حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا الزُّبَيْرُ بْنُ بَكَّارٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، يَقُولُ: «كَانَ الزُّبَيْرُ بْنُ الْعَوَّامِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَبْيَضَ طَوِيلًا مُحَفَّفًا، خَفِيفَ الْعَارِضَيْنِ»
ترجمہ
عبداللہ بن محمد بن یحییٰ بن عروہ بن زبیر کہتے ہیں: زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کا رنگ سفید تھا، قد لمبا تھا، بال ہلکے تھے، اور رخساروں کے بال کم تھے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا الزُّبَيْرُ بْنُ بَكَّارٍ، ثنا أَبُو غَزِيَّةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: «كَانَ الزُّبَيْرُ بْنُ الْعَوَّامِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ طَوِيلًا يَخُطُّ رِجْلَاهُ الْأَرْضَ، إِذَا رَكِبَ الدَّابَّةَ أَشْعَرَ، وَرُبَّمَا أَخَذْتُ بِشَعْرِ كَتِفَيْهِ»
ترجمہ
ہشام بن عروہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ لمبے قد کے تھے، جب سواری پر بیٹھتے تو ان کے پاؤں زمین کو چھوتے تھے، اور وہ بہت بالوں والے تھے، اور میں بچپن میں کبھی ان کے کندھوں کے بال پکڑ لیا کرتا تھا۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ: سَمِعَ ابْنُ عُمَرَ رَجُلًا يَقُولُ: أَنَا ابْنُ حَوَارِيِّ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: «إِنْ كُنْتَ مِنْ آلِ الزُّبَيْرِ وَإِلَّا فَلَا»
ترجمہ
…نافع کہتے ہیں: ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک آدمی کو یہ کہتے سنا: میں نبی کریم ﷺ کے حواری کا بیٹا ہوں۔ تو ابن عمر نے فرمایا: ”اگر تم آلِ زبیر میں سے ہو تو ٹھیک ہے، ورنہ نہیں۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَوْدِيُّ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: " أَوَّلُ مَنْ سَلَّ سَيْفًا فِي سَبِيلِ اللهِ: الزُّبَيْرُ بْنُ الْعَوَّامِ "
ترجمہ
ہشام بن عروہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: اللہ کی راہ میں سب سے پہلے تلوار سونتنے والے زبیر بن عوام تھے۔
ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ الْوَلِيدِ الْبَجَلِيُّ، أَنْبَأَ أَحْمَدُ بْنُ يَزِيدَ الْوَرْتَنِيسِيُّ، ثنا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ: «مَنْ يَأْتِينَا بِخَبَرِ بَنِي قُرَيْظَةَ؟» ثُمَّ نَدَبَهُمُ الثَّانِيَةَ، ثُمَّ نَدَبَهُمُ الثَّالِثَةَ، فَانْتُدِبَ الزُّبَيْرُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لِكُلِّ نَبِيٍّ حَوَارِيٌّ وَحَوَارِيَّ الزُّبَيْرُ»
ترجمہ
…سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے غزوہ خندق کے دن فرمایا: ”کون ہمیں بنی قریظہ کی خبر لا کر دے گا؟“ پھر آپ ﷺ نے دوبارہ لوگوں کو بلایا، پھر تیسری بار بلایا، تو زبیر آگے بڑھے، تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”ہر نبی کا ایک حواری ہوتا ہے، اور میرا حواری زبیر ہے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا حَمْزَةُ بْنُ عَوْنٍ الْمَسْعُودِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ الْأَسَدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، وَشَرِيكٌ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لِكُلِّ نَبِيٍّ حَوَارِيٌّ وَحَوَارِيَّ الزُّبَيْرُ»
ترجمہ
…سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ہر نبی کا ایک حواری ہوتا ہے، اور میرا حواری زبیر ہے۔“
حَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا سِكِّينُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْبَصْرِيُّ، ثنا حَفْصُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي شَيْخٌ، قَدِمَ عَلَيْنَا مِنَ الْمَوْصِلِ، قَالَ: صَحِبْتُ الزُّبَيْرَ بْنَ الْعَوَّامِ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ، فَأَصَابَتْهُ جَنَابَةٌ بِأَرْضٍ قَفْرٍ، فَقَالَ: اسْتُرْنِي، فَسَتَرْتُهُ، فَحَانَتْ مِنِّي الْتِفَاتَةٌ إِلَيْهِ، فَرَأَيْتُهُ مُجَدَّعًا بِالسُّيُوفِ، قُلْتُ: وَاللهِ لَقَدْ رَأَيْتُ بِكَ آثَارًا مَا رَأَيْتُهَا بِأَحَدٍ قَطُّ قَالَ: وَقَدْ رَأَيْتَ ذَلِكَ؟ قُلْتُ: نَعَمْ. قَالَ: «أَمَا وَاللهِ مَا مِنْهَا جِرَاحَةٌ إِلَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي سَبِيلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ»
ترجمہ
…میں نے اسے ڈھانپ رکھا تھا، پھر اچانک میری نظر اس کی طرف پڑی تو میں نے دیکھا کہ وہ تلواروں سے زخمی (کٹا پھٹا) تھا، میں نے کہا: اللہ کی قسم! میں نے تم پر ایسے نشان دیکھے ہیں جو میں نے کسی اور پر کبھی نہیں دیکھے۔ اس نے کہا: کیا تم نے یہ دیکھا؟ میں نے کہا: ہاں۔ اس نے کہا: ”سن لو، اللہ کی قسم! ان میں سے کوئی زخم ایسا نہیں جو رسول اللہ ﷺ کے ساتھ اور اللہ عزوجل کی راہ میں نہ لگا ہو۔“
حَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ عُرْوَةَ، قَالَ: «نَزَلَ جِبْرِيلُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ بَدْرٍ عَلَى سِيمَاءِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ وَهُوَ مُعْتَجِرٌ بِعِمَامَةٍ صَفْرَاءَ»
ترجمہ
عروہ کہتے ہیں: جبریل علیہ السلام بدر کے دن زبیر بن عوام کی صورت میں اترے، اس حال میں کہ ان کے سر پر زرد پگڑی بندھی تھی۔
حَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ثنا جَامِعٌ أَبُو سَلَمَةَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الْبَهِيِّ، قَالَ: " كَانَ يَوْمَ بَدْرٍ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَارِسَانِ: الزُّبَيْرُ بْنُ الْعَوَّامِ عَلَى فَرَسٍ عَلَى الْمَيْمَنَةِ، وَالْمِقْدَادُ بْنُ الْأَسْوَدِ عَلَى فَرَسٍ عَلَى الْمَيْسَرَةِ "
ترجمہ
بہی کہتے ہیں: بدر کے دن رسول اللہ ﷺ کے ساتھ دو گھوڑسوار تھے: زبیر بن عوام دائیں جانب گھوڑے پر، اور مقداد بن اسود بائیں جانب گھوڑے پر۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ زَيْدِ بْنِ هَارُونَ الْقَزَّازُ الْمَكِّيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ مُطِيعَ بْنَ الْأَسْوَدِ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: «وَاللهِ لَوْ عَهِدْتُ عَهْدًا، أَوْ تَرَكْتُ تَرِكَةً، لَكَانَ أَحَبَّ إِلَيَّ مَنْ أَنْ أجْعَلَهَا إِلَيْهِ الزُّبَيْرُ بْنُ الْعَوَّامِ، فَإِنَّهُ رُكْنٌ مِنْ أَرْكَانِ الدِّينِ»
ترجمہ
…مطیع بن اسود کہتے ہیں: میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے سنا: ”اللہ کی قسم! اگر میں کوئی وصیت کروں یا کوئی امانت چھوڑوں تو مجھے یہ زیادہ پسند ہو گا کہ میں وہ زبیر بن عوام کے سپرد کروں، کیونکہ وہ دین کے ستونوں میں سے ایک ستون ہیں۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ زَيْدِ بْنِ هَارُونَ الْمَكِّيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ عُرْوَةَ، عنِ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، لَقِيَ الزُّبَيْرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِالسُّوقِ، فَتَعَاتَبَا فِي شَيْءٍ مِنْ أَمْرِ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، ثُمَّ أَغْلَظَ لَهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ الزُّبَيْرِ، فَقَالَ عَلِيٌّ: أَلَا تَسْمَعُ مَا يَقُولُ لِي؟ «فَضَرَبَهُ الزُّبَيْرُ حَتَّى وَقَعَ»
ترجمہ
…زبیر رضی اللہ عنہ کی ملاقات ایک شخص، علی، سے بازار میں ہوئی، تو دونوں نے عثمان رضی اللہ عنہ کے معاملے میں ایک دوسرے کو ملامت کی، پھر عبداللہ بن زبیر نے اس (علی) سے سختی سے بات کی۔ علی نے کہا: کیا تم نہیں سنتے یہ مجھ سے کیا کہہ رہا ہے؟ تو زبیر نے اپنے بیٹے عبداللہ کو اتنا مارا کہ وہ گر پڑا۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ زَيْدِ بْنِ هَارُونَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، قَالَ: ضَرَبَ الزُّبَيْرُ أَسْمَاءَ بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَصَاحَتْ بِعَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ فَأَقْبَلَ فَلَمَّا رَآهُ قَالَ: أُمُّكُ طَالِقٌ إِنْ دَخَلْتَ، فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللهِ: «أَتَجْعَلُ أُمِّي عُرْضَةً لِيَمِينِكَ؟» فَاقْتَحَمَ عَلَيْهِ، فَخَلَّصَهَا مِنْهُ، فَبَانَتْ مِنْهُ، قَالَ: «وَلَقَدْ كُنْتُ غُلَامًا رُبَّمَا أَخَذْتُ بِشَعْرِ مَنْكِبِيِ الزُّبَيْرِ»
ترجمہ
…ہشام بن عروہ کہتے ہیں: زبیر نے اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو مارا، تو انہوں نے عبداللہ بن زبیر کو آواز دی، وہ آئے، تو جب زبیر نے اسے دیکھا تو کہا: تیری ماں کو طلاق ہے اگر تو اندر آیا۔ عبداللہ نے ان سے کہا: ”کیا آپ میری ماں کو اپنی قسم کا نشانہ بناتے ہیں؟“ پھر وہ اندر گھس آیا اور انہیں چھڑا لیا، تو وہ اسماء زبیر سے جدا ہو گئیں۔ ہشام کہتے ہیں: اور میں بچپن میں کبھی زبیر کے کندھوں کے بال پکڑ لیا کرتا تھا۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ زَيْدِ بْنِ هَارُونَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: «يَا بَنِيَّ لَا تَخْرُجُنَّ بَنَاتِكُمْ إِلَّا إِلَى الْأَكْفَاءِ» . قَالُوا: يَا أَبَانَا، وَمَنِ الْأَكْفَاءُ؟ قَالَ: «وَلَدُ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ»
ترجمہ
ہشام بن عروہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اے میرے بیٹو! اپنی بیٹیوں کا نکاح کفو (ہمسر خاندان) کے سوا کہیں نہ کرنا۔“ انہوں نے پوچھا: اے ابا جان! کفو کون ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”زبیر بن عوام کی اولاد۔“
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، يَقُولُ: «قُتِلَ الزُّبَيْرُ وَهُوَ ابْنُ أَرْبَعٍ وَسِتِّينَ، وَقُتِلَ سَنَةَ سِتٍّ وَثَلَاثِينَ»
ترجمہ
محمد بن عبداللہ بن نمیر کہتے ہیں: زبیر رضی اللہ عنہ شہید ہوئے تو ان کی عمر چونسٹھ (64) سال تھی، اور وہ سنہ 36 ہجری میں شہید ہوئے۔