کتب حدیث ›
المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية › ابواب
› باب: حجاج، مختار اور دیگر لوگوں کی طرف اشارے کا بیان۔
قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْأَسَدِيُّ ، ثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَخْرُجَ ثَلَاثُونَ كَذَّابًا ، مِنْهُمْ مُسَيْلِمَةُ ، وَالْعَنْسِيُّ ، وَالْمُخْتَارُ ، وَشَرُّ قَبَائِلِ الْعَرَبِ بَنُو أُمَيَّةَ ، وَبَنُو حَنِيفَةَ ، وَثَقِيفُ .
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک کہ تیس (۳۰) کے قریب کذاب (جھوٹے مدعیانِ نبوت) ظاہر نہ ہو جائیں، جن میں مسیلمہ (کذاب)، (اسود) عنسی اور مختار (بن ابی عبید) بھی شامل ہیں، اور عرب کے قبائل میں سب سے برے بنو امیہ، بنو حنیفہ اور ثقیف ہیں۔“
[مسند أبي يعلى: 4467] اس روایت کی سند میں شریک بن عبداللہ القاضی اپنے حافظے کی وجہ سے اور ابواسحاق السبیعی اختلاط اور تدلیس کی وجہ سے کلام سے خالی نہیں ہیں، جس کی بنا پر اس کی صحت پر محدثین نے کلام کیا ہے۔
[مسند أبي يعلى: 4467] اس روایت کی سند میں شریک بن عبداللہ القاضی اپنے حافظے کی وجہ سے اور ابواسحاق السبیعی اختلاط اور تدلیس کی وجہ سے کلام سے خالی نہیں ہیں، جس کی بنا پر اس کی صحت پر محدثین نے کلام کیا ہے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُمَرَ الْوَكِيعِيُّ ، ثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَتْنَا أُمُّ غُرَابٍ ، عَنِ امْرَأَةٍ ، يُقَالُ لَهَا : عَقِيلَةُ ، عَنْ سَلَّامَةَ بِنْتِ الْحُرِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فِي ثَقِيفَ مُبِيرٌ .
ترجمہ
سیدہ سلامہ بنت حر رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”قبیلہ ثقیف میں ایک ہلاک کرنے والا (نہایت ظالم و جابر شخص) پیدا ہو گا“۔
امام حاکم نے اس حدیث کو صحیح الاسناد قرار دیا ہے اگرچہ امام بخاری اور امام مسلم نے اسے روایت نہیں کیا، اور علامہ ذہبی نے بھی تلخیص میں اس کی صحت کی موافقت کی ہے۔
امام حاکم نے اس حدیث کو صحیح الاسناد قرار دیا ہے اگرچہ امام بخاری اور امام مسلم نے اسے روایت نہیں کیا، اور علامہ ذہبی نے بھی تلخیص میں اس کی صحت کی موافقت کی ہے۔
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ الْمُحَبَّرِ ، ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، حَدَّثَنِي مَنْ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَيَرْعَفَنَّ جَبَّارٌ مِنْ جَبَابِرَةِ بَنِي أُمَيَّةَ عَلَى مِنْبَرِي هَذَا ، قَالَ : فَحَدَّثَنِي مَنْ رَأَى عَمْرَو بْنَ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ ، رَعَفَ عَلَى مِنْبَرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى سَالَ الدَّمُ عَلَى دَرَجِ الْمِنْبَرِ .
ترجمہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”بنو امیہ کے جابر و سرکش حکمرانوں میں سے ایک شخص میرے اس منبر پر نکسیر پھوٹنے (ناک سے خون بہنے) کی حالت میں ہوگا“، راوی بیان کرتے ہیں کہ مجھے اس شخص نے بتایا جس نے خود عمرو بن سعید بن العاص کو دیکھا کہ نبی کریم ﷺ کے منبر پر ان کی نکسیر پھوٹی یہاں تک کہ خون منبر کی سیڑھیوں پر بہنے لگا۔
اس حدیث کو امام حارث نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں داؤد بن المحبر نہایت ضعیف اور علی بن زید بن جدعان بھی حفظ کے لحاظ سے کمزور راوی ہیں۔
اس حدیث کو امام حارث نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں داؤد بن المحبر نہایت ضعیف اور علی بن زید بن جدعان بھی حفظ کے لحاظ سے کمزور راوی ہیں۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ ، ثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ حَرِيزِ بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَوْفٍ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، أَنَّهُ قَالَ لِأَبِي الْأَعْوَرِ السُّلَمِيِّ : وَيْحَكَ ، أَلَمْ يَلْعَنْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رِعْلًا ، وَذَكْوَانَ ، وَعَمْرَو بْنَ سُفْيَانَ .
ترجمہ
سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے ابوالاعور السلمی سے مخاطب ہو کر فرمایا: ”افسوس تم پر! کیا رسول اللہ ﷺ نے رعل، ذکوان اور عمرو بن سفیان پر لعنت نہیں فرمائی تھی؟“