❮
❯
حدیث نمبر: 4464
حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ عَبْدِ اللهِ ، ثَنَا ابْنُ أَبِي حَازِمٍ ، عَنِ الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى فِي الْمَنَامِ ، كَأَنَّ بَنِي الْحَكَمِ يَنْزُونَ عَلَى مِنْبَرِهِ ، فَأَصْبَحَ كَالْمُتَغَيِّظِ ، وَقَالَ : مَا لِي رَأَيْتُ بَنِي الْحَكَمِ يَنْزُونَ عَلَى مِنْبَرِي نَزْوَ الْقِرَدَةِ فَمَا رُئِيَ ضَاحِكًا بَعْدَ ذَلِكَ حَتَّى مَاتَ .
ترجمہ

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے خواب میں دیکھا کہ گویا بنو حکم آپ ﷺ کے منبر پر اچھل کود کر رہے ہیں، پس جب صبح ہوئی تو آپ ﷺ کے چہرہ انور پر سخت ناگواری اور برہمی کے آثار نمایاں تھے اور آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”مجھے کیا ہوا ہے کہ میں نے بنو حکم کو اپنے منبر پر اس طرح اچھلتے ہوئے دیکھا ہے جیسے بندر اچھلتے ہیں؟“ راوی بیان کرتے ہیں کہ اس واقعے کے بعد آپ ﷺ کو اپنی وفات تک کبھی (کھل کر) ہنستے ہوئے نہیں دیکھا گیا۔
اس حدیث کو امام حاکم نے المستدرک میں روایت کیا ہے اور اسے صحیح الاسناد قرار دیا ہے، جبکہ دیگر ائمہ نے اس کے بعض رواۃ کے حافظے پر کلام کیا ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الفتوح / حدیث: 4464
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده حسن »
«أخرجه مجمع الزوائد ومنبع الفوائد برقم: 9245، 9246، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 7529»