المعجم الكبير للطبراني
باب الألف— حرف الف سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
وما أسند أسامة بن زيد رضي الله عنه باب: سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کی مرویات
حدیث نمبر: 373
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الرَّقِّيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّقِّيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَسَاهُ قِبْطِيَّةً مِمَّا أَهْدَاهُ لَهُ دِحْيَةُ الْكَلْبِيُّ، فَكَسَوْتُهَا امْرَأَتِي، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا لَكَ لَا تَلْبَسُ الْقِبْطِيَّةَ؟» قُلْتُ: كَسَوْتُهَا امْرَأَتِي، قَالَ: «مُرْهَا أَنْ تَجْعَلَ تَحْتَهَا غِلَالَةً، فَإِنِّي أَخَافُ أَنْ تَصِفَ عِظَامَهَا»ترجمہ
…اپنے والد سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے انہیں ایک قبطی کپڑا پہنایا جو دحیہ الکلبی نے آپ ﷺ کو تحفے میں دیا تھا، تو میں نے وہ اپنی بیوی کو پہنا دیا۔ رسول اللہ ﷺ نے پوچھا: ”تم قبطی کپڑا کیوں نہیں پہنتے؟“ میں نے عرض کیا: میں نے وہ اپنی بیوی کو پہنا دیا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے کہو کہ وہ اس کے نیچے ایک استر پہن لے، کیونکہ مجھے خدشہ ہے کہ اس کی ہڈیوں کا خاکہ نمایاں ہو جائے۔“