المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الفتوح— اسلامی فتوحات کا بیان۔
بَابُ لعن رسول اللَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الحكم بن أبي العاص وبنيه وبني أمية باب: رسول اللہ ﷺ کے حکم بن ابی العاص، اس کی اولاد اور بنو امیہ پر لعنت کرنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ عَبْدِ اللهِ ، ثَنَا ابْنُ أَبِي حَازِمٍ ، عَنِ الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى فِي الْمَنَامِ ، كَأَنَّ بَنِي الْحَكَمِ يَنْزُونَ عَلَى مِنْبَرِهِ ، فَأَصْبَحَ كَالْمُتَغَيِّظِ ، وَقَالَ : مَا لِي رَأَيْتُ بَنِي الْحَكَمِ يَنْزُونَ عَلَى مِنْبَرِي نَزْوَ الْقِرَدَةِ فَمَا رُئِيَ ضَاحِكًا بَعْدَ ذَلِكَ حَتَّى مَاتَ .سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے خواب میں دیکھا کہ گویا بنو حکم آپ ﷺ کے منبر پر اچھل کود کر رہے ہیں، پس جب صبح ہوئی تو آپ ﷺ کے چہرہ انور پر سخت ناگواری اور برہمی کے آثار نمایاں تھے اور آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”مجھے کیا ہوا ہے کہ میں نے بنو حکم کو اپنے منبر پر اس طرح اچھلتے ہوئے دیکھا ہے جیسے بندر اچھلتے ہیں؟“ راوی بیان کرتے ہیں کہ اس واقعے کے بعد آپ ﷺ کو اپنی وفات تک کبھی (کھل کر) ہنستے ہوئے نہیں دیکھا گیا۔
اس حدیث کو امام حاکم نے المستدرک میں روایت کیا ہے اور اسے صحیح الاسناد قرار دیا ہے، جبکہ دیگر ائمہ نے اس کے بعض رواۃ کے حافظے پر کلام کیا ہے۔