حدیث نمبر: 384
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ، ثنا خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ الْعُمَرِيُّ، ثنا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنْ أُسَامَةَ، قَالَ: دَخَلَتْ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْكَآبَةُ، فَقُلْتُ: مَا لَكَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: «إِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَعَدَنِي أَنْ يَأْتِيَنِي وَلَمْ يَأْتِنِي مُنْذُ ثَلَاثٍ» . قَالَ: وَإِذَا كَلْبٌ، قَالَ أُسَامَةُ: فَوَضَعْتُ يَدِي عَلَى رَأْسِي فَصِحْتُ، فَقَالَ: «مَا لَكَ يَا أُسَامَةُ؟» فَقُلْتُ: كَلْبٌ. فَأَمَرَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُتِلَ، ثُمَّ أَتَاهُ جِبْرِيلُ، فَقَالَ: " مَا لَكَ لَمِ تَأْتِنِي، وَكُنْتَ إِذَا وَعَدْتَنِي لَمْ تُخْلِفْنِي، فَقَالَ: إِنَّا لَا نَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلَا تَصَاوِيرُ "
ترجمہ

…اسامہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: نبی کریم ﷺ پر افسردگی طاری ہوئی، تو میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا بات ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جبریل علیہ السلام نے مجھ سے آنے کا وعدہ کیا تھا مگر تین دن سے نہیں آئے۔“ اتنے میں دیکھا تو ایک کتا وہاں موجود تھا۔ اسامہ کہتے ہیں: تو میں نے اپنا ہاتھ اپنے سر پر رکھا اور چیخ اٹھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے اسامہ! کیا بات ہے؟“ میں نے عرض کیا: کتا ہے۔ تو نبی کریم ﷺ نے اس کے نکالے جانے کا حکم دیا، تو وہ مار دیا گیا۔ پھر جبریل آئے تو آپ ﷺ نے فرمایا: تم کیوں نہیں آئے، جبکہ تم جب وعدہ کرتے تو خلاف وعدہ نہیں کرتے تھے؟ جبریل نے کہا: ہم اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا ہو یا تصویریں ہوں۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الألف / حدیث: 384
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 162، حدیث 387