المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الفتوح— اسلامی فتوحات کا بیان۔
بَابُ استخلاف معاوية رضي اللَّهُ عَنْهُ ولده يزيد باب: سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے اپنے بیٹے یزید کو جانشین بنانے کا بیان۔
قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عُمَرَ بْنِ شَقِيقٍ ، ثَنَا جَعْفَرٌ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، قَالَ : لَمَّا أَرَادَ مُعَاوِيَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنْ يَسْتَخْلِفَ يَزِيدَ ، بَعَثَ إِلَى عَامِلِ الْمَدِينَةِ ، أَنْ أَوْفِدْ إِلَيَّ مَنْ شَاءَ ، قَالَ : فَوَفَدَ إِلَيْهِ عَمْرُو بْنُ حَزْمٍ الْأَنْصَارِيُّ يَسْتَأْذِنُ ، فَجَاءَ حَاجِبُ مُعَاوِيَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَسْتَأْذِنُ ، فَقَالَ : هَذَا عَمْرٌو قَدْ جَاءَ يَسْتَأْذِنُ ، فَقَالَ : مَا جَاءَ بِهِمْ إِلَيَّ ؟ قَالَ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ! يَطْلُبُ مَعْرُوفَكَ ، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : إِنْ كَانَ صَادِقًا ، فَلْيَكْتُبْ إِلَيَّ ، أُعْطِيهِ بِمَا سَأَلَ وَلَا أُرَاهُ ، قَالَ : فَخَرَجَ إِلَيْهِ الْحَاجِبُ ، فَقَالَ : مَا حَاجَتُكَ ؟ اكْتُبْ مَا شِئْتَ ، فَقَالَ : سُبْحَانَ اللهِ أَجِيءُ إِلَى بَابِ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ ، فَأُحْجَبُ عَنْهُ ، أُحِبُّ أَنْ أَلْقَاهُ فَأُكَلِّمَهُ ، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لِلْحَاجِبِ : عِدْهُ إِلَى يَوْمِ كَذَا وَكَذَا ، إِذَا صَلَّى الْغَدَاةَ فَلْيَجِئْ ، قَالَ : فَلَمَّا صَلَّى مُعَاوِيَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ الْغَدَاةَ ، أَمَرَ بَسَرِيرِهِ فَجُعِلَ فِي الْإِيوَانِ ثُمَّ أُخْرِجَ النَّاسُ عَنْهُ ، فَلَمْ يَكُنْ عِنْدَهُ أَحَدٌ إِلَّا كُرْسِيٌّ وُضِعَ لِعَمْرٍو ، فَجَاءَ عَمْرٌو رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَاسْتَأْذَنَ ، فَأَذِنَ لَهُ ، فَسَلَّمَ عَلَيْهِ ، ثُمَّ جَلَسَ عَلَى الْكُرْسِيِّ ، فَقَالَ لَهُ مُعَاوِيَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : حَاجَتُكَ ؟ قَالَ : فَحَمِدَ اللهَ تَعَالَى وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : لَعَمْرِي ، لَقَدْ أَصْبَحَ يَزِيدُ بْنُ مُعَاوِيَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَاسِطَ الْحَسَبِ فِي قُرَيْشٍ ، غَنِيًّا عَنِ الْمَالِ ، غَنِيًّا إِلَّا عَنْ كُلِّ خَيْرٍ ، وَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : إِنَّ اللهَ تَعَالَى لَمْ يَسْتَرْعِ عَبْدًا رَعِيَّةً إِلَّا وَهُوَ سَائِلُهُ عَنْهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، كَيْفَ صَنَعَ ؟ وَإِنِّي أُذَكِّرُكَ اللهَ يَا مُعَاوِيَةُ فِي أُمَّةِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ تَسْتَخْلِفُ عَلَيْهَا ، قَالَ : فَأَخَذَ مُعَاوِيَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ رَبْوٌ وَنَفَسٌ فِي غَدَاةٍ قَرٍّ حَتَّى عَرِقَ ، وَجَعَلَ يَمْسَحُ الْعَرَقَ عَنْ وَجْهِهِ مَلِيًّا ، ثُمَّ أَفَاقَ ، فَحَمِدَ اللهَ تَعَالَى وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : أَمَّا بَعْدُ ، فَإِنَّكَ امْرُؤٌ نَاصِحٌ ، قُلْتَ بِرَأْيِكَ بَالِغَ مَا بَلَغَ ، وَإِنَّهُ لَمْ يَبْقَ إِلَّا ابْنِي وَأَبْنَاؤُهُمْ ، فَابْنِي أَحَقُّ مِنْ أَبْنَائِهِمْ ، حَاجَتُكَ ؟ قَالَ : مَا لِي حَاجَةٌ ، قَالَ : قُمْ ، فَقَالَ لَهُ أَخُوهُ : إِنَّمَا جِئْنَا مِنَ الْمَدِينَةِ نَضْرِبُ أَكْبَادَهَا مِنْ أَجْلِ كَلِمَاتٍ ، قَالَ : مَا جِئْتَ إِلَّا لِلْكَلِمَاتِ ، فَأَمَرَ لَهُمْ بِجَوَائِزِهِمْ ، وَأَمَرَ لِعَمْرٍو بِمِثْلَيْهَا .محمد بن سیرین سے روایت ہے کہ جب سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے یزید کو اپنا جانشین مقرر کرنے کا ارادہ کیا، تو مدینہ کے گورنر کو پیغام بھیجا کہ وہ جس کو چاہیں وفد بنا کر میری طرف بھیج دیں، راوی کہتے ہیں: تو سیدنا عمرو بن حزم انصاری رضی اللہ عنہ ان کے پاس وفد کی صورت میں پہنچے اور باریابی کی اجازت چاہی، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا دربان اندر گیا اور عرض کی: یہ عمرو آئے ہیں اور اجازت چاہتے ہیں، تو انہوں نے پوچھا: ”یہ لوگ میرے پاس کیوں آئے ہیں؟“ دربان نے کہا: اے امیر المؤمنین! وہ آپ کے عطیے اور سخاوت کے طلب گار ہیں، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اگر وہ سچے ہیں تو جو چاہتے ہیں مجھے لکھ کر بھیج دیں، میں انہیں ان کی مانگی ہوئی چیز دے دوں گا مگر ان سے ملاقات نہیں کروں گا“، چنانچہ دربان ان کی طرف نکلا اور کہا: آپ کی کیا ضرورت ہے؟ جو چاہیں لکھ دیں، انہوں نے (حیرت سے) کہا: سبحان اللہ! کیا میں امیر المؤمنین کے دروازے پر آؤں اور پھر مجھے ان سے روک دیا جائے؟ میں تو ان سے مل کر بات کرنا چاہتا ہوں، تب سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے دربان سے فرمایا: ”انہیں فلاں فلاں دن کا وقت دے دو کہ جب وہ صبح کی نماز پڑھ لیں تو حاضر ہو جائیں“، راوی کہتے ہیں: جب سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے صبح کی نماز پڑھ لی تو اپنے تخت کا حکم دیا جسے برآمدے میں بچھا دیا گیا، پھر لوگوں کو وہاں سے ہٹا دیا گیا اور ان کے پاس سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ کے لیے رکھی گئی ایک کرسی کے سوا کوئی نہ تھا، پھر سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور اجازت چاہی تو انہیں اجازت دے دی گئی، انہوں نے سلام کیا اور کرسی پر تشریف فرما ہوئے، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا: ”آپ کی کیا حاجت ہے؟“ راوی کہتے ہیں: تو انہوں نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی اور پھر فرمایا: میری جان کی قسم! یزید بن معاویہ قریش میں بلند نسب والے ہیں، وہ مال و دولت سے بے نیاز ہیں لیکن ہر طرح کی خیر و بھلائی کے محتاج ہیں، اور بے شک میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ”اللہ تعالیٰ جس کسی بندے کو بھی کسی رعیت کا نگران بناتا ہے، وہ قیامت کے دن اس سے اس کے بارے میں ضرور سوال فرمائے گا کہ اس نے (رعیت کے ساتھ) کیسا سلوک کیا؟“ اور اے معاویہ! میں تمہیں امتِ محمد ﷺ کے معاملے میں اللہ سے ڈراتا ہوں کہ تم ان پر کسے اپنا جانشین بنا رہے ہو، راوی کہتے ہیں: (یہ کلمات سن کر) سردی کی صبح ہونے کے باوجود سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ پر اس قدر گھبراہٹ اور سانس اکھڑنے کی کیفیت طاری ہوئی کہ وہ پسینے سے شرابور ہو گئے اور کافی دیر تک اپنے چہرے سے پسینہ پونچھتے رہے، پھر جب طبیعت سنبھلی تو اللہ کی حمد و ثنا کی اور فرمایا: ”امّا بعد! بے شک آپ ایک مخلص اور خیر خواہ انسان ہیں، آپ نے اپنی فہم کے مطابق وہ بات کہی جو کہنی چاہیے تھی، حقیقت یہ ہے کہ اب صرف میرا بیٹا اور ان (دیگر صحابہ) کے بیٹے ہی باقی رہ گئے ہیں اور میرا بیٹا ان کے بیٹوں کے مقابلے میں (امارت کا) زیادہ حقدار ہے، اب بتائیے آپ کی کیا حاجت ہے؟“ انہوں نے جواب دیا: میری کوئی (ذاتی) حاجت نہیں ہے، آپ نے فرمایا: ”تو پھر تشریف لے جائیے“، تب ان کے بھائی نے ان سے کہا: کیا ہم مدینہ سے اتنی طویل مسافت طے کر کے اور سواریوں کو تھکا کر صرف ان چند کلمات کے لیے آئے تھے؟ انہوں نے جواب دیا: میں تو آیا ہی صرف ان کلمات (حق گوئی) کے لیے تھا، چنانچہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان سب کے لیے انعامات کا حکم دیا اور سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ کے لیے دیگر تمام لوگوں کی نسبت دوگنا انعام مقرر فرمایا۔
مسند ابی یعلیٰ کی اس روایت کی سند حسن ہے، یہ روایت تاریخِ اسلام کے ایک اہم موڑ اور صحابہ کرام کی جرأتِ اظہار و نصیحت کی بہترین عکاسی کرتی ہے۔