ کاش میں اس گھڑی سے پہلے اسلام نہ لایا ہوتا۔
حَدَّثَنَا أَبُو حُصَيْنٍ الْقَاضِي، ثنا يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، ثنا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ، عَنْ كُلْثُومٍ الْخُزَاعِيِّ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ: اسْتَأْذَنْتُ لِأُنَاسٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَذِنَ لَهُمْ، فَإِذَا هُوَ مُقَنِّعٌ رَأْسَهُ بِبُرْدٍ لَهُ مَعَافِرِيٍّ، فَكَشَفَ الْقِنَاعَ عَنْ رَأْسِهِ ثُمَّ قَالَ: «لَعَنَ اللهُ الْيَهُودَ اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ»
ترجمہ
…میں نے نبی کریم ﷺ کے صحابہ میں سے کچھ لوگوں کے لیے اجازت مانگی، تو آپ ﷺ نے انہیں اجازت دے دی، جبکہ آپ ﷺ نے اپنا سر ایک معافری چادر سے ڈھانپ رکھا تھا، تو آپ ﷺ نے اپنے سر سے چادر ہٹائی، پھر فرمایا: ”اللہ یہودیوں پر لعنت کرے، انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا۔“
حَدَّثَنَا أَبُو حُصَيْنٍ، ثنا يَحْيَى، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي ظَبْيَانَ، عَنْ أُسَامَةَ، «بَعَثَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْحُرُقَاتِ» فَذَكَرَ الْحَدِيثَ
ترجمہ
سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے ہمیں حُرقات کی طرف بھیجا... اور آگے حدیث بیان کی۔
حَدَّثَنَا أَبُو حُصَيْنٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ أُسَامَةَ، سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «يُؤْتَى بِالرَّجُلِ» فَذَكَرَ الْحَدِيثَ
ترجمہ
سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: میں نے نبی کریم ﷺ کو فرماتے سنا: ”ایک آدمی کو لایا جائے گا“... اور آگے حدیث بیان کی۔
ثنا أَبُو حُصَيْنٍ، ثنا يَحْيَى، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أَبِي الشَّعْثَاءِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ أُسَامَةَ، أَنَّهُ «رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ الْبَيْتَ» الْحَدِيثَ
ترجمہ
سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کو گھر میں داخل ہوتے دیکھا... (آگے حدیث بیان کی)۔
حَدَّثَنَا أَبُو حُصَيْنٍ، ثنا يَحْيَى، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أُسَامَةَ «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ»
ترجمہ
سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے موزوں پر مسح فرمایا۔
حَدَّثَنَا أَبُو حُصَيْنٍ، ثنا يَحْيَى، ثنا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أُسَامَةَ، قَالَ: «بُعِثَ بَنَاتُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» الْحَدِيثَ
ترجمہ
سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: نبی کریم ﷺ کی صاحبزادیوں کو بھیجا گیا... (آگے حدیث بیان کی)۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْحُصَيْنِ، ثنا يَحْيَى، ثنا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ، عَنِ ابْنِ أَفْلَحَ، مَوْلَى أَبِي أَيُّوبَ، عَنْ أُسَامَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يُحِبُّ الْفَاحِشَ الْمُتَفَحِّشَ»
ترجمہ
سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہما نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں: ”بےشک اللہ عزوجل بدزبان، بدکلامی کرنے والے کو پسند نہیں فرماتا۔“
حَدَّثَنَا أَبُو حُصَيْنٍ، ثنا يَحْيَى، ثنا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ صَالِحِ بْنِ أَبِي الْأَخْضَرِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ أُسَامَةَ، «أَمَرَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَغِيرَ عَلَى أَبْنَاءِ صُبَاحٍ وَأُحَرِّقَ»
ترجمہ
سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: نبی کریم ﷺ نے مجھے حکم دیا کہ میں بنو صباح پر حملہ کروں اور ان کے علاقے کو جلا دوں۔
حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَمْزَةَ الزُّبَيْرِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، حَدَّثَنِي ابْنُ ضِمْرَى مَوْلَى أُسَامَةَ، عَنْ أُسَامَةَ، أَنَّ رَجُلًا قَدِمَ مِنْ بَعْضِ الْأَرْيَافِ، فَأَخَذَهُ الْوَجَعُ، فَرَجَعَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ لَا يَطْلُعَ عَلَيْنَا نِقَابُهَا» يَعْنِي نِقَابَ الْمَدِينَةِ
ترجمہ
…سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک آدمی کسی دیہات سے آیا، اسے بیماری لاحق ہوئی، تو وہ واپس چلا گیا۔ تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”مجھے امید ہے کہ اس کا وبا ہم پر مدینہ کے راستوں سے داخل نہیں ہو گا“ - یعنی مدینہ کے راستے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدُوسِ بْنِ كَامِلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبَانَ، ثنا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ أُسَامَةَ، قَالَ: أَمَا إِنِّي لَا أَقُولُ لِرَجُلٍ: أَنْتَ خَيْرُ النَّاسِ، بَعْدَ مَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «يُجَاءُ بِرَجُلٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» الْحَدِيثَ
ترجمہ
…اسامہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: سن لو، میں کسی آدمی سے یہ نہیں کہتا کہ تم سب لوگوں سے بہتر ہو، اس کے بعد کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”ایک آدمی کو قیامت کے دن لایا جائے گا“... (آگے حدیث بیان کی)۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، عَنِ الْأَجْلَحِ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أُسَامَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ هَذَا الطَّاعُونَ رِجْزٌ وَعَذَابٌ، عُذِّبَ بِهِ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ، فَإِذَا كَانَ بِأَرْضٍ فَلَا تَخْرُجُوا مِنْهَا، وَإِذَا وَقَعَ بِأَرْضٍ وَلَسْتُمْ بِهَا فَلَا تَدْخُلُوهَا»
ترجمہ
سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”یہ طاعون ایک عذاب اور سزا ہے، جس سے تم سے پہلے لوگوں کو عذاب دیا گیا۔ جب یہ کسی زمین میں ہو تو وہاں سے مت نکلو، اور جب یہ کسی ایسی زمین میں پھیل جائے جہاں تم موجود نہ ہو تو وہاں داخل نہ ہو۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْبَرْبَهَارِيُّ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ، ح وَحَدَّثَنَا الْمِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ثنا ابْنُ يَحْيَى بْنِ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَفْلَحَ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ اللهَ لَا يُحِبُّ الْفَاحِشَ الْمُتَفَحِّشَ»
ترجمہ
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ”اللہ تعالیٰ بےحیائی کرنے والے اور بےحیائی پھیلانے والے کو پسند نہیں فرماتا۔“
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْحَاقَ يُحَدِّثُ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، قَالَ: رَأَيْتُ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ عِنْدَ حُجْرَةِ عَائِشَةَ يَدْعُو، فَجَاءَ مَرْوَانُ فَأَسْمَعَهُ كَلَامًا، فَقَالَ أُسَامَةُ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يُبْغِضُ الْفَاحِشَ الْبَذِيءَ»
ترجمہ
ایک راوی بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے کے پاس دعا کرتے دیکھا، اتنے میں مروان آیا اور انہیں کچھ سنایا، تو سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے: ”اللہ عزوجل بےحیا اور بدزبان شخص سے نفرت فرماتا ہے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدُوسِ بْنِ كَامِلٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبَانَ، ثنا مُحَاضِرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أَبِي الشَّعْثَاءِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «دَخَلَ الْبَيْتَ فَمَشَى حَتَّى تَوَسَّطَ، فَدَنَا إِلَى الْحَائِطِ، وَدَخَلَ بَيْنَ أُسَامَةَ، وَبِلَالٍ» الْحَدِيثَ
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ (کعبہ کے) گھر میں داخل ہوئے اور چل کر بیچ میں پہنچے، پھر دیوار کے قریب ہوئے اور سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کے درمیان کھڑے ہوئے۔
حَدَّثَنَا الْأَسْفَاطِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ الْعُمَرِيُّ، ثنا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مِهْرَانَ، عَنْ عُمَيْرٍ، مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: دَخَلَ الْبَيْتَ فَرَأَى صُوَرًا فَدَعَا بِمَاءٍ، فَجَعَلَ يَمْحُوهَا وَيَقُولُ: «قَاتَلَ اللهُ قَوْمًا يُصَوِّرُونَ مَا لَا يَخْلُقُونَ»
ترجمہ
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ (کعبہ کے) گھر میں داخل ہوئے تو تصویریں دیکھیں، چنانچہ پانی منگوایا اور انہیں مٹانے لگے اور فرماتے جاتے: ”اللہ ایسے لوگوں کو ہلاک کرے جو ایسی چیزیں بناتے ہیں جنہیں وہ خود پیدا نہیں کرتے۔“
وَعَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ زِبْرَقَانَ، عَنْ زُهْرَةَ، عَنْ أُسَامَةَ «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الظُّهْرَ بِالْهَجِيرِ»
ترجمہ
سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ظہر کی نماز سخت گرمی کے وقت ادا کی۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ دُحَيْمٍ، ثنا أَبِي، ثنا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْحَكَمِ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تُعْرَضُ الْأَعْمَالُ عَلَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسِ، فَيَغْفِرُ اللهُ إِلَّا مَا كَانَ مِنْ مُشَاحِنَيْنِ، أَوْ قَاطِعِ رَحِمٍ»
ترجمہ
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اعمال پیر اور جمعرات کے دن اللہ عزوجل کے سامنے پیش کیے جاتے ہیں، تو اللہ (سب کو) بخش دیتا ہے سوائے آپس میں دشمنی رکھنے والوں اور رشتہ توڑنے والے کے۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَبَّاسِ، ثنا أَبُو مَسْعُودٍ، حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ الرَّازِيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي قَيْسٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ أَخِيهِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ: {فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِنَفْسِهِ وَمِنْهُمْ مُقْتَصِدٌ} [فاطر: ٣٢] الْآيَةَ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كُلُّهُمْ مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ»
ترجمہ
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ اس آیت کے بارے میں بیان کرتے ہیں: ”پھر ان میں سے کوئی اپنی جان پر ظلم کرنے والا ہے اور کوئی میانہ رو ہے“ [سورۃ فاطر: 32]، فرمایا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”یہ سب اسی امت میں سے ہیں۔“
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ، أَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ غُرَابٍ، ثنا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ، عَنْ كُلْثُومٍ الْخُزَاعِيِّ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ: «لَعَنَ اللهُ الْيَهُودَ اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ»
ترجمہ
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اپنے اس مرض میں جس میں آپ کی وفات ہوئی فرمایا: ”اللہ یہود پر لعنت کرے، انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو مسجد بنا لیا۔“
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، ح وَحَدَّثَنَا إِدْرِيسُ بْنُ جَعْفَرٍ الْعَطَّارُ، ثنا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلْمٍ الرَّازِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عِمْرَانَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا زَمْعَةُ بْنُ صَالِحٍ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ بُدَيْلِ بْنِ وَرْقَاءَ الْخُزَاعِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَزْدِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي عَقِيلُ بْنُ خَالِدٍ، ح وَحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ كَامِلٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، ح وَحَدَّثَنَا مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَزْدِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْهَادِ، ح وَحَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ هَاشِمٍ الْبَغَوِيُّ، ثنا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، ثنا أَبِي، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ، ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ هَاشِمٍ الْبَعْلَبَكِّيُّ، ثنا أَبِي، ثنا سُوَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ حُسَيْنٍ، ح وَحَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، كُلُّهُمْ عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يَرِثُ الْمُسْلِمُ الْكَافِرَ، وَلَا الْكَافِرُ الْمُسْلِمَ» زَادَ مَعْمَرٌ، وَسُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ، وَصَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ فِي حَدِيثِهِمْ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «وَهَلْ تَرَكَ لَنَا عَقِيلٌ مِنْ دَارٍ؟»
ترجمہ
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”مسلمان کافر کا وارث نہیں بنتا، اور نہ کافر مسلمان کا وارث بنتا ہے۔“
معمر، سفیان بن حسین اور صالح بن کیسان نے اپنی روایت میں یہ اضافہ کیا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”کیا عقیل نے ہمارے لیے کوئی گھر چھوڑا ہے؟“
معمر، سفیان بن حسین اور صالح بن کیسان نے اپنی روایت میں یہ اضافہ کیا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”کیا عقیل نے ہمارے لیے کوئی گھر چھوڑا ہے؟“
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سُوَيْدٍ الشِّبَامِيُّ، أَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَيْنَ مَنْزِلُنَا غَدًا؟ قَالَ: «وَهَلْ تَرَكَ لَنَا عَقِيلٌ مِنْ دَارٍ أَوْ رِبَاعٍ؟ مَنْزِلُنَا بِخَيْفِ بَنِي كِنَانَةَ حَيْثُ تَقَاسَمَتْ قُرَيْشٌ عَلَى الْكُفْرِ»
ترجمہ
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کل ہمارا ٹھکانہ کہاں ہوگا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا عقیل نے ہمارے لیے کوئی گھر یا مکان چھوڑا ہے؟ ہمارا ٹھکانہ خیفِ بنی کنانہ میں ہوگا، جہاں قریش نے کفر پر (اتفاق کرنے کی) قسمیں کھائی تھیں۔“
حَدَّثَنَا إِدْرِيسُ بْنُ جَعْفَرٍ الْعَطَّارُ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ: «لَمْ يَزَلْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسِيرُ عَلَى هَيْأَتِهِ حِينَ أَفَاضَ مِنْ جَمْعٍ»
ترجمہ
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: مزدلفہ سے واپسی کے وقت رسول اللہ ﷺ اپنی (پہلے والی) رفتار ہی سے چلتے رہے۔