المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الفتوح— اسلامی فتوحات کا بیان۔
بَابُ لعن رسول اللَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الحكم بن أبي العاص وبنيه وبني أمية باب: رسول اللہ ﷺ کے حکم بن ابی العاص، اس کی اولاد اور بنو امیہ پر لعنت کرنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، أَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ عُمَيْرِ بْنِ إِسْحَاقَ ، فَذَكَرَهُ نَحْوَهُ .
وَقَالَ فِي حَدِيثِهِ : قَدْ أَكْرَمَ اللهُ تَعَالَى جَدِّي أَنْ يَكُونَ مَثَلُهُ مَثَلَ الْبَغْلَةِ ، قَالَ : فَخَرَجَ الرَّسُولُ فَاسْتَقْبَلَهُ الْحُسَيْنُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، وَكَانَ لَا يَتَعَوَّجُ عَنْ شَيْءٍ يُرِيدُهُ ، وَقَالَ : فَقَالَ الْحُسَيْنُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : إِنِّي قَدْ حَلَفْتُ ، قَالَ الْحَسَنُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : فَأَخْبِرْهُ فَإِنَّهُ إِذَا لَجَّ فِي شَيْءٍ لَجَّ .
وَقَالَ : فَاشْتَدَّ عَلَى مَرْوَانَ قَوْلُهُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ جِدًّا ، يَعْنِي قَوْلَهُ : أَنْ تُمْسِكَ مَنْكِبَيْكَ .... إِلَى آخِرِهِ .عمیر بن اسحاق سے روایت ہے، انہوں نے سابقہ روایت کے ہم معنی ہی تذکرہ کیا ہے۔
اور انہوں نے اپنی روایت میں یہ الفاظ بیان کیے: ”یقیناً اللہ تعالیٰ نے میرے نانا جان (نبی کریم ﷺ) کو اس بات سے کہیں زیادہ عزت و شرف بخشا ہے کہ ان کی مثال ایک خچر کی سی دی جائے“، راوی کہتے ہیں کہ پھر قاصد روانہ ہوا تو سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نے اسے سامنے سے آتے ہوئے پایا، اور آپ رضی اللہ عنہ کی یہ خصلت تھی کہ جب کسی چیز کا ارادہ فرما لیتے تو اس سے ذرہ برابر انحراف نہ کرتے تھے، راوی نے بیان کیا کہ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”بے شک میں نے (اس معاملے میں) قسم کھا رکھی ہے“، تب سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے (قاصد سے) فرمایا: ”اسے بتا دو، کیونکہ حسین جب کسی بات پر اصرار کرتے ہیں تو پھر پوری طرح اصرار کرتے ہیں“۔
راوی نے کہا کہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی یہ بات مروان پر نہایت گراں گزری، یعنی ان کا یہ قول: ”تم اپنے دونوں کندھے تھامو...“ حدیث کے آخر تک۔