المعجم الكبير للطبراني
باب الألف— حرف الف سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
وما أسند أسامة بن زيد رضي الله عنه باب: سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کی مرویات
حدیث نمبر: 374
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ السَّبَّاقِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: لَمَّا ثَقُلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَبَطْتُ وَهَبَطَ النَّاسُ إِلَى الْمَدِينَةِ، فَدَخَلْتُ عَلَيْهِ وَقَدْ أَصْمَتَ وَهُوَ لَا يَتَكَلَّمُ فَجَعَلَ «يَرْفَعُ يَدَهُ إِلَى السَّمَاءِ وَيَصُبُّهَا عَلَيَّ» فَعَرَفْتُ أَنَّهُ يَدْعُو لِيترجمہ
…محمد بن اسامہ بن زید اپنے والد سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: جب نبی کریم ﷺ کی بیماری شدید ہو گئی تو میں اور دوسرے لوگ مدینہ کی طرف اترے، تو میں آپ ﷺ کے پاس گیا جبکہ آپ ﷺ خاموش تھے اور بول نہیں رہے تھے، تو آپ ﷺ اپنا ہاتھ آسمان کی طرف اٹھا کر مجھ پر ڈالنے لگے، تو میں سمجھ گیا کہ آپ ﷺ میرے لیے دعا فرما رہے ہیں۔