کتب حدیث ›
المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية › ابواب
› باب: رسول اللہ ﷺ کے حکم بن ابی العاص، اس کی اولاد اور بنو امیہ پر لعنت کرنے کا بیان۔
قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُقْبَةَ ، ثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، ثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحَكَمِ ، عَنْ أَبِي الْحَسَنِ الْجَزَرِيِّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، قَالَ : اسْتَأْذَنَ الْحَكَمُ بْنُ أَبِي الْعَاصِ ، عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَعَرَفَ كَلَامَهُ ، فَقَالَ : ائْذَنُوا لَهُ ، لَعَنَهُ اللهُ وَكُلَّ مَا خَرَجَ مِنْ صُلْبِهِ إِلَّا مُؤْمِنِيهِمْ ، وَقَلِيلٌ مَا هُمْ ، يُسْرِفُونَ فِي الدُّنْيَا ، وَيُوضَعُونَ فِي الْآخِرَةِ ، ذَوُو مَكْرٍ وَخَدِيعَةٍ ، يُعْطَوْنَ فِي الدُّنْيَا ، وَمَا لَهُمْ فِي الْآخِرَةِ مِنْ خَلَاقٍ .
ترجمہ
عمرو بن مرہ سے روایت ہے کہ حکم بن ابی العاص نے رسول اللہ ﷺ سے بارگاہِ نبوی میں حاضر ہونے کی اجازت طلب کی، آپ ﷺ نے اس کے کلام کو پہچان لیا اور ارشاد فرمایا: ”اسے اندر آنے کی اجازت دے دو، «لَعَنَهُ اللهُ وَكُلَّ مَا خَرَجَ مِنْ صُلْبِهِ إِلَّا مُؤْمِنِيهِمْ، وَقَلِيلٌ مَا هُمْ» ”اللہ اس پر اور اس کی صلب سے پیدا ہونے والی تمام اولاد پر لعنت کرے سوائے ان کے جو صاحبِ ایمان ہوں گے، اور وہ بہت تھوڑے ہوں گے“، یہ لوگ دنیا میں اسراف و عیش کوشی کریں گے اور آخرت میں ذلت و پستی کا شکار ہوں گے، یہ مکر اور دھوکے والے ہوں گے، انہیں دنیا میں تو مال و متاع سے نوازا جائے گا لیکن آخرت میں ان کے لیے کوئی خیر و برکت اور حصہ نہ ہو گا۔“
مسند ابویعلیٰ: 4454، اس کی سند میں ابوالحسن الجزری نامی راوی مجہول ہے، جس کی بنا پر یہ روایت ضعیف ہے۔
مسند ابویعلیٰ: 4454، اس کی سند میں ابوالحسن الجزری نامی راوی مجہول ہے، جس کی بنا پر یہ روایت ضعیف ہے۔
وَقَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِي يَحْيَى ، قَالَ : كُنْتُ بَيْنَ الْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، وَمَرْوَانُ يَشْتُمُ الْحُسَيْنَ ، وَالْحَسَنُ يَنْهَى الْحُسَيْنَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، إِذْ غَضِبَ مَرْوَانُ ، فَقَالَ : أَهْلُ بَيْتٍ مَلْعُونُونَ ، فَغَضِبَ الْحَسَنُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، وَقَالَ : أَقُلْتَ : أَهْلُ بَيْتٍ مَلْعُونُونَ ؟ فَوَاللهِ لَقَدْ لَعَنَكَ اللهُ ، وَأَنْتَ فِي صُلْبِ أَبِيكَ .
4455 \ 2 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ ، ثَنَا حَمَّادٌ ، بِهِ .
4455 \ 2 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ ، ثَنَا حَمَّادٌ ، بِهِ .
ترجمہ
ابو یحییٰ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں سیدنا حسن اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہما کے درمیان موجود تھا اور مروان بن حکم سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو برا بھلا کہہ رہا تھا، جبکہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو (جواب دینے سے) روک رہے تھے، اسی اثنا میں مروان غصے میں آ گیا اور کہنے لگا: ”تم لوگ ایک ملعون گھرانہ ہو۔“ یہ سن کر سیدنا حسن رضی اللہ عنہ جلال میں آ گئے اور فرمایا: ”کیا تو نے یہ کہا ہے کہ ”ملعون گھرانہ“؟ پس اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ نے تجھ پر اسی وقت لعنت فرما دی تھی جب تو ابھی اپنے باپ کی پشت میں تھا۔“
امام اسحاق بن راہویہ نے اسے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، نیز امام ابو یعلیٰ نے بھی ابراہیم بن حجاج کے واسطے سے حماد بن سلمہ سے اسی سند کے ساتھ اسے بیان کیا ہے۔
امام اسحاق بن راہویہ نے اسے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، نیز امام ابو یعلیٰ نے بھی ابراہیم بن حجاج کے واسطے سے حماد بن سلمہ سے اسی سند کے ساتھ اسے بیان کیا ہے۔
وَقَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِي يَحْيَى ، قَالَ : كُنْتُ يَوْمًا مَعَ الْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، فَسَبَّهُمَا مَرْوَانُ سَبًّا قَبِيحًا ، حَتَّى قَالَ : وَاللهِ إِنَّكُمْ لَأَهْلُ بَيْتٍ مَلْعُونُونَ ، فَقَالَ الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، أَوْ أَحَدُهُمَا : وَاللهِ ، وَاللهِ ، ثُمَّ وَاللهِ ، لَقَدْ لَعَنَكَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنْتَ فِي صُلْبِ الْحَكَمِ ، فَسَكَتَ مَرْوَانُ .
4456 \ 2 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ ، ثَنَا جَرِيرٌ ، بِهِ .
4456 \ 2 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ ، ثَنَا جَرِيرٌ ، بِهِ .
ترجمہ
ابویحییٰ سے روایت ہے کہ میں ایک دن سیدنا حسن اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہما کے ساتھ موجود تھا کہ مروان نے ان دونوں حضرات کو نہایت غلیظ اور نازیبا گالیاں دیں، یہاں تک کہ اس نے کہا: ”اللہ کی قسم! تم یقیناً ایک ملعون گھرانے کے لوگ ہو۔“ اس پر سیدنا حسن اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہما نے، یا ان میں سے کسی ایک نے (جواباً) فرمایا: ”اللہ کی قسم! اللہ کی قسم! اور پھر اللہ کی قسم! یقیناً اللہ عزوجل نے تجھ پر اپنے نبی ﷺ کی زبانِ مبارک سے اس وقت لعنت فرمائی تھی جب تو (اپنے باپ) حکم کی پشت میں موجود تھا۔“ یہ سن کر مروان خاموش ہو گیا۔
اس روایت کو امام اسحاق نے جریر کے واسطے سے عطاء بن سائب سے اور انہوں نے ابویحییٰ سے نقل کیا ہے، نیز امام ابویعلیٰ نے بھی ابومعمر اور جریر کی سند سے اسے روایت کیا ہے۔
اس روایت کو امام اسحاق نے جریر کے واسطے سے عطاء بن سائب سے اور انہوں نے ابویحییٰ سے نقل کیا ہے، نیز امام ابویعلیٰ نے بھی ابومعمر اور جریر کی سند سے اسے روایت کیا ہے۔
وَقَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ عُمَيْرِ بْنِ إِسْحَاقَ قَالَ : كَانَ مَرْوَانُ أَمِيرًا عَلَيْنَا سِنِينَ ، فَكَانَ يَسُبُّ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كُلَّ جُمُعَةٍ عَلَى الْمِنْبَرِ ، ثُمَّ عُزِلَ مَرْوَانُ ، وَاسْتُعْمِلَ سَعِيدُ بْنُ الْعَاصِ سِنِينَ ، فَكَانَ لَا يَسُبُّهُ ، ثُمَّ عُزِلَ سَعِيدٌ ، وَأُعِيدَ مَرْوَانُ ، فَكَانَ يَسُبُّهُ ، فَقِيلَ لِلْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا : أَلَا تَسْمَعُ مَا يَقُولُ مَرْوَانُ ؟ فَلَا تَرُدُّ شَيْئًا ؟ فَكَانَ يَجِيءُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ، فَيَدْخُلُ حُجْرَةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَكُونُ فِيهَا ، فَإِذَا قُضِيَتِ الْخُطْبَةُ ، خَرَجَ إِلَى الْمَسْجِدِ فَصَلَّى فِيهِ ، ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى أَهْلِهِ ، فَلَمْ يَرْضَ بِذَلِكَ مَرْوَانُ ، حَتَّى أَهْدَى لَهُ فِي بَيْتِهِ ، فَإِنَّا لَجُلُوسٌ مَعَهُ ، إِذْ قِيلَ لَهُ : فُلَانٌ عَلَى الْبَابِ ، فَأَذِنَ لَهُ ، فَدَخَلَ فَقَالَ : إِنِّي جِئْتُكَ مِنْ عِنْدِ سُلْطَانٍ ، وَجِئْتُكَ بِعَزْمَةٍ ، فَقَالَ : تَكَلَّمْ ، فَقَالَ : أَرْسَلَ مَرْوَانُ بِعَلِيٍّ وَبِعَلِيٍّ وَبِكَ وَبِكَ ، وَمَا وَجَدْتُ مَثَلَكَ إِلَّا مَثَلَ الْبَغْلَةِ ، يُقَالُ لَهَا : مَنْ أَبُوكِ ؟ فَتَقُولُ : أُمِّي الْفَرَسُ .
فَقَالَ : ارْجِعْ إِلَيْهِ ، فَقُلْ لَهُ : وَاللهِ لَا أَمْحُو عَنْكَ شَيْئًا مِمَّا قُلْتَ بِأَنِّي أَسُبُّكَ ، وَلَكِنَّ مَوْعِدِي وَمَوْعِدَكَ اللهُ ، فَإِنْ كُنْتَ صَادِقًا يَأْجُرُكَ اللهُ بِصِدْقِكَ ، وَإِنْ كُنْتَ كَاذِبًا ، فَاللهُ أَشَدُّ نِقْمَةً ، قَدْ أَكْرَمَ اللهُ تَعَالَى جَدِّي أَنْ يَكُونَ مَثَلِي مَثَلَ الْبَغْلَةِ ، ثُمَّ خَرَجَ ، فَلَقِيَ الْحُسَيْنَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي الْحُجْرَةِ فَسَأَلَهُ ، فَقَالَ : قَدْ أُرْسِلْتُ بِرِسَالَةٍ ، وَقَدْ أَبْلَغْتُهَا ، قَالَ : وَاللهِ لَتُخْبِرَنِّي بِهَا ، أَوْ لَآمُرَنَّ أَنْ تُضْرَبَ حَتَّى لَا يُدْرَى مَتَى يَفْرُغُ عَنْكَ الضَّرْبُ ، فَلَمَّا رَآهُ الْحَسَنُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : أَرْسِلْهُ ، قَالَ : لَا أَسْتَطِيعُ ، قَالَ : لِمَ ؟ قَالَ : قَدْ حَلَفْتُ ، قَالَ : أَرْسَلَ مَرْوَانُ بِعَلِيٍّ وَبِعَلِيٍّ وَبِكَ وَبِكَ ، وَمَا وَجَدْتُ مَثَلَكَ إِلَّا مَثَلَ الْبَغْلَةِ ، يُقَالُ لَهَا : مَنْ أَبُوكِ ؟ فَتَقُولُ : أُمِّي الْفَرَسُ ، فَقَالَ الْحُسَيْنُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : أَكَلْتَ بَظْرَ أُمِّكَ إِنْ لَمْ تُبْلِغْهُ عَنِّي مَا أَقُولُ لَهُ ، قُلْ لَهُ : بِكَ وَبِأَبِيكَ وَبِقَوْمِكَ ، وَآيَةِ مَا بَيْنِي وَبَيْنَكَ ، أَنْ تُمْسِكَ مَنْكِبَيْكَ مِنْ لَعْنِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
فَقَالَ : ارْجِعْ إِلَيْهِ ، فَقُلْ لَهُ : وَاللهِ لَا أَمْحُو عَنْكَ شَيْئًا مِمَّا قُلْتَ بِأَنِّي أَسُبُّكَ ، وَلَكِنَّ مَوْعِدِي وَمَوْعِدَكَ اللهُ ، فَإِنْ كُنْتَ صَادِقًا يَأْجُرُكَ اللهُ بِصِدْقِكَ ، وَإِنْ كُنْتَ كَاذِبًا ، فَاللهُ أَشَدُّ نِقْمَةً ، قَدْ أَكْرَمَ اللهُ تَعَالَى جَدِّي أَنْ يَكُونَ مَثَلِي مَثَلَ الْبَغْلَةِ ، ثُمَّ خَرَجَ ، فَلَقِيَ الْحُسَيْنَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي الْحُجْرَةِ فَسَأَلَهُ ، فَقَالَ : قَدْ أُرْسِلْتُ بِرِسَالَةٍ ، وَقَدْ أَبْلَغْتُهَا ، قَالَ : وَاللهِ لَتُخْبِرَنِّي بِهَا ، أَوْ لَآمُرَنَّ أَنْ تُضْرَبَ حَتَّى لَا يُدْرَى مَتَى يَفْرُغُ عَنْكَ الضَّرْبُ ، فَلَمَّا رَآهُ الْحَسَنُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : أَرْسِلْهُ ، قَالَ : لَا أَسْتَطِيعُ ، قَالَ : لِمَ ؟ قَالَ : قَدْ حَلَفْتُ ، قَالَ : أَرْسَلَ مَرْوَانُ بِعَلِيٍّ وَبِعَلِيٍّ وَبِكَ وَبِكَ ، وَمَا وَجَدْتُ مَثَلَكَ إِلَّا مَثَلَ الْبَغْلَةِ ، يُقَالُ لَهَا : مَنْ أَبُوكِ ؟ فَتَقُولُ : أُمِّي الْفَرَسُ ، فَقَالَ الْحُسَيْنُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : أَكَلْتَ بَظْرَ أُمِّكَ إِنْ لَمْ تُبْلِغْهُ عَنِّي مَا أَقُولُ لَهُ ، قُلْ لَهُ : بِكَ وَبِأَبِيكَ وَبِقَوْمِكَ ، وَآيَةِ مَا بَيْنِي وَبَيْنَكَ ، أَنْ تُمْسِكَ مَنْكِبَيْكَ مِنْ لَعْنِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
ترجمہ
عمیر بن اسحاق سے روایت ہے کہ مروان (بن حکم) کئی سال تک ہم پر حاکم رہا، وہ ہر جمعہ کے دن منبر پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو برا بھلا کہتا (سب و شتم کرتا) تھا۔ پھر مروان کو معزول کر دیا گیا اور سیدنا سعید بن عاص رضی اللہ عنہ کو کئی سال کے لیے حاکم مقرر کیا گیا، تو وہ انہیں برا بھلا نہیں کہتے تھے۔ پھر سعید رضی اللہ عنہ کو معزول کر دیا گیا اور دوبارہ مروان کو حاکم بنا دیا گیا، تو وہ پھر سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی شان میں گستاخی کرنے لگا۔ سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما سے کہا گیا: ”کیا آپ وہ سب نہیں سنتے جو مروان کہہ رہا ہے؟ اور کیا آپ اسے کوئی جواب نہیں دیتے؟“ وہ جمعہ کے دن آتے اور نبی کریم ﷺ کے حجرہ مبارک میں داخل ہو جاتے اور وہیں تشریف رکھتے، پھر جب خطبہ مکمل ہو جاتا تو مسجد میں نکلتے اور نماز ادا کرتے، پھر اپنے گھر والوں کے پاس واپس لوٹ جاتے۔ مروان ان کی اس خاموشی پر راضی نہ ہوا یہاں تک کہ اس نے ان کے گھر ایک پیغام رساں بھیجا۔ ہم سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ جب ان سے کہا گیا: ”فلاں شخص دروازے پر ہے“، تو انہوں نے اسے اندر آنے کی اجازت دی، وہ داخل ہوا اور کہنے لگا: ”میں آپ کے پاس ایک صاحبِ اقتدار (مروان) کی طرف سے آیا ہوں اور ایک پختہ پیغام لایا ہوں“۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”بیان کرو“۔ اس نے کہا: ”مروان نے علی کے بارے میں ایسی ایسی نازیبا باتیں کہی ہیں اور آپ کے بارے میں بھی ایسی ایسی باتیں کہی ہیں، اور اس نے کہا ہے کہ میں نے آپ کی مثال صرف اس خچر جیسی پائی ہے جس سے جب پوچھا جائے کہ تیرا باپ کون ہے؟ تو وہ کہتی ہے کہ میری ماں گھوڑی ہے“۔
سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اس کے پاس واپس جاؤ اور اس سے کہو: اللہ کی قسم! میں تمہاری کہی ہوئی کسی بھی بات کو تمہاری طرح گالی دے کر مٹانا نہیں چاہتا، بلکہ میرے اور تمہارے درمیان حساب و کتاب کا وعدہ اللہ کی بارگاہ میں ہے؛ پس اگر تم اپنے کہے میں سچے ہو تو اللہ تمہیں تمہاری سچائی کا اجر دے گا، اور اگر تم جھوٹے ہو تو اللہ تعالیٰ کا انتقام بہت سخت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے میرے نانا (نبی کریم ﷺ) کو اس سے کہیں زیادہ عزت و مقام عطا فرمایا ہے کہ میری مثال خچر جیسی ہو“۔ پھر وہ پیغام رساں وہاں سے نکلا تو راستے میں حجرہ مبارک میں اس کی ملاقات سیدنا حسین رضی اللہ عنہ سے ہوئی، انہوں نے اس سے آنے کا سبب پوچھا، اس نے کہا: ”مجھے ایک پیغام دے کر بھیجا گیا تھا اور میں نے وہ پہنچا دیا ہے“۔ آپ رضی اللہ عنہ نے (سخت لہجے میں) فرمایا: ”اللہ کی قسم! تم مجھے اس پیغام کے بارے میں ضرور بتاؤ گے، ورنہ میں حکم دوں گا کہ تمہیں اس قدر مارا جائے کہ یہ بھی پتا نہ چل سکے گا کہ تمہاری پٹائی کب ختم ہوگی“۔ جب سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے یہ صورتحال دیکھی تو فرمایا: ”اسے چھوڑ دو“۔ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ”میں اسے نہیں چھوڑ سکتا“۔ پوچھا: ”کیوں؟“ فرمایا: ”میں نے (بتا کر جانے کی) قسم کھا لی ہے“۔ تب اس شخص نے بتایا: ”مروان نے سیدنا علی کے بارے میں ایسی ایسی باتیں کہی ہیں اور آپ کے بارے میں ایسی باتیں کہی ہیں، اور آپ کی مثال اس خچر جیسی دی ہے جس سے جب پوچھا جائے کہ تیرا باپ کون ہے تو وہ کہتی ہے کہ میری ماں گھوڑی ہے“۔ یہ سن کر سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نے (نہایت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے) فرمایا: ”تیری ماں کے حق میں ہلاکت ہو اگر تو نے میرا یہ جواب اسے نہ پہنچایا کہ: (یہ نازیبا باتیں) تیرے لیے، تیرے باپ کے لیے اور تیری قوم کے لیے زیادہ موزوں ہیں، اور میرے اور تمہارے درمیان سچائی کی نشانی یہ ہے کہ تمہارے دونوں کندھے رسول اللہ ﷺ کی اس لعنت کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہیں (جو آپ ﷺ نے مروان کے باپ یا اس کے خاندان کے متعلق فرمائی تھی)“۔
سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اس کے پاس واپس جاؤ اور اس سے کہو: اللہ کی قسم! میں تمہاری کہی ہوئی کسی بھی بات کو تمہاری طرح گالی دے کر مٹانا نہیں چاہتا، بلکہ میرے اور تمہارے درمیان حساب و کتاب کا وعدہ اللہ کی بارگاہ میں ہے؛ پس اگر تم اپنے کہے میں سچے ہو تو اللہ تمہیں تمہاری سچائی کا اجر دے گا، اور اگر تم جھوٹے ہو تو اللہ تعالیٰ کا انتقام بہت سخت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے میرے نانا (نبی کریم ﷺ) کو اس سے کہیں زیادہ عزت و مقام عطا فرمایا ہے کہ میری مثال خچر جیسی ہو“۔ پھر وہ پیغام رساں وہاں سے نکلا تو راستے میں حجرہ مبارک میں اس کی ملاقات سیدنا حسین رضی اللہ عنہ سے ہوئی، انہوں نے اس سے آنے کا سبب پوچھا، اس نے کہا: ”مجھے ایک پیغام دے کر بھیجا گیا تھا اور میں نے وہ پہنچا دیا ہے“۔ آپ رضی اللہ عنہ نے (سخت لہجے میں) فرمایا: ”اللہ کی قسم! تم مجھے اس پیغام کے بارے میں ضرور بتاؤ گے، ورنہ میں حکم دوں گا کہ تمہیں اس قدر مارا جائے کہ یہ بھی پتا نہ چل سکے گا کہ تمہاری پٹائی کب ختم ہوگی“۔ جب سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے یہ صورتحال دیکھی تو فرمایا: ”اسے چھوڑ دو“۔ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ”میں اسے نہیں چھوڑ سکتا“۔ پوچھا: ”کیوں؟“ فرمایا: ”میں نے (بتا کر جانے کی) قسم کھا لی ہے“۔ تب اس شخص نے بتایا: ”مروان نے سیدنا علی کے بارے میں ایسی ایسی باتیں کہی ہیں اور آپ کے بارے میں ایسی باتیں کہی ہیں، اور آپ کی مثال اس خچر جیسی دی ہے جس سے جب پوچھا جائے کہ تیرا باپ کون ہے تو وہ کہتی ہے کہ میری ماں گھوڑی ہے“۔ یہ سن کر سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نے (نہایت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے) فرمایا: ”تیری ماں کے حق میں ہلاکت ہو اگر تو نے میرا یہ جواب اسے نہ پہنچایا کہ: (یہ نازیبا باتیں) تیرے لیے، تیرے باپ کے لیے اور تیری قوم کے لیے زیادہ موزوں ہیں، اور میرے اور تمہارے درمیان سچائی کی نشانی یہ ہے کہ تمہارے دونوں کندھے رسول اللہ ﷺ کی اس لعنت کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہیں (جو آپ ﷺ نے مروان کے باپ یا اس کے خاندان کے متعلق فرمائی تھی)“۔
أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، أَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ عُمَيْرِ بْنِ إِسْحَاقَ ، فَذَكَرَهُ نَحْوَهُ .
وَقَالَ فِي حَدِيثِهِ : قَدْ أَكْرَمَ اللهُ تَعَالَى جَدِّي أَنْ يَكُونَ مَثَلُهُ مَثَلَ الْبَغْلَةِ ، قَالَ : فَخَرَجَ الرَّسُولُ فَاسْتَقْبَلَهُ الْحُسَيْنُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، وَكَانَ لَا يَتَعَوَّجُ عَنْ شَيْءٍ يُرِيدُهُ ، وَقَالَ : فَقَالَ الْحُسَيْنُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : إِنِّي قَدْ حَلَفْتُ ، قَالَ الْحَسَنُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : فَأَخْبِرْهُ فَإِنَّهُ إِذَا لَجَّ فِي شَيْءٍ لَجَّ .
وَقَالَ : فَاشْتَدَّ عَلَى مَرْوَانَ قَوْلُهُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ جِدًّا ، يَعْنِي قَوْلَهُ : أَنْ تُمْسِكَ مَنْكِبَيْكَ .... إِلَى آخِرِهِ .
وَقَالَ فِي حَدِيثِهِ : قَدْ أَكْرَمَ اللهُ تَعَالَى جَدِّي أَنْ يَكُونَ مَثَلُهُ مَثَلَ الْبَغْلَةِ ، قَالَ : فَخَرَجَ الرَّسُولُ فَاسْتَقْبَلَهُ الْحُسَيْنُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، وَكَانَ لَا يَتَعَوَّجُ عَنْ شَيْءٍ يُرِيدُهُ ، وَقَالَ : فَقَالَ الْحُسَيْنُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : إِنِّي قَدْ حَلَفْتُ ، قَالَ الْحَسَنُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : فَأَخْبِرْهُ فَإِنَّهُ إِذَا لَجَّ فِي شَيْءٍ لَجَّ .
وَقَالَ : فَاشْتَدَّ عَلَى مَرْوَانَ قَوْلُهُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ جِدًّا ، يَعْنِي قَوْلَهُ : أَنْ تُمْسِكَ مَنْكِبَيْكَ .... إِلَى آخِرِهِ .
ترجمہ
عمیر بن اسحاق سے روایت ہے، انہوں نے سابقہ روایت کے ہم معنی ہی تذکرہ کیا ہے۔
اور انہوں نے اپنی روایت میں یہ الفاظ بیان کیے: ”یقیناً اللہ تعالیٰ نے میرے نانا جان (نبی کریم ﷺ) کو اس بات سے کہیں زیادہ عزت و شرف بخشا ہے کہ ان کی مثال ایک خچر کی سی دی جائے“، راوی کہتے ہیں کہ پھر قاصد روانہ ہوا تو سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نے اسے سامنے سے آتے ہوئے پایا، اور آپ رضی اللہ عنہ کی یہ خصلت تھی کہ جب کسی چیز کا ارادہ فرما لیتے تو اس سے ذرہ برابر انحراف نہ کرتے تھے، راوی نے بیان کیا کہ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”بے شک میں نے (اس معاملے میں) قسم کھا رکھی ہے“، تب سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے (قاصد سے) فرمایا: ”اسے بتا دو، کیونکہ حسین جب کسی بات پر اصرار کرتے ہیں تو پھر پوری طرح اصرار کرتے ہیں“۔
راوی نے کہا کہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی یہ بات مروان پر نہایت گراں گزری، یعنی ان کا یہ قول: ”تم اپنے دونوں کندھے تھامو...“ حدیث کے آخر تک۔
اور انہوں نے اپنی روایت میں یہ الفاظ بیان کیے: ”یقیناً اللہ تعالیٰ نے میرے نانا جان (نبی کریم ﷺ) کو اس بات سے کہیں زیادہ عزت و شرف بخشا ہے کہ ان کی مثال ایک خچر کی سی دی جائے“، راوی کہتے ہیں کہ پھر قاصد روانہ ہوا تو سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نے اسے سامنے سے آتے ہوئے پایا، اور آپ رضی اللہ عنہ کی یہ خصلت تھی کہ جب کسی چیز کا ارادہ فرما لیتے تو اس سے ذرہ برابر انحراف نہ کرتے تھے، راوی نے بیان کیا کہ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”بے شک میں نے (اس معاملے میں) قسم کھا رکھی ہے“، تب سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے (قاصد سے) فرمایا: ”اسے بتا دو، کیونکہ حسین جب کسی بات پر اصرار کرتے ہیں تو پھر پوری طرح اصرار کرتے ہیں“۔
راوی نے کہا کہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی یہ بات مروان پر نہایت گراں گزری، یعنی ان کا یہ قول: ”تم اپنے دونوں کندھے تھامو...“ حدیث کے آخر تک۔
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، ثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، وَالْمُجَالِدِ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، قَالَ : لَعَنَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحَكَمَ وَمَنْ يَخْرُجُ مِنْ صُلْبِهِ
ترجمہ
امام عامر شعبی رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ انہوں نے بیان کیا: ”رسول اللہ ﷺ نے «لَعَنَ الْحَكَمَ وَمَنْ يَخْرُجُ مِنْ صُلْبِهِ» ”حکم (بن ابی العاص) اور اس کی صلب یعنی پشت سے پیدا ہونے والی اولاد پر لعنت فرمائی ہے۔“ “
یہ روایت مرسل ہے کیونکہ امام شعبی رحمہ اللہ تابعی ہیں اور انہوں نے اسے براہِ راست نبی کریم ﷺ سے روایت کیا ہے، نیز اس کی سند میں مجالد بن سعید نامی راوی موجود ہے جو کہ محدثین کے نزدیک ضعیف اور کثیر الغلط ہے۔
یہ روایت مرسل ہے کیونکہ امام شعبی رحمہ اللہ تابعی ہیں اور انہوں نے اسے براہِ راست نبی کریم ﷺ سے روایت کیا ہے، نیز اس کی سند میں مجالد بن سعید نامی راوی موجود ہے جو کہ محدثین کے نزدیک ضعیف اور کثیر الغلط ہے۔
رَوَاهُ أَحْمَدُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ ، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، وَمُجَالِدٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَهُوَ مُسْتَنِدٌ إِلَى الْكَعْبَةِ ، وَهُوَ يَقُولُ : وَرَبِّ هَذِهِ الْكَعْبَةِ .... فَذَكَرَهُ .
ترجمہ
امام شعبی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو اس حال میں سنا کہ وہ کعبہ مشرفہ سے پشت لگائے ہوئے فرما رہے تھے: ”اس کعبہ کے رب کی قسم!“ پھر انہوں نے بقیہ مکمل حدیث بیان فرمائی۔
اس حدیث کو امام احمد نے عبدالرزاق، ابن عیینہ، اسماعیل بن ابی خالد اور مجالد کی سند سے امام شعبی کے حوالے سے روایت کیا ہے۔
اس حدیث کو امام احمد نے عبدالرزاق، ابن عیینہ، اسماعیل بن ابی خالد اور مجالد کی سند سے امام شعبی کے حوالے سے روایت کیا ہے۔
وَقَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : لِكُلِّ شَيْءٍ آفَةٌ ، وَآفَةُ هَذَا الدِّينِ بَنُو أُمَيَّةَ .
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”ہر چیز کے لیے کوئی نہ کوئی آفت، خرابی یا بگاڑ کا سبب ہوتا ہے، اور اس دین (اسلام) کی آفت بنو امیہ ہیں۔“
اس روایت کو امام اسحاق بن راہویہ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں علی بن علقمہ الانماری الکوفی موجود ہیں جنہیں امام ابن حبان نے ثقات میں شمار کیا ہے، جبکہ محدثین کے ہاں اس قسم کی روایات کی سند اور متن پر علمی و فنی بحث موجود ہے۔
اس روایت کو امام اسحاق بن راہویہ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں علی بن علقمہ الانماری الکوفی موجود ہیں جنہیں امام ابن حبان نے ثقات میں شمار کیا ہے، جبکہ محدثین کے ہاں اس قسم کی روایات کی سند اور متن پر علمی و فنی بحث موجود ہے۔
وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا هَوْذَةُ بْنُ خَلِيفَةَ ، عَنْ عَوْفٍ ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ ، قَالَ : لَمَّا كَانَ يَزِيدُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ أَمِيرًا بِالشَّامِ غَزَا الْمُسْلِمُونَ ، فَسَلِمُوا وَغَنِمُوا ، وَكَانَ فِي غَنِيمَتِهِمْ جَارِيَةٌ نَفِيسَةٌ ، فَصَارَتْ لِرَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ يَزِيدُ ، فَانْتَزَعَهَا مِنْهُ ، وَأَبُو ذَرٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَوْمَئِذٍ بِالشَّامِ ، فَاسْتَعَانَ الرَّجُلُ بِأَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَى يَزِيدَ ، فَانْطَلَقَ مَعَهُ ، فَقَالَ لِيَزِيدَ : رُدَّ عَلَيْهِ جَارِيَتَهُ ، فَتَلَكَّأَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، فَقَالَ أَبُو ذَرٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : أَمَا وَاللهِ لَئِنْ فَعَلْتَ ، لَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : إِنَّ أَوَّلَ مَنْ يُبَدِّلُ سُنَّتِي لَرَجُلٌ مِنْ بَنِي أُمَيَّةَ ثُمَّ وَلَّى عَنْهُ ، فَلَحِقَهُ يَزِيدُ ، فَقَالَ : أُذَكِّرُكَ اللهَ تَعَالَى أَنَا هُوَ ؟ قَالَ : اللَّهُمَّ لَا ، وَرَدَّ عَلَى الرَّجُلِ جَارِيَتَهُ .
ترجمہ
ابوالعالیہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ جب سیدنا یزید بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ شام کے امیر تھے تو مسلمانوں نے ایک غزوہ کیا جس میں وہ بخیر و عافیت رہے اور انہیں مالِ غنیمت بھی حاصل ہوا؛ ان کے مالِ غنیمت میں ایک نہایت نفیس اور قیمتی لونڈی تھی جو ایک مسلمان شخص کے حصے میں آئی تھی، مگر یزید نے اس کی طرف پیغام بھیج کر وہ لونڈی اس سے جبراً لے لی۔ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ ان دنوں شام ہی میں موجود تھے، چنانچہ اس شخص نے یزید کے اس اقدام پر سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے استغاثہ کیا، تو وہ اس کے ساتھ چل پڑے اور یزید سے مخاطب ہو کر فرمایا: ”اس کی لونڈی اسے واپس کر دو۔“ یزید نے تین مرتبہ اس حکم کی تعمیل میں ہچکچاہٹ دکھائی تو سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”آگاہ رہو! اللہ کی قسم! اگر تم نے ایسا کیا تو (یاد رکھو) میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ”بلاشبہ میری سنت کو سب سے پہلے تبدیل کرنے والا شخص بنو امیہ کا ایک مرد ہو گا۔“ “ پھر وہ وہاں سے رخ موڑ کر چل دیے تو یزید ان کے پیچھے لپکے اور عرض کیا: ”میں آپ کو اللہ تعالیٰ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں، کیا وہ شخص میں ہی ہوں؟“ انہوں نے جواب دیا: «اللَّهُمَّ لَا» ”اے اللہ! نہیں (تم وہ نہیں ہو)“ اور یزید نے اس شخص کو اس کی لونڈی واپس کر دی۔
اس حدیث کی تخریج امام ابویعلیٰ نے اپنی مسند (حدیث: 4462) میں کی ہے اور محدث ناصر الدین البانی نے اسے ’سلسلہ احادیث صحیحہ‘ (حدیث: 1749) میں صحیح قرار دیا ہے۔
اس حدیث کی تخریج امام ابویعلیٰ نے اپنی مسند (حدیث: 4462) میں کی ہے اور محدث ناصر الدین البانی نے اسے ’سلسلہ احادیث صحیحہ‘ (حدیث: 1749) میں صحیح قرار دیا ہے۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي سَمِينَةَ ، ثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، عَنْ عَوْفٍ ، عَنِ الْمُهَاجِرِ أَبِي مَخْلَدٍ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ ، ثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ ، قَالَ : كَانَ أَبُو ذَرٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِالشَّامِ زَمَنَ يَزِيدَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ ، فَغَزَا الْمُسْلِمُونَ ، فَغَنِمُوا وَأَصَابُوا جَارِيَةً نَفِيسَةً ، فَصَارَتْ لِرَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ فِي سَهْمٍ .... فَذَكَرَ نَحْوَهُ .
ترجمہ
ابو مسلم سے روایت ہے کہ ”سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ یزید بن ابی سفیان کے دورِ امارت میں ملکِ شام میں موجود تھے، اسی دوران مسلمانوں نے ایک جنگی مہم سر کی اور انہیں مالِ غنیمت حاصل ہوا، اس غنیمت میں انہیں ایک نہایت ہی نفیس اور بیش قیمت لونڈی بھی ملی، جو (تقسیم کے وقت) ایک مسلمان شخص کے حصے میں آئی...“ پھر راوی نے اسی کے مانند بقیہ پوری حدیث ذکر کی۔
اسے امام ابو یعلیٰ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے اور اس کے تمام راوی ثقہ ہیں، یہ روایت سابقہ متن کی تائید و توثیق کے لیے پیش کی گئی ہے۔
اسے امام ابو یعلیٰ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے اور اس کے تمام راوی ثقہ ہیں، یہ روایت سابقہ متن کی تائید و توثیق کے لیے پیش کی گئی ہے۔
حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ عَبْدِ اللهِ ، ثَنَا ابْنُ أَبِي حَازِمٍ ، عَنِ الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى فِي الْمَنَامِ ، كَأَنَّ بَنِي الْحَكَمِ يَنْزُونَ عَلَى مِنْبَرِهِ ، فَأَصْبَحَ كَالْمُتَغَيِّظِ ، وَقَالَ : مَا لِي رَأَيْتُ بَنِي الْحَكَمِ يَنْزُونَ عَلَى مِنْبَرِي نَزْوَ الْقِرَدَةِ فَمَا رُئِيَ ضَاحِكًا بَعْدَ ذَلِكَ حَتَّى مَاتَ .
ترجمہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے خواب میں دیکھا کہ گویا بنو حکم آپ ﷺ کے منبر پر اچھل کود کر رہے ہیں، پس جب صبح ہوئی تو آپ ﷺ کے چہرہ انور پر سخت ناگواری اور برہمی کے آثار نمایاں تھے اور آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”مجھے کیا ہوا ہے کہ میں نے بنو حکم کو اپنے منبر پر اس طرح اچھلتے ہوئے دیکھا ہے جیسے بندر اچھلتے ہیں؟“ راوی بیان کرتے ہیں کہ اس واقعے کے بعد آپ ﷺ کو اپنی وفات تک کبھی (کھل کر) ہنستے ہوئے نہیں دیکھا گیا۔
اس حدیث کو امام حاکم نے المستدرک میں روایت کیا ہے اور اسے صحیح الاسناد قرار دیا ہے، جبکہ دیگر ائمہ نے اس کے بعض رواۃ کے حافظے پر کلام کیا ہے۔
اس حدیث کو امام حاکم نے المستدرک میں روایت کیا ہے اور اسے صحیح الاسناد قرار دیا ہے، جبکہ دیگر ائمہ نے اس کے بعض رواۃ کے حافظے پر کلام کیا ہے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، ثَنَا إِسْمَاعِيلُ - هُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ - عَنِ الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : إِذَا بَلَغَ بَنُو أَبِي الْعَاصِ ثَلَاثِينَ ، كَانَ دِينُ اللهِ دَغَلًا ، وَمَالُ اللهِ دُوَلًا ، وَعِبَادُ اللهِ خَوَلًا .
ترجمہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”جب بنو ابوالعاص (کی تعداد) تیس تک پہنچ جائے گی، تو اللہ کے دین کو مکر و فریب اور فساد کا ذریعہ بنا لیا جائے گا، اللہ کے مال کو (عوام کے بجائے مخصوص طبقوں میں) گردش کرنے والی ذاتی دولت بنا لیا جائے گا، اور اللہ کے بندوں کو (رعایا کے بجائے) اپنا غلام و زرخرید بنا لیا جائے گا۔“
اس روایت کو امام حاکم نے المستدرک میں نقل کر کے اسے صحیح الاسناد قرار دیا ہے، جبکہ دیگر محدثین نے اس کی سند پر کلام کیا ہے، تاہم اس کے مفہوم کی تائید میں دیگر احادیثِ فتن بھی موجود ہیں جو مستقبل میں سیاسی و سماجی بگاڑ کی نشاندہی کرتی ہیں۔
اس روایت کو امام حاکم نے المستدرک میں نقل کر کے اسے صحیح الاسناد قرار دیا ہے، جبکہ دیگر محدثین نے اس کی سند پر کلام کیا ہے، تاہم اس کے مفہوم کی تائید میں دیگر احادیثِ فتن بھی موجود ہیں جو مستقبل میں سیاسی و سماجی بگاڑ کی نشاندہی کرتی ہیں۔
وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ خَارِجَةَ .
4466 \ 2 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى قَالَا : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ الْغَازِ ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لَا يَزَالُ هَذَا الْأَمْرُ قَائِمًا بِالْقِسْطِ ، حَتَّى يَثْلِمَهُ رَجُلٌ مِنْ بَنِي أُمَيَّةَ . رِجَالُهُ ثِقَاتٌ إِلَّا أَنَّهُ مُنْقَطِعٌ .
4466 \ 3 - وَقَالَ الْحَارِثُ ، وَأَبُو يَعْلَى جَمِيعًا : حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى ، ثَنَا الْوَلِيدُ ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ ، نَحْوَهُ ، وَزَادَ : يُقَالُ لَهُ : يَزِيدُ .
4466 \ 2 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى قَالَا : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ الْغَازِ ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لَا يَزَالُ هَذَا الْأَمْرُ قَائِمًا بِالْقِسْطِ ، حَتَّى يَثْلِمَهُ رَجُلٌ مِنْ بَنِي أُمَيَّةَ . رِجَالُهُ ثِقَاتٌ إِلَّا أَنَّهُ مُنْقَطِعٌ .
4466 \ 3 - وَقَالَ الْحَارِثُ ، وَأَبُو يَعْلَى جَمِيعًا : حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى ، ثَنَا الْوَلِيدُ ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ ، نَحْوَهُ ، وَزَادَ : يُقَالُ لَهُ : يَزِيدُ .
ترجمہ
سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”یہ امرِ خلافت و حکومت ہمیشہ عدل و انصاف پر قائم رہے گا، یہاں تک کہ بنو امیہ کا ایک شخص اس میں پہلا رخنہ ڈالے گا۔“
اس کے تمام راوی ثقہ ہیں لیکن یہ روایت منقطع ہے، نیز امام حارث اور ابویعلیٰ کی روایت میں یہ الفاظ بھی زائد ہیں کہ: ”اس شخص کا نام یزید ہو گا“۔
اس کے تمام راوی ثقہ ہیں لیکن یہ روایت منقطع ہے، نیز امام حارث اور ابویعلیٰ کی روایت میں یہ الفاظ بھی زائد ہیں کہ: ”اس شخص کا نام یزید ہو گا“۔