المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الفتوح— اسلامی فتوحات کا بیان۔
بَابُ لعن رسول اللَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الحكم بن أبي العاص وبنيه وبني أمية باب: رسول اللہ ﷺ کے حکم بن ابی العاص، اس کی اولاد اور بنو امیہ پر لعنت کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4463
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي سَمِينَةَ ، ثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، عَنْ عَوْفٍ ، عَنِ الْمُهَاجِرِ أَبِي مَخْلَدٍ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ ، ثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ ، قَالَ : كَانَ أَبُو ذَرٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِالشَّامِ زَمَنَ يَزِيدَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ ، فَغَزَا الْمُسْلِمُونَ ، فَغَنِمُوا وَأَصَابُوا جَارِيَةً نَفِيسَةً ، فَصَارَتْ لِرَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ فِي سَهْمٍ .... فَذَكَرَ نَحْوَهُ .ترجمہ
ابو مسلم سے روایت ہے کہ ”سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ یزید بن ابی سفیان کے دورِ امارت میں ملکِ شام میں موجود تھے، اسی دوران مسلمانوں نے ایک جنگی مہم سر کی اور انہیں مالِ غنیمت حاصل ہوا، اس غنیمت میں انہیں ایک نہایت ہی نفیس اور بیش قیمت لونڈی بھی ملی، جو (تقسیم کے وقت) ایک مسلمان شخص کے حصے میں آئی...“ پھر راوی نے اسی کے مانند بقیہ پوری حدیث ذکر کی۔
اسے امام ابو یعلیٰ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے اور اس کے تمام راوی ثقہ ہیں، یہ روایت سابقہ متن کی تائید و توثیق کے لیے پیش کی گئی ہے۔