المعجم الكبير للطبراني
باب الألف— حرف الف سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
وما أسند أسامة بن زيد رضي الله عنه باب: سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کی مرویات
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ، ثنا خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ الْعُمَرِيُّ، ثنا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنْ أُسَامَةَ، قَالَ: دَخَلَتْ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْكَآبَةُ، فَقُلْتُ: مَا لَكَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: «إِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَعَدَنِي أَنْ يَأْتِيَنِي وَلَمْ يَأْتِنِي مُنْذُ ثَلَاثٍ» . قَالَ: وَإِذَا كَلْبٌ، قَالَ أُسَامَةُ: فَوَضَعْتُ يَدِي عَلَى رَأْسِي فَصِحْتُ، فَقَالَ: «مَا لَكَ يَا أُسَامَةُ؟» فَقُلْتُ: كَلْبٌ. فَأَمَرَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُتِلَ، ثُمَّ أَتَاهُ جِبْرِيلُ، فَقَالَ: " مَا لَكَ لَمِ تَأْتِنِي، وَكُنْتَ إِذَا وَعَدْتَنِي لَمْ تُخْلِفْنِي، فَقَالَ: إِنَّا لَا نَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلَا تَصَاوِيرُ "…اسامہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: نبی کریم ﷺ پر افسردگی طاری ہوئی، تو میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا بات ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جبریل علیہ السلام نے مجھ سے آنے کا وعدہ کیا تھا مگر تین دن سے نہیں آئے۔“ اتنے میں دیکھا تو ایک کتا وہاں موجود تھا۔ اسامہ کہتے ہیں: تو میں نے اپنا ہاتھ اپنے سر پر رکھا اور چیخ اٹھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے اسامہ! کیا بات ہے؟“ میں نے عرض کیا: کتا ہے۔ تو نبی کریم ﷺ نے اس کے نکالے جانے کا حکم دیا، تو وہ مار دیا گیا۔ پھر جبریل آئے تو آپ ﷺ نے فرمایا: تم کیوں نہیں آئے، جبکہ تم جب وعدہ کرتے تو خلاف وعدہ نہیں کرتے تھے؟ جبریل نے کہا: ہم اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا ہو یا تصویریں ہوں۔