کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کی عمر، وفات اور واقعات
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، قَالَ: «أَسْلَمَ الزُّبَيْرُ وَهُوَ ابْنُ سِتَّةَ عَشَرَ، وَقُتِلَ وَهُوَ ابْنُ بِضْعٍ وَسِتِّينَ»
ترجمہ
ہشام بن عروہ کہتے ہیں: زبیر رضی اللہ عنہ نے سولہ سال کی عمر میں اسلام قبول کیا، اور جب شہید ہوئے تو ان کی عمر ساٹھ کے پیٹے میں تھی۔
حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنْبَاعِ رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ الْمِصْرِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، قَالَ: «قُتِلَ الزُّبَيْرُ بْنُ الْعَوَّامِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَوْمَ الْجَمَلِ فِي جُمَادَى - لَا أَدْرِي الْأُولَى أَوِ الْآخِرَةِ - سَنَةَ سِتٍّ وَثَلَاثِينَ»
قَالَ يَحْيَى: وَأَخْبَرَنِي اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ عُرْوَةُ، «أَنَّ الزُّبَيْرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَسْلَمَ وَهُوَ ابْنُ ثَمَانِ سِنِينَ، وَكَانَ يُكَنَّى أَبَا عَبْدِ اللهِ، فَإِنْ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقَامَ بِمَكَّةَ ثَلَاثَ عَشْرَةَ فَهُوَ يَوْمَ قُتِلَ ابْنُ سَبْعٍ وَخَمْسِينَ، وَإِنْ كَانَ أَقَامَ عَشْرَ سِنِينَ فَالزُّبَيْرُ ابْنُ أَرْبَعٍ وَخَمْسِينَ سَنَةً»
قَالَ يَحْيَى: وَأَخْبَرَنِي اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ عُرْوَةُ، «أَنَّ الزُّبَيْرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَسْلَمَ وَهُوَ ابْنُ ثَمَانِ سِنِينَ، وَكَانَ يُكَنَّى أَبَا عَبْدِ اللهِ، فَإِنْ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقَامَ بِمَكَّةَ ثَلَاثَ عَشْرَةَ فَهُوَ يَوْمَ قُتِلَ ابْنُ سَبْعٍ وَخَمْسِينَ، وَإِنْ كَانَ أَقَامَ عَشْرَ سِنِينَ فَالزُّبَيْرُ ابْنُ أَرْبَعٍ وَخَمْسِينَ سَنَةً»
ترجمہ
یحییٰ بن بکیر کہتے ہیں: زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ جنگِ جمل کے دن، جمادی - مجھے معلوم نہیں پہلی یا دوسری - سنہ 36 ہجری میں شہید کر دیے گئے۔
یحییٰ کہتے ہیں: مجھے لیث نے ابوالاسود کے واسطے سے بتایا کہ انہیں عروہ نے بتایا کہ زبیر رضی اللہ عنہ نے آٹھ سال کی عمر میں اسلام قبول کیا، اور ان کی کنیت ابوعبداللہ تھی۔ اگر رسول اللہ ﷺ مکہ میں تیرہ سال ٹھہرے تھے تو وہ شہید ہونے کے دن ستاون (57) سال کے تھے، اور اگر آپ ﷺ دس سال ٹھہرے تھے تو زبیر چون (54) سال کے تھے۔
یحییٰ کہتے ہیں: مجھے لیث نے ابوالاسود کے واسطے سے بتایا کہ انہیں عروہ نے بتایا کہ زبیر رضی اللہ عنہ نے آٹھ سال کی عمر میں اسلام قبول کیا، اور ان کی کنیت ابوعبداللہ تھی۔ اگر رسول اللہ ﷺ مکہ میں تیرہ سال ٹھہرے تھے تو وہ شہید ہونے کے دن ستاون (57) سال کے تھے، اور اگر آپ ﷺ دس سال ٹھہرے تھے تو زبیر چون (54) سال کے تھے۔
حَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، ثنا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ، قَالَ: " أَسْلَمَ الزُّبَيْرُ بْنُ الْعَوَّامِ وَهُوَ ابْنُ ثَمَانِ سِنِينَ، وَهَاجَرَ وَهُوَ ابْنُ ثَمَانَ عَشْرَةَ، وَكَانَ عَمُّ الزُّبَيْرِ يُعَلِّقُ الزُّبَيْرَ فِي حَصِيرٍ، وَيُدَخِّنُ عَلَيْهِ بِالنَّارِ وَهُوَ يَقُولُ: ارْجِعْ إِلَى الْكُفْرِ فَيَقُولُ الزُّبَيْرُ: لَا أَكْفُرُ أَبَدًا "
ترجمہ
ابوالاسود کہتے ہیں: زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ نے آٹھ سال کی عمر میں اسلام قبول کیا، اور اٹھارہ سال کی عمر میں ہجرت کی۔ زبیر کے چچا انہیں ایک چٹائی میں لپیٹ کر لٹکا دیتے اور ان پر دھواں دیتے تھے، اور کہتے تھے: کفر کی طرف لوٹ آؤ! تو زبیر کہتے: میں کبھی کفر نہیں کروں گا۔
حَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ثنا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: «لَمَّا قُتِلَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مَحَا الزُّبَيْرُ اسْمَهُ مِنَ الدِّيوَانِ»
ترجمہ
ہشام بن عروہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: جب عمر رضی اللہ عنہ شہید ہوئے تو زبیر نے اپنا نام دیوان (وظائف کے رجسٹر) سے کاٹ دیا۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ قَرِيبٍ الْأَصْمَعِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَوْنٍ، يَقُولُ: هَؤُلَاءِ الْخِيَارُ قُتِلُوا قَتْلًا، ثُمَّ بَكَى، فَقَالَ: قَاتِلُ الزُّبَيْرِ أَقْبَلَ عَلَى الزُّبَيْرِ فَأَقْبَلَ الزُّبَيْرُ عَلَيْهِ، فَقَالَ: أُذَكِّرُكَ اللهَ، فَكَفَّ عَنْهُ الزُّبَيْرُ حَتَّى فَعَلَ ذَلِكَ مِرَارًا، فَقَالَ الزُّبَيْرُ: «قَاتَلَهُ اللهُ يُذَكِّرُ بِاللهِ عَزَّ وَجَلَّ وَيَنْسَاهُ»
ترجمہ
…پھر راوی رو پڑا اور کہا: زبیر کا (بعد میں) قاتل بننے والا شخص زبیر کی طرف بڑھا تو زبیر بھی اس کی طرف متوجہ ہوئے، اس نے کہا: میں تجھے اللہ کی قسم دیتا ہوں، تو زبیر نے اس سے ہاتھ روک لیا، وہ کئی بار ایسا کرتا رہا۔ زبیر (اس کے بارے میں) کہا کرتے تھے: ”اللہ اسے ہلاک کرے، وہ اللہ عزوجل کی قسم یاد دلاتا ہے اور خود اسے بھول جاتا ہے۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو رَبِيعَةَ فَهْدُ بْنُ عَوْفٍ، ثنا مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ الْجَمَلِ رَأَى عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ الرُّءُوسَ تَنْدُرُ، فَأَخَذَ بِيَدِ الْحَسَنِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَوَضَعَهَا عَلَى بَطْنِهِ، ثُمَّ قَالَ: «أَيْ بُنَيَّ أَيُّ خَيْرٍ بَعْدَ هَذَا»
ترجمہ
…حسن (بصری)، ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: جنگِ جمل کے دن جب علی رضی اللہ عنہ نے سر تن سے جدا ہو کر گرتے دیکھے تو انہوں نے حسن رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ کر اپنے پیٹ پر رکھا اور فرمایا: ”اے میرے بیٹے! اس کے بعد کیا بھلائی رہ گئی؟“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا حَمْزَةُ بْنُ عَوْنٍ الْمَسْعُودِيُّ، قَالَ: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ الْأَسَدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، وَشَرِيكٌ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَأُتِيَ بِرَأْسِ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: بَشِّرْ قَاتِلَ ابْنِ صَفِيَّةَ بِالنَّارِ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ حَوَارِيًّا وَحَوَارِيَّ الزُّبَيْرُ»
ترجمہ
…جب علی رضی اللہ عنہ کے پاس زبیر رضی اللہ عنہ کا سر لایا گیا تو انہوں نے فرمایا: ابن صفیہ (زبیر) کے قاتل کو جہنم کی خوشخبری سنا دو، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے: ”ہر نبی کا ایک حواری ہوتا ہے، اور میرا حواری زبیر ہے۔“
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، قَالَ: «أَسْلَمَ الزُّبَيْرُ وَهُوَ ابْنُ سِتَّ عَشْرَةَ سَنَةً، وَلَمْ يَتَخَلَّفْ عَنْ غَزَاةٍ غَزَاهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقُتِلَ وَهُوَ ابْنُ بِضْعٍ وَسِتِّينَ وَهُوَ مِنَ الْبَصْرَةِ عَلَى نَحْوِ بَرِيدٍ»
ترجمہ
ہشام بن عروہ کہتے ہیں: زبیر رضی اللہ عنہ نے سولہ سال کی عمر میں اسلام قبول کیا، اور رسول اللہ ﷺ کے کسی بھی غزوے سے پیچھے نہیں رہے، اور جب شہید ہوئے تو ان کی عمر ساٹھ کے پیٹے میں تھی، اور یہ بصرہ سے تقریباً ایک بَرید (منزل) کے فاصلے پر ہوا۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ: «قُتِلَ الزُّبَيْرُ سَنَةَ سِتٍّ وَثَلَاثِينَ، قَتَلَهُ ابْنُ جُرْمُوزٍ وَمَعَهُ النُّعْمَانُ بْنُ زِمَامٍ، وَأَبُو الْمَضْرَحِيِّ رَجُلَانِ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ، وَقُتِلَ بِوَادِي السِّبَاعِ، وَدُفِنَ بِهِ»
ترجمہ
ابوبکر بن ابی شیبہ کہتے ہیں: زبیر رضی اللہ عنہ سنہ 36 ہجری میں شہید ہوئے، انہیں ابن جرموز نے قتل کیا، اس کے ساتھ نعمان بن زمام اور ابوالمضرحی نامی بنی تمیم کے دو آدمی بھی تھے۔ وہ وادی السباع میں شہید ہوئے اور وہیں دفن کیے گئے۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، ثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ «أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ مَسْعُودٍ، وَعُثْمَانَ، وَالْمِقْدَامَ بْنَ الْأَسْوَدِ، وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ، وَمُطِيعَ بْنَ الْأَسْوَدِ أَوْصُوا إِلَى الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ»
ترجمہ
ہشام بن عروہ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن مسعود، عثمان، مقداد بن اسود، عبدالرحمٰن بن عوف، اور مطیع بن اسود رضی اللہ عنہم نے زبیر بن عوام کو اپنا وصی مقرر کیا تھا۔
حَدَّثَنَا مَسْعَدَةُ بْنُ سَعْدٍ الْعَطَّارُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ عَمِّهِ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، قَالَ: «كَانَ عَلِيٌّ، وَالزُّبَيْرُ، وَسَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ عِذَارَ عَامٍ وَاحِدٍ»
ترجمہ
موسیٰ بن طلحہ کہتے ہیں: علی، زبیر، اور سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہم ایک ہی سال میں پیدا ہونے کی وجہ سے ہم عمر تھے۔