المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الفتوح— اسلامی فتوحات کا بیان۔
بَابُ لعن رسول اللَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الحكم بن أبي العاص وبنيه وبني أمية باب: رسول اللہ ﷺ کے حکم بن ابی العاص، اس کی اولاد اور بنو امیہ پر لعنت کرنے کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا هَوْذَةُ بْنُ خَلِيفَةَ ، عَنْ عَوْفٍ ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ ، قَالَ : لَمَّا كَانَ يَزِيدُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ أَمِيرًا بِالشَّامِ غَزَا الْمُسْلِمُونَ ، فَسَلِمُوا وَغَنِمُوا ، وَكَانَ فِي غَنِيمَتِهِمْ جَارِيَةٌ نَفِيسَةٌ ، فَصَارَتْ لِرَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ يَزِيدُ ، فَانْتَزَعَهَا مِنْهُ ، وَأَبُو ذَرٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَوْمَئِذٍ بِالشَّامِ ، فَاسْتَعَانَ الرَّجُلُ بِأَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَى يَزِيدَ ، فَانْطَلَقَ مَعَهُ ، فَقَالَ لِيَزِيدَ : رُدَّ عَلَيْهِ جَارِيَتَهُ ، فَتَلَكَّأَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، فَقَالَ أَبُو ذَرٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : أَمَا وَاللهِ لَئِنْ فَعَلْتَ ، لَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : إِنَّ أَوَّلَ مَنْ يُبَدِّلُ سُنَّتِي لَرَجُلٌ مِنْ بَنِي أُمَيَّةَ ثُمَّ وَلَّى عَنْهُ ، فَلَحِقَهُ يَزِيدُ ، فَقَالَ : أُذَكِّرُكَ اللهَ تَعَالَى أَنَا هُوَ ؟ قَالَ : اللَّهُمَّ لَا ، وَرَدَّ عَلَى الرَّجُلِ جَارِيَتَهُ .ابوالعالیہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ جب سیدنا یزید بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ شام کے امیر تھے تو مسلمانوں نے ایک غزوہ کیا جس میں وہ بخیر و عافیت رہے اور انہیں مالِ غنیمت بھی حاصل ہوا؛ ان کے مالِ غنیمت میں ایک نہایت نفیس اور قیمتی لونڈی تھی جو ایک مسلمان شخص کے حصے میں آئی تھی، مگر یزید نے اس کی طرف پیغام بھیج کر وہ لونڈی اس سے جبراً لے لی۔ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ ان دنوں شام ہی میں موجود تھے، چنانچہ اس شخص نے یزید کے اس اقدام پر سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے استغاثہ کیا، تو وہ اس کے ساتھ چل پڑے اور یزید سے مخاطب ہو کر فرمایا: ”اس کی لونڈی اسے واپس کر دو۔“ یزید نے تین مرتبہ اس حکم کی تعمیل میں ہچکچاہٹ دکھائی تو سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”آگاہ رہو! اللہ کی قسم! اگر تم نے ایسا کیا تو (یاد رکھو) میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ”بلاشبہ میری سنت کو سب سے پہلے تبدیل کرنے والا شخص بنو امیہ کا ایک مرد ہو گا۔“ “ پھر وہ وہاں سے رخ موڑ کر چل دیے تو یزید ان کے پیچھے لپکے اور عرض کیا: ”میں آپ کو اللہ تعالیٰ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں، کیا وہ شخص میں ہی ہوں؟“ انہوں نے جواب دیا: «اللَّهُمَّ لَا» ”اے اللہ! نہیں (تم وہ نہیں ہو)“ اور یزید نے اس شخص کو اس کی لونڈی واپس کر دی۔
اس حدیث کی تخریج امام ابویعلیٰ نے اپنی مسند (حدیث: 4462) میں کی ہے اور محدث ناصر الدین البانی نے اسے ’سلسلہ احادیث صحیحہ‘ (حدیث: 1749) میں صحیح قرار دیا ہے۔