کتب حدیثالمعجم الكبير للطبرانيابوابباب: سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کا نسب: زبیر بن عوام بن خویلد بن اسد بن عبدالعزیٰ بن قصی بن کلاب بن مرہ بن کعب بن لؤی بن غالب بن فہر بن مالک، کنیت ابوعبداللہ، اور آپ کی والدہ سیدہ صفیہ بنت عبدالمطلب رضی اللہ عنہا رسول اللہ ﷺ کی پھوپھی تھیں — سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کی مرویات
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا رَوْحُ بْنُ عَبْدِ الْمُؤْمِنِ الْمُقْرِئُ، قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ دِينَارٍ، ثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ الزُّبَيْرِ، عَنِ الزُّبَيْرِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا تُحَرِّمُ الْمَصَّةُ وَلَا الْمَصَّتَانِ»
ترجمہ
…سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”ایک یا دو بار دودھ چوسنا رضاعت کی حرمت ثابت نہیں کرتا۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / العشرة / حدیث: 247
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 124، حدیث 248
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ ضِرَارُ بْنُ صُرَدٍ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: حَدَّثَنِي الزُّبَيْرُ بْنُ الْعَوَّامِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: «رَأَيْتُ هِنْدَ بِنْتَ عُتْبَةَ كَاشِفَةً عَنْ سَاقِهَا يَوْمَ أُحُدٍ، وَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى خَدَمٍ فِي سَاقِهَا، وَهِيَ تُحَرِّضُ النَّاسَ»
ترجمہ
…سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: مجھے زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ نے بتایا، وہ کہتے ہیں: ”میں نے احد کے دن ہند بنت عتبہ کو دیکھا کہ اس کی پنڈلی کھلی تھی، اور گویا میں اس کی پنڈلی میں پائل دیکھ رہا ہوں، اور وہ لوگوں کو جنگ پر اکسا رہی تھی۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / العشرة / حدیث: 248
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 124، حدیث 249
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ رِشْدِينَ الْمِصْرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي السَّرِيِّ الْعَسْقَلَانِيُّ، ثنا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ ثَابِتِ بْنِ أَسْعَدَ بْنِ زُرَارَةَ الْأَنْصَارِيُّ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «الْأَرْضُ أَرْضُ اللهِ، وَالْعِبَادُ عِبَادُ اللهِ، فَحَيْثُ وَجَدَ أَحَدُكُمْ خَيْرًا فَلْيَتَّقِ اللهَ وَلْيُقِمْ»
وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَأَنْ يَأْخُذَ أَحَدُكُمْ حَبْلًا فَيَحْتَطِبَ عَلَى ظَهْرِهِ فَيَبِيعَ وَيَأْكُلَ، خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَسْأَلَ النَّاسَ أَعْطَوْهُ أَوْ مَنَعُوهُ»
وَسَمِعْتُ رَسُولَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ حِينَ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ: {شَهِدَ اللهُ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ} [آل عمران: ١٨] إِلَى قَوْلِهِ {الْعَزِيزِ الْحَكِيمِ} [آل عمران: ١٨] قَالَ: «وَأَنَا أَشْهَدُ أَنَّكَ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ»
ترجمہ
…سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ”زمین اللہ کی زمین ہے، اور بندے اللہ کے بندے ہیں، جہاں بھی تم میں سے کسی کو بھلائی ملے وہ وہیں اللہ سے ڈرے اور ٹھہر جائے۔“
اور میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”تم میں سے کوئی رسی لے کر اپنی پیٹھ پر لکڑیاں اٹھا کر لائے، پھر انہیں بیچ کر کھائے، یہ اس سے بہتر ہے کہ وہ لوگوں سے مانگے، چاہے وہ اسے دیں یا نہ دیں۔“
اور میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ آیت پڑھتے سنا: ”اللہ نے گواہی دی کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں“ [آل عمران: 18] یہاں تک کہ ”العزیز الحکیم“ [آل عمران: 18] تک، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اور میں بھی گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو ہی غالب، حکمت والا ہے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / العشرة / حدیث: 249
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 124، حدیث 250
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ نَجْدَةَ الْحَوْطِيُّ، ثنا أَبِي، ثنا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا نُمَيْرُ بْنُ يَزِيدَ الْقَيْنِيُّ، ثنا أَبِي، ثنا قُحَافَةُ بْنُ رَبِيعَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي الزُّبَيْرُ بْنُ الْعَوَّامِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الصُّبْحِ فِي مَسْجِدِ الْمَدِينَةِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ، قَالَ: «أَيُّكُمْ يَتْبَعُنِي إِلَى وَفْدِ الْجِنِّ اللَّيْلَةَ؟» فَأَسْكَتَ الْقَوْمُ فَلَمْ يَتَكَلَّمْ مِنْهُمْ أَحَدٌ، قَالَ ذَلِكَ ثَلَاثًا، فَمَرَّ بِي يَمْشِي فَأَخَذَ بِيَدِي فَجَعَلْتُ أَمْشِي مَعَهُ حَتَّى خَنَسَتْ عَنَّا جِبَالُ الْمَدِينَةِ كُلُّهَا، وَأُقْصِينَا إِلَى أَرْضٍ قَرَارٍ، فَإِذَا رِجَالٌ طُوَالٌ كَأَنَّهُمُ الرَّمَاحُ، مُسْتَدْفِرِي ثِيَابِهِمْ مِنْ بَيْنِ أَرْجُلِهِمْ، فَلَمَّا رَأَيْتُهُمْ غَشِيَتْنِي رِعْدَةٌ شَدِيدَةٌ حَتَّى مَا يُمْسِكُنِي رِجْلَايَ مِنَ الْفَرَقِ، فَلَمَّا دَنَوْنَا مِنْهُمْ خَطَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِإِبْهَامِ رِجْلِهِ فِي الْأَرْضِ خَطًّا، فَقَالَ لِي: «أُقْعُدْ فِي وَسَطِهِ» فَلَمَّا جَلَسْتُ ذَهَبَ عَنِّي كُلُّ شَيْءٍ أَجِدُهُ مِنْ رِيبَةٍ، وَمَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنِي وَبَيْنَهُمْ فَتَلَا قُرْآنًا رفيعًا حَتَّى طَلَعَ الْفَجْرُ، ثُمَّ أَقْبَلَ حَتَّى مَرَّ بِي، فَقَالَ لِي: «إِلْحَقْ» فَجَعَلْتُ أَمْشِي مَعَهُ، فَمَضَيْنَا غَيْرَ بَعِيدٍ، فَقَالَ لِي: «الْتَفِتْ فَانْظُرْ، هَلْ تَرَى حَيْثُ كَانَ أُولَئِكَ مِنْ أَحَدٍ؟» فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَرَى سَوَادًا كَثِيرًا، فَخَفَضَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ إِلَى الْأَرْضِ، فَنَظَمَ عَظْمًا بِرَوْثَةٍ، ثُمَّ رَمَى بِهِ إِلَيْهِمْ، وَقَالَ: «رَشَدَ أُولَئِكَ مِنْ وَفْدِ قَوْمٍ هُمْ وَفْدُ نَصِيبِينَ، سَأَلُونِي الزَّادَ فَجَعَلْتُ لَهُمْ كُلَّ عَظْمٍ وَرَوْثَةٍ» قَالَ الزُّبَيْرُ: «فَلَا يَحِلُّ لِأَحَدٍ أَنْ يَسْتَنْجِيَ بِعَظْمٍ وَلَا رَوْثَةٍ أَبَدًا»
ترجمہ
…سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے ہمیں مدینہ کی مسجد میں فجر کی نماز پڑھائی، جب آپ ﷺ فارغ ہوئے تو فرمایا: ”تم میں سے کون آج رات جنوں کے وفد کی طرف میرے ساتھ چلے گا؟“ تو لوگ خاموش ہو گئے اور ان میں سے کسی نے کچھ نہ کہا۔ آپ ﷺ نے یہ تین بار فرمایا۔ پھر آپ ﷺ چلتے ہوئے میرے پاس سے گزرے تو میرا ہاتھ پکڑ لیا، چنانچہ میں آپ ﷺ کے ساتھ چلنے لگا، یہاں تک کہ مدینہ کے تمام پہاڑ ہم سے اوجھل ہو گئے، اور ہم ایک کھلے میدان میں دور نکل آئے۔ اچانک کچھ لمبے قد کے آدمی نظر آئے، گویا وہ نیزے ہوں، اپنے کپڑے اپنی ٹانگوں کے درمیان سے لپیٹے ہوئے۔ جب میں نے انہیں دیکھا تو مجھ پر شدید کپکپی طاری ہو گئی، یہاں تک کہ خوف سے میرے پاؤں مجھے سہارا نہیں دے رہے تھے۔ جب ہم ان کے قریب پہنچے تو رسول اللہ ﷺ نے اپنے پاؤں کے انگوٹھے سے زمین پر ایک لکیر کھینچی اور مجھ سے فرمایا: ”اس کے درمیان بیٹھ جاؤ۔“ جب میں بیٹھ گیا تو مجھے جو بھی خوف محسوس ہو رہا تھا وہ سب دور ہو گیا۔ پھر نبی کریم ﷺ میرے اور ان کے درمیان چلے گئے اور بلند آواز سے قرآن کی تلاوت کرتے رہے یہاں تک کہ فجر طلوع ہو گئی۔ پھر آپ ﷺ واپس آئے اور میرے پاس سے گزرے تو فرمایا: ”ساتھ ہو لو۔“ چنانچہ میں آپ ﷺ کے ساتھ چلنے لگا، ہم تھوڑی ہی دور گئے تھے کہ آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ”مڑ کر دیکھو، کیا تمہیں وہاں جہاں وہ لوگ تھے کوئی نظر آتا ہے؟“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے بہت سی سیاہی (بھیڑ) نظر آ رہی ہے۔ تو رسول اللہ ﷺ نے اپنا سر زمین کی طرف جھکایا اور ایک ہڈی اور مینگنی اٹھا کر ان کی طرف پھینکی اور فرمایا: ”یہ لوگ نصیبین کے وفد میں سے راہ یافتہ ہیں، انہوں نے مجھ سے زادِ راہ مانگا تو میں نے ہر ہڈی اور مینگنی ان کے لیے مقرر کر دی۔“ زبیر کہتے ہیں: ”لہٰذا کسی کے لیے کبھی ہڈی یا مینگنی سے استنجا کرنا جائز نہیں۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / العشرة / حدیث: 250
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 125، حدیث 251